وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف اوراسحاق ڈار کو بچانے کی کوششیں

جمعه 01 ستمبر 2017 نواز شریف اوراسحاق ڈار کو بچانے کی کوششیں

سپریم کورٹ سے نواز شریف کی نااہلی اورمریم نواز ،کیپٹن صفدر ،حسن اور حسین نواز کے خلاف ریفرنس عدالت میں جمع کرانے کے حوالے سے نیب کو واضح ہدایات کے باوجود ان محکموں میں موجود نواز شریف کے بعض نمک خوار افسران مبینہ طورپر عدالت کے حکم کی سرتابی کرتے ہوئے اب بھی ان کو سزا سے بچانے کے لیے حقائق چھپانے اور انھیں عدالت کے سامنے پیش کرنے سے گریز کررہے ہیں ، جس کا اندازا اس طرح لگایاجاسکتا ہے کہ نیب کی جانب سے شریف فیملی کے خلاف ریفرنس کی تیاری میں لیت ولعل اورریفرنس عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر شیخ رشید کو سپریم کورٹ کے در پر دستک دینے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔اب معلوم ہوا ہے کہ وفاقی ریونیو بورڈ نے شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کاجو ٹیکس ریکارڈ عدالت میں جمع کرایا ہے وہ مکمل نہیں ہے۔ایف بی آر کے حکام کا موقف ہے کہ شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے انکم ٹیکس گوشوارے اور دولت کے بارے میں ان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستیاب تمام تفصیلات عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں ۔جبکہ ملک میں کرپشن کاقلع قمع کرنے کے لیے قائم ملک کے سب سے بڑا ادارہ نیب کے حکام کا کہنا ہے کہ شریف فیملی اور اسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز تیار کیے جارہے ہیں جو جلد ہی عدالت میں پیش کردیے جائیں گے۔نیب کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ایف بی آر نے شریف فیملی اور اسحاق ڈار کے حوالے سے جو اعدادوشمار جمع کرائے ہیں وہ نواز شریف فیملی کی آف شور کمپنیوں کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کے پاس پہلے سے موجود اعددادوشمار سے مطابقت رکھتے ہیں ۔
دوسری جانب جے آئی ٹی حکام کے مطابق ایف بی آر نے نواز شریف کے 1997-98 ، 2001-2002 ،2004-05،2005-06 ،2006-07 اور2007-08 کے انکم ٹیکس گوشوارے اور دولت کی تفصیلات ابھی تک جمع نہیں کرائی ہیں ۔جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد ix کے مطابق نواز شریف نے 2004 اور2008 کے دوران اپنی دولت کے گوشوارے جمع ہی نہیں کرائے ہیں ۔اسی طرح مریم نواز کے ٹیکس گوشوارے بھی نامکمل بتائے جاتے ہیں ،جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ سے ظاہرہوتاہے کہ مریم نوازکے 1991 سے2009 تک کے انکم ٹیکس اور دولت کے گوشوارے بھی غائب ہیں ۔جبکہ مریم صفدر کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اپنے ٹیکس گوشوارے20013-14 سے جمع کرانا شروع کیے ہیں اس سے قبل انھوں نے کوئی ٹیکس گوشوارہ یا اپنی دولت کی تفصیلات جمع ہی نہیں کرائی ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا ٹیکس ریکارڈ بھی نامکمل ہے،جبکہ ایف بی آر کے مطابق 1981 سے2002 تک کاان کاانکم ٹیکس ریکارڈ بھی غائب ہے ۔حال ہی میں سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن کے ذریعے اسحاق ڈار نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ 2002-03 سے 2007-08 تک وہ ملک سے باہر مقیم رہے ،اس طرح چونکہ وہ ملک میں موجود ہی نہیں تھے اس لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 11(6) کے تحت بیرون ملک کمائی گئی دولت ڈکلیئر کرنے کے وہ قانونی طورپر پابند نہیں تھے۔ انھوں نے اپنی پٹیشن میں لکھاتھا کہ وطن واپس آتے ہی وہ 2008-09 میں انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کے پابند ہوگئے تھے۔
نیب کے چیئر مین قمر زماں چوہدری کا کہنا ہے کہ شریف فیملی اوراسحاق ڈار کے خلاف 4 ریفرینسز تیار کیے جارہے ہیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق عدالت میں پیش کردیے جائیں گے ۔ نیب کے نئے ہیڈ کوارٹر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایاتھا کہ نیب سپریم کورٹ کے حکم پر حرف بحرف عمل کرے گا۔اس موقع پر انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیاتھا کہ کرپشن کے اعتبار سے پاکستان کی رینکنگ سال بہ سال بہتر ہورہی ہے اور 2013 میں کرپشن کے اعتبار سے 175ممالک میں 127 نمبر پر شمار کیاجانے والے پاکستان20016 میں 116 ویں نمبر پر آچکاتھا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہاکہ کرپشن کی روک تھام کسی ایک ادارے یا شخص کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ملک کے تمام اداروں اور معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔جبکہ نیب کسی امتیاز کے بغیر کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اطلاعات کے مطابق نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء اور ایک اور رکن کا بیان سرکاری گواہ کے طورپر قلمبند کرلیاہے۔ اطلاعات کے مطابق نیب نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان سے بھی نواز فیملی اور اسحاق ڈار کے حوالے سے تمام ریکارڈ حاصل کرلیا ہے اوراس کی بنیاد پر اپنی رپورٹ تیار کررہاہے ۔لیکن نیب اپنی یہ رپوٹ کب عدالت کے سامنے پیش کرے گا اس حوالے سے ابھی کوئی کچھ بتانے کو تیار نہیں ہے اوریہی وہ بے یقینی کی کیفیت ہے جس کی وجہ سے نیب کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں اور عام طورپر یہ خیال تقویت پارہا ہے کہ نیب اورایف بی آر کے افسران ابھی تک شریف فیملی اور حکومت کے دباؤ میں ہیں اور اس دباؤ اور شریف فیملی کی نمک خواری کی وجہ سے شریف فیملی کو بچانے کی حتی الامکان تمامتر کوششیں کررہے ہیں یہی وہ تاثر ہے جس کی بنیاد پر شیخ رشید کو حدیبیہ پیپر ملز کامعاملہ کھلوانے کے لیے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر