وجود

... loading ...

وجود

کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کی دوبارہ واپسی!!!!

بدھ 30 اگست 2017 کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کی دوبارہ واپسی!!!!

ملک کی سیاسی و فوجی قیادت نے مل کر جس طرح کراچی کا امن بحال کیا ہے اس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کراچی میں 1984 کے بعد جو بدامنی پھیلی ہے اس کا اب کسی حد تک کا خاتمہ بھی ہوا ہے۔ اور اس کے لیے کراچی میں امن کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایپکس کمیٹیاں بنائی گئی ہیں تاکہ کراچی کی صورتحال کو مؤثر طریقے سے مانیٹر کیا جاسکے اور یہ سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔ ایپکس کمیٹیاں بن جانے کے بعد کراچی کے حالات کافی حد تک بہتر ہوئے ہیں ۔ اس ضمن میں سندھ پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں ۔ اس کے علاوہ آئی جی سندھ پولیس نے جس طرح ٹیم ورک کیا ہے وہ بھی واقعی قابل تعریف ہے۔پھر کراچی پولیس چیف مشتاق مہر نے بھی کافی اچھے اقدامات کیے ان اقدامات کی بدولت کراچی کے شہری یہ تیسری عید بلا خوف و خطر منا نے کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ کوئی ان سے کھالیں ، چندہ ،فطرہ اور زکوٰۃ مانگنے نہیں آیا۔ لیکن گزشتہ ماہ حکومت سندھ نے اچانک کراچی پولیس چیف مشتاق مہر کا تبادلہ کر دیا اور غلام قادر تھیبو کو چیئرمین محکمہ اینٹی کرپشن سے اٹھا کر کراچی پولیس چیف بنا دیا گیا۔
غلام قادر تھیبو نے جس طرح محکمہ اینٹی کرپشن میں گل کھلائے وہ سب کے سامنے عیاں تھے۔ اُن سے محکمہ پولیس میں بھی اسی کچھ کی توقع تھی۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اُن ’’توقعات‘‘ پر پورے بھی اُترے۔ اُنہوں نے آتے ہی 36 دنوں میں 65 سے زائد ایس ایچ اوز اور چوکی انچارج تبدیل کر دیے اس کی وجہ کیا تھی؟ وہ ہر ایک کو پتہ ہے ۔ محکمہ پولیس میں اس نوع کے تبادلے خوامخواہ نہیں ہوتے بلکہ اس کے پیچھے چمک کا عمل دخل ہوتا ہے۔اگر پولیس افسران کی تقرری میں ساکھ اور کارکردگی کے بجائے چمک کا عنصر کام کرے گا تو وہ کیونکر امن و امان کی بحالی میں دلچسپی لیں گے۔ ان عناصر کی پہلی ترجیح تویہ ہوگی کہ وہ اپنی سرمایہ کاری منافع سمیت وصول کریں ۔کیونکہ یہی منحوس چکر دوبارہ تعیناتیوں میں بھی چلتا ہے۔
نئے پولیس چیف کی تعیناتی کے فورا ًبعد ہی کراچی میں بینک ڈکیتیوں اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں بڑھ گئیں ۔قتل، اغوا کی وارداتوں میں بھی اضافہ ہوگیا اور سٹی پولیس چیف غلام قادر تھیبو خواب خرگوش کے مزے لوٹتے رہے ۔ جیسے ہی غلام قادرتھیبو سٹی پولیس چیف بنے تو بدنام زمانہ پولیس اہلکار وسیم بیٹر ملیشیا سے واپس کراچی آگیا۔ جس نے آتے ہی بھتے وصول کرنا شروع کر دیے۔ شہر میں جوئے اور سٹے کے اڈے دوبارہ کھلنا شروع ہوگئے۔ بکیز کا کاروبار تیز ہوگیا۔ منشیات اور عیاشی کے کاروبار میں بھی اضافہ ہوگیا۔ ریسٹ ہاؤس بھی کھلنا شروع ہوئے۔ جب یہ سب کچھ شروع ہوا اور اندھیر نگری چوپٹ راج بڑھنے لگا تو ایپکس کمیٹی کے اہم ارکان نے آنکھیں کھولیں اور وہ چوکس ہوگئے۔ اُنہوں نے فوری طور پر حکومت سندھ سے رابطہ کیا اور سوال کیا کہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تماشا بند کیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اہم ارکان نے آئی جی سے معلومات لی تو انہوں نے صاف گوئی سے کام لیا اور بتایا کہ کراچی پولیس چیف غلام قادر تھیبو اور ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس سردار عبدالمجید دستی کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ وہ چیف آف کمان کا بھی خیال نہیں کرتے اور بس چند افراد کو خوش کرنے کے لیے کراچی کے امن و امان کی بحالی پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ پولیس ریفارم میں بھی پولیس افسران کے بجائے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر انحصار کیا جاتا ہے جو سراسر نا انصافی ہے۔
اس پر ایپکس کمیٹی کے ارکان نے فوری طورپر حکومت سندھ سے رابطہ کیا ،حکومت سندھ کے ذمہ داروں کو بتایا گیا کہ کراچی کا امن کس طرح مشکل سے قائم کیا گیا ہے اور اس کو برقرار رکھنا سب کی ذمہ داری ہے ۔ اور اس پر کسی بھی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ ایک مرتبہ پھر پولیس کے سربراہ پر غور شروع کیا گیا۔اس موقع پر تین پولیس افسران کے نام سامنے آئے۔ پہلا نام معظم جاہ انصاری کا تھا ۔وہ گریڈ 21 کے افسر ہیں مگر ان کا نام بلوچستان کے آئی جی کے لیے لیا جا رہا ہے کیونکہ موجودہ آئی جی بلوچستان احسن محبوب ستمبر کے آخر میں ریٹائرڈ ہو رہے ہیں ۔ اس لیے معظم جاہ انصاری کو آئی جی بلوچستان بننے کی امید پر کراچی پولیس چیف بننے میں دلچسپی نہیں تھی۔ پھر دوسرا نام ڈاکٹر امیر شیخ کا تھاجو اس وقت گریڈ 20 میں سب سے سینئر ہیں لیکن ان کا گریڈ 21 کا پروموشن آئندہ ماہ متوقع ہے اس لیے انھوں نے بھی ایک ماہ کے لیے اوپی ایس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی پولیس بننے سے احتراز کیا اور پھر تیسرا نام مشتاق مہر کا تھا جو دو سال تک کراچی پولیس چیف رہے اور بہتر انداز میں پولیس کے معاملات چلاتے رہے۔ جب مشتاق مہر سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے سب سے پہلے انکار کیا کہ وہ دوبارہ کراچی پولیس چیف بننے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ پہلے انہوں نے محنت کی اچھی ٹیم بنائی اور ان کو بلاوجہ ہٹایا گیا۔ وہ پروفیشنل افسر ہیں ان کے لیے عہدے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ صرف عزت چاہتے ہیں اس لیے خود کو تنازعات سے دور رکھا ہوا ہے۔ جب ایپکس کمیٹی کے ارکان اور حکومت سندھ معظم جاہ انصاری اور ڈاکٹر امیر شیخ سے کورا جواب سن کر بیٹھے تو انہوں نے دوبارہ مشتاق مہر سے رابطہ کیا اور ان کو قائل کر لیا۔
آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ بھی ان کی تقرری سے خوش ہوئے کیونکہ ان کے ساتھ ان کی ہم آہنگی بہتر تھی اور بڑی بات یہ تھی کہ مشتاق مہر متنازع افسر نہیں ہیں اور انہوں نے پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کرامن امان کی بحالی کے لیے دن رات محنت کی تھی۔ جب انہیں قائل کر لیا گیا تو وہ کراچی پولیس چیف بننے کے لیے راضی ہوئے یوں مشتاق مہر 36روز بعد دوبارہ کراچی پولیس چیف کے عہدے پر براجمان ہوگئے۔ مشتاق مہر آتے ہی سب سے پہلے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن پولیس افسران نے امن امان کی بحالی کے لیے اچھا کردار ادا کیا ان کو دوبارہ ذمہ داریاں دینا شروع کر دی ہیں اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ سچی نیت سے کام کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور ملتی ہے۔ دوسری طرف غلام قادر تھیبو نے دوبارہ اینٹی کرپشن چیئرمین بننے کی کوشش کی مگر حکومت سندھ نے ان سے معذرت کرلی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنا جادو دوبارہ کس محکمے کے لیے چلا پاتے ہیں ؟


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر