وجود

... loading ...

وجود

سپر ہائی وے پر مویشی منڈی سج گئی،جانور بے شمار، خریداروں کافقدان

اتوار 20 اگست 2017 سپر ہائی وے پر مویشی منڈی سج گئی،جانور بے شمار، خریداروں کافقدان

اب جبکہ عیدالاضحی کی آمد آمد ہے، کراچی میں سپر ہائی وے پر روایتی مویشی منڈی سج گئی ہے ، منڈی میں اندرون سندھ ،بلوچستان اور پنجاب کے مختلف شہروں سے بے شمار جانور فروخت کے لیے پہنچ گئے ہیں لیکن مویشی مالکان کو شکایت ہے کہ ابھی تک خریداروں کافقدان ہے ، لوگ منڈی میں آرہے ہیں لیکن خریداری بہت کم لوگ کررہے ہیں زیادہ تر لوگ قیمتیں سن کر ہی واپسی کارخ کرتے ہیں اور بھاؤ تاؤ کرنا بھی پسند نہیں کرتے ،مویشی مالکان کاکہناہے کہ خریداروں کی کمی کی وجہ سے اب وہ اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں کو مزید جانور کراچی نہ بھیجنے کے پیغام بھیج رہے ہیں کیونکہ مزید جانور آجانے کی صورت میں جانوروں کے ریٹ اور کم ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لیے منافع کمانا تو درکنار اپنی رقم واپس نکالنا بھی مشکل ہوجائے گا۔
عیدالاضحی کے موقع پر کراچی میں سپر ہائی وے پر لگنے والی مویشی منڈی کو ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی تصور کیاجاتاہے اس منڈی کی ایک خاصیت یہ رہی ہے کہ اس منڈی میں ہرطبقے کے لوگوں کو اپنی حیثیت کے مطابق جانور خریدنے کاموقع مل جاتاہے ،رواں سال سپر ہائی وے پر لگائی جانے والی مویشی منڈی 800 ایکڑ اراضی پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کو انتظامی طورپر 8 بلاکس میں تقسیم کیاگیا ہے۔ مارکیٹ میں لائے جانے والے مویشیوں کی رجسٹریشن کے اعتبار سے اب تک منڈی میں 70 ہزار سے زیادہ جانور پہنچ چکے ہیں ،جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے ابھی جانوروں کی آمد کاسلسلہ جاری ہے ۔
اس سال بھی ہرسال کی طرح مختلف کیٹل فارمز میں پالے گئے اعلیٰ نسل کے جانوروں کے لیے الگ خیمے نصب کئے گئے جہاں شہر کے متمول اور شوقین افراد خریداری کے لیے پہنچ رہے ہیں ، منڈی کمیٹی کے مطابق اس سال منڈی میں وی آئی پی جانوروں کے لیے مجموعی طورپر 30 خیمے لگائے گئے ہیں جہاں کیٹل فارمز کے اعلیٰ نسل کے جانوروں کو ہر طرح کا آرام فراہم کرنے کا انتظام کیاگیاہے۔کیٹل فارمز مالکان نے اپنے مویشیوں کو گرمی سے بچانے کے لیے باقاعدہ پنکھوں کاانتظام کیاہے، اور جب انھیں کچھ متمول ممکنہ خریدار نظر آتے ہیں تو وہ انھیں کھول کر ٹہلانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، کیٹل فارم مالکان نے ہر سال کی طرح امسال بھی اپنے مویشیوں کے مختلف نام رکھے ہوئے کسی خیمے میں لعل بادشاہ جلوہ افروز ہیں تو کہیں بھورے شہزادے بھوسے چارے پر لگے ہوئے ہیں ، نام اور جثے کے اعتبار سے ان کی قیمتیں بھی ایسی طلب کی جارہی ہیں کہ عام متوسط آدمی شاید پورے سال کی آمدنی جمع کرکے بھی ان کو خریدنے کے قابل نہ ہوسکے۔کیٹل فارمرز کے پالے ہوئے ان اعلیٰ نسل کے بیلوں کی قیمت 6لاکھ سے 16 لالکھ طلب کی جارہی ہے۔یہ قیمت سن کر بیشتر لوگ ان کے ساتھ مفت میں سیلفی لینے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور اسی کو اپنی بڑی کامیابی تصورکرتے ہیں کہ اتنی اعلیٰ نسل کے جانور کے ساتھ کم از کم ان کی سیلفی تو بن گئی جو وہ کسی بھی وقت اپنے دوستوں کو دکھا کر ان پر رعب ڈال سکیں گے۔
سہراب گوٹھ کے قریب لگائی جانے والی یہ مویشی منڈی ملیر کینٹونمنٹ بورڈ کے زیر انتظام لگائی جاتی ہے اور ملیر کنٹونمنٹ بورڈ اس کاانتظام باقاعدہ نیلامی کے ذریعے فروخت کرتاہے ، رواں سال اس کاٹھیکہ حسن برادرز نامی ٹھیکیدار نے حاصل کیاہے ،حسن برادرز نے سید ارشاد احمد شخص کو مارکیٹ کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیاہے،مویشی منڈی کے لیے ملیر کنٹونمنٹ بورڈ کے بنائے گئے قواعد وضوابط اور اصولوں پر پوری طرح عملدرآمد کرنا اور کرانا اور منڈی میں مویشی لانے والوں کو ان سے کئے گئے وعدے کے مطابق سہولتوں کی فراہمی ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داری ہے۔
منڈی میں مویشی لانے والے بیوپاریوں کاکہناہے کہ منڈی کے ٹھیکیدار نے اس سال منڈی میں مویشی لانے کی فیس میں اضافہ کرکے فی جانور ایک ہزار400 روپے کردیاہے جبکہ گزشتہ سال یہ فیس ایک ہزار روپے تھی۔اسی طرح بھیڑ اور بکری پر فیس جو کہ گزشتہ سال 600 روپے تھی امسال 800 روپے کردی گئی ہے۔
منڈی میں مویشی لانے والے بیوپاری فیس میں اس اضافے پر خوش نہیں ہیں رحیم یار خاں سے525 گائے لے کر آنے والے ایک بیوپاری نے مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے فیس میں بے انتہا اضافے پر شدید برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ فیس میں اس قدر اضافہ کردیاجائے گا ، انھوں نے کہا کہ اب یہ اضافی رقم ادا کرنے کے ساتھ ہی ہمیں مویشیوں کے لیے چارہ اورپانی بھی منہ مانگی قیمت ادا کرکے حاصل کرنا ہوگا اور یہ تمام خرچ ہم خریداروں ہی سے وصول کریں گے ،جس سے لامحالہ جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
حیدرآباد کے قریب واقع علاقے ہسڑی سے جانور لانے والے ایک بیوپاری نے بتایا کہ گزشتہ سال ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا کیونکہ جب منڈی میں خریداری عروج پر ہوتی ہے اسی دوران بارشیں شروع ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے مویشی بیمار پڑنا شروع ہوگئے تھے پھر بارش کے بعد پانی کی نکاسی کو مناسب ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے پانی منڈی میں کھڑا رہاجس کی وجہ سے خریداروں نے مارکیٹ کارخ کرنا ہی چھوڑدیاتھا اس لیے مارکیٹ مندی کاشکار ہوگئی ، انھوں نے امید ظاہر کی کہ کیونکہ اس سال منڈی کے عروج پر پہنچنے سے قبل ہی بارش کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اس لیے خیال ہے کہ انتظامیہ نے پانی کی نکاسی اور جانوروں کو بیماری سے بچانے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرلی ہوگی۔
مارکیٹ کے ٹھیکدار حسن برادرز کی جانب سے مقرر کئے گئے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ اس سال بیوپاریوں کی آسانی کے لیے کمیٹی ان کو مفت بجلی فراہم کرنے کے علاوہ فی جانور 16 لیٹر پانی بھی مفت فراہم کررہی ہے جس کی وجہ سے اب انھیں پانی خریدنے پر زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس کے علاوہ بیوپاریوں کو رفع حاجت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بڑی تعداد میں ٹوائلٹ بھی تعمیر کئے گئے ہیں ،انھوں نے بتایا کہ بارش کی صورت میں جمع ہونے والے پانی کی فوری نکاسی کے لیے سکشن پمپس کا انتظام کیاگیاہے تاکہ پانی کہیں بھی کھڑا نہ رہے اور مویشیوں کی خریدوفروخت میں کسی طرح کی کوئی پریشانی یادقت پیش نہ آئے۔اس کے علاوہ کسی بھی ناگہانی حادثے سے نمٹنے کے لیے مارکیٹ میں ہر وقت ایک ایمبولنس اور آگ بجھانے والی گاڑی موجود رہتی ہے۔ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ مارکیٹ میں لائے جانے والے جانوروں کوبیماری سے بچانے اور بیمار ہوجانے کی صورت میں ان کی بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھی مناسب انتطامات کئے گئے ہیں مویشیوں کے ڈاکٹروں ڈاکٹر رفیق احمد میمن، ڈاکٹر امجد علی شاہ وارڈاکٹر سلیم اللہ کی قیادت میں ڈاکٹروں کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو منڈی میں لائے گئے تمام جانوروں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتی ہیں ا ور8-8 گھنٹے کی 3 شفٹوں میں کام کررہی ہیں اور بیمار جانوروں کو علیحدہ کرکے ان کو علاج معالجے کی مناسب سہوسلتیں فراہم کی جارہی ہیں ۔انھوں نے کہا کہ مویشی منڈی لائے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے اورخریداروں کو صحت مند جانور کی فراہمی ہمارا سرکاری فرض ہے اور ہم یہ فرض پوری طرح نبھارہے ہیں ۔ ایڈمنسٹریٹر نے مویشیوں کے تاجروں سے بھی اپیل کی کہ وہ ایشیا کی اس سب سے بڑی منڈی کی شہرت برقرار رکھنے کے لیے مارکیٹ انتظامیہ سے تعاون کریں ۔

 


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر