وجود

... loading ...

وجود

عالمی بینک کا پاکستان کومزید قرض دینے سے انکار۔۔نئی شرائط عاید کردیں

جمعرات 17 اگست 2017 عالمی بینک کا پاکستان کومزید قرض دینے سے انکار۔۔نئی شرائط عاید کردیں

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر کی ڈانواڈول صورت حال کو سہارا دینے اور ادائیگیوں کاتوازن برقراررکھنے کے لیے مزید قرض دینے سے انکار کردیا ہے اور مزید قرضوں کی فراہمی کے لیے شرط عاید کی ہے کہ پاکستان مزید قرض کی درخواست دینے سے پہلے اپنی مائیکرواکنامک صورت حال بہتر بنانے کے لیے پہلے پاکستانی روپے کی قیمت میں کمی کرے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے قرض پر قرض لئے جانے کے باوجود برآمدات میں کمی اور درآمدات میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے زرمبادلے کے ذخائر کی صورت حال دگرگوں ہے ،اس صورت حال نے پوری حکومت کو پریشان کردیا ہے، زرمبادلے کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے حکومت کی جانب سے بین الاقوامی منڈی سے مسلسل قرض حاصل کئے جانے کے باوجود زرمبادلے کے ذخائر کی مطلوبہ سطح برقرار رکھنے میں ناکامی کے بعد حکومت نے عالمی بینک سے پالیسی قرض لینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن عالمی بینک کی جانب سے قرض کی درخواست رد کئے جانے اور نئے قرض کے لیے پہلے سے زیادہ کڑی شرائط کئے جانے کے بعد اب وزارت خزانہ کے ماہرین زرمبادلہ کے ذخائر کومستحکم رکھنے کے لیے نئے ذرائع پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ذرائع کاکہناہے کہ وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے کی جانے والی تمامتر کوششوں کے باوجود گزشتہ 11 ماہ کے دوران زرمبادلے کے ذخائر میں 4.2 بلین ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی بینک کے ذرائع کاکہناہے کہ دگرگوں مائیکرو اکنامکس صورت حال کے پیش نظر عالمی بینک پاکستان کو بجٹ کاخسارہ پورا کرنے اور ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے مزید پالیسی قرض فراہم نہیں کرسکتا۔ذرائع کا کہناہے کہ واشنگٹن میں قائم عالمی بینک نے پاکستان کے لیے مستقبل کے پالیسی قرضوں کو زرمبادلے کی لبرل پالیسیوں سے مشروط کردیاہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ جب پاکستان زرمبادلے کی لبرل پالیسی اختیار کرلے گاتو عالمی بینک پالیسی قرض جاری کردے گا،تاہم عالمی بینک کے اس فیصلے سے پاکستان میں زیر تکمیل منصوبوں کے لیے عالمی بینک کے پہلے سے منظور شدہ قرضوں پر نہیں پڑے گا۔
اطلاعات کے مطابق عالمی بینک کے اس فیصلے نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کومشکل میں ڈال دیاہے کیونکہ وہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت مستحکم رکھنے کے حامی ہیں اور روپے کی قدر کم کرنے کو کسی طور تیار نہیں ہیں ۔جس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 3.2 فیصد کمی ہوجانے پر راتوں رات اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر کو ان کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیاتھااور اس عہدے پر اپنے من پسند امیدوار کو فائز کردیاتھا۔
عالمی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں جبکہ پاکستان کی مائیکرو اکنامکس صورت حال میں جبکہ خاص طورپر بجلی کے شعبے میں سرکلر قرضوں کی شرح میں برابر اضافہ ہوتاجارہاہے ۔عالمی بینک پاکستان کو بجٹ کے حوالے سے امداد کی مدد میں کوئی نیا قرض جاری نہیں کرے گا۔عالمی بینک کے ذرائع کاکہناہے کہ پاکستان کو صورت حال کاحقیقت پسندانہ اندازہ لگاتے ہوئے زرمبادلے کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے اور عالمی صورت حال کامدنظررکھتے ہوئے پاکستانی کرنسی کی قیمت کااز سرنو تعین کرنا چاہئے اس طرح نہ صرف یہ کہ ملک کی برآمدات میں اضافے کاموقع ملے گا بلکہ اس سے پاکستان پر واجب الادا سرکلر قرضوں کی شرح کم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور عالمی بینک سے نیا قرض لینے کادروازہ بھی کھل جائے گا۔ذرائع کاکہناہے کہ بینک کے حکام نے وزیر خزانہ کو صاف صاف بتادیاہے کہ بینک کی شرط کے مطابق کرنسی کی قیمت میں کمی کے بعد ہی بینک قرض کی کسی نئی درخواست پر غور کرے گا۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کے ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ عالمی بینک کے ساتھ نئے قرض کے لیے بات چیت جاری ہے لیکن بینک نے ہمیں ابھی تک سرکاری طورپرروپے کی قدر میں کمی کی کسی شرط سے آگاہ نہیں کیا ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کاکہناہے کہ روپے کی قدر میں کی بیشی کامطالبہ کرنے کاعالمی بینک کو کوئی حق نہیں پہنچتا،یہ ہماری اپنی صوابدید پر ہے کہ ہم اپنی کرنسی کی قیمت کو کس سطح پر رکھنا چاہتے ہیں یا رکھیں گے۔تاہم وزارت خزانہ نے سرکاری طورپر ابھی تک اس معاملے میں کوئی بیان جاری نہیں کیاہے۔
آئی ایم ایف کے ذرائع کاکہناہے کہ اس وقت عالمی منڈی میں پاکستانی روپے کی قیمت 105.3 روپے فی امریکی ڈالرہے جو کہ پاکستانی کرنسی کی اصل قدر سے کم از کم 10 فیصد زیادہ ہے جس کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ مہنگی ہوگئی ہیں اور پاکستان کی برآمدی آمدنی میں کمی ہوئی ہے اور برآمدات میں کمی کی وجہ ہی سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی موجودہ صورت حال کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔
پاکستان کی تاجر برادری خاص طورپر برآمد کنندگان بھی حکومت سے کرنسی کی قیمت پر نظرثانی کے لیے مسلسل مطالبہ کررہے ہیں ،پاکستانی تاجروں کو موقف بھی یہی ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کی صورت میں پاکستانی اشیا عالمی منڈی میں اپنے مقابلے کے دیگر ممالک کی اشیا سے بہتر انداز میں مقابلہ کرسکیں گی جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور زرمبادلے کے ذخائر بڑھنا شروع ہوجائیں گے۔ غیر ملکی کرنسی کاکاروبار کرنے والے حلقوں کاکہناہے کہ بہت سے بڑے برآمدکنندگان پاکستانی کرنسی کی قیمت میں متوقع طورپر کمی کیے جانے کے آسرے میں بیرون ملک سے اپنی رقم پاکستان بھجوانے سے گریزاں ہیں کیونکہ پاکستانی کرنسی کی قیمت میں کمی کئے جانے کی صورت میں راتوں رات کسی تگ ودو کے بغیر ہی ان کولاکھوں روپے کافائدہ ہوجائے گا، کرنسی ڈیلرز کاکہناہے کہ حکومت کی جانب سے کرنسی کی قیمت میں کمی کے اعلان کے فوری بعد پاکستانی برآمدکنندگا اپنی روکی ہوئی رقم پاکستان منتقل کرنا شروع کردیں گے اور چند دن کے اندر لاکھوں ڈالر پاکستان آجائیں گے جس کے بعد شاید پاکستان کو عالمی بینک سے پالیسی قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے ۔چونکہ وزارت خزانہ نے اس حوالے سے ابھی تک اپنا کوئی پالیسی بیان جاری نہیں کیاہے اس لئے یہ کہنا مشکل ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزارت خزانہ کے دیگر ارباب اختیار اس حوالے سے کیاسوچ رہے ہیں اور ان کے پاس کرنسی کی قیمت کو مستحکم رکھتے ہوئے موجودہ صورتحال سے نکلنے کاکیافارمولہ ہے۔توقع کی جاتی ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کومستحکم رکھنے کے لیے کوئی قابل عمل حکمت عملی اپنانے پر توجہ دیں گے اور اس کااعلان جلد ہی کردیاجائے گا۔


متعلقہ خبریں


وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر