وجود

... loading ...

وجود

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اورایف بی آر کا تنازع شدت اختیار کرگیا

منگل 15 اگست 2017 محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اورایف بی آر کا تنازع شدت اختیار کرگیا

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)بھی اب واپڈا کے الیکٹرک کی طرح بن چکاہے۔ جواپنی زبان سے جوکہہ دے وہ حرف آخر ہے اوردوسرے کی بات نہیں سننی۔اوریہ بات سندھ کے لیے مکمل فٹ نظر آتی ہے۔ ایف بی آر کا رویہ تھانیدار والا ہوگیاہے۔ کوئی اس کوکہنے والا نہیں ہے۔ ایف بی آر کسی کی بھی نہیں سن رہا ہے اورکوئی حکم نہیں مان رہا ہے۔ پھرکیا کیاجائے؟ حکومت سندھ کس کے پاس جائے مئی 2016ء میں ایک انگریزی اخبار نے ٹائپنگ کی غلطی سے خبردے دی کہ حکومت سندھ نے ایک سال میں 34لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ کی ہیں۔ یہ ناممکن بات ہے امریکا جیسے ملک میں بھی ایک سال میں34لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں۔ بس اس خبر پرایف بی آر نے محکمہ ایکسائز کے اکائونٹ سے 6ارب 25کروڑروپے کی کٹوری کردی۔ حکومت سندھ نے شور شرابہ کیاتوایف بی آر نے غیر متوقع طورپر جواب دیا کہ اگرخبرغلط ہے توپھرحکومت سندھ نے تردید کیوں نہ کی بھلا یہ کوئی منطق ہے ؟ اخبار کی خبرپر قانون اپنا راستہ نہیں بناتا سرکاری ادارے قانون کی کتاب سے چلتے ہیں ‘تمام ثبوت ایف بی آر کودے دینے کے باوجودبھی معاملہ ٹھیک نہیں ہواتومجبورہوکر حکومت سندھ نے انکم ٹیکس ٹریبونل میں کیس دائر کیا ٹریبونل نے بھی دونوں فریقین کا موقف سنا اورحکومت سندھ کے حق میں فیصلہ دے دیا کہ ایف بی آر 6ارب 25کرور روپے کی رقم حکومت سندھ کوواپس کرے۔ مگرایف بی آر پھربھی نہ مانا اورحکومت سندھ نے بالآخر آخری راستے کے طورپر وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس اپنا کیس پیش کیا جہاں پر تاحال کیس چل رہا ہے۔ اس دوران میں حکومت سندھ نے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اسٹیٹ بینک کوبات سمجھ میں آگئی اورفوری طورپر اسٹیٹ بینک نے ایک سرکلر جاری کیا اورایف بی آر کوسختی سے حکم دیا کہ وہ آئندہ کوئی بھی خط ایسا جاری نہ کرے جس میں کہا جائے کہ فوری طورپر براہ راست کٹوتی کی جائے کیونکہ براہ راست کٹوتی کا اختیار صرف اعلیٰ عدالتوں ،سپریم کورٹ ،ہائی کورٹس یا ٹریبونل کوہے۔
ایف بی آر کا کوئی افسرجج کی حیثیت نہیں رکھتا اس لئے وہ ایسا خطآئندہ نہ لکھیں جس میں کہا جائے کہ ایڈوانس میں رقم کی کٹوتی کرکے ایف بی آر کودی جائے۔ اسٹیٹ بینک کے اس واضح ہدایت پر ایف بی آر وقتی طورپر خاموش ہوگیا لیکن اب گزشتہ ہفتے پھرایف بی آر نے وہی حرکت دوبارہ کردی اورمحکمہ ایکسائز کے انفراسٹرکچر سیس کی مد میں29کروڑروپے کی پھرنیشنل بینک سے کٹوتی کرادی۔ جس پر حکومت سندھ نے زبردست احتجاج کیا۔ سب سے پہلے سیکریٹری ایکسائز عبدالحلیم شیخ نے گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ اورصدرنیشنل بینک احمد سعید کوخطوط لکھے ۔ جس میں اس بات پراحتجاج کیا کہ جب اسٹیٹ بینک نے پہلے حکم دیاتھا کہ کسی بھی طورپرایک خط پرکوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی پھر نیشنل بینک نے یہ کٹوتی کیوں کی؟ یہ دیکھا گیا ہے کہ صرف حکومت سندھ کے ساتھ کیوں سوتیلی ماں جیسا سلوک کیاجاتاہے؟ باقی صوبوں کے ساتھ یہی رویہ کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ خط میں کہا گیاہے کہ حکومت سندھ کے ساتھ تعصب والا رویہ اختیار کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ خط میں کہا گیاہے کہ کنسالیڈیٹ فنڈ کوتوآئین پاکستان نے تحفظ دیا ہواہے پھرباربار ایف بی آر کیوں براہ راست کٹوتی کرکے آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے خط میں کہا گیا ہے کہ جب اسٹیٹ بینک نے چھ ماہ قبل سرکلر جاری کیاتھا کہ سپریم کورٹ ،ہائی کورٹس اورٹریبونلز کے علاوہ براہ راست کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی توپھر یہ کٹوتی کیوں کی گئی؟ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا، ایف بی آر نے29کروڑروپے کی کٹوتی کے بعد اب حکومت سندھ کو3 ارب روپے کے دوسرے نوٹس بھی بھیج دیے ہیں۔
جس کے بعد حکومت سندھ بھی اب سرگرم ہوگئی ہے محکمہ ایکسائز نے وزیر اعلیٰ سندھ سے رابطہ کیا ہے اور صلاح مشورے شروع کیے ہیں کہ کسی بھی طورپراس ناانصافی پرخاموش نہیں رہا جائے گا۔حکومت سندھ نے معاملہ سندھ ہائی کورٹ یا پھرسپریم کورٹ میں لے جانے کے لیے صلاح مشورے شروع کردیے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے علاوہ کئی قانونی ماہرین سے صلاح مشورے شروع کیے جارہے ہیں کیونکہ اس طرح توایف بی آر حکومت سندھ سے اربوں روپے لوٹ لے گا۔اور حکومت سندھ ہاتھ پرہاتھ رکھ کربیٹھی رہے گی۔ ایف بی آر نے قانون کومذاق بنادیا ہے ایک اخباری خبرپر 34لاکھ گاڑیاں ایک سال میں رجسٹرڈ کرنے کی بات سچ سمجھ لی اورسندھ کے6ارب 25کروڑروپے کاٹ کراپنے پاس رکھ لیے نہ صرف اتنا بلکہ جس افسر نے یہ کارنامہ سرانجام دیا اس کوپروموشن دے کرانعام بھی دے دیا۔یہ کتنی جگ ہنسائی کی بات ہے کہ انکم ٹیکس ٹریبونل نے بھی اس کومذاق قرار دے دیا لیکن ایف بی آر پھر بھی ڈھٹائی کررہا ہے جس کے بعد اب حکومت سندھ خواب خرگوش سے بیدار ہوئی ہے اورفوری طورپر گورنراسٹیٹ بینک اورصدرنیشنل بینک کوخطوط ارسال کیے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے حل کردیاجائے اس معاملہ میں مزید شدت آنے کی توقع کی جارہی ہے۔


متعلقہ خبریں


سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط وجود - هفته 10 جنوری 2026

بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ...

ملک ریاض دوبارہ ریڈار پر آگئے،ایف آئی اے کابحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دفتر پر چھاپہ، ریکارڈ ضبط

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم وجود - هفته 10 جنوری 2026

پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے نمائندگان کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی پی ایس ایل کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی، محسن نقوی،عطاء تارڑ موجود تھے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ جیتنے والی فرمز کے نمائندگان نے ملاقات کی ہے۔تفصیل...

دو ٹیموں کی بولی سے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملا،وزیر اعظم

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون وجود - جمعه 09 جنوری 2026

کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...

اپوزیشن اتحادکے قافلے پر حملہ،پنجاب حکومت کا مختلف شہروں میں کریک ڈائون

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل وجود - جمعه 09 جنوری 2026

قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس، چیف آف ڈیفنس فورسز کا ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ،لاہور گیریژن کا دورہ ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،آئی ایس پی آر پاک فوج ہرچیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے ت...

مسلح افواج سرحدوں اور داخلی سلامتی کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،فیلڈ مارشل

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف وجود - جمعه 09 جنوری 2026

بلوچستان میں دہشت گردی سے بے پناہ مشکلات ،کابینہ عوامی خدمت میں مصروف ہے این ایف سی ایورڈ میں پنجاب نے اپنے حصے کے11 ارب دیے،سیاسی قیادت سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ...

دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،شہباز شریف

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی وجود - جمعه 09 جنوری 2026

ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ذرائع پی ٹی آئی عوامی اجتماع کیلئے متبادل آپشنز پر غور،مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے...

سہیل آفریدی کا دورہ کراچی ،جلسہ کی اجازت نہیں ملی

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...

مذاکرات کیلئے سیاسی کارکنوں کو رہا،مقدمات ختم کیے جائیں، نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کانفرنس

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...

برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ،وزیراعظم

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ وجود - جمعرات 08 جنوری 2026

ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...

کراچی کی ترقی دنیا کے بہترین شہروں کے ہم پلہ ہونی چاہیے،مراد علی شاہ

مضامین
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت وجود اتوار 11 جنوری 2026
انصاف کے منتظر پی ٹی آئی کے ورکرز اور لواحقین کی کوفت

مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ وجود اتوار 11 جنوری 2026
مساجد پر انتہا پسند ہندوؤں کا قبضہ

دفاعی صنعت اورمعیشت وجود اتوار 11 جنوری 2026
دفاعی صنعت اورمعیشت

اپنی اپنی سچائی ! وجود هفته 10 جنوری 2026
اپنی اپنی سچائی !

جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا! وجود هفته 10 جنوری 2026
جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا چلے گا!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر