وجود

... loading ...

وجود

مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کی اصول پسندی کاپردہ چاک !!!

پیر 07 اگست 2017 مسلم لیگی رہنما احسن اقبال کی اصول پسندی کاپردہ چاک !!!

مسلم لیگ ن کے اعلیٰ عہدیدار احسن اقبال کو پارٹی کاانتہائی اصول پسند ، سنجیدہ ،سب سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایماندار رہنما تصور کرتے ہیں، اور ان کایہی امیج عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے انھیں منصوبہ بندی کی اہم وزارت کا قلمدان سونپا تھا،جس کابنیادی کام تمام سرکاری محکموں کے لیے حکومت کے منظور اور جاری کردہ فنڈز کوبہتر انداز میں اور انتہائی ایمانداری کے ساتھ استعمال کویقینی بنانا ہے لیکن گزشتہ دنوں سامنے آنے والے حقائق سے پتہ چلتاہے کہ مسلم لیگ کے یہ مسٹر کلین اور اصول پسند نہ تو اصول پسند ہیں اور نہ ہی انھیں مکمل طورپر مسٹر کلین ہی قرار دیا جاسکتاہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات سے ظاہر ہوتاہے کہ ادارہ جات کو مضبوط بنانے کے ایک پروجیکٹ کے تیسرے فیز کی منظوری دیتے ہوئے مروجہ قواعد وضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہے۔وزار ت منصوبہ بندی کے ذرائع کے مطابق منصوبہ بندی کمیشن نے جو کہ تمام سرکاری محکموں کے لیے حکومت کے منظور اور جاری کردہ فنڈ کے درست اور بہتر استعمال کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے ،ادارہ جاتی استحکام سے متعلق ایک منصوبے کے تیسرے فیز کے لیے 35 کروڑ روپے کی منظوری دی ، اس پراجیکٹ کامقصد سابقہ یعنی ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنا اور ان کی رہائش گاہوں کی تزئین وآرائش کرانا ہے۔ذرائع کے مطابق کم وبیش 2 ہفتے قبل سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس مقصد کے لیے رقم کی منظوری کے مروجہ اور مسلمہ اصولوں اور قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس پروجیکٹ کے پہلے دومرحلوں کی تکمیل کا کوئی ثبوت حاصل کیے بغیر ہی نئے پراجیکٹ کی منظوری دیدی۔ ذرائع کے مطابق سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس منصوبے کی منظوری دینے سے قبل اس سے قبل منظور کیے گئے دو منصوبوں کی ایولیوایشن رپورٹ بھی طلب نہیں کی اور یہ رپورٹ دیکھنا بھی گوارا نہیں کی۔جبکہ رپورٹس کے مطابق ایسا معلوم ہوتاہے کہ حکومت اس مقصد کے لیے فنڈز کی منظوری دینے کااختیار ہی نہیں رکھتی ۔
دو ہفتہ قبل منظور کیے گئے اس منصوبے کے مطابق اس منصوبے کے لیے مختص نصف سے زیادہ یعنی کم وبیش56 فیصد رقم یعنی 19کروڑ70 لاکھ روپے دفتری مقام کی تزئین نو اور فرنیچر کی خریداری پر خرچ کی جائے گی جبکہ بقیہ 30 فیصد رقم یعنی کم وبیش ساڑھے 10 کروڑ روپے اسپیشلسٹس ، مشیروں اور دیگر افراد کو دیے جائیں گے۔
ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ اس پروجیکٹ کی منظوری سے قبل اس پروجیکٹ کے سابقہ فیز کے پی سی فور طلب کیے جانا چاہئے تھے، منصوبہ بندی کمیشن کے ریکارڈ سے ظاہرہوتاہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے پہلے منظور کیے گئے فیز ون اور ٹو میں سے کسی کابھی پی سی فور جمع نہیں کرایا ہے۔ اس طرح حکومت کو مزید تیسرے فیز کی منظوری کااختیار ہی نہیں تھا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ تکنیکی اعتبار سے کسی بھی پروجیکٹ کے کسی نئے فیز کی منظوری کے لیے تمام فروعات کو از سرنو مکمل کرنا ضروری ہوتاہے جس میں نئے مرحلے میں کام کے لیے لوگوں کی خدمات کا حصول بھی شامل ہے۔تاہم پرانا عملہ اس صورت میں نئے فیز میں بھی کام کرسکتاہے اگر وہ احتساب بیورو کی نظر میں نہ ہو یعنی اس پر کسی طرح کی کرپشن کاکوئی الزام نہ ہو۔نئے فیز کے لیے موجودہ عملے کی منظوری کا دیاجانا بھی خلاف قانون ہے کیونکہ ایسا کرنے سے قبل اخبارات میں کوئی اشتہار نہیں دیاگیا۔
ذرائع کاکہنا ہے اس بات کی نظیریں موجود ہیں کہ قانونی لوازمات کے تکمیل کے بغیر بھرتی کیے ہوئے لوگوں سے تنخواہوں اور مراعات کی مد میںان کی وصول کردہ تمام رقم واپس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے احکامات دیے گئے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق اصولی طورپر چیف گورننس کو یہ منصوبہ سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا چاہئے تھا لیکن ان کے بجائے یہ منصوبہ سینٹرل ورکنگ پارٹی کے اجلاس میںترقیاتی بجٹ کے مشیر آصف شیخ نے پیش کیا ،منصوبہ بندی اورترقیات کے سیکریٹری شعیب صدیقی کواس پروجیکٹ کو جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ دیگر تمام فروعی معاملات اور ضروریات بعد میں پوری کردی جائیں گی۔ان کااستدلال تھا کہ یہ پروجیکٹ منصوبہ بندی اورترقیات میں وزارت کے کردار کو اجاگر کرنے کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتاہے ۔اس پروجیکٹ کے حوالے سے قانون کی ایک اور خلاف ورزی یہ کی گئی کہ اس پروجیکٹ کے لیے ریٹائرمنٹ کے لیے حکومت کی مقرر کردہ حد 65 سال سے بھی زیادہ عمر کے لوگوں کوبھرتی کیاگیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ پروجیکٹ منصوبہ بندی کمیشن اور منصوبہ بندی کی وزارت کو تقویت پہنچانے کے لیے تیار کیاگیاتھا لیکن یہ وزارت منصوبہ بندی کے باقاعدہ ملازمین کی کاوشوں کو نقصان پہنچانے کاسبب بننے لگاتھا۔کیونکہ وزارت منصوبہ بندی میں پبلک انوسٹمنٹ پروگرام کے نام سے پہلے ہی سے اس مقصد کے لیے ایک شعبہ موجود ہے۔لیکن ترقیاتی بجٹ کے مشیر نے جو اطلاعات کے مطابق ایک متوازی سیٹ اپ قائم کیے ہوئے ہیں، یہ تمام حقائق نظر انداز کردیے۔اطلاعات کے مطابق اگرچہ بظاہر سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس منصوبے کی منظوری 24 جولائی کو دی ہے لیکن دراصل یہ اس اسکیم کی چھٹی مرتبہ توسیع ہے۔ درحقیقت وزارت ترقیات کی ورکنگ پارٹی نے نومبر2006 میں اس منصوبے کی منظوری دی تھی اور اس پر مجموعی طورپر صرف 3 کروڑ 99 لاکھ روپے لاگت آنی تھی لیکن اس منصوبے کے صرف 4 ماہ بعد اس پر نظر ثانی کی گئی اور سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی نے اس کی لاگت میں اضافہ کرنے کی منظوری دیدی اس طرح 3 کروڑ 99 لاکھ روپے لاگت کا یہ منصوبہ 5 کروڑ90 لاکھ روپے کابنادیاگیا۔اپریل 2009 میں اس پر ایک مرتبہ پھر یعنی تیسری مرتبہ نظر ثانی کی گئی اوراس کی لاگت بڑھاکر 14 کروڑ 42 لاکھ روپے کردی گئی ،اس پر چوتھی مرتبہ نظر ثانی مارچ 2015 میں احسن اقبال کی دور وزارت میںکی گئی اور اس کی لاگت 14 کروڑ 42 لاکھ روپے سے بڑھاکر17 کروڑ 89 لاکھ روپے کردی گئی۔ منصوبے پر پانچویں مرتبہ نظر ثانی رواں سال جنوری میں احسن اقبال کی وزارت کے دور ہی میں کی گئی اور اس پروجیکٹ کی لاگت ایک مرتبہ پھر بڑھا کر20 کروڑ روپے کردی گئی اور اب چھٹی مرتبہ احسن اقبال ہی کی دور وزارت میں تھرڈ فیز کے نام سے اس منصوبے کے لیے 35 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔اس طرح گزشتہ 11 سال کے دوران اس منصوبے کی لاگت میں 775 فیصد اضافہ کرکے سرکاری خزانے کو زیر بار کیاگیاہے۔ اب یہاں یہ وضاحت ضروری نہیں کہ اس سے مسلم لیگ کے سب سے زیادہ سنجیدہ اور اصول پسند وزیر کی اصول پسندی کاپردہ چاک ہوچکاہے اور لوگوں کو اس بھولے بھالے چہرے کے پیچھے موجود اصل چہرہ اچھی طرح نظر آگیاہے۔


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر