وجود

... loading ...

وجود

ڈیزل ٹرکس اور کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں سے ایک سال میں ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک

هفته 05 اگست 2017 ڈیزل ٹرکس اور کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں سے ایک سال میں ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک

سڑکوں پر دھواں اڑاتی ہوئی کاریں اور ڈیزل سے چلنے والے ٹرک موت بانٹ رہے ہیں ،اس بات کاانکشاف گزشتہ دنوں ایک رپورٹ میں کیاگیا جو پوری دنیا میں سڑکوں پر ڈیزل ٹرکوں اور کاروں سے نکلنے والے دھوئیں سے انسانی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے کی گئی تھی، اسٹڈی رپورٹ کے مطابق 2015 کے دوران سڑکوں پر ڈیزل ٹرکوں اور کاروں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی وجہ سے کم از کم ایک لاکھ 45 ہزار افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔
جرنل نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والی اسٹڈی رپورٹ کے مطا بق ان میں سے 80 فیصد اموات یورپی یونین ، چین اور بھارت میں ہوا میں نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کی آلودگی کی وجہ سے ہوئیں ۔
ماہرین کا کہناہے کہ نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) زہر آلود گیس ہے جو تیزابی بارشوں کاسبب بنتی ہے اور ایمونیا سے مل کر ایسے ذرات میں تبدیل ہوجاتی ہے جو انسان کے پھیپھڑوں میں پہنچ کر کینسر اورسانس کے جان لیواامراض کاسبب بنتی ہے اور اس طرح انسان کی قبل از وقت موت واقع ہوجاتی ہے۔
اس ا اسٹڈی سے قبل تک نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) سے پیدا ہونے والی آلودگی کی وجہ سے ہونے والی اموات کا اندازہ کاریں اور گاڑیاں بنانے والے اداروں کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹوں کی بنیاد پر لگایاجاتاتھا ،لیکن 2015 سے یہ بات سامنے آئی کہ دنیا کی مشہور کاریں اور ٹرک بنانے والی کمپنیاں ڈیزل انجنوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی اصل مقدار کو چھپانے کیلئے مخصوص آلات گاڑیوں میں نصب کردیتے ہیں جس کی وجہ سے لیباریٹری میں ٹیسٹ کے دوران دھوئیں کی اصل مقدار کا اندازہ نہیں لگایاجاسکتاہے جبکہ سڑک پر سفر کے دوران ان سے خارج ہونے والے دھوئیں کی مقدار اور اس دھوئیں مین نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کی مقدار ظاہر کی گئی مقدار کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔
نئی اسٹڈی سے یہ بات سامنے آئی کہ آسٹریلیا ،برازیل، کینیڈا ،جاپان، میکسیکو، روس ،جنوبی کوریا اور امریکہ کے گاڑیاں تیار کرنے والے 11 بڑے کارخانوں میں تیار ہونے والی مقبول برانڈ کی ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں سے سڑکوں پر سفر کے دوران خارج ہونے والا نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) یہ گاڑیاں تیار کرنے والے کارخانوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی مقدار کے مقابلے میں کم از کم 50 فیصد زیادہ ہوتاہے۔
اسٹڈی سے ظاہرہوا کہ کاروں اور ڈیزل ٹرکس سے خارج والے اس اضافی دھوئیں میں شامل نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد پہلے سے لگائے گئے ایک لاکھ 7ہزار افراد کی اموات سے 38 ہزار زیادہ تھی یعنی 2015 کے دوران دنیا بھر میں کاروں اور ڈیزل ٹرکوں سے خارج ہونے والے دھوئیں کی وجہ سے ہونے والی اموات کی اصل تعداد ایک لاکھ 45 ہزار سے زیادہ ہے۔اسٹڈی سے یہ بھی ظاہرہوا ہے کہ کاروں اور ڈیزل ٹرکس سے خارج والے اس اضافی دھوئیں میں شامل نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کی وجہ سے سب سے زیادہ معمر افراد متاثر ہوتے ہیں کیونکہ عمر کے ساتھ ان کے جسمانی نظام میں مدافعت کی طاقت کم ہوتی جاتی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کے ماحولیاتی صحت سے متعلق پالیسی ریسرچ گروپ کی شریک بانی سوسن اینن برگ کا کہنا ہے کہ نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کے اخراج سے عوام کی صحت پر ناقابل تلافی اور ہلاکت خیز اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اسٹڈی سے ظاہرہوتاہے کہ پوری دنیا مین نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کے اخراج کا بڑا ذریعہ کمرشیل ٹرکس اور بسیں ہیں اور فضا میں شامل 75 فیصد نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) ان ہی کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اسٹڈی سے یہ بھی ظاہرہواہے کہ فضا میں موجود 90 فیصد نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) دنیا کے 5 ملکوں برازیل، چین،یورپی یونین،بھارت اور امریکہ سے خارج ہوتاہے۔جبکہ یورپی یونین کے ممالک میں چلنے والی ہلکی گاڑیاں جن میں چھوٹے ٹرک ، کاریں اور وین شامل ہیں ،فضا میں 70 فیصد تک نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) پھیلانے کا سبب بنتی ہیں ۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ اگرچہ لوگوں کی نقل وحمل کو روکا نہیں جاسکتااور مال برداری کیلئے بھاری گاڑیوں اور ٹرکس کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا ایسی صورت میں فضا کو نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کی آلودگی سے محفوظ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ کار اور ٹرک بنانے والی کمپنیوں کو اپنی تیار کردہ گاڑیوں میں ایسے آلات نصب کرنے پر مجبور کرنا اور اس پابندی پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کو سڑکوں پر آنے سے روکنے کیلئے سخت پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ ہی آلودگی جذب کرنے اور دھوئیں کے اخراج کو روکنے کے آلات نصب نہ کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عاید کرنا ہے، اسی طرح زیادہ دھواں پھیلانے والے ممالک کو جن کا ذکر اوپر کیاجاچکاہے اپنے اپنے ملکوں میں زیادہ پرانی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عاید کرنے یا ان گاڑیوں میں دھوئیں کے اخراج کی روک تھام کے آلات کی تنصیب کو لازمی قرار دینا چاہئے تاکہ لوگوں کی زندگی کاپہیہ بھی چلتارہے اور فضا میں نائٹروجن آکسائیڈ (NOx ) کی زیادتی کے سبب سالانہ لاکھوں افراد کو بے وقت موت کے منہہ میں جانے سے بھی روکا جاسکے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اسٹڈی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعدزیادہ آلودگی پھیلانے والے مذکورہ ممالک خاص طورپر یورپی یونین میں شامل ممالک اور بھارت کی حکومتیں لوگوں کی بے وقت موت کے سلسلے کو روکنے یا کم کرنے کیلئے کیالائحہ عمل اختیار کرتی ہیں ۔تاہم ان ممالک کی جانب سے آلودگی کے پھیلائو کو روکنے یا اس میں کمی کیلئے مناسب اقدامات نہ کیاجانا بے قصور اور معصوم عوام کے قتل کے مترادف تصورکیاجائے گا۔اس حوالے سے ضرورت اس امر کی ہے اس اسٹڈی رپورٹ کی روشنی میں عالمی سطح پر ایسا قانون وضع کیا جائے جس کے تحت ٹرکس ،کاروں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ممالک کو آلودگی پرکنٹرول کرنے کاپابند بنایا جاسکے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر