... loading ...
کراچی جیل میں قتل ، عصمت دری اوردہشت گردی کے الزامات میں قید بااثر قیدی اپنے گھروں سے زیادہ آرام اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،ان میں سے بہت سے قیدی جیل خانے کے ماحول سے بچنے کیلئے مبینہ طورپر جیل افسران اور جیل کے ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے شہر کے مختلف علاقوں کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز میں منتقل ہوچکے ہیں ،جوکہ محکمہ جیل خانہ جات کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، ہسپتال میں منتقل ہونے والے ان بااثر قیدیوں کوہسپتالوں کے ان وارڈز میں نہ صرف یہ کہ اپنے اہل خانہ اور اپنے گروہ کے لوگوں سے ملنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے یا ان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہے بلکہ انھیں ہر طرح کی آسائشیں بھی میسر ہیں ،جن میں اٹینڈنٹ کے نام پر خدمت گار بھی شامل ہیں ۔ اس صورت حال کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ حسن ساہیتونے اپنے خط میں اعتراف کیا ہے کہ بہت سے قیدی معمولی بیماریوں کا علاج کرانے کے بہانے ہسپتال منتقل کئے گئے تھے اور اب وہ مہینوں سے نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جیل واپس نہیں آئے ہیں ۔اس طرح جیل خانے سے نکل کر ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز کو گھر سے دور گھر بنالینے والے ملزمان میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم شاہ زیب اور اے لیول کے ایک طالب علم سلیمان لاشاری کے قاتل بھی شامل ہیں جو ایک ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں اطمینان اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،جیل سے باہر عیاشی کی زندگی گزارنے والے بدنام زمانہ ملزمان میں پولیس کے ایک ایس ایس پی کا بیٹا سلمان ابڑو بھی شامل ہے جس نے اپنے گارڈز کے ساتھ ڈیفنس کراچی کے علاقے خیابان شمشیر میں ایک نوجوان سلیمان لاشاری کو قتل کردیاتھا۔سلمان ابڑو کو جس کی عمر 19 سال ہے سینے میں درد کی مبینہ شکایت پر کارڈیو ویسکولر ڈیزیز یعنی امراض قلب کے سرکاری ہسپتال میں منتقل کیاگیا تھا لیکن وہ گزشتہ سال سے اس ہسپتال کے وارڈ میں ہی موجود ہے اور مبینہ طورپر اپنے ایس ایس پی والد کے اثر ورسوخ کی وجہ سے گھر سے زیادہ بہتر آسائشیں حاصل کررہاہے۔یہی نہیں بلکہ 5 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میں نیب کے ہاتھوں گرفتار کئے گے اے آئی جی فدا حسین شیخ اور ایک ایس ایس پی تنویر احمد طاہر جے پی ایم سی اور امراض قلب کے ہسپتال میں دمہ ، ہائپر ٹنشن اور سانس لینے میں تکلیف میں عارضے کے بہانے زیر علاج ہیں ،ہسپتال کے اسپیشل وارڈ میں عیاشی کرنے والوں میں نواب سجاد تالپور بھی شامل ہے جو طالب علم کے قتل میں شریک مجرم بتایاجاتاہے اور ہسپتال میں اس کے ساتھ بھی ایک قاتل کے بجائے خصوصی مہمان جیسا سلوک کیاجارہاہے اور اسے اس کی فرمائش کے مطابق دنیا کی تمام آسائشیں مہیا کی جاتی ہیں ۔ہسپتال میں زیر علاج شاہ زیب کے قتل کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی ایک ویڈیو حال ہی میں وائرل ہوئی ہے جس میں اسے ایئرکنڈیشنڈ وارڈ میں بیٹھ کر ویڈیو گیم کھیلتے دیکھا جاسکتاہے۔کہاجاتاہے کہ جتوئی فیملی جو ایک بڑا کاروباری ادارہ چلاتی ہے جیل حکام کو باقاعدگی سے ان کی توقع سے بہت زیادہ رقم ادا کرتی ہے اور اس کے عوض ہر ایک نے اس کی جانب سے آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔جیل کے عملے نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جتوئی کے اہل خانہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیل حکام کو کس طرح خوش رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیاجاسکتاہے۔ جتوئی فیملی کی نوازشات کی وجہ سے جیل میں بھی شاہ رخ کو ایک علیحدہ کمرہ دیاگیاتھا لیکن اب تو وہ گھر سے زیادہ آرام سے زندگی گزاررہاہے۔جتوئی فیملی کے ارکان کادعویٰ ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو رشوت کے زور پر ہسپتال منتقل نہیں کیاگیا بلکہ اسے عدالتی حکم پر جیل سے ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔کراچی جیل میں قتل ، عصمت دری اوردہشت گردی کے الزامات میں قید بااثر قیدی اپنے گھروں سے زیادہ آرام اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،ان میں سے بہت سے قیدی جیل خانے کے ماحول سے بچنے کیلئے مبینہ طورپر جیل افسران اور جیل کے ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے شہر کے مختلف علاقوں کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز میں منتقل ہوچکے ہیں ،جوکہ محکمہ جیل خانہ جات کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، ہسپتال میں منتقل ہونے والے ان بااثر قیدیوں کوہسپتالوں کے ان وارڈز میں نہ صرف یہ کہ اپنے اہل خانہ اور اپنے گروہ کے لوگوں سے ملنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے یا ان کو نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کرنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہے بلکہ انھیں ہر طرح کی آسائشیں بھی میسر ہیں ،جن میں اٹینڈنٹ کے نام پر خدمت گار بھی شامل ہیں ۔ اس صورت حال کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ دنوں سینٹرل جیل کراچی کے سپرنٹنڈنٹ حسن ساہیتونے اپنے خط میں اعتراف کیا ہے کہ بہت سے قیدی معمولی بیماریوں کا علاج کرانے کے بہانے ہسپتال منتقل کئے گئے تھے اور اب وہ مہینوں سے نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور جیل واپس نہیں آئے ہیں ۔اس طرح جیل خانے سے نکل کر ہسپتالوں کے پرائیوٹ وارڈز کو گھر سے دور گھر بنالینے والے ملزمان میں یونیورسٹی کے ایک طالب علم شاہ زیب اور اے لیول کے ایک طالب علم سلیمان لاشاری کے قاتل بھی شامل ہیں جو ایک ہسپتال کے پرائیوٹ وارڈ میں اطمینان اور عیاشی کی زندگی گزار رہے ہیں ،جیل سے باہر عیاشی کی زندگی گزارنے والے بدنام زمانہ ملزمان میں پولیس کے ایک ایس ایس پی کا بیٹا سلمان ابڑو بھی شامل ہے جس نے اپنے گارڈز کے ساتھ ڈیفنس کراچی کے علاقے خیابان شمشیر میں ایک نوجوان سلیمان لاشاری کو قتل کردیاتھا۔سلمان ابڑو کو جس کی عمر 19 سال ہے سینے میں درد کی مبینہ شکایت پر کارڈیو ویسکولر ڈیزیز یعنی امراض قلب کے سرکاری ہسپتال میں منتقل کیاگیا تھا لیکن وہ گزشتہ سال سے اس ہسپتال کے وارڈ میں ہی موجود ہے اور مبینہ طورپر اپنے ایس ایس پی والد کے اثر ورسوخ کی وجہ سے گھر سے زیادہ بہتر آسائشیں حاصل کررہاہے۔یہی نہیں بلکہ 5 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میں نیب کے ہاتھوں گرفتار کئے گے اے آئی جی فدا حسین شیخ اور ایک ایس ایس پی تنویر احمد طاہر جے پی ایم سی اور امراض قلب کے ہسپتال میں دمہ ، ہائپر ٹنشن اور سانس لینے میں تکلیف میں عارضے کے بہانے زیر علاج ہیں ،ہسپتال کے اسپیشل وارڈ میں عیاشی کرنے والوں میں نواب سجاد تالپور بھی شامل ہے جو طالب علم کے قتل میں شریک مجرم بتایاجاتاہے اور ہسپتال میں اس کے ساتھ بھی ایک قاتل کے بجائے خصوصی مہمان جیسا سلوک کیاجارہاہے اور اسے اس کی فرمائش کے مطابق دنیا کی تمام آسائشیں مہیا کی جاتی ہیں ۔ہسپتال میں زیر علاج شاہ زیب کے قتل کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی ایک ویڈیو حال ہی میں وائرل ہوئی ہے جس میں اسے ایئرکنڈیشنڈ وارڈ میں بیٹھ کر ویڈیو گیم کھیلتے دیکھا جاسکتاہے۔کہاجاتاہے کہ جتوئی فیملی جو ایک بڑا کاروباری ادارہ چلاتی ہے جیل حکام کو باقاعدگی سے ان کی توقع سے بہت زیادہ رقم ادا کرتی ہے اور اس کے عوض ہر ایک نے اس کی جانب سے آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔جیل کے عملے نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ جتوئی کے اہل خانہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جیل حکام کو کس طرح خوش رکھ کر اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور کیاجاسکتاہے۔ جتوئی فیملی کی نوازشات کی وجہ سے جیل میں بھی شاہ رخ کو ایک علیحدہ کمرہ دیاگیاتھا لیکن اب تو وہ گھر سے زیادہ آرام سے زندگی گزاررہاہے۔جتوئی فیملی کے ارکان کادعویٰ ہے کہ شاہ رخ جتوئی کو رشوت کے زور پر ہسپتال منتقل نہیں کیاگیا بلکہ اسے عدالتی حکم پر جیل سے ہسپتال منتقل کیاگیاہے۔ قیدیوں کو جیل سے باہر ہسپتالوں میں منتقل کئے جانے کے حوالے سے جیل کا اپنا قانون موجود ہے اور اس قانون کے تحت کسی بھی ملزم کو کسی نجی ہسپتال منتقل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔صرف عدالتی احکامات پر ہی کسی ملزم کو نجی ہسپتال میں علاج کرانے کی سہولت دی جاسکتی ہے۔اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بعض خطرناک ملزمان نے عدالت سے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی رائے حاصل کرنے اور میڈیکل چیک اپ کرانے کی اجازت حاصل کی تھی لیکن اسی کی بنیادپر انھوں نے شہر کے معروف ہل پارک ہسپتال ، لیاقت نیشنل ہسپتال ،قمر الاسلام ہسپتال اور ہیلتھ ویژن ہسپتالوں کو اپنا مستقل مسکن بنالیاہے۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیاہے کہ ان میں سے بعض ملزم اپنے نگراں پولیس اہلکاروں اور ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت سے اپنے گھروں پر بھی چلے جاتے ہیں اور بعض ملزمان نے تو رات اپنے گھر پر گزارنے کومعمول بنالیا ہے ۔کیونکہ رات کو کسی طرح کی چیکنگ کازیادہ خوف نہیں ہوتا۔ جیل خانہ جات اور قانون کے صوبائی وزیر نے گزشتہ روزاس حوالے ا یک رپورٹر کے سوال کے جواب میں بتایاتھا کہ انھوں نے قیدیوں کو نجی ہسپتال میں داخل کئے جانے اور وہاں طویل عرصے تک ان کے قیام کے حوالے سے تحقیقات کاحکم دے دیاہے،انھوں نے کہا کہ عام طورپر عدالتیں ہمیں بعض ملزمان کو پرائیوٹ ہسپتالوں میں منتقل کرنے کاحکم دیتی ہیں اور عدالتی احکامات کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے لیکن قیدیوں کاطویل عرصے تک ہسپتالوں میں رہنا اور رکھاجانا خلاف قانون ہے انھوں نے کہا کہ کسی بیماری کے شکار قیدی کو عمومی طوپر سرکاری ہسپتالوں ہی میں داخل کیاجاسکتاہے۔تاہم اگر نیب یا عدالتیں کسی ملزم کو نجی ہسپتال میں رکھنے کا حکم دیتی ہیں تو پھر ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں اور ان احکامات سے روگردانی کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے۔ اس لئے اس معاملے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے اور بے بس ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قتل اور دیگر سنگین ملزمان کی جیل سے ہسپتالوں میں منتقلی اور وہاں عیاشیوں سے متعلق ان خبروں پر عدالت کیا کارروائی کرتی ہے اور مبینہ طورپر بھاری رشوت کے عوض قاتلوں کو غیر ضروری سہولتیں فراہم کرنے والے جیل خانے کے اعلیٰ افسران بھی گرفت میں لائے جائیں گے یاانھیں اس طرح کی کرپشن اور رشوت بٹورنے کی کھلی چھوٹ ملی رہے گی۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...