... loading ...
گذشتہ مالی سال 17-2016 کے دوران 4 ارب 40 کروڑ ڈالر کے تجارتی قرض لینے کے باوجود گذشتہ برس اکتوبر سے 21 جولائی 2017 تک اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کے ذخائر میں 3 ارب 90 کروڑ ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کی شرح پر آنے والے دباؤ کی وجہ سے ذخائر میں کمی ہوئی۔انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی مداخلت کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 108 روپے سے 105.40 روپے تک آکر مستحکم ہوئی۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ذخائر میں کمی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو بالخصوص انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔کرنسی کی قدر میں اچانک کمی پر اس وقت کے وزیر خزانہ نے روپے کی قدر میں اس کمی کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے اس کی رپورٹ 10 روز میں طلب کرلی تھی۔اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے 5 جولائی 2017 کو انٹر مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کے ایکسچینج ریٹ میں اچانک اضافے کے معاملے پر ’اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر کو انکوئری کے لیے باقائدہ کہہ دیا ہے‘۔وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیاتھا کہ مرکزی بینک کے نئے گورنر طارق باجوہ نے اس معاملے کی رپورٹ 10 روز میں طلب کرلی ہے، خیال رہے کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق سرکاری ملازم طارق باجوہ کو روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے واقعے کے بعد اچانک مرکزی بینک کا گورنر مقرر کردیا گیا تھا۔حکومت کی جانب سے طارق باجوہ کو اچانک اسٹیٹ بینک کاگورنر بنانے کے اعلان کے فوری بعدسینیٹ میں حزب اختلاف کی جانب سے طارق باجوہ کو گورنر اسٹیٹ بینک کے عہدے سے ہٹانے کے لیے قرار داد پیش کر دی گئی تھی۔ اس قرارداد پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ارکان سمیت 40 سینیٹرز نے دستخط کیے تھے۔قرارداد میں دعویٰ کیا گیاتھا کہ طارق باجوہ کی تقرری اسٹیٹ بینک پاکستان ایکٹ 1956 کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی ہے۔واضح رہے کہ طارق باجوہ نے 1987 میں سول سروس پاکستان میں شمولیت اختیار کی جبکہ گذشتہ ماہ 18 جون کو وہ اکنامک افیئرز ڈویڑن اینڈ فائننس کے سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ان سے قبل اشرف وتھرا اپنی 3 سالہ مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد رواں برس 28 اپریل کو اسٹیٹ بینک کے گورنر کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے، جن کے بعد ریاض الدین قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔گورنر اسٹیٹ بینک بنائے جانے سے قبل طارق باجوہ نے اسٹیٹ بینک میں ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فرائض انجام دیے ہیںجبکہ انھوں نے بینک آف پنجاب کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے طور پر بھی کام کیا ہے۔طارق باجوہ کا تعلق بنیادی طورپرپاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے کسی بیورو کریٹ کو مرکزی بینک کے گورنر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی میں اچانک کمی کے اسباب کی تحقیقات کی تجویز اس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے مالیاتی اور مالیاتی پالیسیز تعاون بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے دی تھی یہ گروپ وزارت خزانہ اور مرکزی بینک کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔6 جولائی 2017 کو مختلف بینکس کے صدور اور سی ای اوز سے ہونے والی ملاقات کے بعد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔خیال رہے کہ 5 جولائی کو ڈالر کی قیمت اچانک 108.25 روپے پر آگئی تھی جبکہ 4 جولائی کو ڈالر کی قیمت 104.90 تھی۔ڈالر کی قدر میں یہ اچانک تبدیلی غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں اچانک استحصال کی تشخیص اور تشویش کی وجہ سے سامنے آئی تھی جس کے بعد اسی روز 5 جولائی کو وزیر خزانہ نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔انہوں نے 6 جولائی 2017 کو مختلف بینکس کے صدور اور سی ای اوز کے درمیان ہونے والے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک پاکستان سے اس اچانک اور مصنوعی تبدیلی کے معاملے پر تحقیقات کی ہدایت کی۔اس اجلاس کے دوران ہی انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر مستحکم ہوگئی، وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان ایکٹ 1956 کے مطابق مالیاتی اور مالیاتی پالیسیز تعاون بورڈ، جو مرکزی بینک کے گورنر اور فنانس سیکریٹری پر مشتمل ہے، ایکسچینج ریٹ اور مالیاتی پالیسز بنانے کا ذمہ دار ہیں۔اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ’کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اسی لیے ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافہ حیران کن تھا جس کے بعد گذشتہ روز شام میں ہی کمرشل بینکوں کے سربراہان کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا‘۔اجلاس کے بعد اسحٰق ڈار نے بتایا تھا کہ روپے کی قدر میں اچانک ہونے والی کمی کی تحقیقات کی جائیں گی کیونکہ انٹر بینک میں کاروبار میں ہونے والا یہ ردوبدل مصنوعی تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے گذشتہ مالی سال 17-2016 میں تجارتی بینکوں سے 4 ارب 40 کروڑ ڈالر کے قرض لیے۔ خیال رہے کہ تجارتی قرضے زیادہ مہنگے ہوتے ہیں کیونکہ تجارتی شرح عموماً کثیر الجہتی ذرائع سے ہونے والی پیشکش سے زیادہ ہوتی ہے۔حکومت نے اب تک بیرونی قرضوں پر ڈیب سروسز کے حوالے سے حتمی اعداد و شمار شائع نہیں کیے تاہم پہلی تین سہ ماہیوں میں یہ قرضے 5 ارب 20 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئے۔پاکستان نے پہلی سہ ماہی میں ایک ارب 55 کروڑ ڈالر ادا کیے، دوسری سہ ماہی میں ایک ارب 25 کروڑ ڈاکر ادا کیے، جبکہ تیسری سہ ماہی میں 2 ارب 43 کروڑ ڈالر ادا کیے۔اس طریقہ کار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخری سہ ماہی میں ڈیب سروسز 2 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہیں، جس کے بعد سالانہ ڈیب سروسز 7 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔مالی سال 15-2014 میں ڈیب سروسز 5 ارب 40 کروڑ ڈالر تھیں جبکہ مالی سال 16-2015 میں 5 ارب 31 کروڑ ڈالر تھیں۔گذشتہ مالی سال 17-2016 میں کرنٹ اکاؤنٹ میں 12 ارب ڈالر کے ریکارڈ خسارے کے پیش نظر بڑھتے ہوئے قرضے اور کم ہوتے ذخائر زرمبادلہ کی شرح کو زبردست طریقے سے ہلا سکتے ہیں۔کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو اپنے ذخائر کا استعمال کرنا ہوگا۔
بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے اور کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر پاکستان جیسے ملک کیلئے خطرناک ہیں جو پہلے ہی تجارتی خسارے کا سامنا کر رہا ہے۔کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو مالی سال 18-2017 میں مزید تجارتی قرضوں کی ضرورت پڑے گی جبکہ اسی دوران زرمبادلہ کے ساتھ ترسیلات زر میں بھی کمی آرہی ہے۔حکومت نے رواں برس جون میں تجارتی بینکوں سے ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کا قرض لیا، تجارتی بینکوں سے قرضوں کا ہدف 2 ارب ڈالر تھا تاہم رواں برس جون تک 4 ارب 40 کروڑ ڈالر کے قرضے لیے جا چکے ہیں۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...