... loading ...
حکومت کی وصف کیا ہے؟ یہ تو سادہ سی بات ہے لیکن پر کسی کو علم نہیں کہ حکومت کس چیز کا نام ہے؟ اصل میں حکومت کی معنی کا بینہ ہوتی ہے لیکن حکومت کو چلانے کے لیے بیورو کریسی ہی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گریڈ 20 سے لے کر گریڈ 22 تک کے افسران ایسے ہوتے ہیں جو بادشاہ گر ہوتے ہیں۔ سیکریٹری ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور چیف سیکریٹری وہ عہدے ہوتے ہیں جو آئیڈیل تصور کیے جاتے ہیں۔ سندھ میں کرپشن کی کہانیاں زبان زد عام ہیں لیکن پچھلے دس سالوں میں جو کچھ بے رحمی سے کیا گیا اس سے سیاسی رہنما تو نہیں تھکے لیکن بیورو کریسی تھک گئی ہے اور وہ اب اس گھنائونے کھیل سے بدظن ہوگئی ہے۔ سندھ میں گریڈ 21 کی 14 پوسٹیں ہیں جس پر اب تک 8 افسران کام کر رہے ہیں۔ اور 6پوسٹیں خالی پڑی ہیں مگر کوئی افسر سندھ میں آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دو اہم پوسٹیں خالی پڑی ہیں اور تین افسران گھر بیٹھے ہیں اس وقت علم الدین بلو، فاروق اعظم، ڈاکٹر نور عالم، ضمیر احمد خان، ناہید شاہ درانی، صالح فاروقی، خان محمد مہر اور محمد حسین سید سندھ میں موجود ہیں ان میں خان محمد مہر، محمد حسین سید اور ضمیر احمد خان گھر بیٹھے ہیں کہ کب ان کو پوسٹنگ ملے گی؟ اور ساتھ ساتھ دواہم ترین عہدے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور چیئرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم خالی پڑے ہوئے ہیں مگر کسی افسر کو وہاں تعینات نہیں کیا جا رہا۔
سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی صاحبزادی ناہید شاہ درانی ذہانت کے لحاظ سے قابل ترین افسر ہیں اور ان کی شہرت بھی اچھی ہے مگر وہ اپنے والد کے دور سے لے کر اب تک اچھی پوسٹنگ سے محروم رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو غیر قانونی کام چاہیے جبکہ ناہید شاہ درانی غیر قانونی کام کرنے کے بجائے قانون پر عمل کرنے کی حامی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی ناپسندیدہ افسر ہیں یہ بھی عجیب بات ہے کہ پارٹی میں قائم علی شاہ جی حضوری کی وجہ سے پارٹی کو سب سے زیادہ پسند ہیں جبکہ ان کی بیٹی چاپلوسی کے بجائے قانون کی حکمرانی کے لیے ڈٹ جاتی ہیں تو وہ اسی لئے تووہ اپنے والد کی پارٹی کے لیے ناقابل قبول ہیں۔ ناہید شاہ درانی کے شوہر اقبال درانی کو بھی پوسٹنگ نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ کیسی صورتحال ہے کہ سندھ میں سب سے زیادہ غیر قانونی کام کئے جاتے ہیں۔ کرپشن کے قصے ایسے ہیں کہ زبان دنگ رہ جائے لیکن کئی افسران ایسے ہیں جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ مگر اب ایسی صورت حال پیدا ہوگئی ہے کہ حکومت سندھ بھی حیران ہے کہ سرکاری افسران سندھ میں پوسٹنگ لینے کے لیے تیار نہیں۔ آغا جان اختر، رابھا جویری آغا، سہیل اکبر شاہ، محمد یونس ڈھاگا، محمد صدیق میمن، اقبال احسن زیدی، شعیب صدیقی سمیت کئی ایسے اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں جو سندھ سے تعلق ضرور رکھتے ہیں مگر اب وہ سندھ میں آکر خدمات دینے کے لیے قطعی تیار نہیں ہیں۔ اس سب کے باوجود حکومت سندھ ٹس سے مس نہیں ہوتی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت سندھ اپنی پالیسی تبدیل کرتی اور اچھی شہرت کے حامل افسران کی ہمت افزائی کرتی۔
ایسا اس لئے ہواکہ حکومت سندھ نے آئی جی سندھ پولیس جیسے اچھی شہرت کے حامل افسر سے جب لڑائی لڑی تو اچھی شہرت رکھنے والے افسران میں بے چینی پھیل گئی مگرحیرت انگیز بات یہ ہے کہ حکومت سندھ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اہم عہدہ ہوتا ہے جو ریلیف کمشنر بھی ہوتے ہیں ان کو اہم ذمہ داری تفویض کی جاتی ہیں لیکن پچھلے چھ ماہ سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور ریلیف کمشنر کا عہدہ خالی پڑا ہے اور چیف سیکریٹری رضوان میمن کو اس کی اضافی ذمے داری دی ہوئی ہے اور وہ بیک وقت تین عہدوں پر کام کر رہے ہیں یہ بھی عجیب وغریب بات ہے کہ اونچے گریڈ کے افسر نچلے گریڈ کا چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں اس طرح سندھ میں اہم سرکاری عہدوں پر کام کرنے کے لیے افسران قطعی طور پر تیار نہیں ہے۔ بیورو کریسی اس وجہ سے بھی خوفزدہ ہے کیونکہ شاہ ‘ شمعون، ثاقب سومرو، لئیق احمد میمن جیسے افسران ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ان پر درجنوں مقدمات بنے اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ ان افسران کے سرپرست سیاسی رہنما کنارہ کش ہوگئے تھے۔ اب افسران پیچھے ہٹ گئے ہیں اور وہ حکومت سندھ میں نوکری کرنے کے بجائے وفاقی حکومت میں نوکری کو ترجیح دے رہے ہیں حکومت سندھ بدنامی کے باوجود ڈھٹائی سے حکومت چلا رہی ہے۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...