وجود

... loading ...

وجود

پولیس کی سرپرستی میں ڈرگ مافیا تعلیمی اداروں میں سرگرم

پیر 31 جولائی 2017 پولیس کی سرپرستی میں ڈرگ مافیا تعلیمی اداروں میں سرگرم

کراچی کو مذہبی اور لسانی دہشت گردوں،بھتہ خوروں، اغواتاوان کی وارداتیں کرنے والوں ،لیاری گینگ وار اور دوسرے منظم جرائم پیشہ گروہوںاور افراد سے پاک کرنے اور کراچی کاامن بحال کرنے کیلئے ستمبر 2013 میں رینجرز کے ذریعہ آپریشن شروع کیاگیاتھا۔رینجرز کے اہلکاروں اور افسران نے اس شہر کے امن کو بحال کرنے اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے بلاشبہ انتھک محنت کی اور ان کی شب وروز کاوشوں کی وجہ سے اس شہر میں بڑی حد تک امن بحال ہوگیا اور شہریوں نے یک گونہ سکون کاسانس لیاہے، لیکن انتہائی تعجب اور افسوس کی بات ہے کہ رینجرز کے اہلکار اور افسران کی ان تمام کارروائیوں کے باوجود اس شہر کو منشیات فروشوں سے پاک کرنا نہ صرف ممکن نہیں ہوسکا بلکہ ایک اندازے کے مطابق ان کی سرگرمیوں میں پہلے سے زیادہ تیزی آگئی ہے،منشیات فروش نہ صرف یہ کہ اب بھی کراچی کے گلی کوچوں میں دندناتے پھر رہے ہیںاس شہر کے نوجوانوں کی رگوں میں منشیات کازہر اتارنے میں مصروف ہیں بلکہ اب کراچی کے تعلیمی ادارے بھی ان کی دست برد سے محفوظ نہیں رہے اور اطلاعات کے مطابق منشیات فروشوں نے تعلیمی اداروں کومنشیات فروشی کی نئی منڈی تصورکرتے ہوئے شہر کے کم وبیش تمام تعلیمی اداروں میں منشیات فروشی کاپورا نیٹ ورک قائم کرلیا ہے،اس ضمن میں سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ منشیات فروش اب لڑکوں کو منشیات کا عادی بنانے کی کوششوں کے ساتھ ہی طالبات کو بھی اپنا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں شہر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طالبات بھی منشیات کی عادی ہوتی جارہی ہیں اورتعلیمی اداروںمیں نگرانی کے کمزور نظام یااس نظام کے فقدان کی وجہ سے ان کی تعدادمیں روز بروز اضافہ ہوتاجارہاہے ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت کراچی میںمنشیات کے عادی نوجوانوںکی تعداد کم وبیش 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ان میں 50 فیصدیعنی 5لاکھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ وطالبات ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق طلبہ وطالبات زیادہ تر حشیش استعمال کرتے ہیں اور تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت کی روک تھام کاکوئی موثر نظام نہ ہونے کے باعث منشیات معصوم طلبہ وطالبات کو مختلف بہانوں سے منشیات کاعادی بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں ابتدا میں مفت منشیات کی فراہمی بھی شامل ہیں ، منشیات فروشوں کے اس حربے کی وجہ سے مزید کم وبیش 20لاکھ طلبہ وطالبات کی زندگیاں خطرے میں بتائی جاتی ہے۔
شہر میں آوارہ بچوں کی بہبود کیلئے کام کرنے والی ایک این جی اوآئی ایچ ڈی ایف کے سربراہ کاکہناہے کہ کراچی کے کم وبیش تمام اعلیٰ درجے کے انگریزی میڈیم اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منشیات مافیا کے کارندے موجود ہیں اور وہ طلبہ کو منشیات فراہم کررہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق منشیات مافیا شہر کے آوارہ اور غریب گھرانوں کے بچوں کو منشیات کی فراہمی کیلئے استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے پکڑے جانے کاامکان کم ہوتاہے اور ان کے پکڑے جانے کی صورت میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروںکے ہاتھ ان کے گریبان تک نہیں پہنچ پاتے،اطلاعات کے مطابق منشیات مافیا تعلیمی اداروں میں اپنا نیٹ ورک قائم کرنے اور اسے مضبوط بنانے کیلئے پسماندہ علاقوں کے غریب گھرانوں کے ذہین بچوں کاانتخاب کرتے ہیں نواحی علاقوںکے سرکاری اورنجی اسکولوں میں نتائج کے اعلان کے موقع پر کسی نہ کسی بہانے اسکولوںکی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں اور اس دوران غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے والدین سے روابط بڑھاتے ہیں اور ان سے ہمدردی کااظہار کرتے ہوئے ان کے بچوں کو مستقبل شاندار بنانے کیلئے انھیں اعلیٰ درجے کے اسکولوں میں داخلہ دلانے اور ان کے تعلیمی اخراجات خود پورے کرنے کا یقین دلاکر ان بچوں کو اعلیٰ درجے کے اسکولوں میں داخلہ دلادیتے ہیں جس کے بعد ان کو جیب خرچ وغیرہ کالالچ دے کر بتدریج ان کو خود بھی منشیات کاعادی بنادیتے ہیں اور پھر ان کو ان تعلیمی اداروں میں منشیات فروخت کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں ،اس چالاکی کے ساتھ قائم کئے گئے اس نیٹ ورک کا پتہ چلانے اور اس کو توڑنا آسان نہیں ہوتا۔
تعلیمی اداروں میں منشیات عام ہونے اور طلبہ کے اس لعنت میں مبتلا ہونے کے خبریں سامنے آمنے کے بعد سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل مسرت نواز ملک کے ساتھ یہ اعلان کیاتھا کہ تمام تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کا ہر سال خون کا ٹیسٹ کرایا جائے گا تاکہ منشیات کی بلا گرفتار طلبہ وطالبات کا پتہ لگایاجاسکے لیکن اس اعلان کے بعد اس پر عملدرآمد کیلئے اب تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایاگیا ، طلبہ وطالبات میں منشیات کے عادی بچوں کا پتہ چلانے اوران کی صحیح تعدداد معلوم کرنے کیلئے ان کے خون کا ٹیسٹ کرانے کافیصلہ بلاشبہ ایک اچھا فیصلہ ہے لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد کے ساتھ ہی منشیات کی لعنت کا شکار ہوجانے والے بچوں کو اس لعنت سے نجات دلاکر معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بنانا اور تعلیمی اداروں میں پھیلے ہوئے منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کیلئے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنا زیادہ ضروری ہے ورنہ منشیا ت کی یہ لعنت مزید طلبہ وطالبات کو اپنی گرفت میں لیتی رہے گی اور اس طرح منشیات کے عادی بچوں کی تعداد میں اس حد تک بھی اضافہ ہوسکتاہے کہ ان پر قابو پانا حکومت کے بس میں نہ رہے۔
امید کی جاتی ہے کہ سندھ کی حکومت انسداد منشیات فورس کے ارباب اختیار ،تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور سینئر اساتذہ کے ساتھ مل کر اس لعنت کی روک تھام کیلئے حکمت عملی تیار کرنے اور اس پر پوری طرح عملدرآمد کو یقینی بنانے پر توجہ دیں گے اور اس حوالے سے کئے جانے والے فیصلوں کو طاق نسیاں کے حوالے کرنے کے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ان پر بلاتاخیر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے۔جب تک اس لعنت پر کنٹرول کیلئے منظم انداز میں کام کاآغاز نہیں کیاجائے گا اور اس حوالے سے ذمہ داریاں واقعی ایماندار اور مخلص افسران کے حوالے نہیں کی جائیں گی اس لعنت پر قابو پانا ممکن نہیں ہوسکے گا ، اس حوالے سے یہ بات مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ صرف سیمینارز کے انعقاد اور زبانی مہم چلانے سے اس صورت حال پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوسکتا اس پر قابو پانے کیلئے بلاتاخیر عملی اقدامات بہت ضروری ہیں۔توقع ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ کام صرف سرکاری افسران کے سپرد کرنے کے بجائے ،معلقہ این جی اوز ،تعلیمی اداروں کے سینئر ارکان اور والدین کو بھی برابر کاشریک کیاجائے گا۔

 


متعلقہ خبریں


اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد وجود - پیر 23 فروری 2026

حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...

طالبان، بی ایل اے دہشت گرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے،اپوزیشن اتحاد

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن وجود - پیر 23 فروری 2026

خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...

دو وفاقی وزیر سندھ حکومت کیخلاف سازش مصروف ہیں،شرجیل میمن

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

مضامین
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت وجود منگل 24 فروری 2026
طارق رحمن کابینہ میں ہندو وزیر کی شمولیت

آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠ وجود منگل 24 فروری 2026
آرٹیکل ١٠٩(ب) کے بعد آرٹیکل ١١٠

سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ وجود منگل 24 فروری 2026
سیرتِ نبوی ۖ: رحمت، اخلاق اور انسانیت کا کامل نمونہ

فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر وجود منگل 24 فروری 2026
فوجی رہنما کو ہٹانے والا صدر

کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر