وجود

... loading ...

وجود

ملک اسد سکندر اور آصف زرداری میں جنگ چھڑ گئی!

هفته 22 جولائی 2017 ملک اسد سکندر اور آصف زرداری میں جنگ چھڑ گئی!


یوں تو سندھ میں کئی افراد آج بھی ایک طاقت رکھتے ہیں لیکن چند افراد ایسے ہیں جن کی طاقت کا اندازہ حکومت کو بھی نہیں ہوتا۔ ان میں ملک اسد سکندر بھی ایک ہیں۔ضلع جامشورو کے علاقہ تھانہ بولا خان سے تعلق رکھنے والے ملک اسد سکندر حقیقت میں ایسے ہی طاقتور ہیں جیسے قبائلی سردار ہوتے ہیں بلوچستان کے سابق و زیراعلیٰ صالح محمد بھوٹا نی ان کے ماموں اور سسر ہیں ،یوں سندھ بلوچستان میں ملک اسد سکندر کا اچھا خاصا اثر ورسووخ ہے ۔ پچھلے دس سالوں میں وہ اتنے طاقتور بن چکے ہیں کہ جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے بھی امیر ترین اور کھرب پتی ہیں۔ وہ آصف زرداری کے اس لیے بھی قریب ہیں کیونکہ آصف زرداری کے قریبی ساتھی ستار کیریو ان کے بہنوئی ہیں۔
ملک اسد سکندر سے آصف علی زرداری کیوں ناراض ہوئے ہیں؟ یہ ایک دلچسپ قصہ ہے ہواں یوں کہ معروف بلڈر ملک ریاض نے جامشورو‘ نوری آباد کے قریب کچھ زمین لینے میں دلچسپی ظاہر کی ملک اسد سکندر نے ان کو ہزاروں ایکڑ زمین فروخت کی جس میں کچھ زمین ملک اسد سکندر کی تھی اور کچھ ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ملک ریاض سے اربوں روپے لینے کے بعد ملک اسد سکندر یہ کہہ کر مکرگئے کہ زمین ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کی تھی کچھ رشتہ دار اپنی زمین واپس مانگ رہے ہیں اور کچھ زمین وہ دینا ہی نہیں چاہتے اس پر ملک ریاض حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی؟ جب زمین نہیں دینی تھی تو پھر پیسے کیوں لیے گئے؟ اور جب پیسے لیے گئے ہیں تو پھر زمین نہ دینے یا پھر زمین واپس لینے کا مطلب کیا ہے؟ جس کا ملک اسد سکندر کوئی جواب نہ دے سکے اس پر ملک ریاض نے جاکر آصف علی زرداری سے شکایت کی۔ آصف علی زرداری نے ملک اسد سکندر سے فون پر بات کی لیکن ان کا رویہ سخت اور جارحانہ تھا جس پر ملک اسد سکندر اور آصف زرداری میں تلخ کلای ہوگئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو کھلی چھوٹ دینے اور مقابلہ کرنے کی دھمکیاں دیں بس پھر کیا تھا ایک بھونچال آگیا آصف زرداری نے پولیس کو ملک ریاض کے گارڈز کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ علاقے خالی کرائے جائیں جو ملک اسد اور ان کے حامیوں نے فروخت کیے ہیں ،جب پولیس اور نجی گارڈز وہاں پہنچے تو ملک اسد کے حامیوں نے مزاحمت کی نتیجہ میں خون خرابہ ہوتے ہوئے رہ گیا۔ اس پر آصف زرداری مزید طیش میں آگئے اور ان کی طبیعت بھی خراب ہوگئی ۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا کہ ملک اسد کو سبق سکھایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے سب سے پہلے ڈی سی اور ایس ایس پی کو تبدیل کیا پھر ڈی ایس پی‘ ایس ایچ اوز‘ مختیارکار اسسٹنٹ کمشنرز تبدیل کیے گئے اور آگے چل کر ملک اسد سکندر اور ان کے حامیوں کی جانب سے تعمیر کی گئی سوسائٹیز کو بلڈوز کیاگیا اور اب محکمہ بلدیات کی جانب سے ملک اسد سکندر کے خلاف بلدیاتی اداروں میں بے قاعدگیوں کی تحقیقات کی گئی ہے ۔ملک اسد سکندر منظر سے غائب ہوکر اپنا موبائل فون بھی بند کرکے نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق ملک اسد سکندر حکومت سے محاذآرائی کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ انہوں نے مختلف قبائل سے اپنے حامیوں کو بلالیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے حکومت سندھ اور ملک ریاض کے خلاف مزاحمت کی جائے گی اور ان کے سامنے نہیں جھکا جائے گا۔ ملک اسد سکندر کے ساتھ رکن سندھ اسمبلی فقیرداد کھوسو کھڑے ہوگئے ہیں اور انہوں نے میڈیا میں آکر کہا کہ ایم ڈی اے ڈاکٹر سکندر شورو اور صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہے ہیں۔ ملک اسد سکندر کی وزیراعلیٰ سندھ بھی مدد نہیں کررہے ہیں جس سے واضح ہوگیا ہے کہ اب وہ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ ضلع جامشورو میں ریتی بجری اٹھانے پر پابندی لگادی گئی ہے اور جہاں سے اجازت کے تحت ریتی بجری اٹھائی جارہی تھی ،وہاں بھی اجازت نامے منسوخ کرکے ریتی بجری اٹھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ٹریکٹر‘ ٹرک‘ ڈمپر سب واپس بھیج دیے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں سب خاموش ہیں حتیٰ کہ اپوزیشن جماعتیں بھی کچھ نہیں کہہ رہی ہیں۔ لیکن ایک آواز ضرور گونجی ہے وہ آواز ڈاکٹرذوالفقار مرزا کی ہے جنہوں نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ ملک اسد سکندر کے خلاف آصف علی زرداری نے اعلان جنگ کیا ہے اس جنگ میں وہ ملک اسدسکندر کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ بھی ملک اسد سکندر سے مل کر آصف علی زرداری سے جنگ کریں گے۔ اس صورتحال نے پی پی کی قیادت کو پریشان کردیا ہے کیونکہ پی پی قیادت اور حکومت سندھ کو پتہ ہے کہ ملک اسد کے ساتھ لڑائی لڑی گئی تو خون خرابہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو سیاسی طور پر نقصان ہوگا اور ان کی اپنے صوبائی حلقہ سے کامیابی مشکل ہوجائیگی اور پھر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی ملک اسدسکندرکوحمایت ملنے پر اس تنازع میں شدت پیدا ہوگی۔ عام انتخابات میں اب چند ماہ باقی ہیں اس لیے مخالفین اس ایشو کو الیکشن میںکیش کرانے کی کوشش کریں گے تاہم آصف علی زرداری لڑائی کی موڈ میں ہیں اور وہ ملک اسد سکندر کو گرفتار کرانے اور ان پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج کرانے کے لیے حکومت سندھ کو بار بار ہدایت دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس لڑائی کا کیا نتیجہ نکلے گا۔


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر