وجود

... loading ...

وجود

عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ سی پیک کے مخالفین کے لیے نیا ہتھیار !!!

بدھ 19 جولائی 2017 عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ سی پیک کے مخالفین کے لیے نیا ہتھیار !!!


عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ 2024 تک پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کے ذریعے ساڑھے 4 ارب ڈالر ملک سے باہر جاسکتے ہیں جبکہ منصوبے کے تحت برآمدات کے فوائد وقت کے ساتھ ساتھ سلسلہ وار حاصل ہوں گے اور اس فرق کو کم کرنا بھی پالیسی کا ایک بڑا چیلنج ہے۔رپورٹ کے مطابق سب سے پہلا چیلنج برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بنانا ہے۔جو منصوبوں کے فوائد کے باہر جانے میں اضافے کو روکنے کے لیے اہم ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے تجارتی ماحول کی بہتری اور مقابلے کا ماحول ہونا لازمی ہے، تاکہ توانائی کی سپلائی میں اضافے اور ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لیا جاسکے، جو سی پیک کے منصوبوں سے حاصل ہوں گے۔
دوسرا بڑا چیلنج توانائی کی تقسیم کے سلسلے میں مکمل قیمت کی وصولی ہے، ایک ایسے ماحول میں جہاں توانائی کی تقسیم میں نقصان (loses) ہونے کا اندیشہ زیادہ ہو، وہاں توانائی کی پیداوار میں مزید اضافے کے نتیجے میں نہ صرف مالی لاگت اور گردشی قرضوں میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ توانائی کے طویل المدت نئے منصوبوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ وصولیوں کے عمل کے لیے مخصوص راستا اختیار کرنے میں کچھ رکاٹیں ہیں لیکن ساتھ ہی میٹرنگ اور وصولیوں کے لیے ایک مضبوط اور ریگولیٹری فریم ورک بنانے کے لیے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شراکت داری پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ سرمایہ کاروں کو بہت زیادہ مراعات دینے کے بجائے حکومت سرمایہ کاری کے سلسلے میں ٹیکسوں میں یکسانیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے بیرونی معاہدوں اور ادائیوں کے رجحانات میں توازن کو بھی یقینی بنائے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سی پیک کے منصوبوں کا پاکستان کی معیشت پر اچھا اثر ہو سکتا ہے، یہ بھی کہا گیا کہ ان منصوبوں کے باعث ملکی جی ڈی پی 2017 تک 2 ارب ڈالرز جبکہ 2024 تک 7 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔
سی پیک کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ کی اس رپورٹ کو چشم کشا کہاجاسکتاہے اور سی پیک کے مخالفین اس رپورٹ کو بنیاد بناکر اس کے خلاف اپنے پروپیگنڈے میں مزید زور پیدا کرنے اور اس پورے منصوبے ہی کو پاکستان کے مفادات کے منافی ثابت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ جب سے چین نے سی پیک کا اعلان کیا ہے تب سے اس میں زیادہ سے زیادہ وقت اور طاقت اس میں نقائص نکالنے، اس میں چھید کرنے اور مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی خدشات ظاہر کرنے میں صرف کی جا رہی ہے۔
فی الوقت سی پیک کے خلاف تین اقسام کے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک یہ پورا منصوبہ صرف پنجاب کے لیے مختص ہے اور اس میں دیگر تین چھوٹے صوبے نظر انداز کیے گئے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس منصوبے کی وجہ سے ملک بیرونی بھاری قرضوں کے بھاری بوجھ تلے دب جائے گا اور اخراجات کی وجہ سے پاکستان کو ایک بار پھر قرضہ لینے پڑے گا۔ 110 ارب ڈالرز کی کل رقم جیسے خوفناک اعداد و شمار بھی سنائی دے رہے ہیں۔تیسرا، کچھ بلوچ نوجوانوں کا خیال ہے یا ایک مذموم منصوبے کے تحت ان میں یہ خیال اُجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی کہ اس منصوبے کی وجہ سے وہ اپنے ہی صوبے میں اقلیت بن جائیں گے۔ اس تشویش کی بنیادی وجہ ممکنہ معاشی فائدوں کے بجائے بے اعتمادی ہے ، اور اس بد اعتمادی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت سی پیک کے حوالے سے سرمائے کے اسٹرکچر، سرمایہ کاری کے ذرائع کے متعلق تفصیل، منصوبے کے اسپانسرز کے بارے میں معلومات کو عوامی سطح پر نہیں لائی ہے، چنانچہ معاملات سلجھ نہیں پائے ہیں اور کنفیوژن اپنی جگہ موجود ہے۔اس حوالے سے شکوک وشبہات دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سی پیک منصوبوں سے ہونے والے مجموعی فائدوں کا اندازہ لگانے اور ان کی مانیٹرنگ کے لیے اخراجات و فوائد کے تجزیے (cost-benefit analysis) کا موثر فریم ورک تیار کیا جائے اورا س حوالے سے عوام میں پائے جانے والے یاپھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کرنے کے لیے اس کی بھرپور تشہیر کی جائے۔
جہاں تک سی پیک سے ہونے والے فوائد کا تعلق ہے تو یہ فوائد تین اقسام کے ہو سکتے ہیںـ؛۔
1: بلاواسطہ فوائد، جن کا تخمینہ توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والی ترقی یعنی گروس ویلیو ایڈڈ میں اضافے کے ذریعے لگایا جاسکتا ہے۔بالفرض توانائی کے شعبے میں تبدیلی کی شرح ایک سے زائد ہو، تو توانائی کی پیداوار اور استعمال میں 2فیصد اضافہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کو موجودہ سطح سے2 فیصد بڑھا دے گا۔2: بالواسطہ فوائد کا اندازہ مصنوعات اور خدمات کی بلاواسطہ طلب کے نتیجے میں ہونے والی سرگرمیوں کے متعدد اثرات سے لگایا جاسکتا ہے۔3: سی پیک کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کی قلت ختم ہونے سے چند اقتصادی سرگرمیاں قابل عمل ہوسکتی ہیں اور اس طرح متعلقہ علاقوں سے ہنرمند لیبر کی نقل مکانی بھی کم کی جاسکتی ہے۔
اس حوالے سے جہاں تک اخراجات کا تعلق ہے تواخراجات بھی چار قسم کے ہو سکتے ہیں.1: بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم، اور سڑکوں کی تعمیر پر سرمایہ کاری کے بلاواسطہ اخراجات؛2: بالواسطہ اخراجات: بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، اور چند مصنوعات اور خدمات کی مقامی قیمتوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ جب منصوبے تکمیل کو پہنچیں گے تو اخراجات میں بھی کمی ہوتی جائے گی۔3: ناگزیر اضافی اخراجات: ملکی مصنوعات میں مطلوبہ معیار اور خصوصیات نہ ہونے کی وجہ سے کمی کو پورا کرنے کے لیے درآمدات کرنی پڑیں گی۔4: ایسے اخراجات جن سے گریز ممکن ہے ، مثلاًمناسب منصوبہ بندی، تال میل اور بہتر انتظامات سے زیادہ لاگت سے حاصل ہونے والے فوائد معیار برقرار رکھتے ہوئے کم لاگت کے ساتھ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔چنانچہ خالص فوائد کا اندازہ مجموعی فوائد میں سے مجموعی اخراجات منہا کر کے لگایا جا سکتا ہے. یہ حساب کتاب اتنا سیدھا نہیں ہوتا، اور اس میں کئی نظریاتی، عملی، اور پیمائش کی مشکلات موجود ہوتی ہیں.۔سب سے زیادہ مشکل حصہ آسانی سے قابلِ پیمائش بلاواسطہ فوائد یا اخراجات کو بالواسطہ فوائد و اخراجات کے اندازوں کے ساتھ ملا کر دیکھنا ہے، کیوں کہ بعد والی دو چیزیں چند مفروضوں پر مبنی ہوتی ہیں۔چنانچہ ماہرینِ معاشیات مانیٹرنگ کے تجربات کے ذریعے ایسا نیا ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں جو اصل اندازوں کی درستی میں کام آتا ہے. نتیجے میں آپ کے قابلِ گزیر اخراجات کم سے کم ہوتے جاتے ہیں، اور آپ کے بالواسطہ فوائد کا دائرہ وسیع ہوجاتا ہے، اور آخر کار آپ کے خالص فوائد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔
ایسے اخراجات جن سے گریز ممکن ہے ان کو دو مثالوں کی مدد سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ اگر منصوبے کی تکمیل تک چینی منیجرز اور باصلاحیت و تکنیکی اسٹاف کی تعیناتی جاری رہتی ہے تو فی مزدور سیکورٹی، رہائش، نقل و حرکت اور بیرونِ ملک مقیم ہونے کی وجہ سے زیادہ اجرت کی وجہ سے پاکستانیوں کی ملازمت کے مقابلے زیادہ لاگت آئے گی لیکن اگر حکومت اس دوران چینی تربیت کاروں کی نگرانی میں پاکستانیوں کو مناسب تربیت، انٹرن شپس، اور اسٹڈی اسائنمنٹس کے ذریعے ان پوزیشنز پر تعینات کرنے کے قبل از وقت منصوبے بنائے تو اس سے بھی اخراجات میں کمی اور خالص منافع میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ اس کام کے لیے ہم آہنگی، اہداف ترتیب دینا، مانیٹرنگ، اور ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ اداروں، نجی تربیتی اداروں اور صوبائی حکومتوں کے سپرد کر دینا درکار ہوگا۔اسی طرح سے یہ بھی ایک امکانی اندازہ ہے کہ تعمیراتی میٹریل کی ٹرانسپورٹ، درآمدات و برآمدات کی تجارت اور مصنوعات کے اضافی حجم کے لیے کم از کم 1 لاکھ اضافی ٹرکس درکار ہوں گے۔ اگر سی پیک منصوبوں کے دوران طلب اپنی انتہا پر پہنچنے سے قبل ذیلی شعبوں میں سرمایہ کاری نہیں کی گئی تو ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا اور اس طرح پاکستانی برآمدات کے لیے مسابقتی نقصان ہوگا۔ اس طرح سی پیک منصوبوں میں بھی اخراجات کی زیادتی ہوگی اور یوں بالواسطہ اخراجات بڑھ جائیں گے۔لیکن اگر پاکستانی ٹرک ساز کمپنیوں کو ایک اندازے کے مطابق اعداد و شمار فراہم کیے جائیں تو وہ حصوں اور پرزوں کے سپلائرز کے ساتھ اپنی موجودہ صلاحیت کو وسعت دینے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ صنعتوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور زیادہ پیداوار سے اخراجات میں بچت کی وجہ سے زیادہ منافع کی مدد سے بالواسطہ فائدوں میں اضافہ ہوگا۔
جہاں تک فائدوں کا سوال ہے تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سی پیک سے ہونے والے سب سے زیادہ غیر معمولی اور دیرپا فائدے بلوچستان اور جنوبی خیبر پختونخواہ کے محرومی کے شکار اضلاع میں رہنے والے لوگوں کو حاصل ہوں۔مصنوعات اور خدمات کی قومی مارکیٹ سے ان اضلاع کے ملاپ سے ان کی ماہی گیری، کان کنی، لائیواسٹاک، زراعت اور دیگر سرگرمیاں اقتصادی طور پر قابلِ عمل بنیں گی۔ یوں روزگار اور ملازمت کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور اس طرح انہیں غربت سے نکلنے میں مدد ملے گی۔سڑکیں اور بجلی وسیع تر ترقی کے اہم حصے ہیں کیوں کہ ان سے فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کم ہوتے ہیں، جلد خراب ہو جانے والی زرعی تجارتی اشیاء جلد از جلد مارکیٹ پہنچائی جا سکتی ہیں، مارکیٹوں تک ترسیل کے اخراجات کم ہو جاتے ہیں، اور یوں کسانوں کے پاس زیادہ پیسہ آتا ہے، اور اس کا استعمال وہ زرعی مصنوعات کو خریدنے میں کرسکتے ہیں، اور یوں ان اضلاع میں اقتصادی سرگرمیوں کا دوسرا راؤنڈ چل پڑے گا۔حکومت محرومیوں کے شکار ان اضلاع کے لوگوں کے لیے فائدوں میں اضافے کے لیے سرگرم کردار ادا کر کے اور قابل گریزاخراجات کو محدود کر کے کئی خدشات اور شکوک و شبہات ختم کر سکتی ہے۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر