... loading ...
پاناما کیس پر عدالت عظمیٰ کے حکم پر قائم جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ نے حکمران خاندان کے سیاسی اقتدار کو ڈانواڈول کردیا ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مختلف پہلوؤں نے وزیراعظم نوازشریف ہی نہیں اُن کے پورے خاندان کے لیے نہ ختم ہونے والے سوالات پیدا کردیے ہیں۔ جس کے باعث حکمران اتحادی جماعتوں کی طرف سے خاموشی اختیار کر لی گئی ہے تو دوسری طرف حزب اختلاف کی باہم متحارب جماعتیں بھی نواز شریف کے استعفیٰ کے واحد نقطہ پر اتفاق قائم کرتی نظر آتی ہیں۔اس صورتِ حال نے حکمران خاندان کو اندرونی طور پر خاصا پریشان کردیا ہے۔ تاہم شریف خاندان تاحال یہ تاثر برقرار رکھنے میں کامیاب ہے کہ مسلم لیگ نون کے اندر کوئی دراڑ قائم نہیں ہوسکی۔ مگر کیا حقیقی صورتِ حال بھی یہی ہے؟ اس حوالے سے انتہائی اہم خبریں مسلسل زیر گردش ہیں۔
نوازشریف اور اُن کے خاندانی سطح پر پہلے مرحلے میں غوروفکر کا ایک سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ جہاں نوازشریف اپنے ہاتھوں سے کچھ بھی پھسلنے دینا نہیں چاہتے۔ کیونکہ وہ سیاسی دنیا کے اِن بے رحم حقائق کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے سیاسی افق پر ڈولنے والی چیزیں بآلاخر ڈوب جاتی ہیں۔ چنانچہ وزیراعظم نوازشریف کسی بھی طرح استعفیٰ دینے کے آپشن پر نہیں سوچ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے جے آئی ٹی پر اپنے ابتدائی ردِ عمل میں ہی اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے یہ واضح کردیا تھا کہ نوازشریف استعفیٰ نہیں دیں گے۔ وزیرا عظم اور ان کا خاندان جے آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد رونما ہونے والی صورتِ حال پر جس بنیادی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ اسے ایک سیاسی جنگ میں تبدیل کردیا جائے۔ اور اس حوالے سے اُٹھنے والے مالیاتی بدعنوانیوں کے سوالات کو اس سیاسی جنگ میں اوجھل کردیا جائے۔ اس ضمن میں بھی مریم نواز کا ایک پیغام نہایت اہم ہے۔نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف نے گزشتہ دنوں اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھاکہ’ ’اگر آپ نے اسے ایک سیاسی جنگ بنا دیا ہے، تو مسلم لیگ (ن) سے بہتر اسے کوئی نہیں لڑسکتا ہے۔‘‘پاکستان کی بحران زدہ تاریخ میں یہ حیرت انگیز نہیں کہ یہ معاملہ ملک کا سب سے بڑا سیاسی مقدمہ بنا دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہوا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ نوازشریف ہی اُٹھا سکیں گے۔ کیونکہ وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے لیے یہ مقدمہ قانونی اور ثبوتوں کی بنیاد پر عدالت کے اندر لڑے جانے کے بجائے اسے سیاسی نعروں اور بیانات کی بنیاد پر عوامی سطح پر لڑنا زیادہ آسان ہے۔ اگر یہ مقدمہ کسی بھی طرح سے ثبوتوں اور شہادتوں کے ساتھ قانونی سطح پر لڑا جاسکتا ہوتا تو شریف خاندان جے آئی ٹی کی سطح پر اِ سے بآسانی بہتر طور پر برت سکتے تھے۔ مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ اگر چہ وزیراعظم اور اُن کا مقدمہ لڑنے والے وزراء یہی تاثر دے رہے ہیں کہ وہ اس مقدمے کا عدالتی سطح پر سامنا کریں گے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کو عدالت میں غلط ثابت کریں گے۔ مگر درحقیقت یہ تاثر بھی سیاسی نوعیت کا ہی ہے۔ کیونکہ تمام قانونی ماہرین کا یہ خیال ہے کہ اس مرحلے پر نوازشریف خاندان کے لیے عدالتِ عظمیٰ میں کوئی بہتر قانونی دفاع ممکن نہ ہوسکے گا۔
ان حالات میں حکمراں جماعت کے اندر مسلسل مشاورتوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی سطحوں پر جاری ہے۔ ہر قسم کے میڈیا پر کڑی نظر بھی رکھی جا رہی ہے۔ جماعت کے اندر مختلف رہنما اور دھڑے مختلف مشورے اور تجاویز دے رہے ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق کلیدی فیصلے پارٹی قائد نواز شریف چند قریبی ساتھیوں کی مدد سے ہی کر رہے ہیں۔اس ضمن میں دو اہم نکات پر طویل مشاورت جاری ہے ۔ مسلم لیگ نون کے اندر ایک دھڑا کسی اچھی ساکھ کے وکیل کے ذریعے جے آئی ٹی کے اب تک کے قابل اعتراض اور بقول ان کے قابل گرفت اقدامات کو چیلنج کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔اس پر جماعت کے اندر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔ تاہم مسلم لیگ نون کا کوئی ایک رہنما بھی ایسا نہیں جس کے ذہن میں یہ سوال نہ ہو کہ اگر عدالت عظمیٰ سے شریف خاندان کچھ حاصل نہیں کرسکا تو پھر کیا ہوگا؟مثلا ایک دور کا سوال مسلم لیگ نون کے اندرونی حلقوں میں یہ بھی زیربحث ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی صورت میں عام انتخابات کے بارے میں کیا حکمت عملی ہوگی؟ جماعت کے اندر ابھی بعض حلقے اسے قبل از وقت بحث قرار دے رہے ہیں لیکن عدالتی فیصلہ جو بھی سامنے آئے مسلم لیگ کو ایک بڑا فیصلہ کرنا ہوگا جس پر اس کے انتخابی مستقبل کا دارومدار ہوگا۔اس ضمن میں یہ سوال اہم ہے کہ عدالتی فیصلہ نواز شریف کے حق میں یا مخالفت میں ہونے کی صورت میں کیا فوری عام انتخابات جماعت کے حق میں ہوں گے یا نہیں۔ بعض لوگوں کے خیال میں یہ مسلم لیگ نون کے فائدے میں ہوگا کہ اگر وہ دونوں صورتوں میں جلد انتخابات کا بندوبست کرلیں۔مگر ایسا شاید ہی ہو سکے کیونکہ نوازشریف ہر صورت میں اسی اسمبلی کومارچ تک لے جانا چاہیں گے۔ کیونکہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات میں وہ اپنی سینیٹ کی اکثریت کو ہر صوررت میں محفوظ بنانا چاہیں گے۔ مگر مسلم لیگ نون کے ایک پارٹی رہنما کا خیال تھا کہ اس طرح چلنے سے بہتر ہے عوام سے نیا مینڈیٹ لے لیا جائے۔ ’ایک سال بعد کیا حالات ہوں گے کسے معلوم۔ موجودہ حالات میں تو ہم ترقیاتی کاموں پر توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں۔‘مذکورہ رہنما کے بقول آئندہ برس مارچ میں سینیٹ کے انتخابات کا انتظار بھی بہتر نہیں ہوگا۔ ’اگر عام انتخابات میں اچھے نتائج سامنے آتے ہیں تو سینیٹ کے الیکشن زیادہ اچھے انداز میں اور زیادہ اعتماد کے ساتھ کرواسکیں گے۔‘مسلم لیگ نون کے کچھ رہنماؤں کا خیال ہے کہ پارٹی ورکر اس وقت شریف خاندان کے ساتھ ہونے والے ’کڑے احتساب پر نالاں اور غصے میں‘ ہے۔اور اس کا فائدہ فوری انتخابات میں ہی اُٹھایا جاسکتا ہے۔
اس کے بالکل برعکس یہ رائے بھی موجود ہے کہ مسلم لیگ نون کے لیے ایسی مہم جوئی شاید فائدہ مند ثابت نہ ہو۔ یہ اداروں کے خلاف ایک برہنہ لڑائی میں تبدیل ہو سکتی ہے ا ور حکمران شریف خاندان اس وقت اخلاقی طور پر نہایت کمزور پوزیشن پر ہے جس میں اُن کے لیے اپنا دفاع ممکن نہ ہو۔ یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ عوامی مہم جوئی کا دوسرا مطلب وہی لیا جاسکتا ہے جو اس سے قبل سپریم کورٹ پر حملے کی صورت میں لیا گیا تھا۔ لہذا حکمران شریف خاندان خود کو اس نئے امتحان میں شاید نہ ڈالے۔ جس میںایک خطرہ یہ بھی بہرحال موجود ہے کہ مسلم لیگ نون عوامی سطح پر اگر کوئی بڑی حرکت یا ہلچل پیدا نہ کرسکی تو یہ اُس کی عوامی حمایت میںکمی پر محمول کیا جائے گا۔ دوسری طرف یہ اندیشہ بھی ہے کہ متحدہ حزب اختلاف اپنی پوری عوامی قوت کے ساتھ میدان میں آجائے۔ یہ ایک خطرناک صورتِ حال ہوگی جس کا سامنا نوازشریف موجودہ حالات میں کرنے کے قابل نہیں۔
وزیر اعظم نوازشریف کو اس وقت جس شدید دباؤ کا سامنا ہے وہ دو طرح کے ہیں۔ قانونی طور پر سپریم کورٹ میںجے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد کے حالات کا مقابلہ کرنا اور سیاسی طور پر اپنے استعفیٰ کے مطالبے سے نمٹنا۔وزیرا عظم دونوں طرح کے دباؤ سے نبرد آزما ہونے کے لیے طویل مشاورت کے ایک سلسلے میں بندھے ہوئے ہیں۔ جہاں تک قانونی سطح پر مقدمے کے دباؤ کا سامنا ہے تو یہ شریف خاندان کی اب تک کی تاریخ میں مکمل طور پر ایک بند مٹھی کا کھیل رہا ہے مگر جے آئی ٹی نے اِسے بیچ چوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔ چنانچہ عدالتی معاملات میں شریف خاندان کے لیے اب پہلے جیسی کامیابی کے امکانات بہت محدود ہو چکے ہیں۔ جہاں تک استعفیٰ کا تعلق ہے تو یہ اب براہِ راست نوازشریف کی جانشینی کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ جس میں نوازشریف ایک اندرونی خاندانی دباؤ کا بھی سامنا کررہے ہیں۔ اُنہوں نے اب تک مریم نواز کو سیاسی جانشین کے طور پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ مگر جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں نوازشریف کی اس اُمید کو بھی شدید دھچکا پہنچا دیا ہے۔
وزیراعظم کے لیے استعفیٰ کی صورت میں یہ فیصلہ کرنا انتہائی اہم ہو گا کہ وہ اس منصب کے لیے کس کا نام آگے بڑھاتے ہیں۔اگر وزیراعظم کے طور پر شہباز شریف کا نام سامنے آتا ہے تو بڑی حد تک پارٹی محفوظ رہے گی مگر نوازشریف کے اپنے خاندان میں ا س کا کیا اثر پڑے گا، اس بارے میں فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اگر نوازشریف اس سلسلے میں پارٹی کے اندر سے کوئی بھی دوسرا نام آگے بڑھاتے ہیں تو پھر پارٹی کے اندر رھڑے بندی کا واضح طور پر خطرہ ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق نوازشریف کو پارٹی کے اندر سے سینئر رہنماؤں کے ایک حلقے کی طرف سے یہ رائے دی گئی ہے کہ استعفیٰ کی صورت میں وہ بہت سے نئے مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ مگر وزیراعظم نوازشریف تاحال ایک ایسے راستے کی تلاش میں ہے جس میں استعفیٰ دیے بغیر وہ معاملات کو آگے دھکیل سکیں۔ تاہم اس پورے معاملے میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف استعفیٰ کے بعد خاندانی اور اپنی جماعت کی اندرونی صورتِ حال کے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے عارضی طور پر اپنی کسی سیاسی اتحادی جماعت کے رہنما کابھی نام وزیراعظم کے طور پر آگے بڑھا سکتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...