وجود

... loading ...

وجود

پاناما کیس شریف خاندان کی حکمرانی کے لیے چیلنج بن گیا!!!

جمعه 14 جولائی 2017 پاناما کیس شریف خاندان کی حکمرانی کے لیے چیلنج بن گیا!!!


پاناما مقدمہ جہاں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے لیے کٹھن مرحلہ ہے وہیں پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (نواز) کے لیے بھی سیاسی طور پر نہ صرف ایک بحران بلکہ چیلنج بھی ہے۔
قانونی ماہرین نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو شریف خاندان کے لیے بڑا دھچکا قراردیاہے اورکہا ہے حکومت کے پاس سپریم کورٹ میں دفاع کے سوا ا ب کوئی آپشن نہیں۔ سابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل عرفان قادر نے کہا کہ سپریم کورٹ نواز شریف کو کلین چٹ نہیں دے سکتی۔ نواز شریف اس وقت بند گلی میں پہنچ گئے ہیں، نا اہلی کے حوالے سے کہا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اس کا ایک ہی راستا ہے نیب والا،سپریم کورٹ کے ایسے بہت سے فیصلے موجود ہیں جن میں نا اہلی ہوئی اور بہت سے کیسوں میں ن لیگ نے ہی بہت سے لوگوں کو نا اہل کرایا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ریفرنس دائر کرنے کا حکم نہیں دے سکتی اور نہ ہی چیئرمین نیب اس کا پابند ہے، یہ اختیار چیئرمین نیب کا ہے، چیئرمین نیب کیس کو دیکھنے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ ریفرنس بنتا ہے یا نہیں، یا سپریم کورٹ نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر عارف چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس میں تو وزیر اعظم کے خلاف چارج شیٹ دی گئی ہے، اس میں تو سب کچھ واضح کر دیا گیا ہے اور ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جو شریف فیملی کے لیے خطرناک ہے، حکومت کے پاس سپریم کورٹ میں اپنے دفاع کا ایک موقع ہے، سپریم کورٹ کے پاس اس رپورٹ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہے، اس پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کے ذریعے کیا جائے گا یا براہ راست عدالت کرے گی۔
سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور سینئر وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف کو اس رپورٹ سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس دائر کرنا بہت بڑی بات ہے اور ریفرنس کوئی عام چیز نہیں ہوتی یہ ایک انکوائری کے بعد چالان کا درجہ رکھتا ہے اور اگر چالان جمع ہو جائے تو پھر نواز شریف کے لیے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ جسٹس(ر)اکرم قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کو نوازشریف کی نااہلی کا فیصلہ کر کے معاملہ نیب کو بھجوانا چاہیے۔ قانونی ماہر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم کے پاس رپورٹ کو چیلنج کرنے کا حق موجود ہے، ابھی سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کو قصور وار قراردیا ہے، اب وزیر اعظم کو وقت ضائع کیے بغیرمستعفی ہوجانا چاہیے۔ قانونی ماہر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ابھی سپریم کورٹ نے تسلیم نہیں کی ۔اگر سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کر دے یا کوئی اعتراض اٹھا دے تو صورتحال مختلف ہو گی۔ صدر سپریم کورٹ باررشید اے رضوی نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ سے قبل جب سپریم کورٹ کے دوجج صاحبان نے کہا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے تب ہی نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔ کیا اب جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وزیر اعظم کے پاس عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز رہ گیا؟ غیر قانونی اثاثوں کو چھپانے کے لیے جھوٹا خط سپریم کورٹ میں پیش کر کے خود کو جھوٹا ثابت کردیا، جے آئی ٹی کی سفارش انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ عین ممکن ہے کہ سپریم کورٹ نیب ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے۔
جسٹس(ر)وجیہہ الدین احمد نے کہا کہ جے آئی ٹی کا یہ کام نہیں تھا کہ وہ سفارش کرے۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو شواہد اکٹھے کرنے کا حکم دیا تھا اور سوالا ت بھی واضح کر دیے تھے جس کے بعد جے آئی ٹی کو مطلوبہ سوالات کے جوابات سپریم کورٹ میں جمع کرانے تھے۔ نیب کے پاس تو معاملہ پہلے بھی جا سکتا تھا بلکہ نیب سے سپریم کورٹ نے پوچھا بھی تھا جس پر نیب نے کہا کہ معاملہ اس کے اختیار سے باہر ہے ۔اب معاملہ سپریم کورٹ کو خود حل کرنا ہو گا۔ اصل مسئلہ نواز شریف کا ہے ، سپریم کورٹ نواز
شریف کو نا اہل قرار دے کر آرٹیکل 62کی وضاحت بھی کرے ،حکومت رپورٹ پر اعتراضات داخل کر سکتی ہے جس کے بعد سپریم کورٹ رپورٹ پر اعتراضات سن کر حتمی فیصلہ سنائے گی۔ اگر سپریم کورٹ جے آئی ٹی کی سفارش پر معاملہ نیب کو بھجواتی ہے کہ نیب ریفرنس فائل کرے تو اس سے وزیر اعظم نا اہل نہیں ہوں گے۔ سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر خالد جاوید خان نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں شریف خاندان کے اثاثے آمدن سے زائد ثابت ہو گئے، اب معاملہ ٹرائل کی طرف جاتا معلوم ہو رہا ہے۔ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صدیقی نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں واضح طور پر تحریر کیا گیا ہے کہ شریف خاندان کے اثاثے ان کی آمدنی سے زائد ہیں ، شریف خاندان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جائیں،سپریم کورٹ نیب کو ٹرائل مکمل کرنے کے لیے ٹائم فریم دے سکتی ہے۔ جے آ ئی ٹی رپورٹ کے مطابق یو اے ای دستاویز، قطری شہزادے کا خط منسٹر آف جسٹس کی جانب سے 12ملین کی ٹرانزیکشن کی نفی ، 25فیصد شیئرز اور نوٹری پبلک کی اسٹمپ کی بھی نفی درحقیقت سنگین جرم قرار پایا گیا ہے ۔اس لیے سپریم کورٹ نواز شریف کو نا اہل قرار دے سکتی ہے۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر