... loading ...
کشمیری پاکستانیوں سے سینئر پاکستانی ہیں کہ پاکستان کا قیام14 اگست 1947 کو وجود میں آیا اس سے قبل تمام لوگ ہندوستان کے شہری تھے جو ہندوستان سے ہجرت کر کے جب پاکستان میں داخل ہوئے وہ اس وقت سے پاکستانی کہلائے لیکن کشمیریوں نے 13 جولائی1947کو پاکستان سے الحاق کا اعلان کرتے ہوئے ریاست کشمیر کی اسمبلی میں الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی اور اسمبلی کی عمارت پر پاکستان کا پرچم لہرا دیا گیا یوں کشمیری13 جولائی 1947 سے ہی پاکستانی ہیں ۔
قیام پاکستان کے بعد بھارت نے جارحیت کرتے ہوئے جب کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کیں تو بابائے قوم نے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ بھارتی فوجیوں کی کشمیر میں مداخلت کشمیری عوام کی رائے کے برخلاف ہے اور ان افواج کو کشمیر سے باہر دکھیل دیا جائے لیکن رائل برٹش آرمی سے افواج پاکستان کا سربراہ بننے والے جنرل گریسی نے اپنے سپریم کمانڈر کا حکم ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد وزیراور محسود قبائل کے جوان اپنے دیسی ساختہ اسلحہ کے ساتھ کشمیر میں داخل ہوئے اور بھارتی افواج کو دھکیلتے ہوئے تقریباً ایک تہائی کشمیر پر غلبہ حاصل کر لیا۔یہ جدوجہد جو اکتوبر 1947 میں شروع ہوئی تھی ان قبائل کو اس وقت روکنا پڑی جب بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اقوام متحدہ سے رجوع کیا اور اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا حکم دیدیا ۔بھارت نے اس وقت اقوام عالم کے اس فورم پر وعدہ کیا تھا کہ جنگ بندی کے بعد کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دیا جائے گا۔ اس شرط پر پاکستان نے بھی یہ جنگ بندی قبول کر لی اگرچہ محسود اور وزیرقبائل اس جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے کہ سری نگر مجاہدین کی دسترس سے اتنا ہی دور تھا جتنا ہاتھ میں موجود نوالہ منہ سے دور ہوتا ہے اگر جنگ بندی نہ ہوتی تو خوفزدہ بھارتی فوجی آئندہ دو سے تین دن میں کشمیر سے مکمل طور پر نکل جاتے لیکن ان مجاہدین نے بابائے قوم کا حکم کا مانا اور وہیں رک گئے ۔
شاید بابائے قوم جنہوں نے اپنا ایک بڑا وقت بااصول اور وعدے کے پابند افراد کے درمیان گزارا تھا، اس لیے انہیں گمان بھی نہ تھا کہ بھارت کا وزیراعظم جو ہندو نظریہ کے مطابق اعلیٰ ترین جاتی سے تعلق رکھتا اور پنڈت ہے، وہ وعدہ خلاف بھی ہو گا لیکن ہندو چاہے اعلیٰ جاتی سے تعلق رکھتا ہو یا شودر اور اچھوت ہو سب ہی چانکیہ سیاست کے پیروکار ہیں۔جوتے پڑیں تو معافی مانگو اور جب مارنے والا ہاتھ روک لے تو سینہ تان کر کہو ہمت ہے تو اب مار کے دکھا یہ وہ اُصول ہے جو ہر بھارتی کا مذہبی اُصول ہے اسی اُصول پر عمل کرتے ہوئے جواہر لال نہرو نے اپنے دور اقتدار میں ہی بھارت کے آئین میں ترمیم کراتے ہوئے اس میں آرٹیکل370 شامل کیا جس کے مطابق کشمیر (مکمل)بھارت کی ایک ریاست ہے جس کو چند خصوصی اختیارات حاصل ہیں ۔
پاکستان جنوری1948 سے مسلسل اقوام متحدہ کو اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے ۔اور ظاہر ہے کہ اب نا کوئی اقوام متحدہ خودمختار ہے اور نہ کوئی حکومت بااختیار سب کارپوریٹ سیکٹر کا کما ل ہے اقوام متحدہ ہو یا نام نہاد بڑی طاقتیں سب کارپوریٹ سیکٹر کے غلام ہیں وہ جو چاہتا ہے اس کے مطابق ہی دنیا کے فیصلے ہوتے ہیں اس کارپوریٹ سیکٹر کا تعلق مغرب سے ہے اور مغرب اس جمہوریت کا قائل ہے جس میں انسانوں کو تولہ نہیں گنا کرتے ہیں ۔اب کارپوریٹ سیکٹر جو صرف انسانی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتا ہے لہذا وہ کیسے بھارت کو نظر انداز کر سکتا ہے بس یہ المیہ ہے جو ایک بہت بڑے انسانی المیہ کی بنیاد بن چکا ہے اور کشمیر دنیا کا خطرناک ترین علاقہ ۔
گزشتہ 70 سال کے دوران پاکستان نے اس مسئلہ کے پرامن حل کی ہر ممکن کوشش کی لیکن بھارت بات چیت پر کسی طور پر آمادہ نہیں ہے نتیجہ یہ نکلا کہ 1988 میں جب جہاد افغانستان کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوئے اور اس وقت کی سپرپاور روس افغانستان سے مجاہدین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد اس طرح سے رخصت ہو رہی تھی کہ دریا آمو بھی حیران تھا کہ وہ روسی ٹینک جو خراما ںخراما ں افغانستان میں داخل ہوئے تھے بگٹٹ بھاگتے ہوئے واپس آ رہے تھے کہ ان میں سوار روسی جوانوں کوخطرہ تھا کہ کہیں مجاہدین ان پر حملہ کر کے انہیں ہلاک نہ کر دیں اسی وجہ سے جہاد افغانستان کو امہ لجہادکہا جاتا ہے کہ اس سے جہاں ایک طرف کشمیر کے نوجوانوں نے حوصلہ لیا اور مسلح جدوجہد کا آغاز کیا وہیں فلسطین میں حماس کا وجود عمل میں آیاجس نے بے سروسامانی کے عالم میں انکل سام کی ناجائز اولاد اسرائیل کی ناک میں نکیل ڈالی ہوئی ہے ۔
سید صلاح الدین ابتدا میں جمہوری عمل کے ذریعہ حق خودارادیت چاہتے تھے لیکن بھارت کے ہٹ دھرم رویہ اورکشمیر میں موجود بھارتی فوجوں کے اخلاق سوز مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اورحزب المجاہدین کا قیام عمل میں آیا اور سید کو اس کا سپریم کمانڈر بنایا گیا حزب المجاہدین کے قیام میں جہاں سید صلاح الدین کا کردار ہے وہیں سید علی گیلانی کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں سید علی گیلانی نے اپنی حیات مستعار کا تقریباً75 فیصد حصہ بھارت کی جیلوں میں گزارا ہے۔ سید علی گیلانی کشمیریوں کے متفقہ قائد ہیں ۔
سید صلاح الدین نے جس حزب المجاہدین کا سنگ بنیاد رکھا تھا اس نے چند سال کے عرصہ میں ہی تناور درخت کی شکل اختیار کر لی۔ راقم کا ایک شاگر د رانا شاہد بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھارتی درندوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکا ہے۔ حزب المجاہدین اس وقت کشمیرکی سب سے بڑی اور سب سے فعال جہادی تنظیم ہے ۔حزب المجاہدین کے مجاہد روایتی طریقوں سے بھارتی فوجوں کو پورے کشمیر میں زچ کرتے رہتے ہیں 2010 میں 16/17 سالہ برہان الدین مظفروانی جو انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے بعد انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کی تیاریاں کر رہا تھا لیکن اس جواں دل اور جمیل چہرہ نوجوان کے ساتھ کیا ہوا کہ اس نے یونیورسٹی میں داخلے کی تیاریاں ترک کیں اور حزب المجاہدین کے مقامی کمانڈر سے ملکر ہتھیار اُٹھانے پر آمادہ ہو گیا۔ برہان الدین مظفر وانی شہید جو انٹرمیڈیٹ کے ذہین طلبہ میں شمار ہوتا تھا اور امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوا تھا، نے حزب میں شمولیت کے بعد تربیت لی اور بھارتی فوجوں کے لیے قہرربانی بن گیا ۔ایک طرف برہان الدین مظفروانی شہید کے حملوں نے بھارتی فوجوں کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا تو دوسری جانب اس نے جدید مواصلاتی نظام کا بھرپوراستعمال کیا ۔اس نے بھارتی فوجیوں سے مجاہدین کی جھڑپوں کی ویڈیو اور آڈیوز فیس بک اور سوشل میڈیا پر اس طرح سے پھیلائی کہ ایک جانب بھارتی فوجیوں کی درندگی بے نقاب ہوئی تو دوسری جانب ان کی بزدلی بھی کھل کر سامنے آ گئی ۔برہان الدین مظفروانی نے بھارتی فوجیوں کے میدان جنگ سے بھاگنے کے وہ مناظر فیس بک اور انٹرنیٹ پر شیئر کیے کہ دنیا بھر میں بھارتی فوجوں کی جگ ہنسائی ہو گئی اور بھارتی مظالم بھی بے نقاب ہوئے ۔
6 سالہ جدوجہد میں برہان الدین مظفر وانی شہید نے وہ وہ ویڈیو کلپ شیئر کئے کہ جنہیں دیکھ کر بچے بھی ہنستے تھے کہ یہ بھارتی سورماہیں۔وہ خود بھی کشمیر میں ایک پوسٹر بوائے کے طور پر معروف تھے۔ اس کے نتیجہ میں بھارتی فوج کے سربراہ نے احکامات جاری کیے تھے کہ اسے برہان الدین مظفروانی چاہیے اور زندہ نہیں مردہ چاہیے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کا سربراہ بھی ایک 20/21 سالہ مجاہد سے خوفزدہ تھا کہ وہ زندہ مجاہد کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا شاید اسے خوف تھا کہ برہان الدین مظفر وانی اسے بھی شمشان گھاٹ نہ پہنچادے 5/6 سال تک بھارتی فوجوں کے لیے ڈریکولابنے رہنے والے برہان الدین مظفروانی کو 8جولائی 2016کو کپواڑہ میں 200 سے زائد بھارتی فوجیوں نے گھیر کر شہید کر دیا لیکن برہان الدین مظفروانی جس کے جسم پر 50 سے زائد گولیاں لگیں اس طرح بھارتیوں کے لئے خوف کی علامت بنا رہا کہ 6 گھنٹے سے زائد وقت تک کسی بھی بھارتی فوجی کو ہمت نہیں ہوئی تھی کہ شہید کے قریب جا پاتا ۔برہان الدین مظفروانی کو شہید ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا لیکن اس نے اپنی حیات میں مجاہدین کو جو راستہ دکھایا تھا اس راستہ نے بھارت کو ایسا زچ کیا ہے کہ پورا کشمیر مواصلاتی رابطوں سے محروم کر دیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس طویل عرصہ مسلسل بند رہتی ہے ۔برہان الدین مظفروانی شہید کی شہادت کے بعد چار ماہ سے زائد عرصہ تک انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی تھی لیکن جواں ہمت مجاہدین نے اس کا حل بھی نکال لیا ۔برہان الدین مظفروانی شہید نے جو راستہ اختیار کیا تھا اس راستہ پر آج کشمیر کا تقریباً ہر مجاہد چل رہا ہے۔ حزب کے ایک اور کمانڈر سبزارعلی شہید نے رمضان المبارک کے دوران جام شہادت نوش کر کے بھارت کو پیغام دیا ہے کہ اس کی بھلا ئی اسی میں ہے کہ وہ کشمیر سے نکل جائے ورنہ روس تو صرف سات ریاستوں میں تقسیم ہوا ہے بھارت کے ٹکرے گننے کے لیے کرکٹ کی اسکور بک بنانا پڑے گی۔
سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...
مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...
پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...
خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...