وجود

... loading ...

وجود

انتظامیہ کی غفلت نے باران رحمت کو زحمت بنا دیا!!!

هفته 01 جولائی 2017 انتظامیہ کی غفلت نے باران رحمت کو زحمت بنا دیا!!!

کراچی میں بارش نے شہر قائد کوجل تھل کردیا ۔بارش کی ابتدا میں لوگوں نے بارش کو خوب انجوائے کیا مگردو دن کی باران رحمت کوانتظامیہ کی غفلت نے زحمت بنا دیا۔شہر قائد میں دو دن کی موسلا دھار بارش کے بعد مختلف علاقے تالاب اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔کراچی میں موسم بدستور ابر آلود ہے۔ گزشتہ دو روز سے جاری بارش کے باوجود سمندر کی جانب سے چلنے والی ہوئیں بند ہونے سے شہر میں حبس کا ماحول ہے۔ محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میںمزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی بارش کے باعث لٹھ اور حب ڈیموں میں قابل استعمال پانی کی سطح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس سے کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بہتر ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش نارتھ کراچی میں 62 ملی میٹر ہوئی۔ اس کے علاوہ صدر 59، پی اے ایف فیصل بیس56 ، پی اے ایف مسرور، ناظم آباد51، گلشنِ حدید49، ماڈل کالونی 39، اولڈ آبزرویٹری35، نیو آبزرویٹری26 جب کہ لانڈھی میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کراچی میں دو روزسے جاری بارش سے گرمی تو بھاگ گئی مگرمسائل کا انبارلگ گیا، کہیں بجلی غائب ہوئی تو کہیں پانی کھڑاہوگیا۔ اہم شاہراؤں اور گلی محلوں میں پانی جمع ہونے سے شہری مشکلات کا شکارہوگئے۔ کے بی آر سوسائٹی بفرزون ، خدا کی بستی ، اعظم بستی اور کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ،سڑکیں تالاب بن گئیں، نالوں کی صفائی نہ ہونے سے پانی گٹروں اورنالوں سے باہر ابل پڑا، کہیں ٹریفک کی روانی متاثرہوئی توکہیں پھسلن سے حادثات بھی ہوئے۔پنجاب چورنگی پر زیر تعمیر انڈر پاس میں بارش کا پانی جمع ہونے پر کچھ بچے نہانے کے لیے آگئے جس میں سے دو بچے جیسے ہی پانی میں نہانے کے لیے گڑھے میں اُترے تو وہ اس میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
دوسری جانب بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کی خوشی پرپانی پھیردیا، بارش سے 500 سے زائد فیڈرزٹرپ کرگئے، شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی بجلی غائب ہے جب کہ بجلی نہ ہونے سے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے مگر کے الیکٹرک انتظامیہ نے دعوی کیا ہے کہ شہر میں بجلی کانظام بحال ہے۔ چندعلاقوں میں خرابی کوجلد ٹھیک کردیا جائیگا۔واضح رہے کہ شہر میں مون سون کی پہلی بارش کے دوران مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت، کے ایم سی، ڈی ایم سیز، کنٹونمنٹ ادارے اور کے پی ٹی اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی میں بُری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ ناظم آباد، لیاقت آباد اور سہراب گوٹھ کے انڈر پاسز پانی سے لبالب بھرے ہیں۔ اس کے علاوہ 80 کروڑ روپے سے زائد رقم کی لاگت سے بننے والی یونیورسٹی روڈ ندی کا منظر پیش کررہی ہے۔ راشد منہاس روڈ، شاہراہ پاکستان، ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ ، نشتر روڈ اور شہر کی سب سے مصروف ترین شارع فیصل میں کئی مقامات پر پانی کھڑا ہے۔ بارش کے باعث شہر کے اکثر بازار اور مارکیٹیں آج بھی نہیں کھلے جب کہ دفاتر اور فیکٹریوں میں بھی حاضری نا ہونے کے برابر ہے۔
کراچی میں بارش سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق مشرف کالونی اور منگھوپیر میں بارش سے مکان گرنے کے واقعات میں بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بارش کے باعث سخی حسن، لیاقت آباد سی ایریا، بی ایریا اور شاہ فیصل 5 نمبر پر کرنٹ لگنے سے15 سالہ احسن، 30 سالہ اکبر، عدنان اور 18 سالہ نامعلوم شخص جاں بحق ہوگئے۔
نارتھ کراچی سلیم سینٹر پر 30 سالہ نامعلوم شخص نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا جب کہ جب کہ سچل اور نیٹی جیٹی میں 2 افراد نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب حب چوکی کے قریب ندی کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 10 مکان بہہ گئے جب کہ بارہ افراد بھی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے۔ سیلابی ریلے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی خصوصی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور بچے سمیت 5 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں تاہم مزید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔گزشتہ روز پنجاب چورنگی کے زیر تعمیرانڈر پاس کے جمع پانی میں دو بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے جن کی شناخت آفتاب اور مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔
شہر قائد سمیت ملک بھر میں شدید بارش میں بچوں کے ساتھ بڑوں نے بھی خوب لطف اٹھایا، تاہم اس دوران ہر بار کی طرح گزشتہ روز کی بارش کے دوران بھی عوام کو چند مسائل کا سامنا کرناپڑا ۔ شدید بارش ہوتے ہی یا تو کہیں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی تو کہیں سڑکوں پر پانی بھر جانے کی وجہ سے لوگوں کو شدید ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔عید کے تیسرے روز ویسے ہی ملک بھر میں ہر طرف رونق ہوتی ہے، اس دوران بارشوں کے باعث حکومت کی جانب سے کیے گئے ناقص انتظامات سے پردہ اٹھ گیا۔کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے نتیجے میں کرنٹ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے جن میں بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے۔بارش کے دوران کراچی میں شدید ٹریفک جام کی خبریں بھی سامنے آئیں ۔
ویسے تو شہر قائد میں بارش کبھی کبھار ہی ہوتی ہے، لیکن جب ہوتی ہے تو اتنی شدید ہوتی ہے کہ پورے کراچی میں پانی بھر جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ 29 جون 2017 کی رات کو ہوا جب طوفانی بارش سے کراچی کے کئی حصے پانی میں ڈوب گئے۔اب ظاہر ہے کراچی میں ایسی تیز بارش ہو تو یہاں کے عوام سوشل میڈیا پر مختلف ہیش ٹیگز کا سہارا لے کر اور بارش کی تصاویر شیئر کرنے سے پیچھے کیسے رہ سکتے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی سیلاب آگیا لیکن پانی کا نہیں بلکہ صارفین کی کراچی بارش کے حوالے سے کی گئیں ٹویٹس کا۔
دانیال گیلانی نے ٹوئیٹ کی:۔’’جب تین تلوار سوئمنگ پول بن گیا‘‘
احمد دادا نے لکھا کہ کراچی کے عوام کے گھروں میں پانی نہیں لیکن، ان کے شہر کی سڑکوں پر پانی بھرا ہوا ہے۔انہوں نے کہا ’کراچی میں کام کرنے والی موجودہ اور سابقہ تمام انتظامیہ کا بھانڈا پھوٹ گیا، یہ بیکار سسٹم ہے‘۔
ایک دل جلے نے لکھا کہ کراچی میں ہونے والی بارش سے کہیں مشکلات پیش آئیں، تو کہیں اس بارش نے عوام کو فائدہ بھی پہنچایا،اس حوالے سے انھوں لکھا کہ ’کراچی کی بارش نے عوام کو اس مجرم سے بچالیا، جسے اپنی بائیک چھوڑ کر بھاگنا پڑا‘۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’کراچی کے بہت سے حصے بارش کے بعد کتنے ہرے بھرے اور صاف لگتے ہیں، سوچیں اگر ہم اور درخت لگا دیتے، میرا شہر بہترین شہر قرار دیے جانے کا حقدار ہے‘۔انہوں نے لکھاکہ ’گزشتہ روز سے کراچی میں ہمیں ملنے والی واحد بجلی آسمانی بجلی ہے‘۔’کاش اس بجلی سے موبائل فون بھی چارج ہوجاتے‘
اس دوران لوگوں نے کے الیکٹرک کو بھی نہ بخشا۔ایک صارف میمونہ نقوی نے کے الیکٹرک انتظامیہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اتنے بْرے کیسے ہوسکتے ہیں؟ آپ کو اخلاقیات کے بارے میں کچھ پتاہے؟ بدترین ہونے کے لیے اتنی محنت کیوں کررہے ہیں آپ لوگ؟‘
کے الیکٹرک کی جانب سے موصول ہونے والے جواب (کہ ان کے کارکن علاقوں میں کام کررہے ہیں) پر صارف نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام تر نفرت کے ساتھ، پورا دن گزر گیا، کیا آپ کی ٹیم گھونگھا (snail) پر مشتمل ہے؟ خدا کے لیے کراچی کے عوام پر رحم کریں‘۔
گزشتہ دنوں کی شدید گرمی سے بوکھلائے اور گھبرائے ہوئے اور بارش کی دعائیں کرنے والے ان لوگوں کے ساتھ ایسے بھی چند صارفین تھے جنہوں نے بارش ختم ہونے کی دعائیں مانگیں۔اور یہ بھی وضاحت کی کہ اگر وہ اس بارش کی وجہ سے اگلے روز کام پر نہ جاسکے تو مشکل میں پڑ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’مکمل سندھ کے عوام نے بارشوں کی دعائیں مانگی، اور جب بارش ہوگئی تو وہ دو چیزوں کی دعائیں مانگتے نظر آئے ایک بجلی اور دوسرا نکاسی آب‘۔


متعلقہ خبریں


محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مضامین
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار وجود بدھ 14 جنوری 2026
بھارت میں مسلمانوں کے گھر مسمار

سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے! وجود بدھ 14 جنوری 2026
سہیل آفریدی کوئی جن نہیں ہے!

عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ وجود بدھ 14 جنوری 2026
عمران خان کا پناہ گاہوں کا منصوبہ

ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال وجود بدھ 14 جنوری 2026
ذات، قبیلہ، پیر پرستی اور نام نہاد سرداری نظام ۔۔۔سندھ کے شعور کے سامنے سوال

ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر