وجود

... loading ...

وجود

انتظامیہ کی غفلت نے باران رحمت کو زحمت بنا دیا!!!

هفته 01 جولائی 2017 انتظامیہ کی غفلت نے باران رحمت کو زحمت بنا دیا!!!

کراچی میں بارش نے شہر قائد کوجل تھل کردیا ۔بارش کی ابتدا میں لوگوں نے بارش کو خوب انجوائے کیا مگردو دن کی باران رحمت کوانتظامیہ کی غفلت نے زحمت بنا دیا۔شہر قائد میں دو دن کی موسلا دھار بارش کے بعد مختلف علاقے تالاب اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔کراچی میں موسم بدستور ابر آلود ہے۔ گزشتہ دو روز سے جاری بارش کے باوجود سمندر کی جانب سے چلنے والی ہوئیں بند ہونے سے شہر میں حبس کا ماحول ہے۔ محکمہ موسمیات نے مختلف علاقوں میںمزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی بارش کے باعث لٹھ اور حب ڈیموں میں قابل استعمال پانی کی سطح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جس سے کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بہتر ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش نارتھ کراچی میں 62 ملی میٹر ہوئی۔ اس کے علاوہ صدر 59، پی اے ایف فیصل بیس56 ، پی اے ایف مسرور، ناظم آباد51، گلشنِ حدید49، ماڈل کالونی 39، اولڈ آبزرویٹری35، نیو آبزرویٹری26 جب کہ لانڈھی میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
کراچی میں دو روزسے جاری بارش سے گرمی تو بھاگ گئی مگرمسائل کا انبارلگ گیا، کہیں بجلی غائب ہوئی تو کہیں پانی کھڑاہوگیا۔ اہم شاہراؤں اور گلی محلوں میں پانی جمع ہونے سے شہری مشکلات کا شکارہوگئے۔ کے بی آر سوسائٹی بفرزون ، خدا کی بستی ، اعظم بستی اور کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا ،سڑکیں تالاب بن گئیں، نالوں کی صفائی نہ ہونے سے پانی گٹروں اورنالوں سے باہر ابل پڑا، کہیں ٹریفک کی روانی متاثرہوئی توکہیں پھسلن سے حادثات بھی ہوئے۔پنجاب چورنگی پر زیر تعمیر انڈر پاس میں بارش کا پانی جمع ہونے پر کچھ بچے نہانے کے لیے آگئے جس میں سے دو بچے جیسے ہی پانی میں نہانے کے لیے گڑھے میں اُترے تو وہ اس میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔
دوسری جانب بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کی خوشی پرپانی پھیردیا، بارش سے 500 سے زائد فیڈرزٹرپ کرگئے، شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی بجلی غائب ہے جب کہ بجلی نہ ہونے سے پانی کی قلت پیدا ہوگئی ہے مگر کے الیکٹرک انتظامیہ نے دعوی کیا ہے کہ شہر میں بجلی کانظام بحال ہے۔ چندعلاقوں میں خرابی کوجلد ٹھیک کردیا جائیگا۔واضح رہے کہ شہر میں مون سون کی پہلی بارش کے دوران مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں 4 افراد جاں بحق ہوئے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت، کے ایم سی، ڈی ایم سیز، کنٹونمنٹ ادارے اور کے پی ٹی اپنے اپنے زیر انتظام علاقوں سے بارش کے پانی کی نکاسی میں بُری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ ناظم آباد، لیاقت آباد اور سہراب گوٹھ کے انڈر پاسز پانی سے لبالب بھرے ہیں۔ اس کے علاوہ 80 کروڑ روپے سے زائد رقم کی لاگت سے بننے والی یونیورسٹی روڈ ندی کا منظر پیش کررہی ہے۔ راشد منہاس روڈ، شاہراہ پاکستان، ایم اے جناح روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ ، نشتر روڈ اور شہر کی سب سے مصروف ترین شارع فیصل میں کئی مقامات پر پانی کھڑا ہے۔ بارش کے باعث شہر کے اکثر بازار اور مارکیٹیں آج بھی نہیں کھلے جب کہ دفاتر اور فیکٹریوں میں بھی حاضری نا ہونے کے برابر ہے۔
کراچی میں بارش سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق مشرف کالونی اور منگھوپیر میں بارش سے مکان گرنے کے واقعات میں بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہو گئے جنہیں عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بارش کے باعث سخی حسن، لیاقت آباد سی ایریا، بی ایریا اور شاہ فیصل 5 نمبر پر کرنٹ لگنے سے15 سالہ احسن، 30 سالہ اکبر، عدنان اور 18 سالہ نامعلوم شخص جاں بحق ہوگئے۔
نارتھ کراچی سلیم سینٹر پر 30 سالہ نامعلوم شخص نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا جب کہ جب کہ سچل اور نیٹی جیٹی میں 2 افراد نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب حب چوکی کے قریب ندی کے سیلابی ریلے نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 10 مکان بہہ گئے جب کہ بارہ افراد بھی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئے۔ سیلابی ریلے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی خصوصی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور بچے سمیت 5 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں تاہم مزید افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔گزشتہ روز پنجاب چورنگی کے زیر تعمیرانڈر پاس کے جمع پانی میں دو بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے تھے جن کی شناخت آفتاب اور مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے۔
شہر قائد سمیت ملک بھر میں شدید بارش میں بچوں کے ساتھ بڑوں نے بھی خوب لطف اٹھایا، تاہم اس دوران ہر بار کی طرح گزشتہ روز کی بارش کے دوران بھی عوام کو چند مسائل کا سامنا کرناپڑا ۔ شدید بارش ہوتے ہی یا تو کہیں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی تو کہیں سڑکوں پر پانی بھر جانے کی وجہ سے لوگوں کو شدید ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔عید کے تیسرے روز ویسے ہی ملک بھر میں ہر طرف رونق ہوتی ہے، اس دوران بارشوں کے باعث حکومت کی جانب سے کیے گئے ناقص انتظامات سے پردہ اٹھ گیا۔کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کے نتیجے میں کرنٹ لگنے کے واقعات بھی پیش آئے جن میں بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق ہوئے۔بارش کے دوران کراچی میں شدید ٹریفک جام کی خبریں بھی سامنے آئیں ۔
ویسے تو شہر قائد میں بارش کبھی کبھار ہی ہوتی ہے، لیکن جب ہوتی ہے تو اتنی شدید ہوتی ہے کہ پورے کراچی میں پانی بھر جاتا ہے۔ایسا ہی کچھ 29 جون 2017 کی رات کو ہوا جب طوفانی بارش سے کراچی کے کئی حصے پانی میں ڈوب گئے۔اب ظاہر ہے کراچی میں ایسی تیز بارش ہو تو یہاں کے عوام سوشل میڈیا پر مختلف ہیش ٹیگز کا سہارا لے کر اور بارش کی تصاویر شیئر کرنے سے پیچھے کیسے رہ سکتے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی سیلاب آگیا لیکن پانی کا نہیں بلکہ صارفین کی کراچی بارش کے حوالے سے کی گئیں ٹویٹس کا۔
دانیال گیلانی نے ٹوئیٹ کی:۔’’جب تین تلوار سوئمنگ پول بن گیا‘‘
احمد دادا نے لکھا کہ کراچی کے عوام کے گھروں میں پانی نہیں لیکن، ان کے شہر کی سڑکوں پر پانی بھرا ہوا ہے۔انہوں نے کہا ’کراچی میں کام کرنے والی موجودہ اور سابقہ تمام انتظامیہ کا بھانڈا پھوٹ گیا، یہ بیکار سسٹم ہے‘۔
ایک دل جلے نے لکھا کہ کراچی میں ہونے والی بارش سے کہیں مشکلات پیش آئیں، تو کہیں اس بارش نے عوام کو فائدہ بھی پہنچایا،اس حوالے سے انھوں لکھا کہ ’کراچی کی بارش نے عوام کو اس مجرم سے بچالیا، جسے اپنی بائیک چھوڑ کر بھاگنا پڑا‘۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’کراچی کے بہت سے حصے بارش کے بعد کتنے ہرے بھرے اور صاف لگتے ہیں، سوچیں اگر ہم اور درخت لگا دیتے، میرا شہر بہترین شہر قرار دیے جانے کا حقدار ہے‘۔انہوں نے لکھاکہ ’گزشتہ روز سے کراچی میں ہمیں ملنے والی واحد بجلی آسمانی بجلی ہے‘۔’کاش اس بجلی سے موبائل فون بھی چارج ہوجاتے‘
اس دوران لوگوں نے کے الیکٹرک کو بھی نہ بخشا۔ایک صارف میمونہ نقوی نے کے الیکٹرک انتظامیہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ اتنے بْرے کیسے ہوسکتے ہیں؟ آپ کو اخلاقیات کے بارے میں کچھ پتاہے؟ بدترین ہونے کے لیے اتنی محنت کیوں کررہے ہیں آپ لوگ؟‘
کے الیکٹرک کی جانب سے موصول ہونے والے جواب (کہ ان کے کارکن علاقوں میں کام کررہے ہیں) پر صارف نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام تر نفرت کے ساتھ، پورا دن گزر گیا، کیا آپ کی ٹیم گھونگھا (snail) پر مشتمل ہے؟ خدا کے لیے کراچی کے عوام پر رحم کریں‘۔
گزشتہ دنوں کی شدید گرمی سے بوکھلائے اور گھبرائے ہوئے اور بارش کی دعائیں کرنے والے ان لوگوں کے ساتھ ایسے بھی چند صارفین تھے جنہوں نے بارش ختم ہونے کی دعائیں مانگیں۔اور یہ بھی وضاحت کی کہ اگر وہ اس بارش کی وجہ سے اگلے روز کام پر نہ جاسکے تو مشکل میں پڑ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’مکمل سندھ کے عوام نے بارشوں کی دعائیں مانگی، اور جب بارش ہوگئی تو وہ دو چیزوں کی دعائیں مانگتے نظر آئے ایک بجلی اور دوسرا نکاسی آب‘۔


متعلقہ خبریں


آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر