... loading ...

حکومت اور چاول برآمد کرنے والے اداروں اور تاجروں کی عدم سرپرستی کے سبب گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان سے چاول کی برآمد کی شرح بھارت کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے۔ دوسری جانب بھارت چاول کی برآمد بڑھانے کیلئے اپنے چاول کے کاشتکاروں کی ہر طرح سے سرپرستی کررہاہے جس کی وجہ سے بھارت میں اب پاکستان کے مقابلے میں زیادہ لمبے دانے کے چاول کی پیداوار بڑھ رہی ہے اورچاول کی برآمدات کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو دی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے بھارت سے چاول کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی جانب سے چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، زیادہ لمبے دانے کے چاول کی کاشت کے حوالے سے کاشتکاروںکی رہنمائی اور ان کو اچھے معیار کے بیج کی عدم فراہمی کی وجہ سے پاکستان سے چاول کی برآمد میں مسلسل کمی ہورہی ہے، اگرچہ چاول کے بعض کاشتکار جو اپنی فصل برآمد بھی کرتے رہتے ہیں انفرادی طورپر چاول کی فصل کو بہتر بنانے کی سعی کرتے رہتے ہیںلیکن حکومت کی جانب سے سرپرستی نہ ہونے اور کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو ترغیبات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ان کی یہ کوششیں بھی بار آور ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔
پاکستان سے چاول کی برآمدات میں کمی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2014-15 کے دوران پاکستان کو چاول کی برآمد کے ذریعے2.04 بلین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہواتھا لیکن 2015-16 میں چاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر 8.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی 1.86 بلین ڈالر تک محدود رہی جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اورچاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر17 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور رواں مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی1.46 بلین ڈالر تک محدود رہی ہے۔
اس وقت جبکہ پاکستان زبردست تجارتی خسارے اور ادائیگیوں کے عدم توازن کی صورت حال سے دوچار ہے اور اسے ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے بار بار غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرض پر قرض حاصل کرنا پڑ رہاہے ملک کی اہم برآمدات کی جانب سے حکومت کی بے رخی اور ان کی عدم سرپرستی ہمارے ارباب اختیار کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کو بھی حکومت سے یہی شکایت ہے کہ اس نے زرمبادلے کے حصول کے اس اہم شعبے کونظر انداز کررکھاہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور پاکستان سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان عام نظر آرہاہے۔
اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حکومت زرمبادلہ حاصل کرنے کے آسان ذرائع کو نظر انداز کرکے اور ان شعبوں کی کارکردگی اور پیداوار بہتر بنانے کیلئے ان کو ضروری سہولتوں کی عدم فراہمی اور ان کے مسائل سے چشم پوشی کے ذریعہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہے اور زرمبادلے کے حصول کے ان روایتی ذرائع کو نظر انداز کرکے حکومت اپنی ادائیگیوں کے خسارے کو کس طرح پورا کرے گی؟۔ ماہرین کا کہناہے کہ ارباب حکومت ، چاول ،ٹیکسٹائل اور پھلوں کی برآمدات پر توجہ مرکوز کرکے اور ان کے برآمدکنندگان کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرکے ان کی برآمد ات میں کئی گنا اضافہ کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے موجودہ عدم توازن کو کم بلکہ ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے۔
چاول کے پاکستانی کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کاکہناہے کہ حکومت کی عدم توجہی اور بے رخی کی وجہ سے پاکستانی چاول اپنی شناخت برقرار رکھنے کی صلاحیت کھوتا جارہاہے جبکہ بھارت میں چاول کی کاشت سے برآمد تک کے تمام مرحلوں میں حکومت کی بھرپور رہنمائی اور مددکی وجہ سے بھارت اپنے چاول کامعیار قائم رکھنے کے ساتھ ہی پیداوار میں بھی سال بہ سال اضافہ کرنے میں کامیاب رہاہے ۔چاول کے برآمدکنندگان کاکہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو پاکستانی چاول کو بیرون ملک مقبول بنانے کیلئے چاول کے بڑے عالمی خریداروں کو پاکستانی چاول کی خوبیوں سے آگاہ کرنے کیلئے متعلقہ ممالک میں پاکستانی چاول کی نمائش کااہتمام کرنے کے ساتھ ہی چاول برآمد کرنے والے تاجروں اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں تیار کرنی چاہئیں اور چاول کے برآمد کنندگا ن کو اس حوالے سے مختلف ترغیبات دینے کااہتمام کرنا چاہئے۔
چاول کے برآمدکنندگان کاکہناہے کہ چاول چونکہ فصلی چیز ہے اس لئے عالمی منڈی میں اس کی قیمت کبھی بھی مستحکم نہیں رہتی بلکہ گندم اور چینی کی طرح چاول کی قیمت بھی ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے اگر پوری دنیا میں چاول کی فصل اچھی ہوجائے تو چاول کی قیمت میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور فصل کم ہونے کی صورت میں اس کی قیمت میں کمی ہوجاتی ہے اس لئے چاول کے تاجروں کو مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کیلئے اچھی یعنی بمپر فصل کے دنوں میں جب عالمی منڈی میں چاول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہوتاہے کم قیمت پر چاول فروخت کرنے کے بجائے چاول کا ذخیرہ کرنا پڑتاہے ،چاول کا یہ ذخیرہ عالمی منڈی میں چاول کی قیمت میں تیزی کے رجحان کے دور میں مارکیٹ میں فروخت کیلئے لایاجائے تو برآمدکنندگا ن کو بھی فائدہ پہنچتاہے اور ملک کی زرمبادلے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے،لیکن ایسا اسی وقت ہوسکتاہے جب چاول کے برآمدکنندگان کا اپنے چاول کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں پیدا ہونے والی اونچ نیچ کامقابلہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے آسان شرائط اور کم شرح منافع پر قرضوں کی فراہمی اور چاول کی درآمد پر دیگر ترغیبات دینے کااہتمام کیاجائے اور حکومت کی جانب سے چاول کامعیار برقرار رکھنے اور معیاری چاول کی کاشت کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے حوالے سے بوائی کے دوران چاول کے کاشت کاروں کی مناسب رہنمائی کاانتظام کیاجائے جس کا اب تک فقدان ہے۔اس حوالے سے حکومت کو گندم کی طرح چاول کی سرکاری خریداری کا بھی مناسب انتظام کرنا چاہئے تاکہ چاول کے کاشتکاروں کو بھی ان کی فصل کی مناسب قیمت کی ادائیگی یقینی ہوسکے اور چاول کاشت کرنے والے قیمت کے حوالے سے گومگو کا شکار نہ رہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار زرمبادلے کے حصول کے اس اہم ذریعے کے سوتوں کو خشک ہونے سے بچانے اور غیرملکی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی پہچان بنانے کے حوالے سے ضروری اقدام کریں گے اور چاول کے کاشتکاروں اور برآمدکنندگا ن کو درپیش مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے کیلئے قابل عمل طریقہ کار وضح کرنے کی کوشش کریں گے۔
تہمینہ حیات
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...
بحریہ ٹاؤن اور کراچی میں زمینوں پر مبینہ قبضوں میں ملوث سندھ کے طاقتور سسٹم سے وابستہ بااثر افراد کیخلاف تحقیقات ایکبار پھر بحال کر دی ،چھاپہ تقریباً 6 سے 8 گھنٹے تک جاری رہا، ذرائع کارروائی کے دوران کسی شخص کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ، ضبط شدہ...
پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے نمائندگان کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی پی ایس ایل کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی، محسن نقوی،عطاء تارڑ موجود تھے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی بڈنگ جیتنے والی فرمز کے نمائندگان نے ملاقات کی ہے۔تفصیل...
کھاریاں میںنقاب پوش افراد نے ایم پی اے تنویر اسلم راجا اور ملک فہد مسعود کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے ، پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن اراکین کی گاڑیوں پر لاٹھی چارج ، 2 پی ٹی آئی رہنما زیر حراست امجد خان نیازی اور ظفر اقبال گوندل کو پولیس نے جہلم منتقل کر دیا،صوبائی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار...
قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس، چیف آف ڈیفنس فورسز کا ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ،لاہور گیریژن کا دورہ ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا،آئی ایس پی آر پاک فوج ہرچیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار ہے، مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اندرونی استحکام کے ت...
بلوچستان میں دہشت گردی سے بے پناہ مشکلات ،کابینہ عوامی خدمت میں مصروف ہے این ایف سی ایورڈ میں پنجاب نے اپنے حصے کے11 ارب دیے،سیاسی قیادت سے گفتگو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف ...
ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا،ذرائع پی ٹی آئی عوامی اجتماع کیلئے متبادل آپشنز پر غور،مزار قائد کے اطراف بلایا جائے گا ضلعی انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کے موقع پر جلسہ کی اجازت دینے...
صدرزرداری، نوازشریف اور وزیراعظم کی مشاورت سیحکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے،عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے،ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کیلئے سب کو مل کر چلنا ہوگا، شہیدوں کا خون رائ...
زرعی برآمدات میں اضافے اور تجارتی خسارے میں کمی پر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت برآمد کنندگان کو ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے کوتاہی قابل قبول نہیں،جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ برآمدات پر مبنی ترقیاتی اہداف کا حصول ہماری ترجیح ہے جبکہ وزیراعظم نے ...
ایف ڈبلیو او کے تعاون سے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری ،وزیراعلیٰ کا523ترقیاتی اسکیموں کا اعلان تمام میگا اور اہم منصوبے عالمی معیار کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے تحت ہونے چاہئیں، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، محکم...