وجود

... loading ...

وجود

حکومت کی بے رخی کے سبب چاول کی برآمد میں دشواریاں

اتوار 25 جون 2017 حکومت کی بے رخی کے سبب چاول کی برآمد میں دشواریاں


حکومت اور چاول برآمد کرنے والے اداروں اور تاجروں کی عدم سرپرستی کے سبب گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان سے چاول کی برآمد کی شرح بھارت کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے۔ دوسری جانب بھارت چاول کی برآمد بڑھانے کیلئے اپنے چاول کے کاشتکاروں کی ہر طرح سے سرپرستی کررہاہے جس کی وجہ سے بھارت میں اب پاکستان کے مقابلے میں زیادہ لمبے دانے کے چاول کی پیداوار بڑھ رہی ہے اورچاول کی برآمدات کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو دی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے بھارت سے چاول کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی جانب سے چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، زیادہ لمبے دانے کے چاول کی کاشت کے حوالے سے کاشتکاروںکی رہنمائی اور ان کو اچھے معیار کے بیج کی عدم فراہمی کی وجہ سے پاکستان سے چاول کی برآمد میں مسلسل کمی ہورہی ہے، اگرچہ چاول کے بعض کاشتکار جو اپنی فصل برآمد بھی کرتے رہتے ہیں انفرادی طورپر چاول کی فصل کو بہتر بنانے کی سعی کرتے رہتے ہیںلیکن حکومت کی جانب سے سرپرستی نہ ہونے اور کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو ترغیبات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ان کی یہ کوششیں بھی بار آور ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔
پاکستان سے چاول کی برآمدات میں کمی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2014-15 کے دوران پاکستان کو چاول کی برآمد کے ذریعے2.04 بلین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہواتھا لیکن 2015-16 میں چاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر 8.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی 1.86 بلین ڈالر تک محدود رہی جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اورچاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر17 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور رواں مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی1.46 بلین ڈالر تک محدود رہی ہے۔
اس وقت جبکہ پاکستان زبردست تجارتی خسارے اور ادائیگیوں کے عدم توازن کی صورت حال سے دوچار ہے اور اسے ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے بار بار غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرض پر قرض حاصل کرنا پڑ رہاہے ملک کی اہم برآمدات کی جانب سے حکومت کی بے رخی اور ان کی عدم سرپرستی ہمارے ارباب اختیار کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کو بھی حکومت سے یہی شکایت ہے کہ اس نے زرمبادلے کے حصول کے اس اہم شعبے کونظر انداز کررکھاہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور پاکستان سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان عام نظر آرہاہے۔
اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حکومت زرمبادلہ حاصل کرنے کے آسان ذرائع کو نظر انداز کرکے اور ان شعبوں کی کارکردگی اور پیداوار بہتر بنانے کیلئے ان کو ضروری سہولتوں کی عدم فراہمی اور ان کے مسائل سے چشم پوشی کے ذریعہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہے اور زرمبادلے کے حصول کے ان روایتی ذرائع کو نظر انداز کرکے حکومت اپنی ادائیگیوں کے خسارے کو کس طرح پورا کرے گی؟۔ ماہرین کا کہناہے کہ ارباب حکومت ، چاول ،ٹیکسٹائل اور پھلوں کی برآمدات پر توجہ مرکوز کرکے اور ان کے برآمدکنندگان کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرکے ان کی برآمد ات میں کئی گنا اضافہ کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے موجودہ عدم توازن کو کم بلکہ ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے۔
چاول کے پاکستانی کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کاکہناہے کہ حکومت کی عدم توجہی اور بے رخی کی وجہ سے پاکستانی چاول اپنی شناخت برقرار رکھنے کی صلاحیت کھوتا جارہاہے جبکہ بھارت میں چاول کی کاشت سے برآمد تک کے تمام مرحلوں میں حکومت کی بھرپور رہنمائی اور مددکی وجہ سے بھارت اپنے چاول کامعیار قائم رکھنے کے ساتھ ہی پیداوار میں بھی سال بہ سال اضافہ کرنے میں کامیاب رہاہے ۔چاول کے برآمدکنندگان کاکہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو پاکستانی چاول کو بیرون ملک مقبول بنانے کیلئے چاول کے بڑے عالمی خریداروں کو پاکستانی چاول کی خوبیوں سے آگاہ کرنے کیلئے متعلقہ ممالک میں پاکستانی چاول کی نمائش کااہتمام کرنے کے ساتھ ہی چاول برآمد کرنے والے تاجروں اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں تیار کرنی چاہئیں اور چاول کے برآمد کنندگا ن کو اس حوالے سے مختلف ترغیبات دینے کااہتمام کرنا چاہئے۔
چاول کے برآمدکنندگان کاکہناہے کہ چاول چونکہ فصلی چیز ہے اس لئے عالمی منڈی میں اس کی قیمت کبھی بھی مستحکم نہیں رہتی بلکہ گندم اور چینی کی طرح چاول کی قیمت بھی ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے اگر پوری دنیا میں چاول کی فصل اچھی ہوجائے تو چاول کی قیمت میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور فصل کم ہونے کی صورت میں اس کی قیمت میں کمی ہوجاتی ہے اس لئے چاول کے تاجروں کو مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کیلئے اچھی یعنی بمپر فصل کے دنوں میں جب عالمی منڈی میں چاول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہوتاہے کم قیمت پر چاول فروخت کرنے کے بجائے چاول کا ذخیرہ کرنا پڑتاہے ،چاول کا یہ ذخیرہ عالمی منڈی میں چاول کی قیمت میں تیزی کے رجحان کے دور میں مارکیٹ میں فروخت کیلئے لایاجائے تو برآمدکنندگا ن کو بھی فائدہ پہنچتاہے اور ملک کی زرمبادلے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے،لیکن ایسا اسی وقت ہوسکتاہے جب چاول کے برآمدکنندگان کا اپنے چاول کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں پیدا ہونے والی اونچ نیچ کامقابلہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے آسان شرائط اور کم شرح منافع پر قرضوں کی فراہمی اور چاول کی درآمد پر دیگر ترغیبات دینے کااہتمام کیاجائے اور حکومت کی جانب سے چاول کامعیار برقرار رکھنے اور معیاری چاول کی کاشت کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے حوالے سے بوائی کے دوران چاول کے کاشت کاروں کی مناسب رہنمائی کاانتظام کیاجائے جس کا اب تک فقدان ہے۔اس حوالے سے حکومت کو گندم کی طرح چاول کی سرکاری خریداری کا بھی مناسب انتظام کرنا چاہئے تاکہ چاول کے کاشتکاروں کو بھی ان کی فصل کی مناسب قیمت کی ادائیگی یقینی ہوسکے اور چاول کاشت کرنے والے قیمت کے حوالے سے گومگو کا شکار نہ رہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار زرمبادلے کے حصول کے اس اہم ذریعے کے سوتوں کو خشک ہونے سے بچانے اور غیرملکی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی پہچان بنانے کے حوالے سے ضروری اقدام کریں گے اور چاول کے کاشتکاروں اور برآمدکنندگا ن کو درپیش مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے کیلئے قابل عمل طریقہ کار وضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

مضامین
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

بھارت میں تیل کا بحران وجود بدھ 13 مئی 2026
بھارت میں تیل کا بحران

بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل وجود بدھ 13 مئی 2026
بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر