وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

حکومت کی بے رخی کے سبب چاول کی برآمد میں دشواریاں

اتوار 25 جون 2017 حکومت کی بے رخی کے سبب چاول کی برآمد میں دشواریاں


حکومت اور چاول برآمد کرنے والے اداروں اور تاجروں کی عدم سرپرستی کے سبب گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان سے چاول کی برآمد کی شرح بھارت کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے۔ دوسری جانب بھارت چاول کی برآمد بڑھانے کیلئے اپنے چاول کے کاشتکاروں کی ہر طرح سے سرپرستی کررہاہے جس کی وجہ سے بھارت میں اب پاکستان کے مقابلے میں زیادہ لمبے دانے کے چاول کی پیداوار بڑھ رہی ہے اورچاول کی برآمدات کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو دی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے بھارت سے چاول کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی جانب سے چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، زیادہ لمبے دانے کے چاول کی کاشت کے حوالے سے کاشتکاروںکی رہنمائی اور ان کو اچھے معیار کے بیج کی عدم فراہمی کی وجہ سے پاکستان سے چاول کی برآمد میں مسلسل کمی ہورہی ہے، اگرچہ چاول کے بعض کاشتکار جو اپنی فصل برآمد بھی کرتے رہتے ہیں انفرادی طورپر چاول کی فصل کو بہتر بنانے کی سعی کرتے رہتے ہیںلیکن حکومت کی جانب سے سرپرستی نہ ہونے اور کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو ترغیبات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ان کی یہ کوششیں بھی بار آور ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔
پاکستان سے چاول کی برآمدات میں کمی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2014-15 کے دوران پاکستان کو چاول کی برآمد کے ذریعے2.04 بلین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہواتھا لیکن 2015-16 میں چاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر 8.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی 1.86 بلین ڈالر تک محدود رہی جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اورچاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر17 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور رواں مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی1.46 بلین ڈالر تک محدود رہی ہے۔
اس وقت جبکہ پاکستان زبردست تجارتی خسارے اور ادائیگیوں کے عدم توازن کی صورت حال سے دوچار ہے اور اسے ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے بار بار غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرض پر قرض حاصل کرنا پڑ رہاہے ملک کی اہم برآمدات کی جانب سے حکومت کی بے رخی اور ان کی عدم سرپرستی ہمارے ارباب اختیار کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کو بھی حکومت سے یہی شکایت ہے کہ اس نے زرمبادلے کے حصول کے اس اہم شعبے کونظر انداز کررکھاہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور پاکستان سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان عام نظر آرہاہے۔
اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حکومت زرمبادلہ حاصل کرنے کے آسان ذرائع کو نظر انداز کرکے اور ان شعبوں کی کارکردگی اور پیداوار بہتر بنانے کیلئے ان کو ضروری سہولتوں کی عدم فراہمی اور ان کے مسائل سے چشم پوشی کے ذریعہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہے اور زرمبادلے کے حصول کے ان روایتی ذرائع کو نظر انداز کرکے حکومت اپنی ادائیگیوں کے خسارے کو کس طرح پورا کرے گی؟۔ ماہرین کا کہناہے کہ ارباب حکومت ، چاول ،ٹیکسٹائل اور پھلوں کی برآمدات پر توجہ مرکوز کرکے اور ان کے برآمدکنندگان کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرکے ان کی برآمد ات میں کئی گنا اضافہ کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے موجودہ عدم توازن کو کم بلکہ ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے۔
چاول کے پاکستانی کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کاکہناہے کہ حکومت کی عدم توجہی اور بے رخی کی وجہ سے پاکستانی چاول اپنی شناخت برقرار رکھنے کی صلاحیت کھوتا جارہاہے جبکہ بھارت میں چاول کی کاشت سے برآمد تک کے تمام مرحلوں میں حکومت کی بھرپور رہنمائی اور مددکی وجہ سے بھارت اپنے چاول کامعیار قائم رکھنے کے ساتھ ہی پیداوار میں بھی سال بہ سال اضافہ کرنے میں کامیاب رہاہے ۔چاول کے برآمدکنندگان کاکہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو پاکستانی چاول کو بیرون ملک مقبول بنانے کیلئے چاول کے بڑے عالمی خریداروں کو پاکستانی چاول کی خوبیوں سے آگاہ کرنے کیلئے متعلقہ ممالک میں پاکستانی چاول کی نمائش کااہتمام کرنے کے ساتھ ہی چاول برآمد کرنے والے تاجروں اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں تیار کرنی چاہئیں اور چاول کے برآمد کنندگا ن کو اس حوالے سے مختلف ترغیبات دینے کااہتمام کرنا چاہئے۔
چاول کے برآمدکنندگان کاکہناہے کہ چاول چونکہ فصلی چیز ہے اس لئے عالمی منڈی میں اس کی قیمت کبھی بھی مستحکم نہیں رہتی بلکہ گندم اور چینی کی طرح چاول کی قیمت بھی ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے اگر پوری دنیا میں چاول کی فصل اچھی ہوجائے تو چاول کی قیمت میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور فصل کم ہونے کی صورت میں اس کی قیمت میں کمی ہوجاتی ہے اس لئے چاول کے تاجروں کو مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کیلئے اچھی یعنی بمپر فصل کے دنوں میں جب عالمی منڈی میں چاول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہوتاہے کم قیمت پر چاول فروخت کرنے کے بجائے چاول کا ذخیرہ کرنا پڑتاہے ،چاول کا یہ ذخیرہ عالمی منڈی میں چاول کی قیمت میں تیزی کے رجحان کے دور میں مارکیٹ میں فروخت کیلئے لایاجائے تو برآمدکنندگا ن کو بھی فائدہ پہنچتاہے اور ملک کی زرمبادلے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے،لیکن ایسا اسی وقت ہوسکتاہے جب چاول کے برآمدکنندگان کا اپنے چاول کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں پیدا ہونے والی اونچ نیچ کامقابلہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے آسان شرائط اور کم شرح منافع پر قرضوں کی فراہمی اور چاول کی درآمد پر دیگر ترغیبات دینے کااہتمام کیاجائے اور حکومت کی جانب سے چاول کامعیار برقرار رکھنے اور معیاری چاول کی کاشت کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے حوالے سے بوائی کے دوران چاول کے کاشت کاروں کی مناسب رہنمائی کاانتظام کیاجائے جس کا اب تک فقدان ہے۔اس حوالے سے حکومت کو گندم کی طرح چاول کی سرکاری خریداری کا بھی مناسب انتظام کرنا چاہئے تاکہ چاول کے کاشتکاروں کو بھی ان کی فصل کی مناسب قیمت کی ادائیگی یقینی ہوسکے اور چاول کاشت کرنے والے قیمت کے حوالے سے گومگو کا شکار نہ رہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار زرمبادلے کے حصول کے اس اہم ذریعے کے سوتوں کو خشک ہونے سے بچانے اور غیرملکی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی پہچان بنانے کے حوالے سے ضروری اقدام کریں گے اور چاول کے کاشتکاروں اور برآمدکنندگا ن کو درپیش مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے کیلئے قابل عمل طریقہ کار وضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈان کی وجہ سے برطانیہ کی سرکاری ائیرلائن برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیا کے مطابق برٹش ائیرویز کے سی ای او نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے دوران پراوزیں اڑانے سے ڈرنے کی وجہ سے حالات فوری معمول پر آنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں لیکن ائیرلائن کی جانب سے موسم سرما کا سیزن گزارنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔برٹش ائیرویز کے سی ای او کا کہنا ت...

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول کرونا وبا سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس...

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے وجود - منگل 15 ستمبر 2020

دنیا کے بڑے اورترقی یافتہ ممالک میں اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ یہ دوڑ علامتی طور پر ایک نئے طاقت کے اُبھار اور عالمی سطح پر نئے رجحانات کی تشکیل کا سبب بھی یقینی طور بنے گی۔ اس ضمن میں عالمی ذرائع ابلاغ پر روزانہ کی بنیاد پر اندازے ظاہر کیے جاتے ہیںاور اس دوڑ میں شامل ملکوں میں جاری تحقیقات کو جگہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے اب یہ بات زیادہ زور دے کر دہرائی جارہی ہے کہ چین دنیا میں کورونا ویکسین متعارف کرانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے ۔ برطانوی ...

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے

مصر، حجاب کی حمایت پر خاتون ٹی وی میزبان کو پوچھ تاچھ کا سامنا وجود - پیر 14 ستمبر 2020

مصر کی سپریم میڈیا ریگولیرٹری کونسل نے ایک نجی ٹی وی چینل کی خاتون پیش کار رضوی الشربینی سے مبینہ طور پر حجاب کی حمایت کرنے پر تحقیقات شروع کی ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک اسے کام سے روک دیا گیا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق مصر سے عربی میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل کے پروگرام کی میزبان رضوی الشربینی نے حال ہی میں با حجاب خواتین کی تعریف کی تھی۔ میڈیا ریگولیرٹی کونسل کی انسداد شکایات کمیٹی کو ملنے والی شکایات میں کہا گیا کہ الشریبی نے ایک ٹی وی شو میں کہا تھا کہ میرا وجدان یہ کہت...

مصر، حجاب کی حمایت پر خاتون ٹی وی میزبان کو پوچھ تاچھ کا سامنا

بھارت میں پانچویں روز بھی 90 ہزارسے زائد کورونا کیس رپورٹ وجود - پیر 14 ستمبر 2020

دنیا بھر میں عالمی وبا کورونا وائرس کے وار اب تک جاری ہیں، جس سے ناصرف مریضوں میں بلکہ اس سے اموات میں بھی ہر روز اضافہ ہو رہا ہے ۔ بھارت میں مسلسل پانچویں روز 90 ہزار سے زیادہ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ۔ادھر شام میں حفاظتی اقدامات کے ساتھ اسکول کھل گئے جبکہ عراقی دارالحکومت بغداد میں کئی ماہ سے بند ریسٹورنٹ کھول دیے گئے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں 90 ہزار نئے کورونا کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 47 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ ہلاکتیں 79 ہزار کے قریب پہنچ چکی...

بھارت میں پانچویں روز بھی 90 ہزارسے زائد کورونا کیس رپورٹ

کورونا کی دوسری لہر، اسرائیل میں ملک گیر لاک ڈاون کااعلان وجود - پیر 14 ستمبر 2020

اسرائیل میں کورونا کی دوسری لہر کے بعد حکومت نے ملک بھر میں رواں ہفتے لاک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک ٹی وی بیان میں کہا کہ ملک میں کرونا وبا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافے کے بعد جمعہ سے یہودیوں کے سال نو کی تقریبات تک کم سے کم تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاون لگایا جا رہا ہے ۔خیال رہے کہ اسرائیل میں حالیہ ایام میں کورونا کے کیسز میں غیرمعمولی اضافہ سامنے آیا۔ اسرائیل میں کرونا کی یہ دوسری لہرہے ۔ آبادی کے تناسب سے اسرائیل کا شکا...

کورونا کی دوسری لہر، اسرائیل میں ملک گیر لاک ڈاون کااعلان

پب جی پر پابندی کیوں لگائی؟، ایک اور بھارتی طالبعلم کی خودکشی وجود - پیر 14 ستمبر 2020

آن لائن گیم پب جی کھیلنے کے عادی انجینئرنگ کے طالب علم نے ویڈیو گیم پر پابندی لگنے پر اپنی جان لے لی۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارت میں پب جی گیم کھیلنے والے ایک اور نوجوان نے خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے ، خودکشی کا یہ واقعہ بھارتی ریاست اندرا پردیش میں پیش آیا۔بھارتی نوجوان کرن کمار پب جی کھیلنے کا اس قدر عادی تھا کہ اس نے ساڑھے لاکھ روپے بٹ کوائن کی صورت میں پب جی پر لگادئیے تھے جو اس نے اپنی والدہ سے ادھار لیے تھے جبکہ لیپ ٹاپ، موبائل فون و دیگر ذاتی جائیداد بھی پ...

پب جی پر پابندی کیوں لگائی؟، ایک اور بھارتی طالبعلم کی خودکشی

مروا قتل کیس، متعدد افراد زیرِ حراست، 5 کے مزید ڈی این اے سیمپل لیے گئے وجود - اتوار 13 ستمبر 2020

کراچی کے علاقے عیسیٰ نگری میں 5 سالہ کمسن بچی مرواہ کے اغوا، زیادتی اور قتل کی واردات میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے مزید 5 افراد کے نمونے حاصل کر لئے ہیں۔ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی کے مطابق اب تک 36 افراد کے بیانات ریکارڈ کیئے جا چکے ہیں جبکہ ان تمام 36 افراد کے ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کیئے جا چکے ہیں جن میں سے 17 سیمپلز گزشتہ روز سندھ کی جامشورو یونیورسٹی حیدر آباد پہنچا دیئے گئے ہیں۔ان میں مرکزی مشتبہ ملزم نواز کا ڈی این اے سیم...

مروا قتل کیس، متعدد افراد زیرِ حراست، 5 کے مزید ڈی این اے سیمپل لیے گئے

مرتضی وہاب کی تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل وجود - اتوار 13 ستمبر 2020

سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے ۔بیرسٹر مرتضی وہاب نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اسکول خصوصا پرائمری سیکشن کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ صورتحال تاحال غیر یقینی ہے ، بچے کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کر پائیں گے ۔خیال رہے کہ وزارت تعلیم سندھ نے عالمی وبا کورونا کے باعث بند تمام تعلیمی ادارے 15 س...

مرتضی وہاب کی تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل

امارات کی طرح عرب لیگ نے بھی فلسطینی قوم سے غداری کی، اسماعیل ھنیہ وجود - اتوار 13 ستمبر 2020

اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ عرب لیگ کا اسرائیلی ریاست کی طرف جھکائو خطرناک نتائج پر منتج ہوسکتا ہے ۔ عرب لیگ میں امارات اوراسرائیل کے درمیان تعلقات کی مخالفت میں پیش کی گئی قرارداد ناکام کرنا شرمناک پیش رفت ہے جس سے عرب لیگ کے تاریخی موقف میں کھلے انحراف کا پتا چلتا ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق بیروت میں علما کے ایک وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ عرب لیگ کے فورم پر قضیہ فلسطین اور فلسطینی کاز کی حمایت م...

امارات کی طرح عرب لیگ نے بھی فلسطینی قوم سے غداری کی، اسماعیل ھنیہ