وجود

... loading ...

وجود

حکومت کی بے رخی کے سبب چاول کی برآمد میں دشواریاں

اتوار 25 جون 2017 حکومت کی بے رخی کے سبب چاول کی برآمد میں دشواریاں


حکومت اور چاول برآمد کرنے والے اداروں اور تاجروں کی عدم سرپرستی کے سبب گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان سے چاول کی برآمد کی شرح بھارت کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے۔ دوسری جانب بھارت چاول کی برآمد بڑھانے کیلئے اپنے چاول کے کاشتکاروں کی ہر طرح سے سرپرستی کررہاہے جس کی وجہ سے بھارت میں اب پاکستان کے مقابلے میں زیادہ لمبے دانے کے چاول کی پیداوار بڑھ رہی ہے اورچاول کی برآمدات کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے برآمد کنندگان کو دی جانے والی سہولتوں کی وجہ سے بھارت سے چاول کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔دوسری جانب پاکستان کی حکومت کی جانب سے چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، زیادہ لمبے دانے کے چاول کی کاشت کے حوالے سے کاشتکاروںکی رہنمائی اور ان کو اچھے معیار کے بیج کی عدم فراہمی کی وجہ سے پاکستان سے چاول کی برآمد میں مسلسل کمی ہورہی ہے، اگرچہ چاول کے بعض کاشتکار جو اپنی فصل برآمد بھی کرتے رہتے ہیں انفرادی طورپر چاول کی فصل کو بہتر بنانے کی سعی کرتے رہتے ہیںلیکن حکومت کی جانب سے سرپرستی نہ ہونے اور کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کو ترغیبات کی عدم فراہمی کی وجہ سے ان کی یہ کوششیں بھی بار آور ثابت نہیں ہورہی ہیں ۔
پاکستان سے چاول کی برآمدات میں کمی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2014-15 کے دوران پاکستان کو چاول کی برآمد کے ذریعے2.04 بلین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہواتھا لیکن 2015-16 میں چاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر 8.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی 1.86 بلین ڈالر تک محدود رہی جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے اورچاول کی برآمدی آمدنی میں مجموعی طورپر17 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور رواں مالی سال کے ابتدائی 11ماہ کے دوران چاول کی برآمد سے ہونے والی آمدنی1.46 بلین ڈالر تک محدود رہی ہے۔
اس وقت جبکہ پاکستان زبردست تجارتی خسارے اور ادائیگیوں کے عدم توازن کی صورت حال سے دوچار ہے اور اسے ادائیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کیلئے بار بار غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرض پر قرض حاصل کرنا پڑ رہاہے ملک کی اہم برآمدات کی جانب سے حکومت کی بے رخی اور ان کی عدم سرپرستی ہمارے ارباب اختیار کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کو بھی حکومت سے یہی شکایت ہے کہ اس نے زرمبادلے کے حصول کے اس اہم شعبے کونظر انداز کررکھاہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور پاکستان سے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے کے بجائے کمی کا رجحان عام نظر آرہاہے۔
اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ حکومت زرمبادلہ حاصل کرنے کے آسان ذرائع کو نظر انداز کرکے اور ان شعبوں کی کارکردگی اور پیداوار بہتر بنانے کیلئے ان کو ضروری سہولتوں کی عدم فراہمی اور ان کے مسائل سے چشم پوشی کے ذریعہ کیا ثابت کرنا چاہتی ہے اور زرمبادلے کے حصول کے ان روایتی ذرائع کو نظر انداز کرکے حکومت اپنی ادائیگیوں کے خسارے کو کس طرح پورا کرے گی؟۔ ماہرین کا کہناہے کہ ارباب حکومت ، چاول ،ٹیکسٹائل اور پھلوں کی برآمدات پر توجہ مرکوز کرکے اور ان کے برآمدکنندگان کو درپیش مشکلات اور مسائل حل کرکے ان کی برآمد ات میں کئی گنا اضافہ کرسکتی ہے جس کے نتیجے میں ادائیگیوں کے موجودہ عدم توازن کو کم بلکہ ختم کرنے میں بڑی حد تک مدد مل سکتی ہے۔
چاول کے پاکستانی کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کاکہناہے کہ حکومت کی عدم توجہی اور بے رخی کی وجہ سے پاکستانی چاول اپنی شناخت برقرار رکھنے کی صلاحیت کھوتا جارہاہے جبکہ بھارت میں چاول کی کاشت سے برآمد تک کے تمام مرحلوں میں حکومت کی بھرپور رہنمائی اور مددکی وجہ سے بھارت اپنے چاول کامعیار قائم رکھنے کے ساتھ ہی پیداوار میں بھی سال بہ سال اضافہ کرنے میں کامیاب رہاہے ۔چاول کے برآمدکنندگان کاکہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کو پاکستانی چاول کو بیرون ملک مقبول بنانے کیلئے چاول کے بڑے عالمی خریداروں کو پاکستانی چاول کی خوبیوں سے آگاہ کرنے کیلئے متعلقہ ممالک میں پاکستانی چاول کی نمائش کااہتمام کرنے کے ساتھ ہی چاول برآمد کرنے والے تاجروں اور کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹھوس اور دیرپا پالیسیاں تیار کرنی چاہئیں اور چاول کے برآمد کنندگا ن کو اس حوالے سے مختلف ترغیبات دینے کااہتمام کرنا چاہئے۔
چاول کے برآمدکنندگان کاکہناہے کہ چاول چونکہ فصلی چیز ہے اس لئے عالمی منڈی میں اس کی قیمت کبھی بھی مستحکم نہیں رہتی بلکہ گندم اور چینی کی طرح چاول کی قیمت بھی ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہے اگر پوری دنیا میں چاول کی فصل اچھی ہوجائے تو چاول کی قیمت میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور فصل کم ہونے کی صورت میں اس کی قیمت میں کمی ہوجاتی ہے اس لئے چاول کے تاجروں کو مارکیٹ کی طلب پوری کرنے کیلئے اچھی یعنی بمپر فصل کے دنوں میں جب عالمی منڈی میں چاول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہوتاہے کم قیمت پر چاول فروخت کرنے کے بجائے چاول کا ذخیرہ کرنا پڑتاہے ،چاول کا یہ ذخیرہ عالمی منڈی میں چاول کی قیمت میں تیزی کے رجحان کے دور میں مارکیٹ میں فروخت کیلئے لایاجائے تو برآمدکنندگا ن کو بھی فائدہ پہنچتاہے اور ملک کی زرمبادلے کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتاہے،لیکن ایسا اسی وقت ہوسکتاہے جب چاول کے برآمدکنندگان کا اپنے چاول کے ذخائر کو برقرار رکھنے اور مارکیٹ میں پیدا ہونے والی اونچ نیچ کامقابلہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے آسان شرائط اور کم شرح منافع پر قرضوں کی فراہمی اور چاول کی درآمد پر دیگر ترغیبات دینے کااہتمام کیاجائے اور حکومت کی جانب سے چاول کامعیار برقرار رکھنے اور معیاری چاول کی کاشت کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے حوالے سے بوائی کے دوران چاول کے کاشت کاروں کی مناسب رہنمائی کاانتظام کیاجائے جس کا اب تک فقدان ہے۔اس حوالے سے حکومت کو گندم کی طرح چاول کی سرکاری خریداری کا بھی مناسب انتظام کرنا چاہئے تاکہ چاول کے کاشتکاروں کو بھی ان کی فصل کی مناسب قیمت کی ادائیگی یقینی ہوسکے اور چاول کاشت کرنے والے قیمت کے حوالے سے گومگو کا شکار نہ رہیں۔
امید کی جاتی ہے کہ ہمارے ارباب اختیار زرمبادلے کے حصول کے اس اہم ذریعے کے سوتوں کو خشک ہونے سے بچانے اور غیرملکی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی پہچان بنانے کے حوالے سے ضروری اقدام کریں گے اور چاول کے کاشتکاروں اور برآمدکنندگا ن کو درپیش مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے کیلئے قابل عمل طریقہ کار وضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد وجود - جمعه 30 جنوری 2026

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...

جنگ کی نوعیت تبدیل، مسلح افواج دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہے، فیلڈ مارشل

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان وجود - جمعه 30 جنوری 2026

عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...

سانحہ گل پلازہ، حکومت سندھ کا جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان

مضامین
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

انقلاب کی پہلی شرط وجود اتوار 01 فروری 2026
انقلاب کی پہلی شرط

پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے! وجود اتوار 01 فروری 2026
پاکستان میں سو چنے سے ڈر لگتا ہے!

نک دا کوکا ۔۔۔ وجود هفته 31 جنوری 2026
نک دا کوکا ۔۔۔

ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری وجود هفته 31 جنوری 2026
ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، فلسطینی اور رفح راہداری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر