وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

بیروزگاری ، ہماری تمام ترقی پرپانی پھیرنے والا عفریت

هفته 24 جون 2017 بیروزگاری ، ہماری تمام ترقی پرپانی پھیرنے والا عفریت

پاکستان کو فی الوقت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے بیروزگاری ان میں سرفہرست ہے ،لیکن بیروزگاری ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جواس دور میں غریب اور ترقی پذیرملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کیے ہوئے ہے ،امریکامیں ایک ذہنی مریض ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں اسی بیروزگاری نے کلیدی کردار انجام دیا اور برطانیہ میں وزیر اعظم تھریسا مے کو بیروزگاری پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ ہی سے انتخابات میں منہ کی کھانا پڑی ۔
بیروزگاری کے اس عفریت کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے تمام ممالک مسلسل منصوبہ بندی میں مصروف رکھتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بیروزگاری کے مسئلہ سے نکلنے کیلئے دور دور تک کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی اورکسی کویہ معلوم ہی نہیںہے کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے کیا سوچا ہے یا اسکے سدباب کیلئے کیا منصوبہ بندی کی ہوئی ہے؟
پاکستان کے چند اہم اور سلگتے مسئلوں میں ایک سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 20 کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 11کروڑ افراد ابھی اپنی عمر کی 25 ویں بہار بھی بمشکل دیکھ سکے ہیں یعنی اگر ہم صحیح اور مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے ان کی توانائیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجائیں تو روزگار کی تلاش میں ماری ماری پھرنے والی یہ افرادی قوت قوم کیلئے سونے کی کان ثابت ہوسکتی ہے ،اگر اس یوتھ پاور کا استعمال کریں۔ نوجوانوں کی ان ہی صلاحیتوں کی بنیادپر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 12اپریل 1948کواسلامیہ کالج پشاورمیں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ ’’میرے نوجوان دوستو، میں آ پ کو مستقبل میںپاکستان کا حقیقی معمار دیکھتا ہوں، نہ کسی کا استحصال کرو اور نہ گمراہ ہو۔ اپنے درمیان مکمل اتحاد اور یکجہتی بنائو۔ ایسی مثال بنادو کہ نوجوان کیا کچھ نہیں کرسکتے۔ آپ کا پہلاکام اپنے آپ سے مخلص، اپنے والدین سے مخلص اور اپنے ملک سے مخلص ہونا چاہیے، پھر آپ کی پوری توجہ اپنے مطالعہ پر ہونی چاہیے‘‘۔
قائداعظم نے ایک اور جگہ نوجوانوں کو اس طرح مخاطب کیا کہ ’’پاکستان کو اپنے نوجوانوں خصوصاً طالب علموں پر فخر ہے جو کہ مستقبل کے معمار ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو نظم وضبط اور تعلیم سے مزین کرناچاہیے اور ہرمشکل کام کی تربیت لینی چاہیے‘‘۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قائداعظم کو نوجوانوں بالخصوص طالب علموں سے کس قدر امیدیں تھیں۔اس لئے اگر ہم نے اپنے ملک کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا تو ناصرف یہ ملک کیلئے بلکہ عالمی سطح پر بھی تخریب کاری اور دہشتگردی کا موجب ہوگا۔
ورلڈ بینک کی 2016کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں بیروزگاری کی مجموعی شرح 5.746ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے ممالک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، سنگاپور میں بیروزگاری کی شرح1.8فیصد، بھوٹان میں2.4فیصد، مالدیپ اور نیپال میں 3.2فیصد، بھارت میں 3.5فیصد،کوریا میں 3.7فیصد، بنگلا دیش میں 4.1فیصد،چین میں 4.6فیصد، سری لنکا میں 5فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 5.9فیصد ہے یعنی پاکستان میں بیروزگاری کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسکے علاوہ ایسے غریب اور ترقی پذیر ممالک بھی ہیں جہاں بیروزگاری کا تناسب انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے جیسے کمبوڈیا میں 0.3فیصد، بیلاروس میں 0.5 فیصد اورمیانمار میں0.8 فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان کے ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارم (IPR)کے 2016کے لیبر فورس سروے کے مطابق ’’پاکستان میں بیروزگاری کی سطح گزشتہ 13سال میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت کے تمامتر بلند بانگ دعووں کے باوجود پاکستان میں روزگار کے مواقع میں کمی آئی ہے اوربیروزگاروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہاہے ،اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں بیروزگاروں کی زیادہ تعدادان پڑھ کے بجائے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد شامل ہیں۔ بیروزگاری میں اضافیکے بڑے اسباب میں بجلی ،گیس اور توانائی کے دیگر ذرائع کا بحران، امن وامان کے مسائل کا کلیدی کردار ہے ،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2016میںموجود10 لاکھ ایسے افراد بیروزگاروں میں شامل تھے جنہوں نے نہ تو تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی روزگار تلاش کررہے ہیں یہ رپورٹ اس اعتبار سے تشویشناک ہے کہ ایسے ہی افراد دہشت گردی کا ایندھن فراہم کرتے ہیں‘‘۔اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاہے کہ2017میں بیروزگاری کا طوفان مزید تیزہوچکا ہے جس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق 2017 میں پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 6.9فیصد تک تجاوز کرسکتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزگار کے متلاشی افراد کی تعداد میں سالانہ پندرہ لاکھ سے زیادہ کا اضافہ ہورہا ہے۔
دنیا بھر میں صنعتوں کوروزگارکی فراہمی کا بڑا ذریعے تصور کیاجاتاہے اسی لئے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے عوام کو روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنے کیلئے صنعتوں کے قیام اور ان کی توسیع کی منصوبہ بندی کرتی ہیں اور صنعتی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیںلیکن ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ نجی شعبے کو خصوصاً صنعتی شعبے کو اس ضمن میں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا کرنے سے قاصر نظر آرہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری تمام معاشی پالیسیاں غیر پیداواری اور غیر صنعتی بن رہی ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حکومت صنعتوں کی ترقی وترویج کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ اگر ہم صرف گزشتہ بیس سال کی ملک کی معاشی کارکردگی دیکھیں تو ہمیں بین الاقوامی ریسٹورنٹ اور فوڈچینز، ٹیلی کمیونیکیشن فرنچائزز اور غیر ملکی دواسازکمپنیوںوغیرہ میں سرمایہ کاری تو نظر آتی ہے اور ان شعبوں میں ترقی بھی نظر آتی ہے مگر یہ تمام سرمایہ کاری ایڈہاک ازم پر ہے جس کا پاکستان کی معاشی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اگر100 ڈالرز لگاتے ہیں تو وہ اگلے سال ہمارے ملک سے کما کر اپنے100 ڈالرز کے ساتھ ساتھ منافع بھی اپنے ملکوں میں لے جاتے ہیں اور پھر جب اور جس وقت چاہیں اپنی کرائے کی دکانوں کو بند کرکے اور اپنا تمام سرمایہ لپیٹ کر اپنے ملک سدھار جاتے ہیں۔ جیسا کہ ماضی قریب میں شوکت عزیز صاحب کے دور میں ہوا کہ ملک میں جمعہ بازار کی طرح بینکوں کو کھولنے کے لائسنس دئیے گئے مگر اس کے بعد 2008-9میں وہ تمام بینک اور وہ بینک جو پہلے سے کام کررہے تھے اپنا بوریا بستر سمیٹ کرپاکستان سے چلے گئے تھے۔ اسکے علاوہ آئی ایم ایف نے گذشتہ دنوں دبئی میں پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات سے آگاہ کر دیا تھا مگر ہمارے وفاقی وزیر خزانہ کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے اسکے صرف مثبت پہلوئوں کو پریس میں آنے دیا اور منفی پہلوئوں کو اجاگر نہیں ہونے دیا۔
اس صورت حال سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان میں بیروزگاری کے عفریت پر قابو پانے کیلئے ہمیں اپنی پالیسیوں کو پیداواری اور صنعت دوست بنانا ہوگا اور پورے ملک میں صنعتوں کا جال بچھانا ہوگا اور وہ تمام سرمایہ جو غیر پیداواری شعبوں مثلاً جائیدادوں کی خریدوفروخت اور اسٹاک ایکسچینج میں چلا گیا ہے اس کو واپس لانے ا قدامات کرنے ہوں گے اور یہ اس وقت ہی ممکن نہیں ہے جب تک ہم اپنی تمام معیشت کو عملی طور پر دستاویزی معیشت میں تبدیل نہ کر لیں۔ اسکے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے ملک میں ایک
ایساصنعتی اور پیداواری ماحول پیدا کرنا ہو گا اور روزگار کے ایسے ذرائع فراہم کرنے ہوں گے کہ ہر تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں رہنے کو ترجیح دے اور یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب تک ہم تعلیم اور معیشت کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل نہ کرلیں جبکہ ہماری تمام منصوبہ بندیاں متوقع بھیک، قرضوں اور امدادوں کو حاصل کرنے میں ہی لگی رہتی ہیںاور ہم نے کبھی بھی اپنے معاشی منشور کی بنیاد آزادوخودمختار معیشت کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے اس لئے جب تک ہم اپنے رویوں میں بنیادی تبدیلی نہیں لائیں گے اور ملک کے ذمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں نہیں بنائیں گے تب تک دربدر کی ٹھوکریں ہمارا مقدر رہیں گی۔


متعلقہ خبریں


لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

لندن کے جنوبی علاقے میں پولیس اہلکاروں نے سیاہ فام نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بلیک لائیوز میٹر کے نام سے وائرل کردی گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق واقعہ لندن کے علاقے کرائیڈن میں پیش آیا جہاں اہلکار وں نے نوجوان کو دھکے دئیے اور لاتیں مارکر فٹ پاتھ پر گرادیا،گرفتاری کے باوجود نوجوان کو مکے مارے گئے ۔ پولیس کو شبہ تھا کہ نوجوان کے پاس تیز دھار آلہ ہے تاہم اس کے قبضے سے کچھ بھی برآمد نہیں کیا جاسکا۔

لندن میں پولیس اہلکاروں کا سیاہ فام شخص پر تشدد،ویڈیووائرل

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں وجود - جمعه 03 جولائی 2020

قومی ادارہ صحت نے عیدالاضحی کے موقع پر کانگو بخار کے ممکنہ خدشے کے پیش نظر اسکی روک تھام اور کنٹرول سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی ہے ،اس ایڈوائزری کے علاوہ قومی ادارہ صحت نے موسمی بیماریوں سے آگاہی کے حوالے سے اپنا 48 واں سہہ ماہی انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا ہے ۔کانگو ہیمرجک بخار(سی سی ایچ ایف)جسے مختصرا کانگو بخار کہا جاتا ہے ایک خطرناک قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے ۔ایڈوائزری کے مطابق، عیدالاضحی سے قبل قربانی کے جانوروں کی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے کانگو بخار کا خطرہ نمایا...

عیدالاضحی پر کانگو بخار کا خدشہ، قومی ادارہ صحت نے ہدایات جاری کردیں

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل وجود - جمعه 03 جولائی 2020

مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں بچہ بتارہا ہے کہ کس طرح اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے نانا کو گو لیاں مار کر شہید کیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں 3 سالہ معصوم بچے کے سامنے ظالم بھارتی فوج نے 60 سالہ بزرگ شہری کو نام نہاد سرچ آپریشن کے نام پر شہید کردیا تھا۔ ننھا بچہ اپنے نانا کی لاش کے اوپر بیٹھ کر بے بسی سے روتا رہا لیکن کسی نے اسے دلاسہ نہ دیا۔بچے کی بے بسی نے پوری دنیا کو ہلا ڈالا ہے اور اس کی ن...

بھارتی فوج نے نانا کو کس طرح گولیاں ماریں؟ ننھے نواسے کی ویڈیو وائرل

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان وجود - جمعه 03 جولائی 2020

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ملک میں آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اپنی جماعت اے کے پی کے ارکان سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ایردوآن نے یوٹیوب، ٹویٹر اور نیٹ فلکس جیسے میڈیا سے فحاشی اور بداخلاقی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر ایردوآن کے خاندان خاص طور سے ان کی بیٹی کو توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے جن کے ہاں حال ہی میں چوتھے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس الزام میں 11 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ...

ایردوآن کافحش آن لائن نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈائون کا اعلان

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام وجود - جمعه 03 جولائی 2020

بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام ہو گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی میں ملوث عناصر، انکے سہولت کاروں، معاونین اور حامیوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، بیان کا مطالبہ چین نے کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی سفارتکاری کو منہ کی کھانا پڑی، مودی حکومت کے ہزار جتن اور کوششوں کے باوجود اقوام متحدہ کی سلامتی ک...

بھارت سلامتی کونسل کا کراچی حملے پر مذمتی بیان رکوانے میں ناکام

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی وجود - هفته 27 جون 2020

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 97 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہو گئی ہے ۔ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 52 لاکھ 79 ہزار سے زائد ہوگئی ہے ۔ دنیا بھرمیں کورونا سے متاثرہ 57 ہزار 619 افراد کی حالت تشویشناک ہے ۔امریکہ میں کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی ہے ۔ امریکہ میں 25 لاکھ چار ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ۔برازیل امریکہ کے بعد 12 لا...

دنیا بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 4 لاکھ 91 ہزار سے تجاوز کر گئی

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک وجود - هفته 27 جون 2020

بھارتی ریاست بہار اور اترپردیش میں آسمانی بجلی گرنے سے صرف ایک دن میں خواتین اور بچوں سمیت تقریبا 130 افراد ہلاک ہوگئے ۔بجلی گرنے سے ایک دن میں ہلاک ہونے والوں کی اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد بتائی جارہی ہے ۔ درجنوں دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے ۔سرکاری رپورٹوں کے مطابق بہار کے متعدد اضلاع میں بجلی گرنے سے کم از کم 97 افراد کی موت ہوگئی۔ بہار ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر لکشمیشور رائے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ری...

بھارت ،آسمانی بجلی گرنے سے 130 افراد ہلاک

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار وجود - جمعرات 25 جون 2020

یورپی یونین نے کورونا وبا کے سبب امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار کرلیا، پابندی کے اطلاق کا حتمی فیصلہ یکم جولائی تک کرلیا جائے گا۔امریکی اخبار کے مطابق یورپی حکام ان ممالک کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں محفوظ قراردیا جاسکتا ہے اور جن کے شہریوں کو موسم گرما میں سیاحت کی اجازت دی جاسکتی ہے ، اس بارے میں مسودہ تیار کرلیا گیا ہے ۔فی الحال امریکا بھی ان ممالک میں شامل ہے جو غیر محفوظ تصور کیے گئے ہیں، یورپی حکام کا خیال ہیک ہ امریکا کوروناوبا کو پھیلنے سے روکنے می...

کورونا ، امریکی شہریوں کے یورپ آنے پر پابندی کا مسودہ تیار

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ وجود - جمعرات 25 جون 2020

امریکا میں متعدی امراض سے بچا کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے کہاہے کہ کورونا وائرس نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے ۔غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں وائرس کے باعث کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔انھوں نے یہ بات کانگریس کے سامنے کہی۔ خیال رہے کہ امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ 23 لاکھ کے قریب متاثر ہو چکے ہیں۔ریڈفیلڈ نے کہا کہ ہم اس وائرس کا مقابلہ ...

کورونا وائرس نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ، رابرٹ ریڈفیلڈ

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

افریقا کے صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول ہزاروں میل دور جزائر غرب الہند کے ملکوں پر چھانے لگی ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق صحرائے اعظم یا صحرائے صہارا کی یہ دھول تیزی سے وسطی امریکا کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ماہرین کے مطابق اس کی وجہ حالیہ دنوں میں افریقہ میں آنے والے مٹی کے طوفان ہیں جس کی وجہ سے اتنی بڑی مقدار میں دھول فضا میں پھیل گئی ہے ۔دھول کے باعث جزائر غرب الہند میں ہوا کا معیار انتہائی نیچے گر چکا ہے ۔عام طور پر نیلگوں نظر آنے والا کیریبین ملکوں کا آسمان اب سرمئی نظر ...

صحرائے اعظم سے اٹھنے والی دھول جزائر غرب الہند پر چھانے لگی

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا وجود - جمعرات 25 جون 2020

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے چین کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی کے بعد چینی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے ساٹھ کروڑ ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹر کے وزیرِ صنعت سبھاش ڈیسائی کا کہنا تھا کہ وہ تین چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر آگے بڑھنے کے لیے مرکزی حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں۔چین اور بھارتی ریاست مہاراشٹر کے درمیان ابتدائی معاہدوں کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا جس کا مقصد کورونا سے متاثرہ بھارتی معیشت کی بحالی می...

بھارت نے چین کے ساتھ 60 کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر کام روک دیا

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی وجود - جمعرات 25 جون 2020

برطانیا میں ایک خاتون کسی دماغی عارضے کی شکار ہونے کے بعد دو ماہ تک کچھ بھی بولنے سے قاصر رہیں۔ لیکن اچانک ان کی گویائی لوٹ آئی ہے لیکن اب وہ چار مختلف لہجوں میں بات کرتی ہیں۔31 سالہ ایملی ایگن کی اس کیفیت سے خود ڈاکٹر بھی حیران ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کسی عارضی فالج یا دماغی چوٹ کی وجہ سے ایسا ہوا لیکن اس کے ثبوت نہیں مل سکے ۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ ان کا لہچہ اور بولنے کا انداز یکسر تبدیل ہونے لگا۔دو ماہ تک ایملی کمپیوٹر ایپ اور دیگر مشینی طریقوں سے اپنی بات کرتی رہی تھی۔ ت...

دو ماہ تک گونگی رہنے والی خاتون اچانک چار لہجوں میں بولنے لگی