... loading ...
پاکستان کو فی الوقت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے بیروزگاری ان میں سرفہرست ہے ،لیکن بیروزگاری ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جواس دور میں غریب اور ترقی پذیرملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کیے ہوئے ہے ،امریکامیں ایک ذہنی مریض ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت میں اسی بیروزگاری نے کلیدی کردار انجام دیا اور برطانیہ میں وزیر اعظم تھریسا مے کو بیروزگاری پر قابو پانے میں ناکامی کی وجہ ہی سے انتخابات میں منہ کی کھانا پڑی ۔
بیروزگاری کے اس عفریت کو کنٹرول میں رکھنے کیلئے تمام ممالک مسلسل منصوبہ بندی میں مصروف رکھتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بیروزگاری کے مسئلہ سے نکلنے کیلئے دور دور تک کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی اورکسی کویہ معلوم ہی نہیںہے کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے کیا سوچا ہے یا اسکے سدباب کیلئے کیا منصوبہ بندی کی ہوئی ہے؟
پاکستان کے چند اہم اور سلگتے مسئلوں میں ایک سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 20 کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 11کروڑ افراد ابھی اپنی عمر کی 25 ویں بہار بھی بمشکل دیکھ سکے ہیں یعنی اگر ہم صحیح اور مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے ان کی توانائیوں اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوجائیں تو روزگار کی تلاش میں ماری ماری پھرنے والی یہ افرادی قوت قوم کیلئے سونے کی کان ثابت ہوسکتی ہے ،اگر اس یوتھ پاور کا استعمال کریں۔ نوجوانوں کی ان ہی صلاحیتوں کی بنیادپر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 12اپریل 1948کواسلامیہ کالج پشاورمیں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ ’’میرے نوجوان دوستو، میں آ پ کو مستقبل میںپاکستان کا حقیقی معمار دیکھتا ہوں، نہ کسی کا استحصال کرو اور نہ گمراہ ہو۔ اپنے درمیان مکمل اتحاد اور یکجہتی بنائو۔ ایسی مثال بنادو کہ نوجوان کیا کچھ نہیں کرسکتے۔ آپ کا پہلاکام اپنے آپ سے مخلص، اپنے والدین سے مخلص اور اپنے ملک سے مخلص ہونا چاہیے، پھر آپ کی پوری توجہ اپنے مطالعہ پر ہونی چاہیے‘‘۔
قائداعظم نے ایک اور جگہ نوجوانوں کو اس طرح مخاطب کیا کہ ’’پاکستان کو اپنے نوجوانوں خصوصاً طالب علموں پر فخر ہے جو کہ مستقبل کے معمار ہیں۔ انہیں اپنے آپ کو نظم وضبط اور تعلیم سے مزین کرناچاہیے اور ہرمشکل کام کی تربیت لینی چاہیے‘‘۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قائداعظم کو نوجوانوں بالخصوص طالب علموں سے کس قدر امیدیں تھیں۔اس لئے اگر ہم نے اپنے ملک کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا تو ناصرف یہ ملک کیلئے بلکہ عالمی سطح پر بھی تخریب کاری اور دہشتگردی کا موجب ہوگا۔
ورلڈ بینک کی 2016کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں بیروزگاری کی مجموعی شرح 5.746ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے ممالک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، سنگاپور میں بیروزگاری کی شرح1.8فیصد، بھوٹان میں2.4فیصد، مالدیپ اور نیپال میں 3.2فیصد، بھارت میں 3.5فیصد،کوریا میں 3.7فیصد، بنگلا دیش میں 4.1فیصد،چین میں 4.6فیصد، سری لنکا میں 5فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 5.9فیصد ہے یعنی پاکستان میں بیروزگاری کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسکے علاوہ ایسے غریب اور ترقی پذیر ممالک بھی ہیں جہاں بیروزگاری کا تناسب انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے جیسے کمبوڈیا میں 0.3فیصد، بیلاروس میں 0.5 فیصد اورمیانمار میں0.8 فیصد ہے۔ جبکہ پاکستان کے ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارم (IPR)کے 2016کے لیبر فورس سروے کے مطابق ’’پاکستان میں بیروزگاری کی سطح گزشتہ 13سال میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت کے تمامتر بلند بانگ دعووں کے باوجود پاکستان میں روزگار کے مواقع میں کمی آئی ہے اوربیروزگاروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہاہے ،اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں بیروزگاروں کی زیادہ تعدادان پڑھ کے بجائے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد شامل ہیں۔ بیروزگاری میں اضافیکے بڑے اسباب میں بجلی ،گیس اور توانائی کے دیگر ذرائع کا بحران، امن وامان کے مسائل کا کلیدی کردار ہے ،ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2016میںموجود10 لاکھ ایسے افراد بیروزگاروں میں شامل تھے جنہوں نے نہ تو تعلیم حاصل کی ہے اور نہ ہی روزگار تلاش کررہے ہیں یہ رپورٹ اس اعتبار سے تشویشناک ہے کہ ایسے ہی افراد دہشت گردی کا ایندھن فراہم کرتے ہیں‘‘۔اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیاگیاہے کہ2017میں بیروزگاری کا طوفان مزید تیزہوچکا ہے جس کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق 2017 میں پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 6.9فیصد تک تجاوز کرسکتی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزگار کے متلاشی افراد کی تعداد میں سالانہ پندرہ لاکھ سے زیادہ کا اضافہ ہورہا ہے۔
دنیا بھر میں صنعتوں کوروزگارکی فراہمی کا بڑا ذریعے تصور کیاجاتاہے اسی لئے دنیا بھر کی حکومتیں اپنے عوام کو روزگار کے مناسب مواقع فراہم کرنے کیلئے صنعتوں کے قیام اور ان کی توسیع کی منصوبہ بندی کرتی ہیں اور صنعتی شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیںلیکن ہمارے ملک میں المیہ یہ ہے کہ نجی شعبے کو خصوصاً صنعتی شعبے کو اس ضمن میں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا کرنے سے قاصر نظر آرہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری تمام معاشی پالیسیاں غیر پیداواری اور غیر صنعتی بن رہی ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حکومت صنعتوں کی ترقی وترویج کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ اگر ہم صرف گزشتہ بیس سال کی ملک کی معاشی کارکردگی دیکھیں تو ہمیں بین الاقوامی ریسٹورنٹ اور فوڈچینز، ٹیلی کمیونیکیشن فرنچائزز اور غیر ملکی دواسازکمپنیوںوغیرہ میں سرمایہ کاری تو نظر آتی ہے اور ان شعبوں میں ترقی بھی نظر آتی ہے مگر یہ تمام سرمایہ کاری ایڈہاک ازم پر ہے جس کا پاکستان کی معاشی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اگر100 ڈالرز لگاتے ہیں تو وہ اگلے سال ہمارے ملک سے کما کر اپنے100 ڈالرز کے ساتھ ساتھ منافع بھی اپنے ملکوں میں لے جاتے ہیں اور پھر جب اور جس وقت چاہیں اپنی کرائے کی دکانوں کو بند کرکے اور اپنا تمام سرمایہ لپیٹ کر اپنے ملک سدھار جاتے ہیں۔ جیسا کہ ماضی قریب میں شوکت عزیز صاحب کے دور میں ہوا کہ ملک میں جمعہ بازار کی طرح بینکوں کو کھولنے کے لائسنس دئیے گئے مگر اس کے بعد 2008-9میں وہ تمام بینک اور وہ بینک جو پہلے سے کام کررہے تھے اپنا بوریا بستر سمیٹ کرپاکستان سے چلے گئے تھے۔ اسکے علاوہ آئی ایم ایف نے گذشتہ دنوں دبئی میں پاکستان کی معیشت کو درپیش خطرات سے آگاہ کر دیا تھا مگر ہمارے وفاقی وزیر خزانہ کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے اسکے صرف مثبت پہلوئوں کو پریس میں آنے دیا اور منفی پہلوئوں کو اجاگر نہیں ہونے دیا۔
اس صورت حال سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان میں بیروزگاری کے عفریت پر قابو پانے کیلئے ہمیں اپنی پالیسیوں کو پیداواری اور صنعت دوست بنانا ہوگا اور پورے ملک میں صنعتوں کا جال بچھانا ہوگا اور وہ تمام سرمایہ جو غیر پیداواری شعبوں مثلاً جائیدادوں کی خریدوفروخت اور اسٹاک ایکسچینج میں چلا گیا ہے اس کو واپس لانے ا قدامات کرنے ہوں گے اور یہ اس وقت ہی ممکن نہیں ہے جب تک ہم اپنی تمام معیشت کو عملی طور پر دستاویزی معیشت میں تبدیل نہ کر لیں۔ اسکے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے ملک میں ایک
ایساصنعتی اور پیداواری ماحول پیدا کرنا ہو گا اور روزگار کے ایسے ذرائع فراہم کرنے ہوں گے کہ ہر تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوان روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ہی ملک میں رہنے کو ترجیح دے اور یہ اس صورت میں ممکن ہوگا جب تک ہم تعلیم اور معیشت کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل نہ کرلیں جبکہ ہماری تمام منصوبہ بندیاں متوقع بھیک، قرضوں اور امدادوں کو حاصل کرنے میں ہی لگی رہتی ہیںاور ہم نے کبھی بھی اپنے معاشی منشور کی بنیاد آزادوخودمختار معیشت کے بارے میں سوچا ہی نہیں ہے اس لئے جب تک ہم اپنے رویوں میں بنیادی تبدیلی نہیں لائیں گے اور ملک کے ذمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں نہیں بنائیں گے تب تک دربدر کی ٹھوکریں ہمارا مقدر رہیں گی۔
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...