وجود

... loading ...

وجود

آم کی برآمدات پاکستان کو بھارت پر سبقت،یورپی منڈی میں قدم جمانے کاموقع

جمعرات 22 جون 2017 آم کی برآمدات پاکستان کو بھارت پر سبقت،یورپی منڈی میں قدم جمانے کاموقع


پھلوں کا بادشاہ، آم پاکستان اور بھارت کی خاص سوغات ہے اور دونوں ممالک اس بات کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے آموں کو ذیادہ پذیرائی اور اہمیت حاصل ہوجائے۔معاشی طور پر آم کی برآمدات ( ایکسپورٹ) وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کوبھارت پر کچھ برتری حاصل ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان نے تقریباً 100,000 ٹن آم برآمد کرکے 48.6 ملین ڈالر حاصل کئے تھے جبکہ بھارت نے 56,000 ٹن آم بھجواکر 44.6 ملین ڈالر کمائے۔اب جبکہ یورپی یونین نے بھارت کے مشہور الفانسو آم پر پابندی عائد کردی ہے، پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ بہتر معیار کے عوام کی برآمدات کے ذریعے یورپ میں قدم مضبوطی سے جماسکے۔ بھارت کے الفانسو آم پر یہ پابندی گزشتہ سال یکم مئی کو عائد کی گئی تھی جب بھارت سے یورپ پہنچنے والی آموں کی پہلی کھیپ میں پھل مکھی اور دیگر چار سبزیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔پاکستان میں سب سے بڑے زراعتی صوبے پنجاب میں پارلیمانی سیکریٹری راجہ اعجاز احمد نون نے کہا کہ بھارت کی غلطیوں سے ہمیں فارمنگ کے معیار کو بہتر بنانے اور معاملات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔’ ہم اس کام کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں۔ ہم بھارت کی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی آم کی پیداوار کا 40 فیصد برآمد کرنے کا پوٹینشل موجود ہے اور اس سال کوشش کریں گے کہ ہم برآمدات میں16 فیصد اضافہ کرسکیں۔” پھلوں کو کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے ماہر سید عصمت حسین نے کہا کہ ان کے ادارے کے ماہر فارمز اور باغات کا دورہ کرکے لوگوں کو یورپی یونین کے معیارات سے آگاہ کرکے مزید منافع کمانے کی راہ دکھاتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘پھل مکھی ( فروٹ فلائی) نے بھارت کے علاوہ پاکستانی آموں کو بھی متاثر کیا ہے لیکن ہم نے سادہ اور سائنسی طریقوں سے اسے کنٹرول کیا ہے۔’
اس طرح یہ امید کرنا غلط نہیں ہوگا کہ رواں سال آم کی برآمدات 70 ملین ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں جبکہ گذشتہ سال پاکستان نے ایک لاکھ 28 ہزار ٹن آم برآمد کئے تھے جس سے 68 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاق ایوانِ ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی ریجنل قائمہ کمیٹی برائے ہارٹی کلچر ایکسپورٹ کے چیئرمین احمد جواد نے بتایا ہے کہ رواں سال مغربی اور وسط ایشیائی ممالک سے آم کے بڑے درآمدی آرڈرز موصول ہوئے جس کی وجہ سے آم کی برآمدات گزشتہ سال کی برآمدات سے بڑھنے کی توقع ہے تاہم آم کی قومی برآمدات اس کی استعداد سے کہیں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آم کی طبعی عمر کم ہونے کی وجہ سے اس کی برآمد بذریعہ ہوائی جہاز کی جاتی ہے جو انتہائی مہنگا ذریعہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آم کی برآمدات میں اضافے کے مواقع سے خاطر خواہ استفادہ کرنا ضروری ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت برآمد کنندگان کو ہوائی جہاز کے کرایوں میں 30 تا 35 فیصد کی سبسڈی فراہم کرے جبکہ آم کی پراسیسنگ اور پیکنگ کی سہولتوں میں اضافہ کے لیے بھی جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ رواں سال یورپی منڈیوں میں بھارتی آم کی طلب میں کمی ہوئی ہے جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔احمد جواد نے مزید بتایا کہ پنجاب میں مینگو ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ (ایم آر ڈی بی) کے قیام سے بھی آم کی ملکی پیداوار اور معیار میں بہتری سے برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی اور قیمتی زرمبادلہ کے حصول میں اضافہ ہوگا جو نہ صرف قومی معیشت بلکہ دیہی معیشت کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔
اطلاعات کے مطابق20 مئی کو برآمدی سیزن کے آغاز کے بعد سے پاکستان نے 11لاکھ ڈالرز مالیت کے لگ بھگ 2200 ٹن آم برآمد کردیے ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق سیزن کے پہلے 30 دن کی برآمدات کے ریکارڈ کے مطابق 28 ہزار ٹن آم بیرون ملک بھیجے گئے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 4 ہزار ٹن زائد ہے۔یورپی یونین کی جانب سے بھارتی آموں پر پابندی کے بعد پاکستانی کسان اور ایکسپورٹرز توقع کررہے ہیں کہ بھارتی برآمدات کا کچھ حصہ وہ بھی حاصل کرسکیں گے۔
پاکستان کے دیگر کاشتکاروں کے مطابق ملکی آم کا ذائقہ حیرت انگیز ہے اور امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستانی آم یورپی یونین کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک میں بھی اپنا اہم مقام پیدا کرسکیں گے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل کے درآمدکنندگان اور تاجروں کی تنظیم (پی ایف وی اے) کے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے چیئرمین وحید احمد نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران، افغانستان دولتِ مشترکہ کے ممالک اور عمان سمیت دیگرملکوں کو آم درآمد کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پھل 500 ڈالرز فی ٹن برآمد کیا گیا ہے، جبکہ پچھلے سال 250 ڈالرز فی ٹن کی قیمت پر درآمد کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی حکومت کی جانب سے برآمدی پھلوں اور سبزیوں کے لیے لکڑی کے بکسز کے استعمال کی پابندی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔وحید احمد نے بتایا کہ ایرانی قرنطینہ محکمے کا ایک وفد اس مہینے گرم پانی سے صفائی کے پلانٹس کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے آرہا ہے۔بعض برآمدکنندگان قرنطینہ محکمے کی اجازت حاصل کرنے کے بعد ایران کو پہلے ہی ترسیل کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وزٹ کے دوران اگر پلانٹس کی منظوری مل جاتی ہے تو ایران کو آم کی برآمد مزید بڑھ جائے گی۔اس سال گرم پانی سے صفائی کے تقریباً 29 پلانٹس کام کررہے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال صرف 3 پلانٹس موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’برآمدکنندگان پْرامید ہیں کہ آم کی ترسیلات برآمدات کے مقررہ ہدف ایک لاکھ ٹن کو پار کرجائے گی، جس سے 6 کروڑ ڈالرکی آمدنی ہوگی، اس کے مقابلے میں گزشتہ سال4 کروڑ80لاکھ ڈالرزمالیت کے 94 ہزار ٹن آم برآمد کیے گئے تھے۔اس سال توقع ہے کہ پاکستان میں آم کی پیداوار 18 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہوگی۔گزشتہ برس پاکستان نے اپنے آم یورپی یونین سمیت دنیا کے 47 ممالک کو برآمد کیے تھے، رواں برس اب تک پاکستان یورپی یونین کو 2700 ٹن آم برآمد کرچکا ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 47 فیصد زیادہ ہے۔گزشتہ برس یورپی یونین کو مجموعی طور پر 1400 ٹن آم برآمد کیے گئے تھے۔30 دن کے اندر 2 ہزر ٹن آم صرف برطانیہ ایکسپورٹ ہوئے، گزشتہ برس اسی عرصے میں یہمقدار 900 ٹن تھی، رواں برس آم کی برآمد 20 مئی کو شروع ہوئی تھی۔ تاہم اس ضمن میں اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر برآمدی مصنوعات کی طرح ہمارے آم کے یورپی خریدار ہمارے معیار سے مطمئن نظر نہیں آتے جس کااندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کومتنبہ کیاہے کہ وہ اپنے آموں کی پیداوار کے معیار کو بہتر بنائے بصورت دیگر اسے ان کی درآمدات پر بھارت کی طرح پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وفاقی سیکریٹری سیرت اصغر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے دوران یورپی یونین کے اس انتباہ سے آگاہ کیا تھا۔سیرت اصغر نے کمیٹی کو بتایا کہ یورپی یونین بھارت سے آموں کی درآمدات پر اگلے3 سال کے لیے پابندی عائد کر چکی ہے جب کہ اس حوالے سے پاکستان کو بھی تنبیہ کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں آموں کی فصل پھلوں کی مکھی کے حملے کی زد میں ہے جب کہ حکومت کوشش کرے گی کہ انہیں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بعد ہی برآمد کرے۔ اصغر کا کہنا تھا کہ ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ ٹیکنالوجی نہ صرف پھلوں کو حشرات اور بیماریوں سے محفوظ بناتی ہے بلکہ یہ طریقہ کار سستا بھی ہے۔پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے چیئرمین وحید احمد کا کہنا ہے کہ پھلوں کا معیار بہتر بنانے کے ثمرات بھی سامنے آرہے ہیں اور عالمی مارکیٹ میں آم 550 سے 600 ڈالر فی ٹن فروخت ہورہا ہے۔لکڑی کی پیٹی پر پابندی سے قبل پاکستانی عام 250 ڈالر فی ٹن پر فروخت ہوتا تھا، گزشتہ برس پاکستانی آم کی قیمت 450 ڈالر فی ٹن تھی۔عام طور پر 70 فیصد عام پہلے دبئی بھیجے جاتے ہیں جہاں سے وہ دیگر خلیجی ممالک تک پہنچائے جاتے ہیں، اب تک 14 ہزار 600 ٹن عام متحدہ عرب امارات برآمد کیے جاچکے ہیں۔پہلی بار دبئی میں پاکستانی آم کی قیمت فروختبھارتی آم کے برابر رہی ہے، بعض اوقات تو پاکستانی آم کو بھارتی آم سے بھی زیادہ اچھی قیمت ملتی ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر