وجود

... loading ...

وجود

برطانیہ انتخابات تھریسا مے کے خواب پورے ہوسکیں گے ؟؟

هفته 10 جون 2017 برطانیہ انتخابات تھریسا مے کے خواب پورے ہوسکیں گے ؟؟

برطانیہ میں 2017 کے عام انتخابات کا نتیجہ ایک معلق پارلیمان کی صورت میں نکلا ہے، تھریسا مے نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان اس امید پر کیاتھا کہ لیبر پارٹی ابھی بکھری ہوئی ہے اور وہ بڑی آسانی سے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے بریگزٹ کے حوالے سے اپنی من مانی کرنے کا راستہ ہموار کرلیں گی اس طرح یہ انتخابی نتیجہ تھریسامے کی سوچ کی خامی اور تدبر کی کمی کا منہ بولتا ثبوت بن گیا ہے اورپارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر عوام کی سوچ اور امنگوں کوکچلنے کاان کاخواب چکناچور ہوگیاہے، ان انتخابات میں عوام نے تھریسا مے کی کابینہ کے9وزرا کو بھی گھر کا راستہ دکھادیاہے اس سے یہ بھی ظاہر ہوگیاہے کہ برطانیہ کے عوام تھریسا مے کی اب تک کی پالیسیوںاو ران کے وزرا کے انتخاب کے فیصلے پر بھی خوش نہیں تھے۔
650 میں سے اب تک 649 نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں۔کنزرویٹو پارٹی نے سب سے زیادہ 318 سیٹیں جیتی ہیں لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے اکثریت حاصل نہیں کر سکی ہے۔لیبر پارٹی نے 261 سیٹیں جیت لی ہیں۔اکثریت حاصل کرنے کے لیے دارالعوام کی کم از کم 326 سیٹیں جیتنا ضروری ہیں۔کنزرویٹو پارنی نے دارالعوام میں اپنی اکثریت کھو دی ہے تاہم وہ اب بھی ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے۔اگر کوئی بھی جماعت انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ سکے تو کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ جماعت حکومت بناتی ہے جس کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہوں؟ایسا نہیں ہے۔ وہ جماعت جو 650 کے ایوان میں سب سے زیادہ نشستیں جیتے گی یقیناً الیکشن کی فاتح قرار دی جائے گی اور اس کا رہنما ہی تقریباً ہمیشہ ملک کا نیا وزیراعظم بنتا ہے۔تاہم اس مرتبہ شاید ایسا نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جماعت جو دوسرے نمبر پر آئی ہے دیگر جماعتوں کی مدد سے حکومت بنائے۔
کنزرویٹوو پارٹی کو 313 سیٹیں ملی ہیں جبکہ لیبر پارٹی نے 260 سیٹیں جیتی ہیں۔ان انتخابات میں اب تک برطانوی وزیرِ اعظم تھریسامے کی کابینہ کے 9 وزرا کو شکست ہوئی ہے۔بی بی سی کے ڈیوڈ ڈمبلبی کا کہنا ہے کہ ایسا ’کوئی راستہ نہیں‘ کہ کنزرویٹیو پارٹی اکثریت کے لیے درکار 236 سیٹیں جیت سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’تھریسامے آئندہ سالوں میں یقین اور اعتماد کے لیے الیکشن کروا رہی تھیں اور اس میں وہ ناکام ہوگئی ہیں۔‘چند ہفتے قبل جب انھوں نے اس الیکشن کا اعلان کیا تھا تو ان کے پاس 17 سیٹوں کی اکثریت حاصل تھی مگر اب ایسا نہیں ہے۔‘
برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز یعنی دارالعوام میں اس بار 207 خواتین ممبران منتخب ہوئی ہیں۔ اس سے قبل اتنی زیادہ تعداد میں خواتین ممبران کبھی منتخب نہیں ہوئیں۔ انتخابات سے قبل 197 خواتین ممبران تھیں۔ اس بار انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں 30 فیصد خواتین تھیں جبکہ 2015 کے انتخابات میں یہ شرح 26 فیصد تھی۔’کنزرویٹو جماعت کے کئی ارکان نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ تھریسامے کو وزیراعظم کی بجائے نگراں وزیراعظم تصور کریں گے۔‘
برطانوی انتخابات میں 24 پاکستانی اور بھارتی نڑاد رہنما بھی کامیاب ہوئے ہیں،اس بارعام انتخابات میں مجموعی طور 30 پاکستانی اور 56 انڈین نڑاد امیدوار انتخابات میں اترے تھے جن میں سے 24 کو کامیابی ملی۔ ان میں سے 8 کا تعلق کنزرویٹو پارٹی جبکہ 16 کا لیبر پارٹی سے ہے۔
الیکشن نتائج واضح ہوجانے کے بعد لیبر پارٹی کے قائد جیریمی کوربن نے تھریسامے سے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی سے دستبردار ہو جائیں۔تاہم تھریسا مے نے اقلیتی حکومت بنانے کاعندیہ دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق اب تھریسامے ملکہِ برطانیہ سے ملاقات کریں گی اور ملکہ سے ایوان میں وہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود حکومت سازی کی اجازت مانگیں گی۔ان کو امید ہے کہ شمالی آئر لینڈ کے ڈیموکریٹک یونینسٹ ان کی حمایت کریں گے۔اس وقت صرف ایک نشست کا نتیجے کا اعلان ہونا باقی رہ گیا ہے۔ کنزرویٹو جماعت 326 نشستوں سے8 کم ہیں۔لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے تھریسا مے سے کہا ہے کہ وہ حکومت سازی سے دستبردار ہو جائیں اور لیبر پارٹی حکومت سازی کے لیے تیار ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اس بارپھر حکومتی اتحاد بنے گا؟اقلیتی حکومت کو قابلِ عمل بنانے کے لیے کتنی نشستیں درکار ہوں گی؟کوئی جماعت اکثریت حاصل کیے بغیر بھی اقلیتی حکومت چلا سکتی ہے۔ کیونکہ اسے ایک منقسم اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔ اگر لیبر یا کنزرویٹو جماعت اقلیتی حکومت بناتی ہے تو کسی قانون کو روکنے کے لیے لبرل ڈیموکریٹس، ایس این پی، یوکیپ، پلیڈ سیمرو، گرینز اور ڈی یو پی، سب کو مل کر اس کے خلاف ووٹ ڈالنے پڑیں گے۔ایسا عملاً کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے پاس صرف حکومت سے زیادہ سیٹیں ہونا کاقی نہیں ہے۔ ان کا ایک واضح متبادل اتحاد ہونا بھی لازمی ہے۔پارلیمنٹ میں حکومتی اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ دو یا اس سے زیادہ سیاسی جماعتیں مل کر بطور ایک یونٹ حکومت کریں۔اتحاد میں چھوٹی پارٹیوں کو بھی وزارتیں دی جاتی ہیں اور ایک مشترکہ پروگرام پیش کیا جاتا ہے
ملکہ کا کردار کیا ہے؟
کسی جماعت کا/کی سربراہ ملکہ کو مطلع کر سکتا/سکتی ہے کہ ان کے پاس دارالعوام میں اکثریت ہے جس پر ملکہ انھیں حکومت سازی کی اجازت دیتی ہیں۔روایتی طور پر ملکہ برطانیہ جماعتی سیاست میں مداخلت نہیں کرتیں اس لیے ایسا کوئی امکان نہیں کہ وہ وزیراعظم کا انتخاب کریں۔یہ امکان ضرور ہے کہ وہ حکومت نہ بننے کی صورت میں ایوان سے خطاب نہ کریں۔
عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے کہ اتنے دن میں طے کرنا ضروری ہے۔ 2010 میں اس عمل میں 5 دن کا وقت لگا تھا لیکن اس بار اس بات کا امکان ہے کہ اس میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔فی الوقت پہلی ڈیڈ لائن 13جون ہے جب نئی پارلیمان کا پہلا اجلاس منعقد ہو گا۔ تھریسا مے کے پاس اس تاریخ تک حکومت سازی کے لیے اتحاد کرنے یا پھر مستعفی ہونے کے لیے وقت ہے۔تاہم مستعفی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم پر واضح ہو کہ کوربن حکومت بنا سکتے ہیں اور وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ وہ حق رکھتی ہیں کہ دارالعوام میں اعتماد کا وووٹ لینے کی کوشش کریں۔
تھریسامے کی کابینہ کے 9 وزرا کو شکست
ان میں وزیرِ خزانہ جین ایلیسن، کیبینٹ آفس کے وزیر بین گرمر، ڈیفڈ کے وزیر جیمز وارٹن، وزیرِ صحت نکولا بلیک وڈ، وزیرِ تعلیم ایڈورڈ ٹمپسن کے علاوہ گیون بارویل، راب ولسن، سائمن کربی اور ڈیوڈ مواٹ شامل ہیں۔
الیکشن کروانا تھریسا مے کی غلطی تھی‘
ان قبل از انتخابات کے نتیجے میںکنزرویٹو پارنی نے دارالعوام میں اپنی اکثریت کھو دی ہے تاہم وہ اب بھی ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے۔اگر کوئی بھی جماعت انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل نہ سکے تو کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ جماعت حکومت بناتی ہے جس کے پاس سب سے زیادہ نشستیں ہوں؟ایسا نہیں ہے۔ وہ جماعت جو 650 کے ایوان میں سب سے زیادہ نشستیں جیتے گی یقیناً الیکشن کی فاتح قرار دی جائے گی اور اس کا رہنما ہی تقریباً ہمیشہ ملک کا نیا وزیراعظم بنتا ہے۔تاہم اس مرتبہ شاید ایسا نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جماعت جو دوسرے نمبر پر آئی ہے دیگر جماعتوں کی مدد سے حکومت بنائے۔
سٹی بینک کے ماہرین کی تھریسامے کے استعفے کی پیش گوئی
عالمی بینک سٹی گروپ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ٹریزا مے آج وزیراعظم کا عہدہ چھوڑ دیں گی۔ان انتخابات میں گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں جہاں حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کو 12 نشستیں کم ملی ہیں وہیں لیبر پارٹی کو29 نشستوں کا فائدہ ہوا ہے۔
برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد دارالعوام کی 650 میں سے 640 سے زیادہ نشستوں کے نتائج آ چکے ہیں اور کوئی بھی جماعت حکومت سازی کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
’ّڈگری والے ووٹروں نے لبرل ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا‘
لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ نتائج ملے جلے تھے۔ انھوں نے 8 نئی سیٹیں جیتی ہیں مگر تین پر ان کے اراکین اپنی نشست کھو بیٹھے ہیں جن میں سابق لیڈر نک کلیگ بھی شامل ہیں۔ پارٹی کی پوزیشن تھوڑی سی بہتر ہوئی ہے مگر ووٹنگ کے لحاظ سے ان کی حمایت میں سب سے زیادہ اضافہ پڑھے لکھے ڈگری والے ووٹروں میں ہوا۔


متعلقہ خبریں


قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام وجود - جمعه 12 جون 2026

مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...

قومی اقتصادی سروے پیش،حکومت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکام

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی وجود - جمعه 12 جون 2026

امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...

ایران پر آج شدید حملے کریں گے ،تیل و گیس کے ذخائر اور خارگ جزیرے پر قبضہ کرلیں گے،ٹرمپ کی دھمکی

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ وجود - جمعه 12 جون 2026

منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...

کراچی بی آر ٹی منصوبے کیلئے 256 الیکٹرک بسیں خریدنے کا فیصلہ

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل وجود - جمعه 12 جون 2026

اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...

پی ٹی آئی رہنما اقبال آفریدی کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ وجود - جمعه 12 جون 2026

صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...

صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں،دفترخارجہ

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید وجود - جمعرات 11 جون 2026

ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...

پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹرتباہ، تمام سوار اہلکار شہید

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...

پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 26دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری وجود - جمعرات 11 جون 2026

سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...

سانحہ بلدیہ کیس میں بڑا موڑ،رحمان بھولا اور زبیر چریا سپریم کورٹ سے بری

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...

مشرق وسطی کشیدگی کا فوری سفارتی حل نکالاجائے، پاکستان کا مطالبہ

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 11 جون 2026

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...

توانائی بچت مہم،کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

مضامین
بصارت سے آگے کا سفر وجود جمعه 12 جون 2026
بصارت سے آگے کا سفر

امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات وجود جمعه 12 جون 2026
امریکہ مخالف بھارت ، روس تعلقات

ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟ وجود جمعه 12 جون 2026
ٹرمپ ڈاکٹرائن کیا ہے؟

آزاد کشمیر:شورش کا حل وجود جمعرات 11 جون 2026
آزاد کشمیر:شورش کا حل

منی پور میں جھڑپیں وجود جمعرات 11 جون 2026
منی پور میں جھڑپیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر