... loading ...

برطانیہ میں عام انتخابات کے آغاز میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں اور چند گھنٹے بعد ہی برطانوی عوام اپنے نئے حکمرانوں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالنے کا آغاز کردیں گے،برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے وقت سے بہت پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان بڑے پیمانے پر کرائے گئے ان سروے رپورٹوں کی بنیاد پر اس امید کے ساتھ کیاتھا کہ وہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کا بالکل ہی صفایاکرنے میں کامیاب ہوجائیں گی اور اس طرح پارلیمنٹ میں دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہونے کی بنیاد پر اپنی پسند کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گی۔ الیکشن کے اعلان کے وقت بلاشبہ صورتحال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی لیکن اس اعلان کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور لیبر پارٹی کے سربراہ کی حکمت عملی نے اس صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے،جس کااندازہ برطانیہ کے عام انتخابات سے صرف دو روز قبل جاری ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی اور حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے درمیان الیکشن کے روز کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ برطانیہ کے گڈ مارننگ برٹن نامی ٹی وی پروگرام کے لیے کیے جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت 5ء41 فی صد ہے جب کہ لیبر پارٹی صرف ایک پوائنٹ پیچھے یعنی 4ء40 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس طرح یہ انتخابات تھریسا مے کی دور اندیشی اور تدبر کاامتحان ثابت ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اگر موجودہ سروے کے نتائج جمعرات کو ہونے والی پولنگ تک برقرار رہے تو اس کے نتیجے میں حکمران جماعت کنزرویٹو کے لیے برطانوی پارلیمان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
اپریل کے وسط میں جب کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے اچانک قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت حکمران جماعت اپنی حریف لیبر پارٹی سے مقبولیت میں لگ بھگ 20 فی صد آگے تھی۔تین ہفتے قبل تک سامنے آنے والے بیشتر سرویز میں پیش گوئی کی جارہی تھی کہ تھریسا مے کی جماعت پارلیمان میں بآسانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جسے وزیرِاعظم یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے انخلا سے متعلق کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں ۔
برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ کے مطابق 22 مئی کو مانچسٹر میں ایک کانسرٹ کے دوران ہونے والے خود کش حملے کے بعد سے حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے لیکن اس کا زیادہ تر تعلق دہشت گرد حملے کے بجائے سیاسی جماعتوں کے منشور پر ہونے والی بحث سے ہے۔
حالیہ سروے گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے حملے سے قبل کیا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کوئی فرق آیا ہے یا نہیں ۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو ہونے والی پولنگ سے قبل مزید سروے بھی ہوں گے جن کے نتائج کی روشنی میں انتخابات کے ممکنہ نتائج کا درست اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔تازہ سروے میں برطانیہ کی تیسری بڑی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کی مقبولیت چھ فی صد اور دائیں بازو کی جماعت یو کے آئی پی کی 3 فی صد بتائی گئی ہے۔
سروے میں رائے دینے والے 50 فی صد افراد کے خیال میں تھریسا مے ایک اچھی وزیرِاعظم ثابت ہوں گی۔ جب کہ 36 فی صد افراد نے بائیں بازو کے نظریات کے حامل لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔مئی کے اوائل میں جرمی کوربن کے بارے مثبت رائے رکھنے والے برطانویوں کی تعداد صرف 15 فی صد تھی۔
ایک طرف برطانیہ میں صورت حال میں تبدیلی کی وجہ سے تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ہے دوسری جانب دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے خلاف ان کے الزامات ان کے گلے پڑ گئے ہیں اوربین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اسلام پسند انتہا پسندی کو ‘محفوظ جگہ’ فراہم کرتے ہیں ۔
خیال رہے کہ تھریسامے نے لندن میں ہونے والے حملے کے ضمن میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے سائبر سپیس کو منضبط کرنے کی بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بعض حصوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں دہشت گردانہ نظریات کو ‘محفوظ مقام’ فراہم کرتے ہیں ۔لیکن اوپن رائٹس گروپ نے کہا کہ سماجی رابطے کی کمپنیاں مسئلہ نہیں ہیں جبکہ ریڈیکلائزیشن کے ایک ماہر نے ٹریزا مے کے بیان کو ‘دانشوارنہ طور پر کاہل’ سے تعبیر کرتے ہوئےتنقید کا نشانہ بنایا۔ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے پہلے سے ہی سخت کوشش کر رہے ہیں ۔تھریسامے کے الزامات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے ہی لاکھوں ڈالر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خرچ کر رکھے ہیں جبکہ فیس بک نے کہا کہ وہ جارحانہ انداز میں اس قسم کے مواد کو ہٹاتا رہتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نےگزشتہ روز دہشت گردانہ حملے کے بعد ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ اس بات پر تقریبا متفق ہے کہ میسجنگ کے ایپ میں انکرپشن کو کمزور کرنے سے تمام صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔گوگل (یوٹیوب اس کا حصہ ہے) فیس بک (واٹس ایپ اس کا حصہ ہے) اور ٹوئٹر پر پہلے سے ہی انتہا پسند مواد سے نمٹنے کا دباؤ ہے جو کہ اتوار کے بعد مزید بڑھ گیا۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا: ‘ہم اس نظریے کو پنپے کے لیے محفوظ مقامات فراہم نہیں کر سکتے۔ تاہم انٹرنیٹ اور بڑی کمپنیاں ۔۔۔ فراہم کر رہی ہیں ۔’وزیر داخلہ امبر روڈ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ریڈیکلائزیشن کو روکنے کے لیے مزید کوشش کریں ۔پرائیوسی اور آن لائن پر اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرنے والے اوپن رائٹس گروپ نے متنبہ کیا کہ مزید ضابطوں سے دہشت گردوں کے ‘ذلیل نٹورک’ کے ویب کے ‘مزید اندھیرے حصوں ’ میں جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ‘فیس بک جیسی انٹرنیٹ کمپنیاں نفرت اور تشدد کے اسباب نہیں ہیں بلکہ غلط طریقے سے انھیں مہرہ بنایا جا سکتا ہے۔
ابھی تھریسا مے ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتراضات کے مسئلے سے نمٹ نہیں سکی تھیں کہ کنزرویٹو پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور برطانوی کابینہ کی پہلی سابق مسلمان خاتون وزیر سعیدہ وارثی برطانوی مسلمانوں کے دفاع میں خم ٹھونک کر سامنے آگئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے بنیاد پرست بننے کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ خارجہ پالیسی کے خلاف ردعمل بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان اندر کے دشمن نہیں بلکہ اس ملک کا حصہ ہیں ۔گذشتہ روز لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے کچھ ہی دیر پہلے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سعیدہ وارثی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ مسلمانوں کے بارے میں اپنی ہی حکومت کی کچھ پالیسیوں سے متفق نہیں تھیں وہ کون سی پالیسیاں تھیں ؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کابینہ سے مستعفی ہوئی تھیں وہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر ان کی حکومت کا مؤقف تھا۔ان کے بقول وہ جس وقت برطانوی وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی وزیر تھیں اس وقت انہیں یہ نظرآ رہا تھا کہ اس معاملے پر حکومت کے قول وفعل میں تضاد ہے۔’جب آپ کو یہ محسوس ہو کہ ہم کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور تو میں نے سوچا کہ اس طرح کے فیصلے میں مجھے حصہ نہیں لینا چاہیے۔‘سعیدہ وارثی کے بقول ان کی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں ’پروینٹ‘ کی حکمت عملی صحیح نہیں ۔سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ چاہے وہ لیبر کی حکومت تھی یا پھر ہماری اپنی پارٹی کی موجودہ حکومت ان کی مسلمانوں کے بارے میں جو پالیسیاں ہیں ان میں وہ مسلمانوں کے ساتھ انگیج نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم مسلمانوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور انہیں یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک کا حصہ ہیں تو حکومت کو صحیح طریقے سے مسلمانوں کے ساتھ رابطہ کرنا پڑے گا۔’30 لاکھ مسلمانوں کے ساتھ 20-25 لوگوں کے ذریعے اینگیج کرنا، ایگیجمنٹ نہیں ہوتی۔برطانوی مسلمانوں پر لکھی گئی اپنی کتاب ‘دی اینیمی ود اِن، ٹیل آف برٹش مسلمز’ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیرونس وارثی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ‘اینیمی ود ان’ یا گھر کے دشمن کا ٹائٹل اس لیے استعمال کیا تھا کیونکہ جب وہ کابینہ کی وزیر تھیں تو ایک دائیں بازو کے کمنٹیٹر نے کالم میں لکھا کہ ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں جب کابینہ کے اجلاس میں اندر کی دشمن بیرونس وارثی بیٹھی ہوئی ہیں ۔‘ان کا کہنا تھا کہ ایسے طعنے کا جواب یہی تھا کہ میں اسے کتاب کا ٹائٹل بنا کے اپنی کتاب میں یہ ثابت کر سکوں کہ ‘مسلمان اندر کا دشمن نہیں اور یہ بات نان سنس ہے۔’ان کا کہنا تھا ‘جب میرے دادا اور نانا نے اس ملک کے لیے پسینہ بہایا ہے، اور انہوں نے خود اعلیٰ سطح پر کابینہ میں خدمات دی ہیں ، تو میں پوچھتی ہوں کہ کب تک مسلمانوں کو وفاداری کے ٹیسٹ دینا پڑیں گے۔اینف از اینف – کافی ہو گیا۔سعیدہ وارثی کے بقول ‘ہم اندر کے دشمن نہیں ، اس ملک کا حصہ ہیں ’۔ سعیدہ وارثی مسلمانوں کے حوالے سے اپنی اس بیباکانہ رائے کے اظہار کے بعد برطانوی مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت بن کر ابھری ہیں اور اب وہ اپنی اس مقبولیت کو اپنی پارٹی یا کم از کم اپنے من پسند امیدواروں کو مسلمانوں کے ووٹ دلواکر کامیابی سے ہمکنار کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہیں تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سعیدہ وارثی مسلمانوں میں اپنی مقبولیت کو انتخابی میدان میں کیش کرانے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں اور ان کی اس کوشش سے ان کی پارٹی اور ان کے من پسند امیدواروں کو کتنا فائدہ پہنچے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں برطانیہ کے انتخابات پر ہیں جس میں حکمراں ٹوری پارٹی کی کامیابی یا ناکامی عالمی پالیسیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہے۔
ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...
سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...
مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...
سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...
آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...
ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...
ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...
پی ٹی آئی نے نامزر امیدوار کے علاوہ کسی کو کاغذات جمع کروانے سے روک دیا الیکشن کمیشن کا سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کا باضابطہ شیڈول جاری سابق وفاقی وزیر و مراد سعید کی سینیٹ کی خالی نشست پر پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نے امیدوار فائنل کردیا۔ ذرائع کے مطابق پا...
ہم پر امن لوگ ، احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ، اگر ہمیں روکا گیا تو جو جہاں ہوگا وہیں احتجاج ہوگا حکومت جلسے کا این او سی دے، ہر انتظام ہم خود کریں گے،پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کردیا...
کویت میں ، شوائخ آئل سیکٹر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، 2پاور پلانٹس اور سرکاری عمارت کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کا اصفہان میں ڈرون طیارہ مار گرانے کا دعوی امریکا، اسرائیل نے ایرانی تعلیمی اداروں کو ہدف بنا لیا، 30جامعات متاثر،لیزراینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کھنڈر میں تبدیل،...
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پرانتظامیہ نیپریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا، شیلنگ کے دوران کارکنان کا پولیس پر پتھرائو،کئی پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع پی ٹی آئی نے اجازت کے بغیر احتجاج کیا، پولیس پر حملے، ریاست مخالف نعرے و دیگر دفعات پر کارروائی ہوگی(ا...
اسرائیلی فوج کے کمانڈر کا لبنان کی مزاحمتی تنظیم کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف اس گروہ کی طاقت چھ ماہ تک روزانہ 500 راکٹ داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے اسرائیلی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کی طاقت ...