وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

برطانیہ میں قبل ا ز وقت انتخابات تھریسا مے کے تدبر کاامتحان

جمعرات 08 جون 2017 برطانیہ میں قبل ا ز وقت انتخابات تھریسا مے کے تدبر کاامتحان


برطانیہ میں عام انتخابات کے آغاز میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں اور چند گھنٹے بعد ہی برطانوی عوام اپنے نئے حکمرانوں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالنے کا آغاز کردیں گے،برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے وقت سے بہت پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان بڑے پیمانے پر کرائے گئے ان سروے رپورٹوں کی بنیاد پر اس امید کے ساتھ کیاتھا کہ وہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کا بالکل ہی صفایاکرنے میں کامیاب ہوجائیں گی اور اس طرح پارلیمنٹ میں دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہونے کی بنیاد پر اپنی پسند کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گی۔ الیکشن کے اعلان کے وقت بلاشبہ صورتحال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی لیکن اس اعلان کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور لیبر پارٹی کے سربراہ کی حکمت عملی نے اس صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے،جس کااندازہ برطانیہ کے عام انتخابات سے صرف دو روز قبل جاری ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی اور حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے درمیان الیکشن کے روز کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ برطانیہ کے گڈ مارننگ برٹن نامی ٹی وی پروگرام کے لیے کیے جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت 5ء41 فی صد ہے جب کہ لیبر پارٹی صرف ایک پوائنٹ پیچھے یعنی 4ء40 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس طرح یہ انتخابات تھریسا مے کی دور اندیشی اور تدبر کاامتحان ثابت ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اگر موجودہ سروے کے نتائج جمعرات کو ہونے والی پولنگ تک برقرار رہے تو اس کے نتیجے میں حکمران جماعت کنزرویٹو کے لیے برطانوی پارلیمان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
اپریل کے وسط میں جب کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے اچانک قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت حکمران جماعت اپنی حریف لیبر پارٹی سے مقبولیت میں لگ بھگ 20 فی صد آگے تھی۔تین ہفتے قبل تک سامنے آنے والے بیشتر سرویز میں پیش گوئی کی جارہی تھی کہ تھریسا مے کی جماعت پارلیمان میں بآسانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جسے وزیرِاعظم یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے انخلا سے متعلق کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں ۔
برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ کے مطابق 22 مئی کو مانچسٹر میں ایک کانسرٹ کے دوران ہونے والے خود کش حملے کے بعد سے حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے لیکن اس کا زیادہ تر تعلق دہشت گرد حملے کے بجائے سیاسی جماعتوں کے منشور پر ہونے والی بحث سے ہے۔
حالیہ سروے گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے حملے سے قبل کیا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کوئی فرق آیا ہے یا نہیں ۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو ہونے والی پولنگ سے قبل مزید سروے بھی ہوں گے جن کے نتائج کی روشنی میں انتخابات کے ممکنہ نتائج کا درست اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔تازہ سروے میں برطانیہ کی تیسری بڑی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کی مقبولیت چھ فی صد اور دائیں بازو کی جماعت یو کے آئی پی کی 3 فی صد بتائی گئی ہے۔
سروے میں رائے دینے والے 50 فی صد افراد کے خیال میں تھریسا مے ایک اچھی وزیرِاعظم ثابت ہوں گی۔ جب کہ 36 فی صد افراد نے بائیں بازو کے نظریات کے حامل لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔مئی کے اوائل میں جرمی کوربن کے بارے مثبت رائے رکھنے والے برطانویوں کی تعداد صرف 15 فی صد تھی۔
ایک طرف برطانیہ میں صورت حال میں تبدیلی کی وجہ سے تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ہے دوسری جانب دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے خلاف ان کے الزامات ان کے گلے پڑ گئے ہیں اوربین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اسلام پسند انتہا پسندی کو ‘محفوظ جگہ’ فراہم کرتے ہیں ۔
خیال رہے کہ تھریسامے نے لندن میں ہونے والے حملے کے ضمن میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے سائبر سپیس کو منضبط کرنے کی بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بعض حصوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں دہشت گردانہ نظریات کو ‘محفوظ مقام’ فراہم کرتے ہیں ۔لیکن اوپن رائٹس گروپ نے کہا کہ سماجی رابطے کی کمپنیاں مسئلہ نہیں ہیں جبکہ ریڈیکلائزیشن کے ایک ماہر نے ٹریزا مے کے بیان کو ‘دانشوارنہ طور پر کاہل’ سے تعبیر کرتے ہوئےتنقید کا نشانہ بنایا۔ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے پہلے سے ہی سخت کوشش کر رہے ہیں ۔تھریسامے کے الزامات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے ہی لاکھوں ڈالر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خرچ کر رکھے ہیں جبکہ فیس بک نے کہا کہ وہ جارحانہ انداز میں اس قسم کے مواد کو ہٹاتا رہتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نےگزشتہ روز دہشت گردانہ حملے کے بعد ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ اس بات پر تقریبا متفق ہے کہ میسجنگ کے ایپ میں انکرپشن کو کمزور کرنے سے تمام صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔گوگل (یوٹیوب اس کا حصہ ہے) فیس بک (واٹس ایپ اس کا حصہ ہے) اور ٹوئٹر پر پہلے سے ہی انتہا پسند مواد سے نمٹنے کا دباؤ ہے جو کہ اتوار کے بعد مزید بڑھ گیا۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا: ‘ہم اس نظریے کو پنپے کے لیے محفوظ مقامات فراہم نہیں کر سکتے۔ تاہم انٹرنیٹ اور بڑی کمپنیاں ۔۔۔ فراہم کر رہی ہیں ۔’وزیر داخلہ امبر روڈ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ریڈیکلائزیشن کو روکنے کے لیے مزید کوشش کریں ۔پرائیوسی اور آن لائن پر اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرنے والے اوپن رائٹس گروپ نے متنبہ کیا کہ مزید ضابطوں سے دہشت گردوں کے ‘ذلیل نٹورک’ کے ویب کے ‘مزید اندھیرے حصوں ’ میں جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ‘فیس بک جیسی انٹرنیٹ کمپنیاں نفرت اور تشدد کے اسباب نہیں ہیں بلکہ غلط طریقے سے انھیں مہرہ بنایا جا سکتا ہے۔
ابھی تھریسا مے ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتراضات کے مسئلے سے نمٹ نہیں سکی تھیں کہ کنزرویٹو پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور برطانوی کابینہ کی پہلی سابق مسلمان خاتون وزیر سعیدہ وارثی برطانوی مسلمانوں کے دفاع میں خم ٹھونک کر سامنے آگئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے بنیاد پرست بننے کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ خارجہ پالیسی کے خلاف ردعمل بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان اندر کے دشمن نہیں بلکہ اس ملک کا حصہ ہیں ۔گذشتہ روز لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے کچھ ہی دیر پہلے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سعیدہ وارثی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ مسلمانوں کے بارے میں اپنی ہی حکومت کی کچھ پالیسیوں سے متفق نہیں تھیں وہ کون سی پالیسیاں تھیں ؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کابینہ سے مستعفی ہوئی تھیں وہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر ان کی حکومت کا مؤقف تھا۔ان کے بقول وہ جس وقت برطانوی وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی وزیر تھیں اس وقت انہیں یہ نظرآ رہا تھا کہ اس معاملے پر حکومت کے قول وفعل میں تضاد ہے۔’جب آپ کو یہ محسوس ہو کہ ہم کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور تو میں نے سوچا کہ اس طرح کے فیصلے میں مجھے حصہ نہیں لینا چاہیے۔‘سعیدہ وارثی کے بقول ان کی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں ’پروینٹ‘ کی حکمت عملی صحیح نہیں ۔سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ چاہے وہ لیبر کی حکومت تھی یا پھر ہماری اپنی پارٹی کی موجودہ حکومت ان کی مسلمانوں کے بارے میں جو پالیسیاں ہیں ان میں وہ مسلمانوں کے ساتھ انگیج نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم مسلمانوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور انہیں یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک کا حصہ ہیں تو حکومت کو صحیح طریقے سے مسلمانوں کے ساتھ رابطہ کرنا پڑے گا۔’30 لاکھ مسلمانوں کے ساتھ 20-25 لوگوں کے ذریعے اینگیج کرنا، ایگیجمنٹ نہیں ہوتی۔برطانوی مسلمانوں پر لکھی گئی اپنی کتاب ‘دی اینیمی ود اِن، ٹیل آف برٹش مسلمز’ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیرونس وارثی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ‘اینیمی ود ان’ یا گھر کے دشمن کا ٹائٹل اس لیے استعمال کیا تھا کیونکہ جب وہ کابینہ کی وزیر تھیں تو ایک دائیں بازو کے کمنٹیٹر نے کالم میں لکھا کہ ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں جب کابینہ کے اجلاس میں اندر کی دشمن بیرونس وارثی بیٹھی ہوئی ہیں ۔‘ان کا کہنا تھا کہ ایسے طعنے کا جواب یہی تھا کہ میں اسے کتاب کا ٹائٹل بنا کے اپنی کتاب میں یہ ثابت کر سکوں کہ ‘مسلمان اندر کا دشمن نہیں اور یہ بات نان سنس ہے۔’ان کا کہنا تھا ‘جب میرے دادا اور نانا نے اس ملک کے لیے پسینہ بہایا ہے، اور انہوں نے خود اعلیٰ سطح پر کابینہ میں خدمات دی ہیں ، تو میں پوچھتی ہوں کہ کب تک مسلمانوں کو وفاداری کے ٹیسٹ دینا پڑیں گے۔اینف از اینف – کافی ہو گیا۔سعیدہ وارثی کے بقول ‘ہم اندر کے دشمن نہیں ، اس ملک کا حصہ ہیں ’۔ سعیدہ وارثی مسلمانوں کے حوالے سے اپنی اس بیباکانہ رائے کے اظہار کے بعد برطانوی مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت بن کر ابھری ہیں اور اب وہ اپنی اس مقبولیت کو اپنی پارٹی یا کم از کم اپنے من پسند امیدواروں کو مسلمانوں کے ووٹ دلواکر کامیابی سے ہمکنار کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہیں تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سعیدہ وارثی مسلمانوں میں اپنی مقبولیت کو انتخابی میدان میں کیش کرانے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں اور ان کی اس کوشش سے ان کی پارٹی اور ان کے من پسند امیدواروں کو کتنا فائدہ پہنچے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں برطانیہ کے انتخابات پر ہیں جس میں حکمراں ٹوری پارٹی کی کامیابی یا ناکامی عالمی پالیسیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ وجود - هفته 28 مارچ 2020

کورونا وائرس کے امریکی معیشت پر اثرات واضح ہونے شروع ہوگئے ، بیروزگاری الا ئونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 32 لاکھ سے زیادہ ورکرز نے بے روزگاری مراعات کے لیے درخواستیں دیں جس کی وجہ سے امریکا میں ایک دہائی سے جاری روزگار کی منڈی میں ریکارڈ نمو یکدم رک گئی ۔ بڑے امریکی شہروں میں بے روزگاری بہبود کا نظام شدید دبائو کا شکار ہو گیا ہے ، امریکا میں بیروزگاری الائونس کی حالیہ درخواستوں کی تعداد ماضی کے ریکارڈ سے 5 گنا زیاد...

امریکا، بیروزگاری الائونس کی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار وجود - هفته 28 مارچ 2020

چین نے کورونا وائرس بچا کے لیے اسپتالوں میں جراثیم کش اسپرے کرنے کے لیے روبوٹس تیار کرلیے ۔جراثیم کش روبوٹس کو شنگھائی میں چین سے منسلک کینون روبوٹک کمپنی نے تیار کیا ہے جو خودکار طریقے سے اسپتالوں میں وائرس کے بچا کے لیے جراثیم کش اسپرے کرے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا تھا کہ جیسے ہی اس وبا نے پھیلنا شروع کیا تو متعدد افراد کی جانب سے ادویات، کھانے اور دستاویز کی ترسیل کے لیے ڈیلورنگ روبورٹس تیار کرنے کی درخواست موصول ہورہی تھی، ایسے میں سب سے زیادہ ضرورت جراثیم کش...

کورونا سے بچا وکیلیے جراثیم کش اسپرے کرنے والے روبوٹس تیار

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا وجود - هفته 28 مارچ 2020

پاکستان نڑاد برطانوی باکسر عامر خان نے بولٹن میں موجود اپنا شادی ہال کورونا وائرس سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کردیا۔33 سالہ سابق ورلڈ لائٹ ویلٹر ویٹ چیمپئن نے ٹویٹر اکاونٹ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ عام لوگوں کیلیے اس وقت اسپتال میں بیڈ حاصل کرنا کتنا مشکل ہے ، اسی لیے میں اپنی 60 ہزار اسکوائر فٹ پر قائم 4 منزلہ بلڈنگ نیشنل ہیلتھ سروس کو دینے کو تیار ہوں تاکہ وہ کورونا وائرس کے متاثرین کی مدد کرسکیں۔عامر خان نے واضح کیا کہ ان کی یہ عمارت ...

عامرخان نے شادی ہال کورونا سے جنگ میں استعمال کرنے کیلیے پیش کر دیا

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے وجود - هفته 28 مارچ 2020

انڈیا کی شمالی ریاست پنجاب نے 20 دیہات کے 40 ہزار شہریوں کو اس وقت قرنطینہ میں ڈال دیا جب وہاں پھیلنے والی کووِڈ-19 کی وبا کا تعلق صرف ایک شخص سے ثابت ہوا۔ان 70 سالہ شخص کی ہلاکت کورونا وائرس سے ہوئی مگر اس کا پتہ صرف ان کی ہلاکت کے بعد چلا۔حکام نے برطانوی نشریا تی ادارے کو بتایا کہ ہلاک شدہ شخص ایک مبلغ تھے اور انھوں نے اٹلی اور جرمنی سے واپس آنے کے بعد خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کے مشوروں کو نظرانداز کر دیا تھا۔انڈیا میں وائرس کے 640 تصدیق شدہ متاثرین ہیں جن میں سے 30 ریا...

انڈیا میں ایک شخص کی وجہ سے 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں چلے گئے

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع وجود - هفته 28 مارچ 2020

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)نے کورونا وائرس کے عالمی کساد بازاری شروع ہونے کا اعلان کر دیا ہے ۔آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیویا کے مطابق کورونا وائرس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دنیا بھر میں لاک ڈاون، فیکٹریاں، ائیرلائز، سیاحت، درآمدات اور برآمدات بند ہونے سے عالمی معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کا عمل دوہزار نو جیسا یا اس سے بدتر ہوگا اورعالمی معیشت پراس کے اثرات دیرپا ہوں گے ۔آئی ایم ایف سربراہ نے پیش گوئی کی کہ وا...

کورونا وائرس کے باعث عالمی کساد بازاری شروع

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے وجود - هفته 28 مارچ 2020

گروپ آف ٹوئنٹی ممالک کے رہنمائوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لئے عالمی معیشت میں 50 کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔جی 20 رہنمائوں نے غیر معمولی سربراہ اجلاس منعقد کیا تھا اور اس کے بعد یہ بیان جاری کیا گیا ۔رہنمائوں نے کہا کہ جرات مندانہ انداز میں بڑے پیمانے پر مالی مدد جاری رکھی جائے گی۔انہوں نے تشخیصی آلات، اینٹی وائرل ادویات اور ویکسین کی تیزتر ترقی، تیاری اور تقسیم کے لیے باہمی تعاون کو تقویت دینے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔جاپان کے...

جی 20ممالک عالمی معیشت کیلئے 50 کھرب ڈالر فراہم کرینگے

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ وجود - جمعه 27 مارچ 2020

ہالی وڈ کی 9 سال قبل ریلیز ہونے والی فلم ''کونٹیجن'' نے ریلیز کے وقت باکس آفس پر 60 ملین ڈالرز کمائی کی تھی لیکن اب 2020 میں جان لیوا کورونا وائرس کے پیشِ نظر فلم کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔اسٹیوین سوڈربرگ کی ہدایت کاری میں بننے والی ہالی وڈ فلم 'کونٹیجن' کی 2020 میں مقبولیت کی وجہ کووڈ 19 یعنی کورونا وائرس ہے کیونکہ اس فلم کی کہانی افسانوی بیماری 'ایم ای ویـ1' پر مبنی ہے جو کہ ایشیا سے پھیلنے کے بعد دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کی ہلاکتوں کی وجہ بنی۔' وارنر بروس' کی 2011 می...

کورونا وائرس کی وجہ سے 9 سال پرانی فلم کی مقبولیت میں اضافہ

کرونا سے 199 ممالک میں 24 ہزار ہلاکتیں ،امریکا میں تیزی وجود - جمعه 27 مارچ 2020

دنیا بھر میں کرونا کا خوف، 199 ممالک میں 24 ہزار 87 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، عالمی وبا نے پانچ لاکھ بتیس ہزار 224 افراد کو لپیٹ میں لے لیا جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار 326 ہے ، امریکا میں کرونا سے متاثرین افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق عالمی وبا سے امریکا میں 1300 افراد ہلاک اور 85 ہزار 594 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ چین میں کرونا سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 292 ہو گئی جبکہ متاثرین کی تعداد 81 ہزار 340 ہے ۔ اٹلی میں کرونا سے آٹھ ہ...

کرونا سے 199 ممالک میں 24 ہزار ہلاکتیں ،امریکا میں تیزی

نئے نوول کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کی رفتار فلو سے سست قرار وجود - جمعه 27 مارچ 2020

نئے کورونا وائرس کے حوالے سے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ اس میں تغیر یا تبدیلی کی رفتار دیگر وائرسز جیسے فلو کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ وائرس کے پھیلائو پر نظر رکھنے والے ماہرین نے کیا اور وائرس میں تبدیلی کی سست رفتار 2 مثبت اثرات کو ظاہر کرتی ہے ۔پہلی چیز تو یہ ہے کہ یہ وائرس اپنی موجودہ حالت میں مستحکم ہے اور آگے پھیلنے پر بھی اس سے زیادہ خطرناک نہیں ہوگا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین طویل المعیاد بنیادوں پر موثر ثا...

نئے نوول کورونا وائرس میں جینیاتی تبدیلی کی رفتار فلو سے سست قرار

اٹلی میں کورونا سے 8000، اسپین میں 4000 سے زائد اموات وجود - جمعه 27 مارچ 2020

اٹلی میں کورونا وائرس آج بھی 662 زندگیاں لے گیا، اموات 8 ہزار سے اوپر چلی گئیں جبکہ اسپین میں 458 زندگیاں گئیں، تعداد 4 ہزار سے اوپر ہوگئی۔ادھر امریکا میں مریضوں کی تعداد 75 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ برطانیہ میں مزید 320 افراد میں کورونا مرض کی تشخیص ہوئی، مجموعی تعداد 9 ہزار 800 سے زائد ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے باعث ایران میں 2200 افراد جان سے جاچکے ہیں جبکہ مریضوں کی تعداد 29 ہزار سے تجاوز کرگئی۔دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے اوپر چلی گئی،...

اٹلی میں کورونا سے 8000، اسپین میں 4000 سے زائد اموات

اٹلی کے ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں تعریف،تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل وجود - جمعه 27 مارچ 2020

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر نبرد آزما ڈاکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈکس کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اٹلی میں ڈاکٹروں اور نرسوں کی آئی سی یو سے شیئر کی گئیں تصاویر نے دنیا بھر میں لوگوں کو ان کا گرویدہ کر لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں اور نرسوں نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ آئی سی یو میں مریضوں کے علاج کے لئے کئی گھنٹے حفاظتی کٹس اور سامان پہنے رکھنے کے باعث ڈاکٹرز اور نرسوں کے چہر...

اٹلی کے ڈاکٹروں کی دنیا بھر میں تعریف،تصاویر سوشل میڈیاپر وائرل

برطانیا میں کورونا سے مزید 115 افراد ہلاک،ہلاکتیں 578ہوگئیں وجود - جمعه 27 مارچ 2020

برطانیا میں کورونا وائرس سے مزید 115 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد مجموعی تعداد 578 ہو گئی جبکہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 11 ہزار سے زائد ہو گئی۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا بھی جرم قرار دیدیا گیا، خود کو کورونا کا مریض ظاہر کر کے طبی عملے پر کھانسنے والے کو دو سال قید ہوگی۔عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے پولیس کو نئے اختیارات مل گئے ، لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والے پر 60 پاونڈ جرمانہ ہوسکے گا۔ ہر مرتبہ جرمانہ دوگنا بڑھتا جائے گا۔ اپنا کام کر...

برطانیا میں کورونا سے مزید 115 افراد ہلاک،ہلاکتیں 578ہوگئیں