وجود

... loading ...

وجود
جمعه 02 جنوری 2026

برطانیہ میں قبل ا ز وقت انتخابات تھریسا مے کے تدبر کاامتحان

جمعرات 08 جون 2017 برطانیہ میں قبل ا ز وقت انتخابات تھریسا مے کے تدبر کاامتحان


برطانیہ میں عام انتخابات کے آغاز میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں اور چند گھنٹے بعد ہی برطانوی عوام اپنے نئے حکمرانوں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالنے کا آغاز کردیں گے،برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے وقت سے بہت پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان بڑے پیمانے پر کرائے گئے ان سروے رپورٹوں کی بنیاد پر اس امید کے ساتھ کیاتھا کہ وہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کا بالکل ہی صفایاکرنے میں کامیاب ہوجائیں گی اور اس طرح پارلیمنٹ میں دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہونے کی بنیاد پر اپنی پسند کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گی۔ الیکشن کے اعلان کے وقت بلاشبہ صورتحال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی لیکن اس اعلان کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور لیبر پارٹی کے سربراہ کی حکمت عملی نے اس صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے،جس کااندازہ برطانیہ کے عام انتخابات سے صرف دو روز قبل جاری ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی اور حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے درمیان الیکشن کے روز کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ برطانیہ کے گڈ مارننگ برٹن نامی ٹی وی پروگرام کے لیے کیے جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت 5ء41 فی صد ہے جب کہ لیبر پارٹی صرف ایک پوائنٹ پیچھے یعنی 4ء40 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس طرح یہ انتخابات تھریسا مے کی دور اندیشی اور تدبر کاامتحان ثابت ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اگر موجودہ سروے کے نتائج جمعرات کو ہونے والی پولنگ تک برقرار رہے تو اس کے نتیجے میں حکمران جماعت کنزرویٹو کے لیے برطانوی پارلیمان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
اپریل کے وسط میں جب کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے اچانک قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت حکمران جماعت اپنی حریف لیبر پارٹی سے مقبولیت میں لگ بھگ 20 فی صد آگے تھی۔تین ہفتے قبل تک سامنے آنے والے بیشتر سرویز میں پیش گوئی کی جارہی تھی کہ تھریسا مے کی جماعت پارلیمان میں بآسانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جسے وزیرِاعظم یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے انخلا سے متعلق کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں ۔
برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ کے مطابق 22 مئی کو مانچسٹر میں ایک کانسرٹ کے دوران ہونے والے خود کش حملے کے بعد سے حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے لیکن اس کا زیادہ تر تعلق دہشت گرد حملے کے بجائے سیاسی جماعتوں کے منشور پر ہونے والی بحث سے ہے۔
حالیہ سروے گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے حملے سے قبل کیا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کوئی فرق آیا ہے یا نہیں ۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو ہونے والی پولنگ سے قبل مزید سروے بھی ہوں گے جن کے نتائج کی روشنی میں انتخابات کے ممکنہ نتائج کا درست اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔تازہ سروے میں برطانیہ کی تیسری بڑی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کی مقبولیت چھ فی صد اور دائیں بازو کی جماعت یو کے آئی پی کی 3 فی صد بتائی گئی ہے۔
سروے میں رائے دینے والے 50 فی صد افراد کے خیال میں تھریسا مے ایک اچھی وزیرِاعظم ثابت ہوں گی۔ جب کہ 36 فی صد افراد نے بائیں بازو کے نظریات کے حامل لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔مئی کے اوائل میں جرمی کوربن کے بارے مثبت رائے رکھنے والے برطانویوں کی تعداد صرف 15 فی صد تھی۔
ایک طرف برطانیہ میں صورت حال میں تبدیلی کی وجہ سے تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ہے دوسری جانب دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے خلاف ان کے الزامات ان کے گلے پڑ گئے ہیں اوربین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اسلام پسند انتہا پسندی کو ‘محفوظ جگہ’ فراہم کرتے ہیں ۔
خیال رہے کہ تھریسامے نے لندن میں ہونے والے حملے کے ضمن میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے سائبر سپیس کو منضبط کرنے کی بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بعض حصوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں دہشت گردانہ نظریات کو ‘محفوظ مقام’ فراہم کرتے ہیں ۔لیکن اوپن رائٹس گروپ نے کہا کہ سماجی رابطے کی کمپنیاں مسئلہ نہیں ہیں جبکہ ریڈیکلائزیشن کے ایک ماہر نے ٹریزا مے کے بیان کو ‘دانشوارنہ طور پر کاہل’ سے تعبیر کرتے ہوئےتنقید کا نشانہ بنایا۔ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے پہلے سے ہی سخت کوشش کر رہے ہیں ۔تھریسامے کے الزامات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے ہی لاکھوں ڈالر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خرچ کر رکھے ہیں جبکہ فیس بک نے کہا کہ وہ جارحانہ انداز میں اس قسم کے مواد کو ہٹاتا رہتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نےگزشتہ روز دہشت گردانہ حملے کے بعد ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ اس بات پر تقریبا متفق ہے کہ میسجنگ کے ایپ میں انکرپشن کو کمزور کرنے سے تمام صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔گوگل (یوٹیوب اس کا حصہ ہے) فیس بک (واٹس ایپ اس کا حصہ ہے) اور ٹوئٹر پر پہلے سے ہی انتہا پسند مواد سے نمٹنے کا دباؤ ہے جو کہ اتوار کے بعد مزید بڑھ گیا۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا: ‘ہم اس نظریے کو پنپے کے لیے محفوظ مقامات فراہم نہیں کر سکتے۔ تاہم انٹرنیٹ اور بڑی کمپنیاں ۔۔۔ فراہم کر رہی ہیں ۔’وزیر داخلہ امبر روڈ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ریڈیکلائزیشن کو روکنے کے لیے مزید کوشش کریں ۔پرائیوسی اور آن لائن پر اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرنے والے اوپن رائٹس گروپ نے متنبہ کیا کہ مزید ضابطوں سے دہشت گردوں کے ‘ذلیل نٹورک’ کے ویب کے ‘مزید اندھیرے حصوں ’ میں جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ‘فیس بک جیسی انٹرنیٹ کمپنیاں نفرت اور تشدد کے اسباب نہیں ہیں بلکہ غلط طریقے سے انھیں مہرہ بنایا جا سکتا ہے۔
ابھی تھریسا مے ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتراضات کے مسئلے سے نمٹ نہیں سکی تھیں کہ کنزرویٹو پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور برطانوی کابینہ کی پہلی سابق مسلمان خاتون وزیر سعیدہ وارثی برطانوی مسلمانوں کے دفاع میں خم ٹھونک کر سامنے آگئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے بنیاد پرست بننے کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ خارجہ پالیسی کے خلاف ردعمل بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان اندر کے دشمن نہیں بلکہ اس ملک کا حصہ ہیں ۔گذشتہ روز لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے کچھ ہی دیر پہلے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سعیدہ وارثی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ مسلمانوں کے بارے میں اپنی ہی حکومت کی کچھ پالیسیوں سے متفق نہیں تھیں وہ کون سی پالیسیاں تھیں ؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کابینہ سے مستعفی ہوئی تھیں وہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر ان کی حکومت کا مؤقف تھا۔ان کے بقول وہ جس وقت برطانوی وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی وزیر تھیں اس وقت انہیں یہ نظرآ رہا تھا کہ اس معاملے پر حکومت کے قول وفعل میں تضاد ہے۔’جب آپ کو یہ محسوس ہو کہ ہم کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور تو میں نے سوچا کہ اس طرح کے فیصلے میں مجھے حصہ نہیں لینا چاہیے۔‘سعیدہ وارثی کے بقول ان کی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں ’پروینٹ‘ کی حکمت عملی صحیح نہیں ۔سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ چاہے وہ لیبر کی حکومت تھی یا پھر ہماری اپنی پارٹی کی موجودہ حکومت ان کی مسلمانوں کے بارے میں جو پالیسیاں ہیں ان میں وہ مسلمانوں کے ساتھ انگیج نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم مسلمانوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور انہیں یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک کا حصہ ہیں تو حکومت کو صحیح طریقے سے مسلمانوں کے ساتھ رابطہ کرنا پڑے گا۔’30 لاکھ مسلمانوں کے ساتھ 20-25 لوگوں کے ذریعے اینگیج کرنا، ایگیجمنٹ نہیں ہوتی۔برطانوی مسلمانوں پر لکھی گئی اپنی کتاب ‘دی اینیمی ود اِن، ٹیل آف برٹش مسلمز’ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیرونس وارثی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ‘اینیمی ود ان’ یا گھر کے دشمن کا ٹائٹل اس لیے استعمال کیا تھا کیونکہ جب وہ کابینہ کی وزیر تھیں تو ایک دائیں بازو کے کمنٹیٹر نے کالم میں لکھا کہ ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں جب کابینہ کے اجلاس میں اندر کی دشمن بیرونس وارثی بیٹھی ہوئی ہیں ۔‘ان کا کہنا تھا کہ ایسے طعنے کا جواب یہی تھا کہ میں اسے کتاب کا ٹائٹل بنا کے اپنی کتاب میں یہ ثابت کر سکوں کہ ‘مسلمان اندر کا دشمن نہیں اور یہ بات نان سنس ہے۔’ان کا کہنا تھا ‘جب میرے دادا اور نانا نے اس ملک کے لیے پسینہ بہایا ہے، اور انہوں نے خود اعلیٰ سطح پر کابینہ میں خدمات دی ہیں ، تو میں پوچھتی ہوں کہ کب تک مسلمانوں کو وفاداری کے ٹیسٹ دینا پڑیں گے۔اینف از اینف – کافی ہو گیا۔سعیدہ وارثی کے بقول ‘ہم اندر کے دشمن نہیں ، اس ملک کا حصہ ہیں ’۔ سعیدہ وارثی مسلمانوں کے حوالے سے اپنی اس بیباکانہ رائے کے اظہار کے بعد برطانوی مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت بن کر ابھری ہیں اور اب وہ اپنی اس مقبولیت کو اپنی پارٹی یا کم از کم اپنے من پسند امیدواروں کو مسلمانوں کے ووٹ دلواکر کامیابی سے ہمکنار کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہیں تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سعیدہ وارثی مسلمانوں میں اپنی مقبولیت کو انتخابی میدان میں کیش کرانے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں اور ان کی اس کوشش سے ان کی پارٹی اور ان کے من پسند امیدواروں کو کتنا فائدہ پہنچے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں برطانیہ کے انتخابات پر ہیں جس میں حکمراں ٹوری پارٹی کی کامیابی یا ناکامی عالمی پالیسیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی وجود - جمعه 02 جنوری 2026

اسٹریٹ موومنٹ کیلئے 9 جنوری کو کراچی اور سندھ والو تیاری پکڑو، تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی، لوگو! یاد رکھو اب ہمارے لیے کوئی طارق بن زیاد یا محمد بن قاسم نہیں آئے گا ظالم کیخلاف کھڑا ہونا ہے،اب پوری قوم کو نکلنا ہوگا ان کی گولیاں ختم ہو جائیں ہمارے سینے ختم ن...

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکا کراچی اور سندھ کے دورے کا اعلان(عمران خان کا پیغام لے کر آرہا ہوں، سہیل آفریدی

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے وجود - جمعه 02 جنوری 2026

ظہران ممدانی نے حلف برداری کے دوران اپنا ہاتھ قرآن پاک پر رکھا،غیر ملکی میڈیا نیویارک کے شہریوں کی خدمت ان کیلئے زندگی کا سب سے بڑا اعتمار ہے،خطاب امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک کے نو منتخب میٔرظہران ممدانی نے یکم جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور وہ نیویارک کی تا...

امریکی تاریخ کا منفرد لمحہ،ظہران ممدانی قرآن پر حلف اٹھا کرمیئر بن گئے

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک وجود - جمعه 02 جنوری 2026

علی الصبح تقریباً ڈیڑھ بجے ایک مشہوربار میں آگ لگنے سے تقریبا 100 افراد زخمی ہوئے نئے سال کی تقریبات جاری تھیں اور بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے،ترجمان سوئس پولیس سوئٹزرلینڈ کے معروف اور لگژری اسکی ریزورٹ شہر کرانس مونٹانا میں ایک بار میں ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں...

نئے سال کی خوشیاں ماتم میں تبدیل،سوئٹزرلینڈ میں خوفناک دھماکا40 افراد ہلاک

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

کارروائی یمن کے علیحدگی پسند گروہ کیلئے اسلحے کی کھیپ پہنچنے پر کی گئی،امارات کی جانب سے علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سعودی عرب کی قومی سلامتی کیلئے براہِ راست خطرہ ہے،سعودی حکام یمن میں انسداد دہشتگردی کیلئے جاری اپنے باقی ماندہ آپریشن فوری طور پر ختم کررہے ہیں، واپسیشراکت دار...

سعودی عرب کا یمنی بندرگاہ پر فضائی حملہ،متحدہ عرب امارات کا فوجی آپریشن بند،فوجی واپس بلانے کا اعلان

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

پوائنٹ آف سیل کا کالا قانون واپس نہ لیا گیا تو 16 جنوری سے آغاز کرینگے، ملک بھر کے تمام چوراہے اور کشمیر ہائی وے کو بند کردیا جائے گا،وزیراعظم ہماری شکایات دور کریں، صدر آبپارہ چوک سے ایف بی آر دفتر تک احتجاجی ریلی،شرکاء کو پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا، کرپشن کے خاتمہ کے ل...

ایف بی آر اقدامات ، تاجروں کی ملک گیر شٹرڈاؤن ہڑتال،دھرنے کی دھمکی

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

ریفرنڈم کے بعد پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کیخلاف صوبائی اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے پاکستان اپنی فوج حماس اور فلسطینیوں کے مقابل کھڑی نہ کرے، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پندرہ جنوری کو ملک گ...

بااختیار بلدیاتی نظام کیلئے ملک گیر عوامی ریفرنڈم ہوگا،حافظ نعیم

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

مظاہرین کا ایم اے جناح روڈ پر دھرنا ، ایف آئی آر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ جب تک ہماری ایف آئی آر درج نہیں ہوتی ہمارا احتجاج جاری رہے گا،احتجاجی وکلاء (رپورٹ:افتخار چوہدری)کراچی ایم اے جناح روڈ پر وکلاء کے احتجاج کے باعث شاہراہ کئی گھنٹوں سے بند ۔احتجاج یوٹیوبر رجب بٹ ک...

یوٹیوبر رجب بٹ ، وکلا کی لڑائی ؛ سٹی کورٹ میں ہڑتال

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا وجود - بدھ 31 دسمبر 2025

محمود اچکزئی کا یہی موقف ہے بانی کیساتھ ملاقاتیں بحال کئے بغیر مذاکرات نہیں ہوسکتے مذاکرات کیلئے بھیک کا لفظ غلط لفظ ہے،پی ٹی آئی اور اچکزئی ایجنڈے میں کوئی فرق نہیں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرسکتے تو مذاکرات کی ک...

عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں کرینگے،سلمان اکرم راجا

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام وجود - منگل 30 دسمبر 2025

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، دہشت گردوں کا نیا نشانہ ہمارے بچے ہیں،سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے بلوچ بچی بلوچستان سے ہے، اس کی مختلف لوگوں نے ذہن سازی کی اور ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کیا، رابطہ ...

بی ایل اے بچوں کو ہتھیار بنانے لگا،کمسن بچی کو خود کش بمبار بنانے کی کوشش ناکام

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط وجود - منگل 30 دسمبر 2025

میرے کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی،اسے اسمگلنگ اور منشیات سے جوڑا گیا، یہ سب پنجاب حکومت کی زیر نگرانی ہوا، انتظامی حربے استعمال کرنے کا مقصد تضحیک کرنا تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب حکومت نے کابینہ ارکان کو تشدد کا نشانہ بنایا ،لاہورکے شہریوں کو تکلیف دی گئی، قومی یکجہت...

پنجاب حکومت اخلاقی اور ذہنی پستی کا شکار ہے، میرے دورے میں نفرت آمیز رویہ اختیار کیا، سہیل آفریدی کا مریم نواز کواحتجاجی خط

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اسلام آباد ہائیکورٹ نیبانی تحریک انصافعمران خان کی اپیل پر ڈائری نمبر24560 لگا دیا عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا جو نہیں کیا جا سکتا تھا، دائراپیل میں مؤقف بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا۔تفصیلات...

عمران اور بشریٰ نے توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ چیلنج کردیا

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی وجود - منگل 30 دسمبر 2025

اپیل رجسٹرار کورٹ آف اپیلز، اے جی برانچ، چیف آف آرمی اسٹاف کو جمع کرائی گئی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے 40 دن کا وقت تھا، وکیل میاں علی اشفاق کی تصدیق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ملٹری کورٹ سے سنائی گئی اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کردی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی ...

فیض حمید نے فوجی عدالت کی سزا کیخلاف اپیل دائر کردی

مضامین
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف وجود جمعه 02 جنوری 2026
کشمیر 'خاموش اور اُداس' ہے :کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف

بھارت کی ریاستی دہشت گردی وجود جمعه 02 جنوری 2026
بھارت کی ریاستی دہشت گردی

شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے ! وجود جمعه 02 جنوری 2026
شیطان باہر نہیں اندر ہو تا ہے !

مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے! وجود جمعرات 01 جنوری 2026
مسلم ممالک کے سربراہوں کو اپنے ضمیر سے سوال کرنا چاہیے!

بھارتی مسلمان غیر محفوظ وجود جمعرات 01 جنوری 2026
بھارتی مسلمان غیر محفوظ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر