وجود

... loading ...

وجود

برطانیہ میں قبل ا ز وقت انتخابات تھریسا مے کے تدبر کاامتحان

جمعرات 08 جون 2017 برطانیہ میں قبل ا ز وقت انتخابات تھریسا مے کے تدبر کاامتحان


برطانیہ میں عام انتخابات کے آغاز میں اب صرف چند گھنٹے باقی ہیں اور چند گھنٹے بعد ہی برطانوی عوام اپنے نئے حکمرانوں کے انتخاب کیلئے ووٹ ڈالنے کا آغاز کردیں گے،برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے نے وقت سے بہت پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان بڑے پیمانے پر کرائے گئے ان سروے رپورٹوں کی بنیاد پر اس امید کے ساتھ کیاتھا کہ وہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی کا بالکل ہی صفایاکرنے میں کامیاب ہوجائیں گی اور اس طرح پارلیمنٹ میں دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل ہونے کی بنیاد پر اپنی پسند کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گی۔ الیکشن کے اعلان کے وقت بلاشبہ صورتحال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی لیکن اس اعلان کے بعد برطانیہ میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور لیبر پارٹی کے سربراہ کی حکمت عملی نے اس صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے،جس کااندازہ برطانیہ کے عام انتخابات سے صرف دو روز قبل جاری ہونے والے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی اور حزبِ اختلاف کی لیبر پارٹی کے درمیان الیکشن کے روز کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ برطانیہ کے گڈ مارننگ برٹن نامی ٹی وی پروگرام کے لیے کیے جانے والے سروے کے نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت 5ء41 فی صد ہے جب کہ لیبر پارٹی صرف ایک پوائنٹ پیچھے یعنی 4ء40 فی صد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ اس طرح یہ انتخابات تھریسا مے کی دور اندیشی اور تدبر کاامتحان ثابت ہوں گے۔
مبصرین کے مطابق اگر موجودہ سروے کے نتائج جمعرات کو ہونے والی پولنگ تک برقرار رہے تو اس کے نتیجے میں حکمران جماعت کنزرویٹو کے لیے برطانوی پارلیمان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
اپریل کے وسط میں جب کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی وزیرِاعظم تھریسا مے نے اچانک قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت حکمران جماعت اپنی حریف لیبر پارٹی سے مقبولیت میں لگ بھگ 20 فی صد آگے تھی۔تین ہفتے قبل تک سامنے آنے والے بیشتر سرویز میں پیش گوئی کی جارہی تھی کہ تھریسا مے کی جماعت پارلیمان میں بآسانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جسے وزیرِاعظم یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کے انخلا سے متعلق کامیاب مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں ۔
برطانوی اخبار انڈی پینڈینٹ کے مطابق 22 مئی کو مانچسٹر میں ایک کانسرٹ کے دوران ہونے والے خود کش حملے کے بعد سے حکمران جماعت کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے لیکن اس کا زیادہ تر تعلق دہشت گرد حملے کے بجائے سیاسی جماعتوں کے منشور پر ہونے والی بحث سے ہے۔
حالیہ سروے گزشتہ ہفتے لندن میں ہونے والے حملے سے قبل کیا گیا تھا جس میں سات افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا حملے کے بعد سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں کوئی فرق آیا ہے یا نہیں ۔برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو ہونے والی پولنگ سے قبل مزید سروے بھی ہوں گے جن کے نتائج کی روشنی میں انتخابات کے ممکنہ نتائج کا درست اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔تازہ سروے میں برطانیہ کی تیسری بڑی جماعت لبرل ڈیموکریٹس کی مقبولیت چھ فی صد اور دائیں بازو کی جماعت یو کے آئی پی کی 3 فی صد بتائی گئی ہے۔
سروے میں رائے دینے والے 50 فی صد افراد کے خیال میں تھریسا مے ایک اچھی وزیرِاعظم ثابت ہوں گی۔ جب کہ 36 فی صد افراد نے بائیں بازو کے نظریات کے حامل لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔مئی کے اوائل میں جرمی کوربن کے بارے مثبت رائے رکھنے والے برطانویوں کی تعداد صرف 15 فی صد تھی۔
ایک طرف برطانیہ میں صورت حال میں تبدیلی کی وجہ سے تھریسا مے کو مشکلات کاسامنا ہے دوسری جانب دہشت گردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے خلاف ان کے الزامات ان کے گلے پڑ گئے ہیں اوربین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اسلام پسند انتہا پسندی کو ‘محفوظ جگہ’ فراہم کرتے ہیں ۔
خیال رہے کہ تھریسامے نے لندن میں ہونے والے حملے کے ضمن میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے کی منصوبہ بندی کو روکنے کے لیے سائبر سپیس کو منضبط کرنے کی بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کے بعض حصوں کو بند کر دینا چاہیے کیونکہ ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں دہشت گردانہ نظریات کو ‘محفوظ مقام’ فراہم کرتے ہیں ۔لیکن اوپن رائٹس گروپ نے کہا کہ سماجی رابطے کی کمپنیاں مسئلہ نہیں ہیں جبکہ ریڈیکلائزیشن کے ایک ماہر نے ٹریزا مے کے بیان کو ‘دانشوارنہ طور پر کاہل’ سے تعبیر کرتے ہوئےتنقید کا نشانہ بنایا۔ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا کہنا ہے کہ وہ انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے پہلے سے ہی سخت کوشش کر رہے ہیں ۔تھریسامے کے الزامات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ اس نے پہلے ہی لاکھوں ڈالر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے خرچ کر رکھے ہیں جبکہ فیس بک نے کہا کہ وہ جارحانہ انداز میں اس قسم کے مواد کو ہٹاتا رہتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نےگزشتہ روز دہشت گردانہ حملے کے بعد ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بی بی سی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کا شعبہ اس بات پر تقریبا متفق ہے کہ میسجنگ کے ایپ میں انکرپشن کو کمزور کرنے سے تمام صارفین کی پرائیویسی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔گوگل (یوٹیوب اس کا حصہ ہے) فیس بک (واٹس ایپ اس کا حصہ ہے) اور ٹوئٹر پر پہلے سے ہی انتہا پسند مواد سے نمٹنے کا دباؤ ہے جو کہ اتوار کے بعد مزید بڑھ گیا۔برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا: ‘ہم اس نظریے کو پنپے کے لیے محفوظ مقامات فراہم نہیں کر سکتے۔ تاہم انٹرنیٹ اور بڑی کمپنیاں ۔۔۔ فراہم کر رہی ہیں ۔’وزیر داخلہ امبر روڈ نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ریڈیکلائزیشن کو روکنے کے لیے مزید کوشش کریں ۔پرائیوسی اور آن لائن پر اظہار رائے کی آزادی کی حمایت کرنے والے اوپن رائٹس گروپ نے متنبہ کیا کہ مزید ضابطوں سے دہشت گردوں کے ‘ذلیل نٹورک’ کے ویب کے ‘مزید اندھیرے حصوں ’ میں جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ‘فیس بک جیسی انٹرنیٹ کمپنیاں نفرت اور تشدد کے اسباب نہیں ہیں بلکہ غلط طریقے سے انھیں مہرہ بنایا جا سکتا ہے۔
ابھی تھریسا مے ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتراضات کے مسئلے سے نمٹ نہیں سکی تھیں کہ کنزرویٹو پارٹی کی سابق چیئرپرسن اور برطانوی کابینہ کی پہلی سابق مسلمان خاتون وزیر سعیدہ وارثی برطانوی مسلمانوں کے دفاع میں خم ٹھونک کر سامنے آگئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے بنیاد پرست بننے کی مختلف وجوہات میں سے ایک وجہ خارجہ پالیسی کے خلاف ردعمل بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ برطانوی مسلمان اندر کے دشمن نہیں بلکہ اس ملک کا حصہ ہیں ۔گذشتہ روز لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملے سے کچھ ہی دیر پہلے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں سعیدہ وارثی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ مسلمانوں کے بارے میں اپنی ہی حکومت کی کچھ پالیسیوں سے متفق نہیں تھیں وہ کون سی پالیسیاں تھیں ؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کابینہ سے مستعفی ہوئی تھیں وہ غزہ اور فلسطین کے معاملے پر ان کی حکومت کا مؤقف تھا۔ان کے بقول وہ جس وقت برطانوی وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی وزیر تھیں اس وقت انہیں یہ نظرآ رہا تھا کہ اس معاملے پر حکومت کے قول وفعل میں تضاد ہے۔’جب آپ کو یہ محسوس ہو کہ ہم کہتے کچھ اور ہیں اور کرتے کچھ اور تو میں نے سوچا کہ اس طرح کے فیصلے میں مجھے حصہ نہیں لینا چاہیے۔‘سعیدہ وارثی کے بقول ان کی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی میں ’پروینٹ‘ کی حکمت عملی صحیح نہیں ۔سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ چاہے وہ لیبر کی حکومت تھی یا پھر ہماری اپنی پارٹی کی موجودہ حکومت ان کی مسلمانوں کے بارے میں جو پالیسیاں ہیں ان میں وہ مسلمانوں کے ساتھ انگیج نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم مسلمانوں کو سمجھنا چاہتے ہیں اور انہیں یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک کا حصہ ہیں تو حکومت کو صحیح طریقے سے مسلمانوں کے ساتھ رابطہ کرنا پڑے گا۔’30 لاکھ مسلمانوں کے ساتھ 20-25 لوگوں کے ذریعے اینگیج کرنا، ایگیجمنٹ نہیں ہوتی۔برطانوی مسلمانوں پر لکھی گئی اپنی کتاب ‘دی اینیمی ود اِن، ٹیل آف برٹش مسلمز’ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بیرونس وارثی کا کہنا تھا کہ انہوں نے ‘اینیمی ود ان’ یا گھر کے دشمن کا ٹائٹل اس لیے استعمال کیا تھا کیونکہ جب وہ کابینہ کی وزیر تھیں تو ایک دائیں بازو کے کمنٹیٹر نے کالم میں لکھا کہ ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں جب کابینہ کے اجلاس میں اندر کی دشمن بیرونس وارثی بیٹھی ہوئی ہیں ۔‘ان کا کہنا تھا کہ ایسے طعنے کا جواب یہی تھا کہ میں اسے کتاب کا ٹائٹل بنا کے اپنی کتاب میں یہ ثابت کر سکوں کہ ‘مسلمان اندر کا دشمن نہیں اور یہ بات نان سنس ہے۔’ان کا کہنا تھا ‘جب میرے دادا اور نانا نے اس ملک کے لیے پسینہ بہایا ہے، اور انہوں نے خود اعلیٰ سطح پر کابینہ میں خدمات دی ہیں ، تو میں پوچھتی ہوں کہ کب تک مسلمانوں کو وفاداری کے ٹیسٹ دینا پڑیں گے۔اینف از اینف – کافی ہو گیا۔سعیدہ وارثی کے بقول ‘ہم اندر کے دشمن نہیں ، اس ملک کا حصہ ہیں ’۔ سعیدہ وارثی مسلمانوں کے حوالے سے اپنی اس بیباکانہ رائے کے اظہار کے بعد برطانوی مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت بن کر ابھری ہیں اور اب وہ اپنی اس مقبولیت کو اپنی پارٹی یا کم از کم اپنے من پسند امیدواروں کو مسلمانوں کے ووٹ دلواکر کامیابی سے ہمکنار کرنے کی پوزیشن میں آگئی ہیں تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ سعیدہ وارثی مسلمانوں میں اپنی مقبولیت کو انتخابی میدان میں کیش کرانے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں اور ان کی اس کوشش سے ان کی پارٹی اور ان کے من پسند امیدواروں کو کتنا فائدہ پہنچے گا۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں برطانیہ کے انتخابات پر ہیں جس میں حکمراں ٹوری پارٹی کی کامیابی یا ناکامی عالمی پالیسیوں پر بری طرح اثر انداز ہوسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ وجود - هفته 02 مئی 2026

اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...

گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

مضامین
مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

آؤ ! اپنے اندر جھانکیں! وجود هفته 02 مئی 2026
آؤ ! اپنے اندر جھانکیں!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر