وجود

... loading ...

وجود

اہل کراچی کے الیکٹرک کے ’’رمضان پیکج ‘‘سے نڈھال ، انتظامیہ کی طفل تسلیاں

جمعرات 01 جون 2017 اہل کراچی کے الیکٹرک کے ’’رمضان پیکج ‘‘سے نڈھال ، انتظامیہ کی طفل تسلیاں


شدید گرمی اور رمضان میں سحر اور افطار کے اوقات میں طویل بجلی کی بندش کے باعث ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی کئی جگہ کے الیکٹرک کے خلاف مظاہرے بھی شروع ہوچکے ہیں ۔ماہ رمضان کی تیسری سحری کے دوران شہر قائد میں ہونے والے بریک ڈاؤن کے بعد کمشنر کراچی اعجاز احمد نے کراچی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لے لیااور کے الیکٹرک انتظامیہ کو اپنے دفتر میں طلب کرلیا۔کمشنر کراچی اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ ’ کے الیکٹرک وضاحت کرے اور صورتحال بہتر بنائے‘۔واضح رہے کہ گزشتہ شب بریک ڈاؤن کے بعد بجلی کی بندش کے سبب شہریوں کو ماہ رمضان کی تیسری سحری بھی اندھیرے میں کرنی پڑی تھی۔
دوسری جانب ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ ایکسٹرا ہائی ٹینشن کی تاروں کے ٹرپ کرجانے کی وجہ سے بریک ڈاؤن ہوا، جس سے شہر کے ’کچھ حصے‘ میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔کے الیکٹرک انتظامیہ کے مطابق بجلی کی بندش کا شکار ہونے والے علاقوں میں پی ای سی ایچ ایس، گلشن اقبال اور ناظم آباد شامل تھے۔تاہم 10 گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد بھی ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں ہونے والی خرابی کا کام مکمل نہ کیا جاسکا تھاجس کی وجہ سے کراچی کے 4 گرڈ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی آب بھی متاثر ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق لوڈمینجمنٹ کے تحت کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی بند کی جارہی ہے جبکہ تکنیکی خرابی دور کرنے کے لیے عملہ موجود، اور متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔خیال رہے کہ ایک روز قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی نیشنل پاورگرڈ کی کمزور اور ناقابل بھروسہ ٹرانسمیشن پر وفاقی وزیرپانی و بجلی خواجہ آصف کو باقاعدہ شکایت کی تھی۔مرادعلی شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو بجلی کے طویل بریک ڈاون سے نازک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لوگوں کی زندگیوں پر اثر پڑتا ہے جبکہ امن و امان کی صورت حال بھی خراب ہوجاتی ہے۔
کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے نیٹ ورک میں ہونے والے بڑے پاور بریک ڈاؤن کے بعد شہر میں فراہمی آب کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوگیا۔بجلی کی طویل بندش کے سبب پہلے روزے کے موقع پر شہر کو روزمرہ معمول کے مطابق 50 کروڑ گیلن پانی کے بجائے صرف 15 کروڑ گیلن پانی فراہم کیا جاسکا۔کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ پانی کی سپلائی میں ہونے والی واضح کمی کی وجہ سے اتوار کے روز شہر کے مختلف علاقوں میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر پانی فراہم کیا جاسکا۔واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے شہریوں کو ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پانی کا استعمال احتیاط سے کرنے کا مشورہ بھی دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اتوار کی شب 2 بج کر 40 منٹ پر ہونے والے بریک ڈاؤن کے نتیجے میں واٹر بورڈ کا نظام متاثر ہوا اور دھابیجی، گھارو، حب، سمیت متعدد فلٹر پلانٹس نے کام کرنا بند کردیا۔ان فلٹر پلانٹس پر بجلی کی فراہمی کا آغاز بعد ازاں 5 سے ساڑھے پانچ بجے صبح شروع ہوا جبکہ گھارو پمپنگ اسٹیشن کو اتوار کی صبح 8 بجے بجلی کی فراہمی دوبارہ معطل ہوگئی۔واضح رہے کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے کہا تھا کہ ماہ رمضان میں شہریوں کو بلاتعطل فراہمی آب کا پلان تشکیل دیا جاچکا ہے تاہم ماہ مقدس کے پہلے ہی روز یہ پلان بری طرح متاثر ہوگیا۔
کراچی میں مسلسل تیسری سحری اندھیروں کی نذر ہونے کے بعد شہر قائد کے شہری مشتعل ہوگئے اور شہر کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا۔لیاقت آباد میں چونا ڈپو کے قریب لوڈ شیڈنگ کے ستائے مظاہرین نے کار کو آگ لگا دی دوسری جانب مشتعل شہریوں نے ناظم آباد میں بھی کے الیکٹرک کے دفتر پر دھاوا بول دیا اور دفتر کو آگ لگانے کی کوشش کی۔
کے الیکٹرک کے ترجمان کادعویٰ تھا کہ شہریوں کوبس ایک دن اور لوڈ شیڈنگ کی یہ صعوبت برداشت کرنا پڑے گی اس دوران تمام فالٹ دور کردیے جائیںگے اور شہریوں کومعمول کے مطابق بجلی کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔ملک بھر میں جاری توانائی کے بحران کے حوالے سے ادارہ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ بجلی کی فراہم کو یقینی بنانے کے لیے پیداوار سے زیادہ ٹرانسمیشن لائنز کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جاسکے۔نجی چینل کے پروگرام ’نیوز آئی‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عابد سلہری کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤنز کی وجہ خراب ٹرانسمیشن لائنز اور ٹرانسفارمرز ہیں، کیونکہ سسٹم میں چاہے جتنی بھی بجلی آجائے، جب تک اس بارے میں نہیں سوچا جائے گا، اُس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ تین یا چار سالوں میں ہماری توجہ بجلی بنانے پر مرکوز رہی اور اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا کہ اس بجلی کو آگے پہنچانے کا نظام بھی درست ہے یا نہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’گرمی بڑھتے ہی عام طور پر بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے اور جیسا کہ ہمارے بہت سے یونٹس پہلے ہی غیر فعال ہیں تو اس طلب کو پورا کرنا بھی ایک طرح سے چیلنج ہے، جس کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے‘۔اس سوال پر کہ رمضان المبارک میں بجلی کی فراہم کو یقینی بنانے کے لیے ایسے کون سے اقدامات کرنے چاہئیں تھے، جن سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے ؟ عابد سلہری نے کہا کہ اگر پہلے ہی خراب لائنز اور فیڈرز کو چیک کرلیا جاتا تو لوڈ بڑھنے کی صورت میں یہ حالات پیدا نہ ہوتے، کیونکہ یہی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’عام دنوں میں اگر رات کے اوقات میں بھی کوئی خرابی آجائے تو لائن مین اسے دور کرنے پہنچ جاتے ہیں، مگر رمضان میں وہ بھی اپنے گھروں میں ہوتے ہیں جس کہ وجہ سے اس میں تاخیر پیش آتی ہے‘۔خیال رہے کہ رمضان المبارک میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حکومتی دعوے دھرے رہ گئے، جبکہ توانائی بحران کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں۔حالیہ دنوں میں صوبہ خیبر پختونخوا میں غیر اعلانیہ بجلی کی طویل بندش کے خلاف صوبے کے مختلف اضلاع میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔گزشتہ روز بھی مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور مالاکنڈ میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔دوسری طرف کراچی سمیت سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی سحری کے اوقات میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن نے شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔رواں ہفتے کے دوران کے۔الیکٹریک کے سسٹم میں کئی بڑے بریک ڈاؤن ہوئے جس کے باعث ادارہ اب تک شہر میں بجلی کی صورتحال پر قابو پانے میں بظاہر ناکام ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر