وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

عالمی برادری میں نیا سوال: دہشت گردی کے خلاف قیادت اسلامی دنیا کرے یا امریکا۔۔۔؟؟

بدھ 31 مئی 2017 عالمی برادری میں نیا سوال: دہشت گردی کے خلاف قیادت اسلامی دنیا کرے یا امریکا۔۔۔؟؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورہ سعودی عرب نے دہشتگردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ کے اندر موجود کئی خطرناک تضادات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔اگر آج دنیا میں کوئی اتفاق و اتحاد باقی ہے تو وہ اس بات پر ہے کہ پوری دنیا دہشتگردوں کے نشانے پر ہے۔ اور عسکریت پسند داعش کو مدِنظر رکھیں تو یہ کہ پوری دنیا کو ایک متفقہ خطرے کا سامنا ہے۔مگر دہشتگردی سے نمٹنے کے مختلف قومی، علاقائی اور بین الاقوامی طریقۂ کار تضادات سے بھرپور ہیںجو کہ داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے آڑے آ رہے ہیں۔ یہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے داعش کو کچلنا اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی نکات میں شامل کرنے سے دہشتگردوں کے اس پروپیگنڈے کو تقویت ملے گی کہ یہ جنگ اسلامی اقدار اور مغرب کے درمیان ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی قیادت عالمِ اسلام کو کرنی چاہیے۔ دہشتگردی مسلمان ممالک کے وجود کو لاحق بنیادی خطرہ ہے، اور اس کے خلاف کوئی بھی حکمتِ عملی جس کی قیادت مغرب کے ہاتھ میں ہو، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگی، اور اس کے علاوہ نقصان دِہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔مغربی ممالک کو اپنی ہی سرزمین پر جنم لینے والی عسکریت پسندی سے خطرہ ہے، اور ان کے پاس وہ انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشتگردی کے وسائل موجود ہیں جو عسکریت پسندی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔کوئی بھی قوم، کم از کم مغرب کی جمہوری اقوام تو بالکل بھی ان دہشتگردوں کے سامنے نہیں جھک سکتی جو کہ اس کا معاشرہ مکمل طور پر تباہ کر دینے کے درپے ہوں۔ بین الاقوامی سطح پر عسکریت پسندی کے بارے میں کوئی بھی بحث یورپی ممالک میں ہونے والی حالیہ تباہی اور امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کی یاد سے خالی نہیں ہوتی۔ ان ممالک کے آئین و قوانین کے اندر رہتے ہوئے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کی مدد کرتے ہوئے مغربی ممالک جو اقدامات اٹھائیں گے، ان کے طویل المدتی نتائج ہو سکتے ہیں۔مگر مغربی ممالک تب تک خود کو محفوظ نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ یہ نہ سمجھ لیں کہ انتہاپسندوں کے خلاف جنگ کی قیادت مسلم ممالک کو ہی کرنی ہوگی، اور مسلم نوجوانوں کو پرتشدد نظریات سے بچانے کے لیے مسلم معاشروں کو ہی آگے آنا ہوگا۔ٹرمپ کی جانب سے خود کو اپنے ملک کا ایسے دہشتگرد خطرے کے خلاف محافظ قرار دینا، جس کی وہ بہت کم سمجھ رکھتے ہیں، مسلم اکثریتی ممالک کو مشترکہ طور پر دہشتگردی اور عسکریت پسندی کو شکست دینے کے لیے ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی بنانے کی ذمہ داری سے بھاگنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔یہاں سعودی عرب اسلامی فوجی اتحاد کے پرچم تلے سنی اکثریتی ممالک کو جمع کر رہا ہے، تو وہیں ایران مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی عناصر کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔اور اس دوران وہ عسکریت پسند گروہ جن کے خلاف تمام مسلم ممالک لڑنا چاہتے ہیں، ان ممالک کے معاشروں میں اپنی نظریاتی جڑیں گہری کرتے چلے جا رہے ہیں۔ٹرمپ شاید بین الاقوامی منظرنامے پر چار یا آٹھ سال تک رہیں گے، مگر دہشتگرد نظریات کی عمر اس سے کہیں زیادہ طویل ہوتی ہے۔ ٹرمپ اور ان کی بڑھکوں کے چلے جانے کے طویل عرصے کے بعد بھی مسلم ممالک کو اپنے اپنے معاشروں میں موجود اس عفریت کا سامنا رہے گا۔
جس کا ثبوت برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں واقع برٹش ایرینا میں ہونیوالے زوردار دھماکے سے ملتاہے جس میں 22افراد ہلاک جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکہ برٹش ایرینا میں جاری امریکی گلوکارہ آریانہ گرانڈے کا کنسٹرٹ ختم ہونے کے کچھ دیر بعد ہوا۔ لندن کے پولیس چیف نے تصدیق کی ہے کہ یہ خودکش دھماکہ تھا۔ دہشت گردوں کے اس مذموم اور بزدلانہ اقدام کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
مانچسٹر جیسے شہر میں یہ خود کش دھماکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی صرف مسلم ممالک کا مسئلہ نہیں ہے اور اس دہشت گردی کا سبب صرف غربت نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ مغربی ممالک کی وہ اسلام دشمن اورمسلمان دشمن پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے مسلمان نوجوان مایوسی کاشکار ہورہے اور ان کے سامنے مسلمانوں کے خلاف مغرب کی بڑھتی ہوئی چیرہ دستیوں کوروکنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ مغربی چیرہ دستیوں کی وجہ سے دنیا کے مختلف مقامات پر ہلاک ہونے والے مسلمانوں کے خون کا بدلہ ان مغربی ممالک کے شہریوں کو خاک وخون میں نہلا کر لیں تاکہ ان ملکوں کو یہ احساس ہوسکے کہ ان کی چیرہ دستیوں کا شکار ہونے والے خاندانوں کو کس اذیت ناک صورت حال کاسامنا کرنا پڑتاہے ، اگرچہ جذبات اور مایوسی کا شکار ہوکر اسلام کی اپنے طورپر تشریح کرنے والے گروہ کے ہتھے چڑھ جانے والے ان نوجوانوں کی اس طرح کی کارروائیوں کو کسی طور بھی حق بجانب قرار نہیں دیاجاسکتا کیونکہ نہ تو اسلام میں اس طرح کے انتقام کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اسلامی اخلاق اور روایات میں کہیں اس کی کوئی گنجائش نظر آتی ہے ،لیکن حقیقت یہ کہ آج پاکستان سمیت بہت سے مسلم ممالک بدترین دہشت گردی کا شکار ہیں اوردہشت گردوں کی بربریت سے یورپ اور امریکا بھی محفوظ نہیں ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں، یہ انسانیت کے قاتل ہیں۔ ان کو کسی بھی خطے میں پناہ نہیں ملنی چاہیے۔
برطانیہ میں بدترین دھماکے سے دہشت گردی کیخلاف عالمی برادری کے اتحاد کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ تاہم اس کے لیے مؤثر اور بڑی طاقتوں کو مصلحتوں کے حصار سے نکلنا ہو گا۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ داعش اہل اسلام کے مقدس ترین مقام، مسجد نبوی کے سائے میں بھی دہشت گردی کا ارتکاب کر چکی ہے مگر شام میں بشار الاسد کے خلاف بھی برسرپیکار ہے جہاں امریکا، سعودی
عرب اور ان کے اتحادی بھی بشارالاسد کے خلاف سرگرم عمل ہیں اوراس طرح داعش شام میں ایک اعتبار سے نہ صرف یہ کہ عملاً امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے اتحادی بن چکے ہیں اور اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ امریکا نے شام میں بشارالاسد حکومت کو شکست دینے کے لیے داعش کو بالواسطہ یا بلاواسطہ طورپر اسلحہ اور مالی امداد بھی فراہم کی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ،مختلف ممالک میں اپنے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے داعش ، الشباب اور اس جیسی تنظیموں کی سرپرستی ان تنظیموں کی آبیاری کی بنیاد بن رہی ہے اور اس طرح ان کے حوصلے بلند ہورہے ہیں اور اس طرح کی دہشت گرد تنظیمیں خود امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے حاصل ہونے والے اسلحہ اور تیکنیک کو خود ان ہی ملکوں کے خلاف استعمال کررہی ہیں۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کے باعث داعش اور بشارالاسد مخالف ممالک میں ایک غیر اعلانیہ اتحاد بن چکا ہے۔امریکا اور دیگر مغربی ممالک کو اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور محض بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی خاطر داعش کو شام میں قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش بہت بڑی بیماری ہے، اس کے خاتمے کے لیے بشارالاسد سے بھی وقتی طور پر ہاتھ ملانا پڑیں تو طاقتور ممالک ایسا کرنے سے گریز نہ کریں۔ مانچسٹر حملے میں داعش ملوث نہ بھی ہو تو بھی وہ پوری دنیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا قلع قمع کرناضروری ہے۔ موجودہ صورت حال نے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کردیاہے کہ دہشت گردوں کیخلاف عالمی اتحاد کی بلاتاخیر ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر