... loading ...

رمضان المبارک 1438ھ کے روزے شروع ہو چکے ہیں۔ اسلام دنیا کا دوسرابڑا مذہب ہے۔تقریباً 58 مسلم ممالک اور کروڑوں مسلمان اس کرہ ارض پر بس رہے ہیں۔ دیگر ابراہیمی مذاہب میں بھی روزے کا تصور پا یا جاتا ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا ‘اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔'(سورہ البقرہ، آیت 183)
روزے کے روحانی اور سماجی پہلوؤں پر علمائے کرام کی بے شمار تصانیف اور درس مو جود ہیں۔ مجموعی طور پہ روزے کا جو تصور ہمیں بتایا اور پڑھاگیا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ انسان کے اندر موجود فطری بھوک، لالچ اور وسائل کی ہوس کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ تمام مذاہب چونکہ انسان کی فلاح اور ایک پر امن معاشرے کے قیام پر ہی زور دیتے ہیں اوراپنے ماننے والوں کو اسی کادرس دیتے ہیں ہیں اس لیے ابراہیمی مذاہب کے علاوہ بھی ہر مذہب میں ‘برت’ اور’تیاگ’ کا فلسفہ پایا جا تا ہے۔
دراصل یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھوک، انسان کی جبلت پر حاوی ہے۔ انسانی آبادیوں کا پھیلاؤ، انسانی رویوں، بودو باش، رہن سہن، ہر شے پر اس کا غلبہ نظر آتا ہے۔تمام بڑی تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پہ پھلی پھولیںجس کی بنیادی وجہ بھوک مٹانے کیلئے خوراک کے حصول کی جستجو تھی۔ پانی اور خوراک کی تلاش میں انسان، دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا اور اسی خوراک کو اعتدال سے کھانا، یا کچھ دیر کے لیے اشتہا کے باوجود نہ کھانا، انسانی فطرت کے لیے ایک خاصی سخت قید یا آزمائش ہے۔
اس سال رمضان المبارک ایک ایسے موسم میں آیا ہے جب گرمی انتہا پر ہے اور دن لمبے ہیں، بعض ممالک میں روزے کا دورانیہ 20گھنٹے سے بھی زیادہ ہو گا اس کے باوجود لوگ روزہ رکھتے ہیں اور رکھ رہے ہیں اور روزہ رکھنے کے باوجود اپنے روزمرہ کے کام بھی انجام دے رہے ہیں یہ یقیناً جبلت پر تربیت کی فتح ہے۔
روزے کے معمو ل کو اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایک وقت کا کھانا کم ہو جاتا ہے اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ خرچ عام دنوں کے مقابلے میں کم ہو مگر ہوتا یہ ہے کہ کھانے پینے کی رفتار اور میز کا پھیلاؤ اس مہینے بے حد بڑھ جاتا یا بڑھا دیاجاتاہے، اگر کھانے کی میز کایہ پھیلائو غریبوں کاپیٹ بھرنے کی نیت سے بڑھایا جائے تو روزے کااصل مقصد حاصل ہوسکتاہے لیکن ہمارے معاشرے میں عام طورپر کھانے کی میز کاپھیلائو غریبوں کیلئے نہیں ہوتا بلکہ رمضان المبارک کے دوران روزہ افطار کرنے کے بعد سے مسلسل کھاتے رہنا ہی ہمارا معمول بن جاتا ہے اور تین وقت کی جگہ چار وقت کھایا جاتا ہے۔ملازم یا گھر کی خواتین کو باورچی خانے میں جھونک دیا جاتا ہے اور عید کے کپڑے خریدتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ’’ دنیا میں بے ایمانی حد سے بڑھ گئی ہے، ایکس ایل سائز میں بھی بالشت بالشت کپڑا کم لگا رہے ہیں ،کم بختوں کے کفن کو لگے گا‘‘۔
جس عمل کو روزے کے ‘اہتمام’ کا نام دیا جاتا ہے وہ آلو، چنے، املی کی چٹنی، سموسوں، دہی بھلوں، شامی کبابوں، پراٹھوں، دہی، کھجلے، پھینیوں، پکوڑوں، کچوریوں اور فروٹ چاٹ پر پھیلا خوراک کی ہوس اور بھوک کا ایک ایسا جال ہے جو روزے کی اصل روح سے بہت دور لے جاتا ہے۔
صدق جائسی اپنی کتاب ‘دربارِ دربار ‘ میں رمضان المبارک میں جونئیر پرنس کی ایک عادت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہر روزہ بزاز کی دکان پر جا کر مصاحبین کے لیے عید کی اچکن پسند کرتے ہوئے گزارتے تھے اور اس عمل کو ‘روزہ بہلانا’ کہتے تھے۔ من حیث القوم ہم بھی نواب ہیں، چنانچہ رمضان سے چند ماہ پہلے ہی ہمارے ٹی وی چینلز اور انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں غلغلہ بلند ہو جاتا ہے۔رمضان کے لئے نت نئے ڈرامے تخلیق کئے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر ڈرامے، پھکڑ پن اور گھٹیا مزاح کا اعلیٰ شاہکار ہوتے ہیں، یہ ڈرامے دو ماہ پہلے ہی تیار کر لیے جاتے ہیںاس کے بعد سحری اور افطار ٹرانسمیشن کے لیے زیادہ ریٹنگ والی اور والے اداکار اور اداکارائوں کی بکنگ کامرحلہ شروع ہوتاہے اور اس طرح رمضان المبارک کی برکت کے طفیل مختلف انداز میں بھانڈ کا کردار ادا کرنے والے ان نوجوانوں کو بھی کچھ کام اور کام کے مقابلے میں خاصی بڑی رقم مل جاتی ہے، اس مقصد کیلئے مختلف اداکار اور اداکارائیں مختلف انداز سے اپنی مارکیٹنگ کرتے اور کرتی نظر آتی ہیں ،اور ہر ایک ٹی وی چینل کے مالکان یا سربراہ کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ان کے پروگرام کو چار چاند لگانے کا یقین دلاکر بھاری رقم کے عوض اپنی بکنگ کو یقینی بنالیتی ہیں۔
اس کے بعد رمضان ٹرانسمیشن کیلئے اسٹیج کی تیاری کامرحلہ آتا ہے اور ہر اینکر خود زیادہ سے زیادہ نمایاں نظر آنے اور اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مختلف جتن کرتا نظر آتاہے اس مقصد کیلئے موبائل فون کمپنیوں،اور موٹر سائیکل کمپنیوں اور مٹھائی فروشوں کو ان کی غیر معمولی تشہیر کے وعدوں پر کچھ مفت انعام دینے پر رضامند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،تاکہ رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کرنے والوں کو ترغیب ملے اور ان کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کیلئے دعوت ناموں کی درخواستوں کی بھرمار کے ذریعے چینل مالکان کو شو کی مقبولیت کا یقین دلایاجاسکے ،شیفون کے دوپٹے، ہلکے رنگوں کی لپ اسٹک، مہنگے مردانہ کرتے، ترکی لالٹینیں، اقلیدسی نمونوں سے دیواریں سجاکر اسٹیج کو پرکشش بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مچھلیاں، خرگوش، اژدھے، موٹر سائیکلیں، الٹے سیدھے، بھونڈے کھیل پیش کرکے رمضان ٹرانسمیشن کے شرکا کو مصروف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔’’ حسبِ ضرورت‘‘ دو ایک علما بھی بٹھا لیے جاتے ہیں جن کو پہنائے جانے والے کرتوں اور عماموں میں رنگوں کی حدت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی ان خصوصی نشریات کے اشتہارات اور بازاروں میں اشیا خورو نوش کی فراوانی دیکھ کر لگتا ہے اس ماہِ مبارک میں ہم کھانا نہیں بلکہ ٹھونسنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ ازلی اور ابدی بھوک جس کو دبانے کے لیے روزہ فرض کیا گیا کہیں سچ مچ نہ دب جائے، کہیں انسان کو واقعی فلاح نہ مل جائے۔ ازراہِ کرم اس بار سحر اور افطار میں کھائیے،ٹھونسیے نہیں، رمضان المبارک۔
شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...
ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...
اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...
یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...
قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...
مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...
اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...
(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...
سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...
فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...
ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...
، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...