وجود

... loading ...

وجود

رمضان تربیت نفس کا مہینہ یا۔۔۔؟؟؟

منگل 30 مئی 2017 رمضان تربیت نفس کا مہینہ یا۔۔۔؟؟؟


رمضان المبارک 1438ھ کے روزے شروع ہو چکے ہیں۔ اسلام دنیا کا دوسرابڑا مذہب ہے۔تقریباً 58 مسلم ممالک اور کروڑوں مسلمان اس کرہ ارض پر بس رہے ہیں۔ دیگر ابراہیمی مذاہب میں بھی روزے کا تصور پا یا جاتا ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا ‘اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔'(سورہ البقرہ، آیت 183)
روزے کے روحانی اور سماجی پہلوؤں پر علمائے کرام کی بے شمار تصانیف اور درس مو جود ہیں۔ مجموعی طور پہ روزے کا جو تصور ہمیں بتایا اور پڑھاگیا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ انسان کے اندر موجود فطری بھوک، لالچ اور وسائل کی ہوس کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ تمام مذاہب چونکہ انسان کی فلاح اور ایک پر امن معاشرے کے قیام پر ہی زور دیتے ہیں اوراپنے ماننے والوں کو اسی کادرس دیتے ہیں ہیں اس لیے ابراہیمی مذاہب کے علاوہ بھی ہر مذہب میں ‘برت’ اور’تیاگ’ کا فلسفہ پایا جا تا ہے۔
دراصل یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھوک، انسان کی جبلت پر حاوی ہے۔ انسانی آبادیوں کا پھیلاؤ، انسانی رویوں، بودو باش، رہن سہن، ہر شے پر اس کا غلبہ نظر آتا ہے۔تمام بڑی تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پہ پھلی پھولیںجس کی بنیادی وجہ بھوک مٹانے کیلئے خوراک کے حصول کی جستجو تھی۔ پانی اور خوراک کی تلاش میں انسان، دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا اور اسی خوراک کو اعتدال سے کھانا، یا کچھ دیر کے لیے اشتہا کے باوجود نہ کھانا، انسانی فطرت کے لیے ایک خاصی سخت قید یا آزمائش ہے۔
اس سال رمضان المبارک ایک ایسے موسم میں آیا ہے جب گرمی انتہا پر ہے اور دن لمبے ہیں، بعض ممالک میں روزے کا دورانیہ 20گھنٹے سے بھی زیادہ ہو گا اس کے باوجود لوگ روزہ رکھتے ہیں اور رکھ رہے ہیں اور روزہ رکھنے کے باوجود اپنے روزمرہ کے کام بھی انجام دے رہے ہیں یہ یقیناً جبلت پر تربیت کی فتح ہے۔
روزے کے معمو ل کو اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایک وقت کا کھانا کم ہو جاتا ہے اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ خرچ عام دنوں کے مقابلے میں کم ہو مگر ہوتا یہ ہے کہ کھانے پینے کی رفتار اور میز کا پھیلاؤ اس مہینے بے حد بڑھ جاتا یا بڑھا دیاجاتاہے، اگر کھانے کی میز کایہ پھیلائو غریبوں کاپیٹ بھرنے کی نیت سے بڑھایا جائے تو روزے کااصل مقصد حاصل ہوسکتاہے لیکن ہمارے معاشرے میں عام طورپر کھانے کی میز کاپھیلائو غریبوں کیلئے نہیں ہوتا بلکہ رمضان المبارک کے دوران روزہ افطار کرنے کے بعد سے مسلسل کھاتے رہنا ہی ہمارا معمول بن جاتا ہے اور تین وقت کی جگہ چار وقت کھایا جاتا ہے۔ملازم یا گھر کی خواتین کو باورچی خانے میں جھونک دیا جاتا ہے اور عید کے کپڑے خریدتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ’’ دنیا میں بے ایمانی حد سے بڑھ گئی ہے، ایکس ایل سائز میں بھی بالشت بالشت کپڑا کم لگا رہے ہیں ،کم بختوں کے کفن کو لگے گا‘‘۔
جس عمل کو روزے کے ‘اہتمام’ کا نام دیا جاتا ہے وہ آلو، چنے، املی کی چٹنی، سموسوں، دہی بھلوں، شامی کبابوں، پراٹھوں، دہی، کھجلے، پھینیوں، پکوڑوں، کچوریوں اور فروٹ چاٹ پر پھیلا خوراک کی ہوس اور بھوک کا ایک ایسا جال ہے جو روزے کی اصل روح سے بہت دور لے جاتا ہے۔
صدق جائسی اپنی کتاب ‘دربارِ دربار ‘ میں رمضان المبارک میں جونئیر پرنس کی ایک عادت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہر روزہ بزاز کی دکان پر جا کر مصاحبین کے لیے عید کی اچکن پسند کرتے ہوئے گزارتے تھے اور اس عمل کو ‘روزہ بہلانا’ کہتے تھے۔ من حیث القوم ہم بھی نواب ہیں، چنانچہ رمضان سے چند ماہ پہلے ہی ہمارے ٹی وی چینلز اور انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں غلغلہ بلند ہو جاتا ہے۔رمضان کے لئے نت نئے ڈرامے تخلیق کئے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر ڈرامے، پھکڑ پن اور گھٹیا مزاح کا اعلیٰ شاہکار ہوتے ہیں، یہ ڈرامے دو ماہ پہلے ہی تیار کر لیے جاتے ہیںاس کے بعد سحری اور افطار ٹرانسمیشن کے لیے زیادہ ریٹنگ والی اور والے اداکار اور اداکارائوں کی بکنگ کامرحلہ شروع ہوتاہے اور اس طرح رمضان المبارک کی برکت کے طفیل مختلف انداز میں بھانڈ کا کردار ادا کرنے والے ان نوجوانوں کو بھی کچھ کام اور کام کے مقابلے میں خاصی بڑی رقم مل جاتی ہے، اس مقصد کیلئے مختلف اداکار اور اداکارائیں مختلف انداز سے اپنی مارکیٹنگ کرتے اور کرتی نظر آتی ہیں ،اور ہر ایک ٹی وی چینل کے مالکان یا سربراہ کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ان کے پروگرام کو چار چاند لگانے کا یقین دلاکر بھاری رقم کے عوض اپنی بکنگ کو یقینی بنالیتی ہیں۔
اس کے بعد رمضان ٹرانسمیشن کیلئے اسٹیج کی تیاری کامرحلہ آتا ہے اور ہر اینکر خود زیادہ سے زیادہ نمایاں نظر آنے اور اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مختلف جتن کرتا نظر آتاہے اس مقصد کیلئے موبائل فون کمپنیوں،اور موٹر سائیکل کمپنیوں اور مٹھائی فروشوں کو ان کی غیر معمولی تشہیر کے وعدوں پر کچھ مفت انعام دینے پر رضامند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،تاکہ رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کرنے والوں کو ترغیب ملے اور ان کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کیلئے دعوت ناموں کی درخواستوں کی بھرمار کے ذریعے چینل مالکان کو شو کی مقبولیت کا یقین دلایاجاسکے ،شیفون کے دوپٹے، ہلکے رنگوں کی لپ اسٹک، مہنگے مردانہ کرتے، ترکی لالٹینیں، اقلیدسی نمونوں سے دیواریں سجاکر اسٹیج کو پرکشش بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مچھلیاں، خرگوش، اژدھے، موٹر سائیکلیں، الٹے سیدھے، بھونڈے کھیل پیش کرکے رمضان ٹرانسمیشن کے شرکا کو مصروف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔’’ حسبِ ضرورت‘‘ دو ایک علما بھی بٹھا لیے جاتے ہیں جن کو پہنائے جانے والے کرتوں اور عماموں میں رنگوں کی حدت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی ان خصوصی نشریات کے اشتہارات اور بازاروں میں اشیا خورو نوش کی فراوانی دیکھ کر لگتا ہے اس ماہِ مبارک میں ہم کھانا نہیں بلکہ ٹھونسنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ ازلی اور ابدی بھوک جس کو دبانے کے لیے روزہ فرض کیا گیا کہیں سچ مچ نہ دب جائے، کہیں انسان کو واقعی فلاح نہ مل جائے۔ ازراہِ کرم اس بار سحر اور افطار میں کھائیے،ٹھونسیے نہیں، رمضان المبارک۔


متعلقہ خبریں


قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

مضامین
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار وجود هفته 24 جنوری 2026
سلگتا ہواروشنیوں کا شہر، منافع کی ہوس کا شکار

جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر