وجود

... loading ...

وجود

رمضان تربیت نفس کا مہینہ یا۔۔۔؟؟؟

منگل 30 مئی 2017 رمضان تربیت نفس کا مہینہ یا۔۔۔؟؟؟


رمضان المبارک 1438ھ کے روزے شروع ہو چکے ہیں۔ اسلام دنیا کا دوسرابڑا مذہب ہے۔تقریباً 58 مسلم ممالک اور کروڑوں مسلمان اس کرہ ارض پر بس رہے ہیں۔ دیگر ابراہیمی مذاہب میں بھی روزے کا تصور پا یا جاتا ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا ‘اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔'(سورہ البقرہ، آیت 183)
روزے کے روحانی اور سماجی پہلوؤں پر علمائے کرام کی بے شمار تصانیف اور درس مو جود ہیں۔ مجموعی طور پہ روزے کا جو تصور ہمیں بتایا اور پڑھاگیا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ انسان کے اندر موجود فطری بھوک، لالچ اور وسائل کی ہوس کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ تمام مذاہب چونکہ انسان کی فلاح اور ایک پر امن معاشرے کے قیام پر ہی زور دیتے ہیں اوراپنے ماننے والوں کو اسی کادرس دیتے ہیں ہیں اس لیے ابراہیمی مذاہب کے علاوہ بھی ہر مذہب میں ‘برت’ اور’تیاگ’ کا فلسفہ پایا جا تا ہے۔
دراصل یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھوک، انسان کی جبلت پر حاوی ہے۔ انسانی آبادیوں کا پھیلاؤ، انسانی رویوں، بودو باش، رہن سہن، ہر شے پر اس کا غلبہ نظر آتا ہے۔تمام بڑی تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پہ پھلی پھولیںجس کی بنیادی وجہ بھوک مٹانے کیلئے خوراک کے حصول کی جستجو تھی۔ پانی اور خوراک کی تلاش میں انسان، دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا اور اسی خوراک کو اعتدال سے کھانا، یا کچھ دیر کے لیے اشتہا کے باوجود نہ کھانا، انسانی فطرت کے لیے ایک خاصی سخت قید یا آزمائش ہے۔
اس سال رمضان المبارک ایک ایسے موسم میں آیا ہے جب گرمی انتہا پر ہے اور دن لمبے ہیں، بعض ممالک میں روزے کا دورانیہ 20گھنٹے سے بھی زیادہ ہو گا اس کے باوجود لوگ روزہ رکھتے ہیں اور رکھ رہے ہیں اور روزہ رکھنے کے باوجود اپنے روزمرہ کے کام بھی انجام دے رہے ہیں یہ یقیناً جبلت پر تربیت کی فتح ہے۔
روزے کے معمو ل کو اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایک وقت کا کھانا کم ہو جاتا ہے اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ خرچ عام دنوں کے مقابلے میں کم ہو مگر ہوتا یہ ہے کہ کھانے پینے کی رفتار اور میز کا پھیلاؤ اس مہینے بے حد بڑھ جاتا یا بڑھا دیاجاتاہے، اگر کھانے کی میز کایہ پھیلائو غریبوں کاپیٹ بھرنے کی نیت سے بڑھایا جائے تو روزے کااصل مقصد حاصل ہوسکتاہے لیکن ہمارے معاشرے میں عام طورپر کھانے کی میز کاپھیلائو غریبوں کیلئے نہیں ہوتا بلکہ رمضان المبارک کے دوران روزہ افطار کرنے کے بعد سے مسلسل کھاتے رہنا ہی ہمارا معمول بن جاتا ہے اور تین وقت کی جگہ چار وقت کھایا جاتا ہے۔ملازم یا گھر کی خواتین کو باورچی خانے میں جھونک دیا جاتا ہے اور عید کے کپڑے خریدتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ’’ دنیا میں بے ایمانی حد سے بڑھ گئی ہے، ایکس ایل سائز میں بھی بالشت بالشت کپڑا کم لگا رہے ہیں ،کم بختوں کے کفن کو لگے گا‘‘۔
جس عمل کو روزے کے ‘اہتمام’ کا نام دیا جاتا ہے وہ آلو، چنے، املی کی چٹنی، سموسوں، دہی بھلوں، شامی کبابوں، پراٹھوں، دہی، کھجلے، پھینیوں، پکوڑوں، کچوریوں اور فروٹ چاٹ پر پھیلا خوراک کی ہوس اور بھوک کا ایک ایسا جال ہے جو روزے کی اصل روح سے بہت دور لے جاتا ہے۔
صدق جائسی اپنی کتاب ‘دربارِ دربار ‘ میں رمضان المبارک میں جونئیر پرنس کی ایک عادت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہر روزہ بزاز کی دکان پر جا کر مصاحبین کے لیے عید کی اچکن پسند کرتے ہوئے گزارتے تھے اور اس عمل کو ‘روزہ بہلانا’ کہتے تھے۔ من حیث القوم ہم بھی نواب ہیں، چنانچہ رمضان سے چند ماہ پہلے ہی ہمارے ٹی وی چینلز اور انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں غلغلہ بلند ہو جاتا ہے۔رمضان کے لئے نت نئے ڈرامے تخلیق کئے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر ڈرامے، پھکڑ پن اور گھٹیا مزاح کا اعلیٰ شاہکار ہوتے ہیں، یہ ڈرامے دو ماہ پہلے ہی تیار کر لیے جاتے ہیںاس کے بعد سحری اور افطار ٹرانسمیشن کے لیے زیادہ ریٹنگ والی اور والے اداکار اور اداکارائوں کی بکنگ کامرحلہ شروع ہوتاہے اور اس طرح رمضان المبارک کی برکت کے طفیل مختلف انداز میں بھانڈ کا کردار ادا کرنے والے ان نوجوانوں کو بھی کچھ کام اور کام کے مقابلے میں خاصی بڑی رقم مل جاتی ہے، اس مقصد کیلئے مختلف اداکار اور اداکارائیں مختلف انداز سے اپنی مارکیٹنگ کرتے اور کرتی نظر آتی ہیں ،اور ہر ایک ٹی وی چینل کے مالکان یا سربراہ کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ان کے پروگرام کو چار چاند لگانے کا یقین دلاکر بھاری رقم کے عوض اپنی بکنگ کو یقینی بنالیتی ہیں۔
اس کے بعد رمضان ٹرانسمیشن کیلئے اسٹیج کی تیاری کامرحلہ آتا ہے اور ہر اینکر خود زیادہ سے زیادہ نمایاں نظر آنے اور اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مختلف جتن کرتا نظر آتاہے اس مقصد کیلئے موبائل فون کمپنیوں،اور موٹر سائیکل کمپنیوں اور مٹھائی فروشوں کو ان کی غیر معمولی تشہیر کے وعدوں پر کچھ مفت انعام دینے پر رضامند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،تاکہ رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کرنے والوں کو ترغیب ملے اور ان کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کیلئے دعوت ناموں کی درخواستوں کی بھرمار کے ذریعے چینل مالکان کو شو کی مقبولیت کا یقین دلایاجاسکے ،شیفون کے دوپٹے، ہلکے رنگوں کی لپ اسٹک، مہنگے مردانہ کرتے، ترکی لالٹینیں، اقلیدسی نمونوں سے دیواریں سجاکر اسٹیج کو پرکشش بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مچھلیاں، خرگوش، اژدھے، موٹر سائیکلیں، الٹے سیدھے، بھونڈے کھیل پیش کرکے رمضان ٹرانسمیشن کے شرکا کو مصروف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔’’ حسبِ ضرورت‘‘ دو ایک علما بھی بٹھا لیے جاتے ہیں جن کو پہنائے جانے والے کرتوں اور عماموں میں رنگوں کی حدت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی ان خصوصی نشریات کے اشتہارات اور بازاروں میں اشیا خورو نوش کی فراوانی دیکھ کر لگتا ہے اس ماہِ مبارک میں ہم کھانا نہیں بلکہ ٹھونسنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ ازلی اور ابدی بھوک جس کو دبانے کے لیے روزہ فرض کیا گیا کہیں سچ مچ نہ دب جائے، کہیں انسان کو واقعی فلاح نہ مل جائے۔ ازراہِ کرم اس بار سحر اور افطار میں کھائیے،ٹھونسیے نہیں، رمضان المبارک۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر