وجود

... loading ...

وجود

رمضان تربیت نفس کا مہینہ یا۔۔۔؟؟؟

منگل 30 مئی 2017 رمضان تربیت نفس کا مہینہ یا۔۔۔؟؟؟


رمضان المبارک 1438ھ کے روزے شروع ہو چکے ہیں۔ اسلام دنیا کا دوسرابڑا مذہب ہے۔تقریباً 58 مسلم ممالک اور کروڑوں مسلمان اس کرہ ارض پر بس رہے ہیں۔ دیگر ابراہیمی مذاہب میں بھی روزے کا تصور پا یا جاتا ہے۔ سورہ بقرہ میں فرمایا گیا ‘اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔'(سورہ البقرہ، آیت 183)
روزے کے روحانی اور سماجی پہلوؤں پر علمائے کرام کی بے شمار تصانیف اور درس مو جود ہیں۔ مجموعی طور پہ روزے کا جو تصور ہمیں بتایا اور پڑھاگیا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ انسان کے اندر موجود فطری بھوک، لالچ اور وسائل کی ہوس کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ تمام مذاہب چونکہ انسان کی فلاح اور ایک پر امن معاشرے کے قیام پر ہی زور دیتے ہیں اوراپنے ماننے والوں کو اسی کادرس دیتے ہیں ہیں اس لیے ابراہیمی مذاہب کے علاوہ بھی ہر مذہب میں ‘برت’ اور’تیاگ’ کا فلسفہ پایا جا تا ہے۔
دراصل یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھوک، انسان کی جبلت پر حاوی ہے۔ انسانی آبادیوں کا پھیلاؤ، انسانی رویوں، بودو باش، رہن سہن، ہر شے پر اس کا غلبہ نظر آتا ہے۔تمام بڑی تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پہ پھلی پھولیںجس کی بنیادی وجہ بھوک مٹانے کیلئے خوراک کے حصول کی جستجو تھی۔ پانی اور خوراک کی تلاش میں انسان، دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا اور اسی خوراک کو اعتدال سے کھانا، یا کچھ دیر کے لیے اشتہا کے باوجود نہ کھانا، انسانی فطرت کے لیے ایک خاصی سخت قید یا آزمائش ہے۔
اس سال رمضان المبارک ایک ایسے موسم میں آیا ہے جب گرمی انتہا پر ہے اور دن لمبے ہیں، بعض ممالک میں روزے کا دورانیہ 20گھنٹے سے بھی زیادہ ہو گا اس کے باوجود لوگ روزہ رکھتے ہیں اور رکھ رہے ہیں اور روزہ رکھنے کے باوجود اپنے روزمرہ کے کام بھی انجام دے رہے ہیں یہ یقیناً جبلت پر تربیت کی فتح ہے۔
روزے کے معمو ل کو اگر ہوش مندی سے دیکھا جائے تو ایک وقت کا کھانا کم ہو جاتا ہے اس لیے ہونا تو یہ چاہیے کہ خرچ عام دنوں کے مقابلے میں کم ہو مگر ہوتا یہ ہے کہ کھانے پینے کی رفتار اور میز کا پھیلاؤ اس مہینے بے حد بڑھ جاتا یا بڑھا دیاجاتاہے، اگر کھانے کی میز کایہ پھیلائو غریبوں کاپیٹ بھرنے کی نیت سے بڑھایا جائے تو روزے کااصل مقصد حاصل ہوسکتاہے لیکن ہمارے معاشرے میں عام طورپر کھانے کی میز کاپھیلائو غریبوں کیلئے نہیں ہوتا بلکہ رمضان المبارک کے دوران روزہ افطار کرنے کے بعد سے مسلسل کھاتے رہنا ہی ہمارا معمول بن جاتا ہے اور تین وقت کی جگہ چار وقت کھایا جاتا ہے۔ملازم یا گھر کی خواتین کو باورچی خانے میں جھونک دیا جاتا ہے اور عید کے کپڑے خریدتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ’’ دنیا میں بے ایمانی حد سے بڑھ گئی ہے، ایکس ایل سائز میں بھی بالشت بالشت کپڑا کم لگا رہے ہیں ،کم بختوں کے کفن کو لگے گا‘‘۔
جس عمل کو روزے کے ‘اہتمام’ کا نام دیا جاتا ہے وہ آلو، چنے، املی کی چٹنی، سموسوں، دہی بھلوں، شامی کبابوں، پراٹھوں، دہی، کھجلے، پھینیوں، پکوڑوں، کچوریوں اور فروٹ چاٹ پر پھیلا خوراک کی ہوس اور بھوک کا ایک ایسا جال ہے جو روزے کی اصل روح سے بہت دور لے جاتا ہے۔
صدق جائسی اپنی کتاب ‘دربارِ دربار ‘ میں رمضان المبارک میں جونئیر پرنس کی ایک عادت کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ہر روزہ بزاز کی دکان پر جا کر مصاحبین کے لیے عید کی اچکن پسند کرتے ہوئے گزارتے تھے اور اس عمل کو ‘روزہ بہلانا’ کہتے تھے۔ من حیث القوم ہم بھی نواب ہیں، چنانچہ رمضان سے چند ماہ پہلے ہی ہمارے ٹی وی چینلز اور انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری میں غلغلہ بلند ہو جاتا ہے۔رمضان کے لئے نت نئے ڈرامے تخلیق کئے جاتے ہیں جن میں سے بیشتر ڈرامے، پھکڑ پن اور گھٹیا مزاح کا اعلیٰ شاہکار ہوتے ہیں، یہ ڈرامے دو ماہ پہلے ہی تیار کر لیے جاتے ہیںاس کے بعد سحری اور افطار ٹرانسمیشن کے لیے زیادہ ریٹنگ والی اور والے اداکار اور اداکارائوں کی بکنگ کامرحلہ شروع ہوتاہے اور اس طرح رمضان المبارک کی برکت کے طفیل مختلف انداز میں بھانڈ کا کردار ادا کرنے والے ان نوجوانوں کو بھی کچھ کام اور کام کے مقابلے میں خاصی بڑی رقم مل جاتی ہے، اس مقصد کیلئے مختلف اداکار اور اداکارائیں مختلف انداز سے اپنی مارکیٹنگ کرتے اور کرتی نظر آتی ہیں ،اور ہر ایک ٹی وی چینل کے مالکان یا سربراہ کو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ان کے پروگرام کو چار چاند لگانے کا یقین دلاکر بھاری رقم کے عوض اپنی بکنگ کو یقینی بنالیتی ہیں۔
اس کے بعد رمضان ٹرانسمیشن کیلئے اسٹیج کی تیاری کامرحلہ آتا ہے اور ہر اینکر خود زیادہ سے زیادہ نمایاں نظر آنے اور اپنے پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے مختلف جتن کرتا نظر آتاہے اس مقصد کیلئے موبائل فون کمپنیوں،اور موٹر سائیکل کمپنیوں اور مٹھائی فروشوں کو ان کی غیر معمولی تشہیر کے وعدوں پر کچھ مفت انعام دینے پر رضامند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،تاکہ رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کرنے والوں کو ترغیب ملے اور ان کی رمضان ٹرانسمیشن میں شرکت کیلئے دعوت ناموں کی درخواستوں کی بھرمار کے ذریعے چینل مالکان کو شو کی مقبولیت کا یقین دلایاجاسکے ،شیفون کے دوپٹے، ہلکے رنگوں کی لپ اسٹک، مہنگے مردانہ کرتے، ترکی لالٹینیں، اقلیدسی نمونوں سے دیواریں سجاکر اسٹیج کو پرکشش بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مچھلیاں، خرگوش، اژدھے، موٹر سائیکلیں، الٹے سیدھے، بھونڈے کھیل پیش کرکے رمضان ٹرانسمیشن کے شرکا کو مصروف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔’’ حسبِ ضرورت‘‘ دو ایک علما بھی بٹھا لیے جاتے ہیں جن کو پہنائے جانے والے کرتوں اور عماموں میں رنگوں کی حدت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
رمضان المبارک کی ان خصوصی نشریات کے اشتہارات اور بازاروں میں اشیا خورو نوش کی فراوانی دیکھ کر لگتا ہے اس ماہِ مبارک میں ہم کھانا نہیں بلکہ ٹھونسنا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ ازلی اور ابدی بھوک جس کو دبانے کے لیے روزہ فرض کیا گیا کہیں سچ مچ نہ دب جائے، کہیں انسان کو واقعی فلاح نہ مل جائے۔ ازراہِ کرم اس بار سحر اور افطار میں کھائیے،ٹھونسیے نہیں، رمضان المبارک۔


متعلقہ خبریں


سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے وجود - اتوار 28 جون 2026

تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیق...

گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا وجود - اتوار 28 جون 2026

ڈیزل پر لیوی میں 6روپے 57پیسے جبکہ پیٹرول پر 39پیسے فی لیٹر اضافہ مٹی کے تیل پر لیوی کی شرح 20روپے 36پیسے فی لیٹر پر برقرار، ذرائع تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں اضافہ کردیا

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک وجود - اتوار 28 جون 2026

دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، آئی ای ڈیز اور موٹرسائیکلیں برآمد سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں خاران اور مستونگ میں کارروائیاں ،آئی ایس پی آر بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ...

بلوچستان،سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم وجود - جمعه 26 جون 2026

پاکستان دنیا میں پیس میکر بن چکا، اب معاشی قوت بننا ہمارا ہدف ہے‘ آج دنیا پاکستان کو دہشت گردی کے بجائے امن، استحکام اور تعمیری کردار کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے، اسحاق ڈار اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا میں منفرد مقام عطاء کیا ، پوری قوم اس پر شکر گزار ہے ، وزیراعظم اور فیلڈ ...

پاکستان پر بری نگاہ ڈالنے والوں کی آنکھیں نکال لیں گے، نائب وزیراعظم

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق وجود - جمعه 26 جون 2026

بلاول بھٹو کا مطالبہ درست، کراچی بلدیاتی انتخابات کی طرز پر الیکشن کروانے سے بہتر انتخابات نہ کروانا ہوگا کوئی تفصیل جاننا چاہتا ہیں توحافظ نعیم یا خالد مقبول سے پوچھ لیں،بلاول کے بیان پر جواب مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کا بلدیاتی انتخابات ت...

کراچی طرزکابلدیاتی انتخاب نہ کروانا بہتر ہے،سعدرفیق

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن وجود - جمعه 26 جون 2026

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے والی ن لیگ کراچی کے جمہوری عمل اور بلدیاتی نظام پر تنقید کر رہی ہے پہلے پنجاب کے عوام کو ان کا آئینی حق دے،پھر دوسرے صوبوں کے نظام پر تنقید کریسعد رفیق کے بیان پر ردعمل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان پر سینئر وزیر سندھ ...

کراچی میں بلدیاتی انتخابات قانون کے مطابق ہوئے، شرجیل میمن

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار وجود - جمعه 26 جون 2026

سلامتی کونسل کی قراردادوں پر غیر جانبدارانہ اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے طریقہ کار پر غور سلامتی کونسل کی قراردادیں محض سفارشات نہیں قانونی ذمہ داری ہیں، پاکستانی مستقل مندوب پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔پاکستان اورچی...

کشمیر اور فلسطین کے حل طلب تنازعات عالمی امن کیلئے خطرہ قرار

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع وجود - جمعه 26 جون 2026

وزیراعظم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے رونا گانا شروع کر دیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا 104ارب نقصان کادعوی کر دیا پاکستان میں مہنگے تیل پر اربوں روپے منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا جار...

مہنگے تیل پر اربوں منافع کمانے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا رونا دھونا شروع

مضامین
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات وجود منگل 30 جون 2026
بھارت میں مذہبی مقامات سے متعلق سوالات

میرے عزیزہم وطنو!! وجود منگل 30 جون 2026
میرے عزیزہم وطنو!!

قیامت کا پتھر وجود منگل 30 جون 2026
قیامت کا پتھر

ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ وجود منگل 30 جون 2026
ایک صنعت کار وزیر اعظم کا عوام دشمن فیصلہ

شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام وجود پیر 29 جون 2026
شہادتِ امام حسین اور عصرِ حاضر کے لیے پیغام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر