وجود

... loading ...

وجود

بھارتی سفاکیت ،مجاہدین کی شہادت مقبوضہ وادی میں تحریک ِآزادی کی نئی چنگاری سلگ اٹھی

منگل 30 مئی 2017 بھارتی سفاکیت ،مجاہدین کی شہادت مقبوضہ وادی میں تحریک ِآزادی کی نئی چنگاری سلگ اٹھی

کشمیر کے علاقے پلوامہ کے گاؤں ترال میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتوں کے خلاف ایک بار پھر شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات سحر خوانوں کی صدا کے بجائے کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔خیال رہے کہ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت شہادت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔
اس سے قبل ترال کے ‘سوئی مْو’ گاؤں میں محصور سبزار اور اس کے ساتھیوں کو ‘بچانے’ کے لیے مقامی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت واقع ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔پولیس کے انسپکٹر جنرل سیدجاوید مجتبیٰ گیلانی نے شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی موت فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوئی۔ تاہم بیج بہاڑہ کے آر ونی قصبہ سے عینی شاہدین نے بتایا کہ تصادم کے دوران لوگوں نے مظاہرے کیے اور سرکاری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آرونی میں لشکر طیبہ کے چیف ابو دْجانہ ساتھیوں سمیت موجود ہیں، جسکے بعد پولیس نے بھارتی فوج اور نیم فوجی اداروں کی مدد سے حسن پورہ بستی کا محاصرہ کیا۔تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ حریت پسند کمانڈرابو دْجانہ محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آئی جی پی گیلانی نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کارروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔برہان وانی کی طرح اپنے شہید سپوت سبزار بٹ کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ کئی جگہ شہید مجاہد کی غائبانہ نمازجنازہ بھی ادا کی گئی۔دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کردیا گیا۔ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔سبزار بٹ گزشتہ برس جولائی میں شہید کیے گئے مقبول نوجوان کشمیری کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کارروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان شہید کیے گئے تھے جبکہ10 ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے تھے۔سید علی گیلانی، یٰسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے اس قتل وغارت کے خلاف اتوار اور پیر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ منگل کو ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اْٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا اور وہاں فی الحال کرفیو نافذ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی موت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجینئرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ بھی گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گزشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔گزشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی شہادت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اْبل پڑا۔رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحرخوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔حکومت نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ قبل ازیں خبروں کے مطابق مقبوضہ وادی کے جنوبی قصبہ ترال میں طویل محاصرے کے دوران حریت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بھٹ شہیدہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ کہ ان کے ہمراہ عادل اور فیضان نامی ان کے دو دوست بھی شہید ہو ئے ہیں۔ سبزاربھٹ گزشتہ موسم گرما میں جابربھارتی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے خوبرو نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے،8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی موت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پربھارت مخالف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کوششوں میں کم از کم 100 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیںلیکن عوام اس ظلم و استبداد کے باوجود قدم پیچھے ہٹانے پر رضا مند نہیں۔مسلسل کئی ماہ سے کشمیر میں عام زندگی ہڑتالوں، گرفتاریوں اور سرکاری پابندیوں کے باعث معطل ہے۔تازہ تصادم کے بعد حکومت نے پھر ایک بار جنوبی کشمیر مِیں ٹیلیفوں رابطوں اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو محدود کردیا ہے۔احتجاجی تحریک کے دوران 18ستمبر کو اْڑی قصبہ میں بھارتی فوج کے کیمپ پر مسلح حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ساری توجہ ایل او سی پر پیدا شدہ کشیدگی اور ہندپاک تعلقات میں تناؤ پر چلی گئی تھی۔
اتنے عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟اس دوران مقبوضہ کشمیرکے عوام ثابت قدمی اور ارادوں کی مضبوطی کے کئی امتحانات سے دوچار ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کاکہناہے کہ ہم تو امتحانوں کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس دوران بھارتی فوج نے بھی سفاکیت کے نئے مقام سر کر لیے جس کے شکار 4سالہ بچے سے لے کر 80 سالہ بوڑھے بھی ہو ئے۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی پٹھو حکومت دہلی سے وفاداری میں اندھی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اب مقبوضہ کشمیر میں تعلیم بھی سیاست کی زد پر آگئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم وستم اور سفاکیت کی داستانیں سناتے ہوئے مقامی باشندوں نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے لوہے کی سلاخوں، چاقو اور ڈنڈے لے کر رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھس کر بچوں اور بڑوں کی شدید پٹائی کی، عورتوں کی بے عزتی کی اور سامان تہس نہس کیا، وہاںکشمیری رضاکاروں نے زخمیوں اور ان کے تیماداروں کے لیے ہسپتالوں میں مہینوں کھانا نہیں کھایا۔بھارتی فوجیوں نے ایک مہینے کے اندر 13 لاکھ چھرے نہتے لوگوں پر داغے اور سیکڑوں لوگوں کو اندھا بنایا، وہیں ہمارے ڈاکٹروں نے آنسو گیس سے بھرے ہسپتالوں میں دن رات ان چھروں اور گولیوں سے زخمی لوگوں کے علاج کئے۔جہاں ایک طرف سے زخمیوں سے بھری ایمبولینس کے ڈرائیور پر گولی چلائی گئی وہاں اسی ڈرائیور نے اپنے زخموں کا خیال نہ کرتے ہوئے پہلے ایمبولینس میں پڑے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا پھر اپنے زخموں کا علاج کروایا۔جہاں حکومت نے لگاتار کرفیو لگا کر چھوٹے بچوں کو دودھ سے اور بیماروں کو ان کی دوا سے محروم کیا ،وہیں کشمیریوں نے ایکسیڈنٹ میں زخمی ہندوستانی یاتریوں کے زخموں پر مرہم لگائی۔ہماری آزادی کی یہ جنگ جاری ہے۔ جہاں ہم اپنے جائز حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں انڈیا کی سرکار کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو قائم رکھنے کے لیے وحشیانہ طرز عمل کے سبب حدیں پار کر رہی ہے۔کچھ دن پہلے ایک کتاب پڑھنے کے دوران اس میں ایک فقرہ نظر سے گزرا جسے پڑھ کر غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔ کشمیر کے سابق گورنر جگموہن نے 1990 میں کہا تھا ‘کشمیر کا حل صرف گولی ہے۔’
یہ وہی جگموہن ہیں جن کی بطور گورنر حلف اٹھانے کے ایک دن بعد سرینگر میں ‘گو کدل’ کا قتل عام ہوا جس میں 52 نہتے شہریوں کو بھارتی فوجیوں نے گولیاں برسا کر مار ڈالا۔جگموہن کا دور کشمیر کا ایک سیاہ دور تھا۔ یہی جگموہن جو سابقہ افسر شاہی کا فرد تھا اب بی جے پی کا رکن بن گاہے۔ اسے 2016 کے شروع میں بی جے پی سرکار نے ہندوستان کے دوسرے بڑے اعزاز پدما ویبھوشن سے بھی نوازا۔جس ملک کی سرکار اور اس کے حرکاروں کی ایسی سوچ ہو اس ملک سے جمہوریت یا انسانیت کی آپ کیا امید کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا یہ برابری کی جنگ نہیں ہے۔یہ آزادی کی جنگ ہے جو تب تک جاری رہے گی جب تک کشمیر آزاد نہ ہوجائے ، پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سبزار کی شہادت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی اور طلبہ نے تعلیمی اداروں میں مظاہرے کیے۔ ترال میں جھڑپ کی جگہ کے قریب پہلے ہی ہزاروں لوگ مظاہرے کر رہے تھے۔واضح رہے کہ ماہ رمضان کی آمد پر جمعے کی شب سوشل میڈیا پر ایک ماہ سے جاری پابندی کو ہٹایا گیا تھا تاہم بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سبزار بٹ کی شہادت کے بعد اگر مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوگیا تو انٹرنیٹ اور فون سروسز کو معطل کیا جا سکتا ہے۔
حزب المجاہدین کمانڈرسبزاربھٹ گزشتہ موسم گرما میں جابربھارتی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے خوبرو نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے،جن کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پربھارت مخالف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کوششوں میں کم از کم 100 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیںلیکن عوام اس ظلم و استبداد کے باوجود قدم پیچھے ہٹانے پر رضا مند نہیں۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر