... loading ...
کشمیر کے علاقے پلوامہ کے گاؤں ترال میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتوں کے خلاف ایک بار پھر شدید مظاہرے ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات سحر خوانوں کی صدا کے بجائے کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔خیال رہے کہ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت شہادت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔
اس سے قبل ترال کے ‘سوئی مْو’ گاؤں میں محصور سبزار اور اس کے ساتھیوں کو ‘بچانے’ کے لیے مقامی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت واقع ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔پولیس کے انسپکٹر جنرل سیدجاوید مجتبیٰ گیلانی نے شہری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اْس کی موت فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہوئی۔ تاہم بیج بہاڑہ کے آر ونی قصبہ سے عینی شاہدین نے بتایا کہ تصادم کے دوران لوگوں نے مظاہرے کیے اور سرکاری فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک شہری شہید اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ آرونی میں لشکر طیبہ کے چیف ابو دْجانہ ساتھیوں سمیت موجود ہیں، جسکے بعد پولیس نے بھارتی فوج اور نیم فوجی اداروں کی مدد سے حسن پورہ بستی کا محاصرہ کیا۔تاہم لوگوں کا کہنا ہے کہ حریت پسند کمانڈرابو دْجانہ محاصرہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ آئی جی پی گیلانی نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق ہفتے کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کارروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔برہان وانی کی طرح اپنے شہید سپوت سبزار بٹ کی نماز جنازہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ کئی جگہ شہید مجاہد کی غائبانہ نمازجنازہ بھی ادا کی گئی۔دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کردیا گیا۔ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔سبزار بٹ گزشتہ برس جولائی میں شہید کیے گئے مقبول نوجوان کشمیری کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔برہان وانی کی شہادت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کارروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان شہید کیے گئے تھے جبکہ10 ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے تھے۔سید علی گیلانی، یٰسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے اس قتل وغارت کے خلاف اتوار اور پیر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ منگل کو ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اْٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پولیس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا اور وہاں فی الحال کرفیو نافذ ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی موت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجینئرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ بھی گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گزشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔گزشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی شہادت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اْبل پڑا۔رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحرخوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔حکومت نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔ قبل ازیں خبروں کے مطابق مقبوضہ وادی کے جنوبی قصبہ ترال میں طویل محاصرے کے دوران حریت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بھٹ شہیدہو گئے ہیں۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ کہ ان کے ہمراہ عادل اور فیضان نامی ان کے دو دوست بھی شہید ہو ئے ہیں۔ سبزاربھٹ گزشتہ موسم گرما میں جابربھارتی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے خوبرو نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے،8 جولائی 2016 کو برہان وانی کی موت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پربھارت مخالف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کوششوں میں کم از کم 100 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیںلیکن عوام اس ظلم و استبداد کے باوجود قدم پیچھے ہٹانے پر رضا مند نہیں۔مسلسل کئی ماہ سے کشمیر میں عام زندگی ہڑتالوں، گرفتاریوں اور سرکاری پابندیوں کے باعث معطل ہے۔تازہ تصادم کے بعد حکومت نے پھر ایک بار جنوبی کشمیر مِیں ٹیلیفوں رابطوں اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو محدود کردیا ہے۔احتجاجی تحریک کے دوران 18ستمبر کو اْڑی قصبہ میں بھارتی فوج کے کیمپ پر مسلح حملے میں 19فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ساری توجہ ایل او سی پر پیدا شدہ کشیدگی اور ہندپاک تعلقات میں تناؤ پر چلی گئی تھی۔
اتنے عرصے سے جاری احتجاج کی لہر، تشدد اور کرفیو کا کشمیریوں پر کیا اثر پڑا ہے؟اس دوران مقبوضہ کشمیرکے عوام ثابت قدمی اور ارادوں کی مضبوطی کے کئی امتحانات سے دوچار ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کاکہناہے کہ ہم تو امتحانوں کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس دوران بھارتی فوج نے بھی سفاکیت کے نئے مقام سر کر لیے جس کے شکار 4سالہ بچے سے لے کر 80 سالہ بوڑھے بھی ہو ئے۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی پٹھو حکومت دہلی سے وفاداری میں اندھی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اب مقبوضہ کشمیر میں تعلیم بھی سیاست کی زد پر آگئی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ظلم وستم اور سفاکیت کی داستانیں سناتے ہوئے مقامی باشندوں نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے لوہے کی سلاخوں، چاقو اور ڈنڈے لے کر رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھس کر بچوں اور بڑوں کی شدید پٹائی کی، عورتوں کی بے عزتی کی اور سامان تہس نہس کیا، وہاںکشمیری رضاکاروں نے زخمیوں اور ان کے تیماداروں کے لیے ہسپتالوں میں مہینوں کھانا نہیں کھایا۔بھارتی فوجیوں نے ایک مہینے کے اندر 13 لاکھ چھرے نہتے لوگوں پر داغے اور سیکڑوں لوگوں کو اندھا بنایا، وہیں ہمارے ڈاکٹروں نے آنسو گیس سے بھرے ہسپتالوں میں دن رات ان چھروں اور گولیوں سے زخمی لوگوں کے علاج کئے۔جہاں ایک طرف سے زخمیوں سے بھری ایمبولینس کے ڈرائیور پر گولی چلائی گئی وہاں اسی ڈرائیور نے اپنے زخموں کا خیال نہ کرتے ہوئے پہلے ایمبولینس میں پڑے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا پھر اپنے زخموں کا علاج کروایا۔جہاں حکومت نے لگاتار کرفیو لگا کر چھوٹے بچوں کو دودھ سے اور بیماروں کو ان کی دوا سے محروم کیا ،وہیں کشمیریوں نے ایکسیڈنٹ میں زخمی ہندوستانی یاتریوں کے زخموں پر مرہم لگائی۔ہماری آزادی کی یہ جنگ جاری ہے۔ جہاں ہم اپنے جائز حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں انڈیا کی سرکار کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو قائم رکھنے کے لیے وحشیانہ طرز عمل کے سبب حدیں پار کر رہی ہے۔کچھ دن پہلے ایک کتاب پڑھنے کے دوران اس میں ایک فقرہ نظر سے گزرا جسے پڑھ کر غصہ بھی آیا اور دکھ بھی ہوا۔ کشمیر کے سابق گورنر جگموہن نے 1990 میں کہا تھا ‘کشمیر کا حل صرف گولی ہے۔’
یہ وہی جگموہن ہیں جن کی بطور گورنر حلف اٹھانے کے ایک دن بعد سرینگر میں ‘گو کدل’ کا قتل عام ہوا جس میں 52 نہتے شہریوں کو بھارتی فوجیوں نے گولیاں برسا کر مار ڈالا۔جگموہن کا دور کشمیر کا ایک سیاہ دور تھا۔ یہی جگموہن جو سابقہ افسر شاہی کا فرد تھا اب بی جے پی کا رکن بن گاہے۔ اسے 2016 کے شروع میں بی جے پی سرکار نے ہندوستان کے دوسرے بڑے اعزاز پدما ویبھوشن سے بھی نوازا۔جس ملک کی سرکار اور اس کے حرکاروں کی ایسی سوچ ہو اس ملک سے جمہوریت یا انسانیت کی آپ کیا امید کر سکتے ہیں؟ جیسا کہ میں نے کہا یہ برابری کی جنگ نہیں ہے۔یہ آزادی کی جنگ ہے جو تب تک جاری رہے گی جب تک کشمیر آزاد نہ ہوجائے ، پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
سبزار کی شہادت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی اور طلبہ نے تعلیمی اداروں میں مظاہرے کیے۔ ترال میں جھڑپ کی جگہ کے قریب پہلے ہی ہزاروں لوگ مظاہرے کر رہے تھے۔واضح رہے کہ ماہ رمضان کی آمد پر جمعے کی شب سوشل میڈیا پر ایک ماہ سے جاری پابندی کو ہٹایا گیا تھا تاہم بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سبزار بٹ کی شہادت کے بعد اگر مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوگیا تو انٹرنیٹ اور فون سروسز کو معطل کیا جا سکتا ہے۔
حزب المجاہدین کمانڈرسبزاربھٹ گزشتہ موسم گرما میں جابربھارتی افواج سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے خوبرو نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے،جن کی شہادت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پربھارت مخالف عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کوششوں میں کم از کم 100 افراد اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیںلیکن عوام اس ظلم و استبداد کے باوجود قدم پیچھے ہٹانے پر رضا مند نہیں۔
تہمینہ حیات نقوی
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...
وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...
بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...
محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...