وجود

... loading ...

وجود

نئے سال کا بجٹ ….ای او بی آئی کے پنشنر اضافے سے بھی محروم

پیر 29 مئی 2017 نئے سال کا بجٹ ….ای او بی آئی کے پنشنر اضافے سے بھی محروم

وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میںاگلے مالی سال 18-2017 ءکا 47 کھرب 50 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا اور اس کے دوسرے دن اسلام آباد میں صحافیوں کے سامنے صفائیاں پیش کرتے ہوئے یہ یقین دہانیاں کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ حکومت بجٹ کی آڑ میں مہنگائی میں اضافہ کرنے نہیں دے گی اور ایسا کرنے کی کوشش کرنے والوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹاجائے گا۔ انہوں نے کم از کم اجرت میں مزید اضافے کے امکان کا بھی اشارہ دیاجس پر عملدرآمد کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے سرکاری اداروں میں ملازمتوں کی آس لگائے ہوئے نوجوانوں کو سرخ جھنڈی دکھاتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں میں لوگوں کو مزید ملازم نہیں رکھا جاسکتا، کیونکہ بقول وزیر خزانہ، بیشتر سرکاری اداروں میں 100-100 اسامیوں پر500-500 افراد پہلے ہی سے ملازم رکھے جاچکے ہیں۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے زیادہ رقم رکھی گئی ہے اور جاری اخراجات کو افراط زر سے بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ بجٹ میں محصولات کے ہدف میں 14 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہمارے 18-2017 ءکے اہداف میں جی ڈی پی 6 فیصد تک لے جانا شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں دفاع کو دیگر شعبوں کے مقابلے میں ترجیح دی گئی ہے اور اس شعبے کے لیے 920 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔واضح رہے کہ آئندہ مالی سال 18-2017ءکے بجٹ میں حکومت نے دفاع کے لیے مختص رقم میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے، 17-2016 ءمیں حکومت نے دفاع کے لیے 860 ارب مختص کیے تھے، تاہم یہ مختص بجٹ مکمل طور پر خرچ نہیں ہوا اور 860 ارب میں سے صرف 841 ارب روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا۔پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہم نے عام آدمی پر براہ راست کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا، 500 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا تاثر غلط ہے، ہم نے 120 ارب روپے کے ٹیکس لگائے ہیں اور 33 ارب روپے کا ریلیف دیا گیا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران اسحق ڈار نے کہا، ‘میں نے سوشل میڈیا پر پڑھا کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے، حالانکہ ہم نے ایک چیز بھی نہیں بڑھائی اور نہ ہی دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی’۔وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور وہ اس سے مطمئن ہیں۔گزشتہ روز بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا تھا کہ سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ فوجی افسران اور جوانوں کی تنخواہوں میں اسپیشل 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) نے پہلی مرتبہ اپنے دورِ حکومت کا پانچواں بجٹ پیش کیا۔اس سے قبل اس بجٹ کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی تھی۔بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب وزیراعظم اور وزیر خزانہ پانچویں بار بجٹ پیش کر رہے ہیں۔‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ، 2013 ءمیں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، مالی خسارہ 8 فیصد سے بڑھ چکا تھا، توانائی کا بحران حد سے زیادہ تھا، جبکہ آج پاکستان کی جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.3 فیصد ہے ،جو پچھلے 10 سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔‘انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ ادوار میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت کو غیر مستحکم قرار دیا جاچکا تھا، عالمی بینک پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے گریزاں تھا، جبکہ ان کے دعوے کے مطابق آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور پاکستان 2030ءتک دنیا کی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل ہوجائے گا۔‘وزیر خزانہ نے بتایا کہ ’اس سال مشینری کی درآمد میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، صنعتوں کے لیے لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، گھریلو صارفین کے لیے بھی لوڈ شیڈنگ کم ہوئی، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2016 ءتک اصلاحاتی کام مکمل کرلیا ہے، دنیا کی بڑی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتربتائی ہے، جبکہ عالمی برادری کا ہم پر معاشی اعتبار مضبوط ہوا ہے۔‘اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ برس ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔حکومتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے اسحق ڈار نے بتایا کہ ’حال ہی میں ہم نے اوپن گورنمنٹ پارٹنر شپ (او جی پی) پر دستخط کیے، جس کے لیے ایک خاص معیار پر پورا اترنا پڑتا ہے، جو شفافیت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔‘پاکستانی معیشت کی تیز رفتار ترقی کے ذکر پر اپوزیشن نے ’جھوٹ ہے جھوٹ ہے‘ کے نعرے لگائے اور شور شرابہ کیا۔
نئے سال کا بجٹ غالبا ً پاکستان کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس کی آمد سے قبل ہی اس کی دھوم مچنا شروع ہوگئی تھی اور عام طورپر یہ تاثر دیاجارہاتھا کہ اس دفعہ کا بجٹ اتنا عوام دوست ہوگا کہ لوگ برسوں اسے یاد رکھیں گے ، اگرچہ بجٹ کے اعلان کے بعد عوام کی تمام توقعات پر اوس پڑ گئی، سب سے زیادہ مایوسی اولڈ ایج بینی فٹس اسکیم کے تحت پنشن حاصل کرنے والے ان معمر افراد کو ہوئی جن کو اس دور میں بھی جب خود وزیر خزانہ کم از کم اجرت 15ہزار روپے کرنے اور اس پر عمل کرانے کااعلان کررہے ہیں صرف 5ہزار 250 روپے ماہانہ پنشن پر ٹرخایا جارہاہے ، لیکن بجٹ کی تیاری، اس پر نظر ثانی اور اعلان تک وزیر خزانہ کو ان غریب اور بے سہارا پنشنروں کا نہ کوئی خیال آیا اورنہ ہی انہوں نے اس پر توجہ دینے کی ضرورت محسوس کی ۔ انہیں تو اس بات پر خوشی تھی کہ وہ وزیر اعظم سے اپنے ساتھی ارکان اسمبلی اوروزرا کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ، اور وزیر اعظم اور صدر مملکت کو اس بات کی خوشی تھی کہ بجٹ میں ایوان وزیراعظم اور ایوان صدر کے اخراجات میں مزید کروڑوں روپے کا اضافہ کردیا گیاہے، انہیں اس بات کی کیا پروا کہ اس ملک کے لاکھوں معمر افراد صرف 5ہزار 250 روپے ماہانہ پنشن پر کس طرح گزارا کریں گے ،اور کیا اس دور میں جب پانی بھی خرید کر پینے پر مجبور ہونا پڑ رہاہے ایسا ممکن بھی ہے ۔
یقیناًاس سے پہلے کبھی ایسا وفاقی بجٹ پیش نہیں کیا گیا جو حالیہ بجٹ کی طرح آس اور امیدوں پر ہی ٹکا ہو۔اپنے آخری مالی سال میں حکومت نے ہمیں ایک ایسا بجٹ دیا ہے جس میں وہ اپنا کیک کھانا بھی چاہتی ہے اور بچا کر رکھنا بھی چاہتی ہے۔ موجودہ اخراجات میں غیر یقینی حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ ترقیاتی اخراجات اب تک کی سب سے بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ریونیو کا جائزہ لیں تو اضافی ریونیو کا پورا بوجھ مقامی کاروباری مراکز پر ڈال دیا گیا، جبکہ بجٹ تقریر میں صنعت کے لیے امدادی اقدامات پر زور دیا گیا۔ ایف بی آر ریونیو میں 14 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ گزشتہ سالوں میں اسے پہلے ہی اپنے کم اہداف کو حاصل کرنے میں مشکل کا سامنا رہا ہے۔ دیگر محصولات میں مناسب اضافے ہوئے ہیں۔ٹھیک اسی طرح، اگلے سال کے لیے اخراجات کے ہدف میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے 2 فیصد جتنا مناسب اضافہ ہوا، جبکہ ترقیاتی اخراجات میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔اگر موجودہ اخراجات تجویز کردہ حد تک محدود رہ سکتے ہیں، اور ایف بی آر توقعات پر پورا اتر سکا، تو بجٹ شاید نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ اگر مگر والی بات ہے۔وزیر خزانہ اپنی حکومت کی کامیابیوں پر شیخی بگھارنے سے بھی پیچھے نہ ہٹے، اور موجودہ کارکردگی کا موازنہ ان کی حکومت سے قبل مالی سال 2012 ءاور 2013ءسے کرنے لگے۔پارلیمنٹ میں کئی شیخیوں میں سے ایک ’دور رس تعمیری اصلاحات‘ کے بارے میں تھی، خاص طور پر ٹیکس مشینری کے اندر ہونے والی اصلاحات، جس نے ٹیکس مشینری کو ’مزید منصفانہ اور مو¿ثر‘ بنایا۔ یہ بجٹ اس شیخی کو بھی ایک بہت بڑے امتحان سے گزارنے والا ہے۔سبسڈیز کی بھی اگر بات کریں تو جہاں گزشتہ سال کے اہداف میں توانائی سے متعلقہ قیمتوں پر سبسڈی سے قریب 50 فیصد اضافہ ہو گیا تھا، اس سال بھی حکومت گزشتہ سال جتنا ہی ہدف رکھنے، اور کے الیکٹرک کی ادائیگیوں کو 50 فیصد تک کمی کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو صارفین کو سال کے دوران قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا ہوگا یا پھر وصولیوں میں معجزانہ نتائج کے لیے کام کرنا ہوگا۔بجٹ کا کیک عوام میں بانٹنے کے لیے حکومت ’بجلی سب کے لیے‘ جیسے مبہم منصوبوں کے تحت پروگراموں کو وسیع کرنا چاہتی ہے، اسی کے ساتھ بڑے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سی پیک (جس کے لیے ترقیاتی پروگرام میں 180 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں) کو بھی آگے کر دیا گیا۔ جب کہ ایسے کسی بھی ریونیو اقدامات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے جو عوام کیلئے مایوس کن بن سکتے ہوں یا ٹیکس بیس کو وسیع کرسکتے ہوں۔ٹیکس بیس میں وسعت کی ترجیح کو تو بڑی حد تک ایک جگہ رکھ دیا گیا ہے، اور انکم ٹیکس گوشواروں کے نان فائلرز پر جرمانہ لگانے کے حوالے سے اقدامات کو غیر معمولی ریونیو اسکیموں میں شامل کر دیا گیا ہے۔یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہوگا کہ کس طرح حکومت کَسی ہوئی رسی پر چلتی ہے جو اس نے اگلے سال کیلئے خود باندھی ہے۔ یہ حکومت اپوزیشن سے معاہدوں کے حوالے سے کچھ خاص شہرت بھی نہیں رکھتی، نہ ہی ریاستی خزانے کو لاحق مسائل حل کرنے کے لے جدید طریقوں کے استعمال کے لیے مشہور ہے۔ مگر اس بجٹ کے اہداف ان کے ہاتھوں میں موجود ہتھیار کے توازن کا امتحان لیں گے۔اس بات کیلئے تیار رہنا چاہیے کہ ضرورت کے تحت ایڈ ہاک بنیادوں پر کئی خرابیاں ٹھیک کی جاتی رہیں گی۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر