وجود

... loading ...

وجود

سی پیک پر رکاوٹ ڈالنے کے بھارتی منصوبے میں تیزی

اتوار 28 مئی 2017 سی پیک پر رکاوٹ ڈالنے کے بھارتی منصوبے میں تیزی

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے بچھائے ہوئے جاسوسی اور تخریب کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد تیزہوتا محسوس ہورہاہے اور کلبھوشن کے تنخوا ہ دار بھارتی ایجنٹوں نے اب کلبھوشن کو سزا سے بچانے اور حکومت پاکستان کو اسے رہا کرکے بھارت کے حوالے کرنے پر مجبور کرنے کے لیے تخریب کاری کی نئی حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت پاک چین کوریڈور منصوبے کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنا اور اس منصوبے پر کام کرنے والے ملکی افرادی قوت کو ڈرا دھمکاکر کام سے روکنے کے لیے ان کے قتل کی وارداتوںمیں تیزی لانے کے علاوہ اس منصوبے کے تحت خدمات انجام دینے والے چینی باشندوں کوقتل اور اغوا کرنا شامل ہے، اخباری اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ روز جناح ٹائون کوئٹہ سے دو چینی باشندوں کے اغواکی واردات اسی حکمت عملی کاحصہ تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق چینی جوڑا اور ساتھی خاتون جناح ٹائون کے علاقے میں رہائش پذیر تھے اور ایک لینگویج سنٹر میں چینی زبان پڑھاتے تھے۔ مغویوں کی شناخت لی ژانگ اور منگ لیاسی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ خریداری کے بعد مارکیٹ سے واپس آرہے تھے کہ ایک گاڑی میں سوار چار مسلح افراد نے انہیں روکا اور تینوں کو گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی تاہم ایک چینی خاتون بچ نکلی جبکہ مسلح افراد چینی جوڑے کو اغواکرکے نامعلوم مقام کی جانب لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس موقع پر ایک شہری نے چینی باشندوں کو اغواسے بچانے کی کوشش کی تاہم مسلح افراد نے اس کی ٹانگ پر گولی مار کر اسے زخمی کردیا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں دو ہفتے کے دوران اغواکا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے اور شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اغواکی یہ وارداتیں گوادر پورٹ کو سبوتاژکرنے کی سازشوں میں مصروف دہشت گردوں کے بھارتی نیٹ ورک کی جانب سے کی جا رہی ہیں جن میں بطور خاص چینی باشندوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے چینی جوڑے کے اغواکا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور پولیس تھانہ جناح ٹاؤن اور گوالمنڈی کے ڈی ایس پی اور دو ایس ایچ او حضرات کو معطل کردیا ہے۔ علاوہ ازیں کوئٹہ میں چینی باشندوں کے اغواکے بعد لاہور ایئرپورٹ پر سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور چینی باشندوں کی سیکورٹی کے لیے اضافی نفری بھی لاہور ایئرپورٹ پہنچ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چین کی معاونت سے تکمیل پذیر ہونیوالی گوادر پورٹ اور اس سے منسلک اقتصادی راہداری منصوبے کی سب سے زیادہ تکلیف ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت کو ہورہی ہے، جو شروع دن سے پاکستان کی سلامتی کے درپے ہے اور اسے اقتصادی طور پر مستحکم اور خوشحال ملک کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتا، جبکہ سی پیک سے پاکستان کا تابناک مستقبل وابستہ ہے لہٰذا ہمیں بھارت کی طرف سے آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی ۔ صرف یہی نہیں پاکستان چین اقتصادی راہداری پاکستان کے تحفظ و بقاکی بھی ضمانت بن رہی ہے کیونکہ دنیا کے جو ممالک اپنی تجارتی سرگرمیوں کے لیے سی پیک کے ساتھ منسلک ہورہے ہیں وہ پاکستان کو کبھی عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دینگے ۔ پاکستان کے تابناک مستقبل کی یہی وہ حقیقت حال ہے جو بھارت کو ہضم نہیں ہو رہی اور اس نے سی پیک کو ناکام بنانے کے لیے اپنے دہشت گردی کے نیٹ ورک سمیت بلوچستان میں ’’را‘‘ کا جاسوسی نیٹ ورک پھیلا دیا ہے جس نے مختلف سازشی منصوبوں کا جال بچھایا ہوا ہے۔ ’’را‘‘ کا حاضر سروس جاسوس دہشت گرد کلبھوشن بھی اسی نیٹ ورک کا حصہ تھا جس نے ایران کی چاہ بہار پورٹ سے گوادر پورٹ تک سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے گھنائونے منصوبے کا جال بچھایا اور گرفتار ہونے کے بعد اپنے اعترافی بیان میں پاکستان کی سالمیت کیخلاف بھارتی سازشوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔ اس تناظر میں آج پاکستان اور سی پیک کیخلاف بھارتی سازشوں سے پوری دنیا آگاہ ہوچکی ہے جس کے بارے میں پاکستان کا تیار کردہ ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی دفتر خارجہ کے پاس موجود ہے جس میں بلوچستان اور پاکستان کے دوسرے علاقوں میں بھارتی دہشت گردی کے ٹھوس ثبوت اور شواہد پیش کردیے گئے ہیں۔
بھارت نے اپنے اس سازشی ذہن کے تحت ہی پہلے گوادر پورٹ پر اور پھر اقتصادی راہداری منصوبے کے لیے کام کرنیوالے چینی انجینئروں‘ ٹیکنکل اسٹاف اور مزدوروں کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا جس کے لیے علیحدگی کی مہم چلانے والی بلوچستان کی دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرگنائزیشن (بی ایل اے) کی سرپرستی کی گئی جو بلوچستان میں پہلے ہی ٹارگٹ کلنگ میں مصروف تھی۔ اس سازشی منصوبے کے تحت ہی گزشتہ سال دس چینی انجینئروں اور مزدوروں کو اغواء کرکے ان کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی جس کا مقصد چینی باشندوں کو خوفزدہ کرکے انہیں اپنے ملک واپس جانے پر مجبور کرنے کا تھا جبکہ اس سے چین کو بھی یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کی آماجگاہ ہونے کے ناطے چینی باشندوں کے لیے قطعی غیرمحفوظ ہے اس لیے چین کو گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری منصوبے سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔
یہی پیغام لے کر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بیجنگ گئے اور وہاں چین کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کیخلاف چیخ و پکار کرتے رہے جبکہ انہوں نے چین کو اقتصادی راہداری منصوبے سے دستکش ہونے کے لیے قائل کرنے کی بھی کوشش کی مگر سی پیک کے تابناک مستقبل کے پیش نظر چینی لیڈرشپ نے بھارتی متعصب وزیراعظم کو کھری کھری سنا کر واپس لوٹا دیا۔ اس کے بعد بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے بلوچستان میں اپنی تخریبی سرگرمیاں تیز کردیں۔ چنانچہ آئے روز بلوچستان میں دہشت گردی اور خودکش حملے کی کوئی نہ کوئی واردات ہونے لگی۔ اگر بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن گرفتار نہ ہوتا تو ’’را‘‘ کا یہ سازشی نیٹ ورک اب تک نہ جانے کیا گل کھلا چکا ہوتا جبکہ بھارت اپنے اس جاسوس کی گرفتاری کے بعد بھی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں سے باز نہیں آیا جس کے تربیت یافتہ دہشت گرد افغانستان کے راستے سے پاکستان میں داخل ہو کر یہاں پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی گھنائونی سازشوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ ان بھارتی سازشوں کا تو خود نریندر مودی اپنی ایک تقریر میں فخریہ طور پر اعتراف کرچکے ہیں جنہوں نے بلوچستان میں نام نہاد علیحدگی پسندوں کی سرپرستی کا اعتراف کیا اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں بھی مداخلت کا عندیہ دیا۔ اس تناظر میں گزشتہ روز کوئٹہ سے چینی جوڑے کے اغواکی واردات میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا ملوث ہونا بعیداز قیاس ہرگز نہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق اغواکنندگان نے خود کو کسی ایجنسی کے اہلکار ظاہر کیا اور جس شخص نے ان کے ہاتھوں چینی باشندوں کے اغواکو ناکام بنانے کی کوشش کی اس کی جانب سے سرکاری ملازمت کا کارڈ طلب کرنے پر ہی اغواکنندگان نے اسے گولی مار کر زخمی کیا اور راستے سے ہٹایا۔ اس سے بادی النظر میں اغواکی اس واردات کی کڑیاں بلوچستان میں موجود بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے نیٹ ورک سے ہی ملتی نظر آرہی ہیں، اس لیے اغواکی اس واردات کی ٹھوس بنیادوں پر جامع تحقیقات کی ضرورت ہے جس کے لیے مشاق تفتیشی افسران کی مدد لی جانی چاہیے۔
پاکستان کیخلاف بھارتی گھنائونی سازشوں کا اندازہ تو اس امر سے ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک جامع ڈوزیئر فراہم کرنے کے باوجود بھارت کی بازپرس نہیں کی جارہی اور اقوام متحدہ کے اکنامک اینڈ سوشل کمیشن برائے ایشیااور پیسفک (ای ایس سی اے پی) کی ایک حالیہ رپورٹ میں خطے کی ترقی و خوشحالی کے ضامن سی پیک کو پاکستان بھارت کی کشیدگی بڑھنے کا سبب قرار دیا جارہا ہے۔ یہی تو بھارت کا منفی پراپیگنڈا ہے جس کی بنیاد پر اس نے چین کو بھی سی پیک سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی اور اقوام متحدہ میں بھی وہ اپنے پروپیگنڈا بازوں کے ذریعے سی پیک مخالف پراپیگنڈا کرکے اس سے پاک بھارت تنازعہ بڑھنے کا تاثر دینے میں کامیاب ہورہا ہے۔
ہمارے لیے یہ صورتحال یقیناً تشویشناک ہے کہ ہمارے سفارتکار اور لابسٹ حضرات پاکستان بھارت تنازعات میں عالمی فورموں پر پاکستان کے حق میں فضا اور رائے عامہ ہموار کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔ اس وقت جبکہ ہمارا مکار دشمن ہمیں اقوام عالم میں تنہاکرنے اور ہمارے تابناک مستقبل کے ضامن سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے‘ ہمیں اس کی ہر سازش پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہماری سالمیت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس وقت چین ہی وہ واحد ملک ہے جو ڈٹ کر ہمارے ساتھ کھڑا ہے اور اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر ہمارے مؤقف کی وکالت کررہا ہے اس لیے ہمیں گوادر پورٹ اور اقتصادی راہداری منصوبے پر کام کرنیوالے چینی ماہرین‘ انجینئروں اور مزدوروں کے علاوہ یہاں مقیم دوسرے چینی باشندوں کے لیے بھی خصوصی حفاظتی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ گزشتہ روز کی اغواء جیسی کسی واردات کے باعث برادر چین کو ہمارے ساتھ کسی قسم کی بدگمانی لاحق نہ ہو۔ سی پیک کو کامیاب بنانا ہمارے حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی یا غفلت آڑے نہیں آنے دینی چاہیے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر