... loading ...

پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت 27دسمبر 2007ءکوکیا بدلی سارے اصول، ساری پالیسیاں ،ساری حکمت عملی ،سارے حالات ہی تبدیل ہوگئے۔ جو اصول ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے طے کیے گئے تھے اور محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ان کو برقراررکھا مگرآصف علی زرداری نے ان سب کوملیا میٹ کردیا اورتمام ضابطے اصول ،اخلاقیات کا طمطراق سے جنازہ نکال دیا اوراب ایک ایسی پارٹی بن کرابھری ہے جس کا کوئی اصول، پالیسی ،اخلاقیات نہیں ہے۔ یہ ایک پبلک لمیٹڈ بن کررہ گئی ہے اورپیسہ اب اس پارٹی کی بنیاد بن گیاہے۔ جب آصف علی زرداری نے میثاق جمہوریت کواپنے پیروں سے روند ڈالا اورازلی دشمن گجرات کے چودھریوں شجاعت حسین اورپرویز الٰہی سے مفاہمت کے نام پرجواتحاد کیا، اس دن پرانی پیپلزپارٹی کودفن کرکے ایک نئی پیپلزپارٹی کو جنم دیاگیا، جس کا یہ اصول تھا کہ سب کچھ پیسہ ہے اوردشمن دوست کا تصور ختم ہوگیا اورسب کواپنی پارٹی میں شامل کرو، وفاداری کا ایک ہی مطلب ہے کہ آصف زرداری اورفریال ٹالپر کا وفادار ہو،انورمجید کومقدس گائے سمجھائے جائے اوررشوت کی پوری رقم اپنی جیب میں ڈالنے کے بجائے مل بانٹ کرکھانی چاہیے اورسب کو راضی رکھا جائے۔
عجیب تیری دوستی عجب تیر ا کام
یزید سے بھی دوستی، حسین کوبھی سلام
اسی لیے توسینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہاتھا کہ آصف علی زرداری کی سیاست کوسمجھنے کے لیے دومرتبہ پی ایچ ڈی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرآج ضیاءالحق ،جسٹس مولوی مشتاق، چودھری ظہور الٰہی ،جام صادق علی جیسے پی پی مخالف زندہ ہوتے توآصف علی زرداری مفاہمت کے نام پران کوپارٹی میں شامل کرلیتے۔ جام مددعلی جیسے لوگوں کوپی پی پی میں شامل کرکے پی پی پی کے اصولوں کا دھوم سے جنازہ نکال دیاگیا۔ لیکن پارٹی میں ایک روایت ڈالی گئی کہ جس نے بھی ملکی سلامتی کے اداروں سے جھگڑا کیا یا پھر وفاقی حکومت سے تنازعہ کھڑا کیا توآصف زرداری نے اس کواتنی بڑی اہمیت دی، جب بطور وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے تندوتیز لہجے میں خط وکتابت کی تواسحاق ڈار نے تنگ ہوکر کہاکہ مراد علی شاہ کوخط وکتابت کا زیادہ شوق ہے اورپارٹی قیادت ان کوفی الحال وزیراعلیٰ نہیں بنائے گی بس اس بات کوآصف علی زرداری نے پکڑلیا اورآناً فاناً قائم علی شاہ سے استعفیٰ لے کرسید مراد علی شاہ کو وزیراعلیٰ سندھ بنادیا پھرگزشتہ سال جب سندھ کے وزیرداخلہ سہیل انورسیال کی ہدایت پران کے بھائی طارق سیال نے رینجرز ،نیب اور حساس اداروں کے اہلکاروں کویرغمال بناکرلاڑکانہ کے ٹھیکیدار اسد کھرل کوتھانہ سے زبردستی چھڑالیا تواس وقت سہیل انورسیال آصف زرداری اورفریال ٹالپر کی آنکھ کا تارابن گیا، طاقت ور اداروں کی شدید مخالفت پرسہیل انور سیال کونئی کابینہ میں وزیرزراعت بنایاگیا لیکن پھر چھ ماہ بھی نہیں گزرے کہ ان کودوبارہ وزیرداخلہ بنادیاگیا ہے ۔اس مرتبہ جس مقصد کے لیے سہیل انور سیال کووزیرداخلہ بنایا گیا ہے وہ واضح ہے، ایک تواہم ترین مقصد یہ ہے کہ موجودہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے ساتھ لڑائی لڑنا ہے اوردوسرا مقصد عام انتخابات سے قبل سیاسی مخالفین کوپولیس کے ذریعے کچلنا ہے اورتیسرا مقصد پارٹی کے اندرناراض رہنماؤں کے خلاف ثبوت تیار کرنا اوران کوسبق سکھانا ہے کیونکہ جس طرح سہیل انورسیال نے ضلع لاڑکانہ میں90ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پرلیپاپوتی کرکے ساری رقم فریال ٹالپر کے سامنے رکھ دی ہے اور اسدکھرل کوٹھیکے دلواکر ساری حکمت عملی بنائی اوربعدازاں اسدکھرل کوزبردستی چھڑوالیا، اس عمل سے انہوں نے آصف زرداری اورفریال ٹالپر کے دل جیت لیے ہیں اوراب سہیل انور سیال کی اہمیت سید مراد علی شاہ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کران کودوبارہ وزیرداخلہ بنایاگیاہے تاکہ پہلے راؤنڈ میں وہ آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ سے لڑائی شروع کریں، پہلے مرحلے میں وہ پولیس کے اندر تبادلوں وتقرریوں پرپابندی عائد کریں گے اورپھروہ پورے صوبے میں ڈی ایس پی سے لے کر ایڈیشنل آئی جی سطح تک کے افسران اپنی مرضی سے رکھیں گے، پھرامن وامان کے اجلاس خود منعقد کریں گے سیکورٹی پلان بھی خود منظور کریں گے اورآئی جی سندھ پولیس کا عہدہ صرف رسمی رہ جائے گا۔ تمام اختیارات وزیرداخلہ سہیل انور سیال ہی استعمال کریں گے اورپھرآئی جی سندھ پولیس اگرکچھ کرنا بھی چاہیں گے توکرنہیں سکیں گے۔ خاص طورپر اب باقی رہ جانے والی 13ہزار نئے پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی ذمہ داری بھی سہیل انور سیال ادا کریں گے ،کیونکہ پچھلی مرتبہ12ہزار نئے پولیس اہلکاروں کی میرٹ پربھرتی کرنے سے انورمجید کے خواب چکنا چور ہوگئے کیونکہ انورمجید نے فی اہلکار 5لاکھ روپے لینے کے حساب سے 6ارب روپے کمانے کا ٹارگٹ رکھا تھا، لیکن آئی جی سندھ پولیس نے بھرتی کرنے والی کمیٹی میں فوج کا میجرشامل کرکے انورمجید کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔ یوں میرٹ پرغریبوں کے بچے بھرتی ہوگئے اورانورمجید 6ارب روپے نہ کماسکے۔ اوراب باقی 13ہزار اہلکاروں سے ساڑھے6ارب روپے کمانے کے لیے سہیل انور سیال کوآگے لایاگیاہے کیونکہ وہ آصف زرداری اورفریال ٹالپر کا قابل اعتماد ساتھی ہے اوروہ قیادت کے حکم پرہرکام کرکے دکھائیں گے۔ اس لیے طاقتور حلقوں کی مخالفت کے باوجود انہیں دوبارہ وزیرداخلہ بنادیاگیاہے۔ سہیل انور سیال کی دوسری ذمہ داری یہ ہے صوبے میں جوسیاسی مخالفین ہیںان کوپولیس کے ذریعے سبق سکھائیں تاکہ وہ یاتوپیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں یا پھرمیدان چھوڑ کر بھاگ جائیں، یوں آسانی سے الیکشن جیتا جائے اورمقابلہ کرنے والا کوئی نہیں ہو اوران کا تیسرا کام یہ ہے کہ وہ پارٹی کے اندرناراض رہنماؤں کی نشاندہی کریں، پہلے ان کوسمجھائیں کہ وہ پارٹی سے الگ نہ ہوں اگروہ مان جائیں توٹھیک ہے اگرنہ مانیں توپھران کے خلاف پولیس کی طاقت استعمال کریں، ان کوپہلے تومحکمہ جیل خانہ جات دیاگیاتھا اب محکمہ داخلہ بھی دے دیاگیاہے تاکہ ایک طرف وہ کسی پرمقد مہ بناکر جیل بھیجیں اورجب وہ جیل جائیں توان پرجیل میں سختیاں کرائیں یوں ایک تیرسے کئی شکارکرنے کی ذمہ داری سہیل انورسیال کودے دی گئی ہے ۔ کیونکہ وہ سب سے زیادہ وفادار ہیں۔ سہیل انورسیال نے اپنے ہی حلقہ انتخاب میں اپنے قریبی رشتہ دار اورمسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکریٹری بابو اورسرور سیال کوضمنی الیکشن میں اپنے حق میں دستبردار کرانے کے لیے فریال ٹالپر کوساتھ لے جاکر ان کے گھرپہنچ گئے جس پربابوسرورسیال نے گھرآنے والوں کوعزت دیتے ہوئے دستبردار ہونے کااعلان کیا لیکن جب انور سیال وزیرداخلہ بنے توسب سے پہلے انہوں نے بابو سرورسیال کے خلاف مقدمات کیے ان کے گھرپرحملے کرائے اورحملہ کے نتیجے میں بابوسرورسیال کا بھانجا جاں بحق ہوا اوراب دوسری مرتبہ وہ وزیر داخلہ بنے ہیں اس مرتبہ بھی وہ پرانے حساب چکائیں گے اورباقی رہ جانے والا انتقام پورا کریں گے۔ سہیل انورسیال صبح ہوتے ہی سب سے پہلے فریال ٹالپر کے ہاں حاضری دیتے ہیں، وزیرداخلہ بن جانے کے بعد سہیل انور سیال وہی حاضری برقراررکھیں گے اورجوحکم فریال ٹالپر دیں گی اس پرعمل کریں گے۔ انورمجید جیسے بندوں کی عید ہوگئی کیونکہ اب توگنے کے کاشتکاروں اورشوگرملز کے مالکان کوگرفتار کرنا آسان ہوگا اورپھر اومنی گروپ کے دفاتر اور انورمجید کے گھرسے اسلحہ ملنے اورنثار مورائی کے گھرکے قریب سے اسلحہ برآمد کرنے کے کیس میں وہی تفتیش ہوگی جوانورمجید چاہیں گے۔ یوں انورمجید کوکلین چٹ مل جائے گی۔ سب سے اہم ایشو رینجرز کا ہوگا۔ جس کے ساتھ تنازعات کے لیے سہیل انورسیال کوموزون سمجھا جارہا ہے کیونکہ رینجرز کے اختیارات اورمدت میں توسیع کے معاملہ پرحکومت سندھ نے ہربار جھگڑا کرنے کا فیصلہ کیاہے اورپیپلزپارٹی کی قیادت سمجھتی ہے کہ ان تمام معاملات پروزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ فٹ نہیں ہیںاس کام کے لیے سہیل انور سیال ہی بہتر ہیں اس لیے ان کووزیرداخلہ بنایاگیاہے۔
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...