... loading ...

بلوچستان کی دونوں سرحدوں پر کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے ،پاک افغان باڈر پر چمن کا سرحدی علاقہ عتاب میں ہے کہ یہاں کے دو گاوں لقمان اور جہانگیر میں مردم شماری کے عمل میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے عملے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر فائر کھول دی گئی تھی جس کہ نتیجہ میں دو پاکستانی شہری شہید،6 بچوں اور 13 خواتین سمیت 42 افراد زخمی ہو گئے۔
پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی میں 50 سے زائد افغان فوجی ہلاک 100 سے زائد زخمی4سے 5 چیک پوسٹیں تباہ ہو گئیں۔پاکستان نے افغان حکومت کو اس بارے پہلے ہی آگاہ کردیا تھا۔5مئی 2016ءکے اس واقعہ کے بعد پاک افغان 2430 کلومیٹر لمبا بارڈر بند کردیا گیا۔دونوں ملکوں کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے سیز فائر کی کیفیت ہے۔امیگریشن سسٹم بھی مکمل طور پر معطل ہے۔
نیٹوسپلائی،پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دیگر تجارتی سامان سے لدے ٹرک سینکڑوں کی تعداد میں کھڑے ہیں۔چمن شہر میں اشیاءخورونوش کی قلت ہے۔آئی جی ایف سی نے چمن میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو مالی امداد کے چیک بھی دیے تاہم سرحدی دیہاتوں سے لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔دراصل چمن کے دو سرحدی گاؤں کلی لقمان اور کلی جہانگیر پاکستان اور افغانستان منقسم ہیں۔
ان کا ایک حصہ افغانستان اور ایک حصہ پاکستان میں ہے۔پاکستان نے باضابطہ طور پر افغانستان کو مردم شماری کی اطلاع دیدی تھی اور افغانستان نے 5 مئی کی صبح اس گاؤں کے گھروں پر قبضہ کر لیا اور اب اس کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے۔بلوچستان میں گاؤں کو کلی کہتے ہیں۔اب جبکہ پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ ہو چکے ہیں اور افغان حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ دونوں گاؤں افغانستان کا حصہ ہیں جس پر بلوچستان کے کئی سیاسی رہنماؤں نے یہ بیان دیا ہے کہ اگر یہ گاؤں بلوچستان کا حصہ ہیں تو خوراک پانی،بجلی اور دیگر سہولیات پاکستان سے کیوں دی جارہی ہیں ،اس میں تمام طبقہ فکر اس امر پر متفق ہیں کہ روسی حملے کہ بعد 50 لاکھ افغانوں کو پناہ دینے والا پاکستان آج افغانوں کے لیے کیوں تلخ گوشہ یا دشمن بن گیا ہے۔تو اس کا جواب افغانستان میں موجود بھارتی ہیں جنہوں نے 15 سال سے افغانستان کو یہ سبق از بر کروا دیا ہے کہ افغانستان کی ہر مشکل کا ذمہ دار پاکستان ہے۔وہاں موجود بھارتی کمپنیاں سرمایہ کاری اور مختلف این جی اوز افغانوں کو پاکستان دشمنی کا سبق دینے میں مسلسل مصروف ہیں اور اب حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار بھی بھارت ہے۔مگر اس کے اثرات پاکستان بالخصوص بلوچستان پر پڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان سے ملحقہ سرحد ایران ہے جس کے ایرانی فوج کے سربراہ نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں پاکستان اپنی سرزمین سے دہشتگردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے،حملے جاری رہے تو ایران انہیں نشانہ بنا سکتا ہے۔اس سے پہلے بھی ایرانی عہدیدار پاکستان آئے اور بعض اطلاعات کے مطابق ایک توانہوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو تک رسائی مانگی تھی جس پر یقیناً انہیں صاف جواب مل گیا جس پر انہوں نے کہا کہ”جیش العدل“نام کے ایک دہشتگرد گروپ نے 26 اپریل کو بلوچستان سے ملحقہ ایرانی علاقے سیستھان میں پاکستانی سرحد کے قریب10 سرحدی گارڈز کو قتل کر دیا اور یہ بلوچستان میں پناہ گاہ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں اور یہاں سے ایران کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔جس پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا معلومات دیں تو کاروائی کرینگے۔سرحدی مسائل کے حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کردی گئی۔حالات ابھی تک معمول پر نہیں آسکے کہ سی پیک کے بعد بھارت نے افغانستان کے ساتھ ساتھ ایران میں بھی سرمایہ کاری زیادہ کردی اور گوادر اور چاہ بہار کے مواز نے کا چکر چلا رہا ہے اور کلبھوشن کے تمام نیٹ ورک بلوچستان میں دہشت گردی کے چاہ بہار میں ہوتی رہی۔
اب بھارت ایران کو پاکستان کیخلاف کلبھوشن کا داغ مٹانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔بھارت نے دراصل بلوچستان کو دونوں سرحدوں پر گھیر لیا ہے۔اس کے دہشتگرد بلوچستان میں اپنا کام کر رہے ہیں۔اور حکومت پاکستان اپنے مسائل میں اتنی الجھی ہوئی ہے کہ وہ بلوچستان کے خلاف بھارت کے تنگ ہوتے گھیرے کو محسوس نہیں کر رہی۔پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہ ہونے سے یہ حالات اس حد تک جا پہنچے ہیں جس کا ذمہ دار کون ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔
بعض حلقے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بھارت ایسے محاذ اس وقت کھولتا ہے جب حکمران جماعت پر ذرا سابھی برا وقت آئے تاکہ فوج کو دباو میں لایا جاسکے اور بقول ایک سیاسی مبصر کے بھارت ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے مگر اس سے پہلے وہ پاک فوج کو مختلف محاذوں پر مصروف کر کے تھکانا چاہتا ہے اور پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر پاک سرزمین پر حملے کرنا چاہتا ہے۔بلوچستان کی کالعدم تنظیموں کو بھارت اور افغانستان سے جو اسلحہ دیا جاتا ہے اس کی ایک کھیپ فرنٹیرکور نے چاغی کے سرحدی علاقے برامچہ سے برآمد کی تھی۔آپریشن ردالفساد کے تحت خودکش جیکٹس،راکٹ،دستی بموں،مارٹرگولوں کی بھاری کھیپ برآمد ہوئی تھی۔ڈیرہ بگٹی میں کارروائی کے دوران 2 فراری کیمپوں کو تباہ کرکے 72 مارٹرگولے اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے۔
یہ رپورٹس روز آتی ہیں اور یہ بس اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان بارود کے ڈھیر پر کھڑا ہے اور اس کی سرحد پر مسلمان ہمسائے بھارت کی شہ پر ہمارے خیر خواہ نہیں رہے۔کسی بھی وقت کلبھوشن کے بقایاجات کارندے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔وزیراعلیٰ زہری آج بھی پرعزم ہیں کہ پہلے دہشتگرد حاوی تھے اب ہم ان پر حاوی ہیں۔حالات پہلے سے بہتر ہیں۔
عدنان جی
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...