... loading ...
یوں دسمبر 2016ء سے شروع کی گئی کہانی کا ڈراپ سین تو نہیں ہوسکا لیکن اب معاملات منطقی انجام کی طر ف جارہے ہیں۔جو کھیل پی پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ نے انور مجید کے کہنے پرشروع کیاتھااس کو اب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ختم کررہے ہیں۔لیکن دودفعہ حکومت سندھ کو پسپا کرنے والے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بھرا میلہ چھوڑ کرجارہے ہیں۔پہلی مرتبہ 19دسمبر 2016ء کو حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کو 15روز کی جبری چھٹی پر بھیج دیا۔مگر 14 ویں روزعسکری حکام کی طرف سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایاگیاتو مجبور اً آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو بلالیاگیا۔اور پھر سندھ ہائی کورٹ نے بھی حکم امتناع جاری کردیا، تب یہ معاملہ دب گیاتھا،لیکن پچھلے دنوں جب حکومت سندھ نے آناً فاناً آئی جی سندھ پولیس کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے عبدالمجید دستی کو نیا عارضی آئی جی سندھ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،تب سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے حکومت سندھ کو آئی جی سندھ کو ہٹانے سے روک دیااور تاحال حکم امتناع برقرارہے ۔اسی اثناء میں وفاقی حکومت نے بھی آکر سندھ ہائی کورٹ میں ا پنا مؤقف پیش کیاکہ1993ء میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں میں یہ طے پایا تھاکہ چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت کرے گی کیونکہ دونوں عہدے وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں،اس لیے ان کی تقرری وفاق کرتاہے ۔
حکومت سندھ کو دونوں مرتبہ منہ کی کھانی پڑی ہے ۔اس صورت حال نے حکومت سندھ کو مشتعل کردیاہے اور حکومت سندھ نے آئی جی سندھ کے لیے مشکلات پیداکرنا شروع کردی ہیں۔کبھی ان کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں نہیں بلایاجاتا،کبھی ان کو وزیر اعلیٰ ہاؤ س میں امن وامان کے اجلاس سے دور رکھاجاتاہے ،کبھی ان سے رائے لیے بغیر افسروں کے تبادلے اور ترقیاں کی جاتی ہیں۔یہ کھیل ایک ایسی عوامی حکومت کھیل رہی ہے جو سارا دن عوام کی خدمت کاراگ الاپتی ہے اور اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسروںکی تعریفیں کرتے نہیںتھکتی ۔لیکن ایسی عوامی حکومت کو ایسا آئی جی نہیں چاہیے جو اچھی شہرت رکھنے والاہو،جو بجٹ کے 8 ارب روپے یہ کہہ کر واپس کرنے والا ہو کہ یہ رقم خرچ نہیں ہوئی تو اس کو واپس خزانہ میں جمع کیاجائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت سندھ توکٹھ پتلی ہے ، اصل ڈور تو آصف زرداری ، فریال تالپورا ور انور مجید کے ہاتھ میں ہے اور ان تینوں کو ناراض کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے، اور آئی جی سندھ پولیس ان تینوں سے پنگا لے چکے ہیں۔اب آئی جی سندھ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ واپس ہوجائیں، یا پھر وہ تینوں پیچھے ہٹ جائیں۔تینوں کا مؤقف ہے کہ پولیس کی بھرتیاں بلاول ہاؤ س سے بھیجی گئی فہرست کے تحت کی جائیں۔پولیس میں جو ٹھیکیدار چل رہے ہیں ان کو چلنے دیاجائے۔ان کو ہی بڑے بڑے ٹھیکے دیے جائیں اور ان ٹھیکوں میں میرٹ کا لفظ بھی استعمال نہ کیاجائے ۔جن پولیس افسران پر نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں،آئی جی سندھ پولیس ان کا دفاع کریں، ان کے خلاف مواد بھی نیب کو نہ دیں۔کرپٹ پولیس افسران کو اچھی پوسٹنگ دی جائے اور اگر وہ غلط کام کریں تو ان کو کچھ نہ کہاجائے ۔ظاہرہے آئی جی سندھ کے لیے یہ بات مشکل ہے، اس لیے وہ اپنے اصولوں پر اَڑ گئے ہیں۔جب حکومت سندھ کو دومرتبہ عدالتی محاذ پر شکست دے کر وہ اپنے عہدے پر برقرارہیںتو انہوں نے قریبی دوستوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کیاہے کہ اب عہدہ چھوڑنا ہی بہتر ہوگا۔کیونکہ اب ہر قدم پر حکومت ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ تب انہوں نے یہی بہتر سمجھاکہ سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی جائے کہ میرے حق میں جو حکم امتناع دیا ہوا ہے وہ ختم کیاجائے اور مجھے وفاقی حکومت میں جانے دیاجائے کیونکہ یہاں پر تو ہر قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیںا ور اس ماحول میں کام کرنا اچھا نہیں ہے، مگر سندھ ہائی کور ٹ نے یہ استدعا مستر دکرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو کام جاری رکھنے کا حکم دیاہے اور واضح ہدایات دی ہیں کہ پولیس افسران مشکل حالات میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔مشکلات سے گھبراکر افسران کو میدان چھوڑ کرنہیں جاناچاہیے ، یوں آئی جی سندھ کی درخواست کے باوجودد س روز تک کا حکم امتناع جاری کردیا۔اس طرح آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے لیے یہ عہدہ کمبل کی طرح ہوگیاہے کہ وہ کمبل کی جان چھوڑ رہے ہیں مگر کمبل ان کی جان نہیں چھوڑ رہا۔آئی جی سندھ نے جس روز سندھ ہائی کور ٹ میں حلف نامہ جمع کرایاکہ ان کے حق میں جو حکم امتناع جاری کیاہواہے وہ ختم کیاجائے اور ان کو وفاقی حکومت میں جانے دیاجائے ،لیکن جب ہائی کورٹ نے ان کی یہ استدعا مستر دکردی تو اس وقت انور مجید اور بلاول ہاؤس پہلے تو خوش ہوئے لیکن حکم امتناع برقرار رکھنے کے حکم کے بعد ان کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔
اب وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو نئی ذمہ داریا ں دینے اور نئے آئی جی سندھ پولیس کے لیے مختلف ناموں پر غور شروع کردیاہے ۔بتایا جاتاہے کہ وفاقی حکومت فی الحال سندھ ہائی کور ٹ کے حکم امتناع کے ختم ہونے کا انتظار کررہی ہے،اگر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع ختم کیا تو اس صورت میں اے ڈی خواجہ کو آئی جی ریلوے ،ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی موٹر وے ،ڈی جی آئی بی ،پرنسپل پولیس اکیڈمی سمیت مختلف عہدوں پر پوسٹنگ دینے پر غور کررہی ہے اور سندھ میں نئے آئی جی پولیس کے لیے ثناء اللہ عباسی ، مشتاق مہر اوربشیر میمن کے ناموں پر غور کررہی ہے کیونکہ حکومت سندھ نے پہلے جو نام بھیجے تھے ان کو مستردکردیاگیاہے ۔ ان میں غلام قادر تھیبو، عبدالمجید دستی اور خاد م حسین بھٹی شامل ہیں، خادم حسین بھٹی تو تین ماہ میں ریٹائر ہوجائیں گے ۔حکومت سندھ اب اندر سے پریشان ہے کہ اگر اے ڈی خواجہ کے ساتھ مل کر کام کیاجاتا تو بہتر تھا، ان کو قائل کیا جاسکتاتھا،لیکن اب اگر مشتاق مہر ،ثناء اللہ عباسی اور بشیر میمن میں سے کوئی ایک آئی جی آگیا تو حکومت سندھ کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوجائیں گی ۔یہی وجہ ہے کہ جس روز آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے تبادلے کے لیے حلف نامہ جمع کرایا، اس کے اگلے روز وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کے بہانے بلایااور ان کے ساتھ ملاقات بھی کی اوران کو اپنی مجبوریاں بھی بتائیں، مگر آئی جی سندھ نے کوئی ناراضگی نہیں دکھائی اور کہا کہ ان کے لیے پوسٹنگ اہمیت نہیں رکھتی ،اصل میں عزت ہی سب کچھ ہے ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...