وجود

... loading ...

وجود

آئی جی سندھ پولیس کی عہدہ چھوڑنے کی رضاکارانہ پیشکش ،سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع ختم کرنے سے انکار

بدھ 24 مئی 2017 آئی جی سندھ پولیس کی عہدہ چھوڑنے کی رضاکارانہ پیشکش ،سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع ختم کرنے سے انکار

یوں دسمبر 2016ء سے شروع کی گئی کہانی کا ڈراپ سین تو نہیں ہوسکا لیکن اب معاملات منطقی انجام کی طر ف جارہے ہیں۔جو کھیل پی پی پی کی قیادت اور حکومت سندھ نے انور مجید کے کہنے پرشروع کیاتھااس کو اب آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ختم کررہے ہیں۔لیکن دودفعہ حکومت سندھ کو پسپا کرنے والے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ بھرا میلہ چھوڑ کرجارہے ہیں۔پہلی مرتبہ 19دسمبر 2016ء کو حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کو 15روز کی جبری چھٹی پر بھیج دیا۔مگر 14 ویں روزعسکری حکام کی طرف سے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایاگیاتو مجبور اً آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو بلالیاگیا۔اور پھر سندھ ہائی کورٹ نے بھی حکم امتناع جاری کردیا، تب یہ معاملہ دب گیاتھا،لیکن پچھلے دنوں جب حکومت سندھ نے آناً فاناً آئی جی سندھ پولیس کی خدمات وفاق کے حوالے کرتے ہوئے عبدالمجید دستی کو نیا عارضی آئی جی سندھ بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا،تب سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے حکومت سندھ کو آئی جی سندھ کو ہٹانے سے روک دیااور تاحال حکم امتناع برقرارہے ۔اسی اثناء میں وفاقی حکومت نے بھی آکر سندھ ہائی کورٹ میں ا پنا مؤقف پیش کیاکہ1993ء میں وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں میں یہ طے پایا تھاکہ چیف سیکریٹری اور آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت کرے گی کیونکہ دونوں عہدے وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں،اس لیے ان کی تقرری وفاق کرتاہے ۔
حکومت سندھ کو دونوں مرتبہ منہ کی کھانی پڑی ہے ۔اس صورت حال نے حکومت سندھ کو مشتعل کردیاہے اور حکومت سندھ نے آئی جی سندھ کے لیے مشکلات پیداکرنا شروع کردی ہیں۔کبھی ان کو سندھ کابینہ کے اجلاس میں نہیں بلایاجاتا،کبھی ان کو وزیر اعلیٰ ہاؤ س میں امن وامان کے اجلاس سے دور رکھاجاتاہے ،کبھی ان سے رائے لیے بغیر افسروں کے تبادلے اور ترقیاں کی جاتی ہیں۔یہ کھیل ایک ایسی عوامی حکومت کھیل رہی ہے جو سارا دن عوام کی خدمت کاراگ الاپتی ہے اور اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسروںکی تعریفیں کرتے نہیںتھکتی ۔لیکن ایسی عوامی حکومت کو ایسا آئی جی نہیں چاہیے جو اچھی شہرت رکھنے والاہو،جو بجٹ کے 8 ارب روپے یہ کہہ کر واپس کرنے والا ہو کہ یہ رقم خرچ نہیں ہوئی تو اس کو واپس خزانہ میں جمع کیاجائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت سندھ توکٹھ پتلی ہے ، اصل ڈور تو آصف زرداری ، فریال تالپورا ور انور مجید کے ہاتھ میں ہے اور ان تینوں کو ناراض کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے، اور آئی جی سندھ پولیس ان تینوں سے پنگا لے چکے ہیں۔اب آئی جی سندھ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ واپس ہوجائیں، یا پھر وہ تینوں پیچھے ہٹ جائیں۔تینوں کا مؤقف ہے کہ پولیس کی بھرتیاں بلاول ہاؤ س سے بھیجی گئی فہرست کے تحت کی جائیں۔پولیس میں جو ٹھیکیدار چل رہے ہیں ان کو چلنے دیاجائے۔ان کو ہی بڑے بڑے ٹھیکے دیے جائیں اور ان ٹھیکوں میں میرٹ کا لفظ بھی استعمال نہ کیاجائے ۔جن پولیس افسران پر نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں،آئی جی سندھ پولیس ان کا دفاع کریں، ان کے خلاف مواد بھی نیب کو نہ دیں۔کرپٹ پولیس افسران کو اچھی پوسٹنگ دی جائے اور اگر وہ غلط کام کریں تو ان کو کچھ نہ کہاجائے ۔ظاہرہے آئی جی سندھ کے لیے یہ بات مشکل ہے، اس لیے وہ اپنے اصولوں پر اَڑ گئے ہیں۔جب حکومت سندھ کو دومرتبہ عدالتی محاذ پر شکست دے کر وہ اپنے عہدے پر برقرارہیںتو انہوں نے قریبی دوستوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کیاہے کہ اب عہدہ چھوڑنا ہی بہتر ہوگا۔کیونکہ اب ہر قدم پر حکومت ان کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ تب انہوں نے یہی بہتر سمجھاکہ سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی جائے کہ میرے حق میں جو حکم امتناع دیا ہوا ہے وہ ختم کیاجائے اور مجھے وفاقی حکومت میں جانے دیاجائے کیونکہ یہاں پر تو ہر قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیںا ور اس ماحول میں کام کرنا اچھا نہیں ہے، مگر سندھ ہائی کور ٹ نے یہ استدعا مستر دکرتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو کام جاری رکھنے کا حکم دیاہے اور واضح ہدایات دی ہیں کہ پولیس افسران مشکل حالات میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔مشکلات سے گھبراکر افسران کو میدان چھوڑ کرنہیں جاناچاہیے ، یوں آئی جی سندھ کی درخواست کے باوجودد س روز تک کا حکم امتناع جاری کردیا۔اس طرح آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کے لیے یہ عہدہ کمبل کی طرح ہوگیاہے کہ وہ کمبل کی جان چھوڑ رہے ہیں مگر کمبل ان کی جان نہیں چھوڑ رہا۔آئی جی سندھ نے جس روز سندھ ہائی کور ٹ میں حلف نامہ جمع کرایاکہ ان کے حق میں جو حکم امتناع جاری کیاہواہے وہ ختم کیاجائے اور ان کو وفاقی حکومت میں جانے دیاجائے ،لیکن جب ہائی کورٹ نے ان کی یہ استدعا مستر دکردی تو اس وقت انور مجید اور بلاول ہاؤس پہلے تو خوش ہوئے لیکن حکم امتناع برقرار رکھنے کے حکم کے بعد ان کے ارمانوں پر پانی پھر گیا۔
اب وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو نئی ذمہ داریا ں دینے اور نئے آئی جی سندھ پولیس کے لیے مختلف ناموں پر غور شروع کردیاہے ۔بتایا جاتاہے کہ وفاقی حکومت فی الحال سندھ ہائی کور ٹ کے حکم امتناع کے ختم ہونے کا انتظار کررہی ہے،اگر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع ختم کیا تو اس صورت میں اے ڈی خواجہ کو آئی جی ریلوے ،ڈی جی ایف آئی اے ،آئی جی موٹر وے ،ڈی جی آئی بی ،پرنسپل پولیس اکیڈمی سمیت مختلف عہدوں پر پوسٹنگ دینے پر غور کررہی ہے اور سندھ میں نئے آئی جی پولیس کے لیے ثناء اللہ عباسی ، مشتاق مہر اوربشیر میمن کے ناموں پر غور کررہی ہے کیونکہ حکومت سندھ نے پہلے جو نام بھیجے تھے ان کو مستردکردیاگیاہے ۔ ان میں غلام قادر تھیبو، عبدالمجید دستی اور خاد م حسین بھٹی شامل ہیں، خادم حسین بھٹی تو تین ماہ میں ریٹائر ہوجائیں گے ۔حکومت سندھ اب اندر سے پریشان ہے کہ اگر اے ڈی خواجہ کے ساتھ مل کر کام کیاجاتا تو بہتر تھا، ان کو قائل کیا جاسکتاتھا،لیکن اب اگر مشتاق مہر ،ثناء اللہ عباسی اور بشیر میمن میں سے کوئی ایک آئی جی آگیا تو حکومت سندھ کے لیے نئی مشکلات پیدا ہوجائیں گی ۔یہی وجہ ہے کہ جس روز آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے سندھ ہائی کورٹ میں اپنے تبادلے کے لیے حلف نامہ جمع کرایا، اس کے اگلے روز وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے انہیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کے بہانے بلایااور ان کے ساتھ ملاقات بھی کی اوران کو اپنی مجبوریاں بھی بتائیں، مگر آئی جی سندھ نے کوئی ناراضگی نہیں دکھائی اور کہا کہ ان کے لیے پوسٹنگ اہمیت نہیں رکھتی ،اصل میں عزت ہی سب کچھ ہے ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر