وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف کو انتخابی مہم میں کڑے سوالوں کاسامنا کرناہوگا

منگل 23 مئی 2017 نواز شریف کو انتخابی مہم میں کڑے سوالوں کاسامنا کرناہوگا


وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں سالانہ منصوبے پی ایس ڈی پی اور آئندہ بجٹ کے اہداف کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر ، گورنر کے پی کے، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعلیٰ گلگت و بلتستان اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔ قومی اقتصادی کونسل نے مجموعی طور پر 2113 ارب روپے کے وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کی منظوری دی۔ اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) 1001 ارب روپے اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں کا حجم 1112 ارب روپے ہے۔ آئندہ مالی سال (بجٹ) کے ترقیاتی اہداف کی بھی منظوری دی گئی۔ آئندہ بجٹ کا تخمینہ 5 ٹریلین روپے ہوگا،جس میں دفاع کے لیے 950 ارب روپے رکھے جائینگے۔ بجٹ میں مالی خسارے کا تخمینہ 10 ارب 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ ہوگا۔ درآمدات کا تخمینہ 50 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اگلے مالی سال کے لیے 6 فیصد جی ڈی پی گروتھ مقرر کردیا گیا۔ این ای سی کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال کے ترقیاتی پروگرام کے لیے 15 مئی 2017ء تک 556 ارب روپے جاری کیے گئے۔ تاہم اس میں سے خرچ کی جانیوالی رقم کم ہے۔
وزیراعظم محمد نواز شریف نے این ای سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے بہت بہتر ہوئے ہیں اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں اس کو تسلیم کرتی ہیں۔ وزیراعظم کے اس دعوے کی تصدیق معروف عالمی جریدے اکانومسٹ نے بھی یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ ’’پاکستان کی ترقی کا حجم 300بلین ڈالرز تک بڑھ گیااورپاکستانی معیشت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھونے لگی ہے، اکانومسٹ نے یہ رائے کس بنیاد پر قائم کی ہے یا یہ رائے کیا مقاصد حاصل کرنے کے لیے شائع کی یہ ایک راز ہے، جس کا انکشاف وقت گزرنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔پاکستان کی معاشی ترقی5.3 فیصد سالانہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ زرعی شعبے میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2016ء اور 2017 ء میں پاکستانی حکومت نے جی ڈی پی ٹارگٹ کو بھرپور طریقے سے پورا کیا ہے۔جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں تاہم اس کے باوجود برآمدات کے شعبے میںبہتری کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ وزیراعظم نے اجلاس میںدعویٰ کیا کہ پاکستان نے رواں سال میں 5.28 فیصدترقی کی جو شرح حاصل کی ہے وہ قابل تعریف ہے اوراس طرح پاکستان تیزی سے معاشی ترقی کرنیوالے ممالک کی صف میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے اس اجلاس میں پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک کی ترقی کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہی ہیں۔ سی پیک کے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ہورہا ہے۔ بجلی کے حصول کے لیے ایل این جی، کوئلہ، پن بجلی، شمسی اور ہوا کے ذرائع متوازن انداز میں استعمال کیے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ انفرااسٹرکچر ترقی کے لیے ہم سڑکوں اور کمیونی کیشن نیٹ ورک پر توجہ دے رہے ہیں۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی ترقی میں سب کی خوشحالی ہے یہ سیاست کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔ اس پر سب کو متحد ہونا چاہیے لیکن اس اتحاد کو قائم کرنے اور مضبوط ومستحکم بنانے کی ذمہ داری حکومت پر ہی عاید ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شریف برادران اپنے ان سیاسی بغل بچوں اور بڑبولوںکو لگام دیں اور ان کو نکیل ڈالیںاور انہیںدوسرے سیاسی رہنمائوں کے خلاف یاوہ گوئی اور بڑھکیں مارنے سے روکیں۔ بصورت دیگر اتحاد کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ملکی ترقی کے لیے تمام اکائیوں کا متحد ہونا ضروری ہے۔ 2013ء کے الیکشن میں قوم نے کسی ایک پارٹی کو مینڈیٹ نہیں دیا۔ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن)‘ سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبر پی کے میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی۔ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کو عددی برتری حاصل تھی اس نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کی۔ مسلم لیگ (ن) ‘ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے مابین اختلافات عروج پر رہے ہیں اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایک اعتبار سے یہ اختلافات ذاتی دشمنی تک پہنچے ہوئے ہیں‘ کوئی پارٹی دوسری پارٹی کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ۔ ہر پارٹی دوسری کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتی ہے۔ یہ پارٹیاں خصوصی طور پر مسلم لیگ (ن)‘ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے اقتدار کی بھی دشمن ہیں۔ قومی مفادات کے پیش نظر چند مشترک نکات پر بھی اتفاق کرنے پر تیار نہیں‘ سوائے مراعات اور تنخواہوں میں اضافے کے۔ اختلافات کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں سیاست میںجس طرح کے اختلافات پائے جاتے ہیں‘ وہ جمہوریت کے لیے زہرقاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایسے حالات میں وزیراعظم نے صوبوں کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ خیبر پی کے اور سندھ کو سی پیک پر مطمئن کیا‘ ان کے تحفظات دور کیے اور سی پیک کی شفافیت کا یقین دلانے کے لیے ان صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو چین لے جا کر اقتصادی راہداری کے منصوبہ سازوں کے سامنے بٹھادیا۔ سرکاری حلقے دعویٰ کرتے ہیں کہ پرویز خٹک اور مرادعلی شاہ چین سے مطمئن ہو کر واپس آئے‘ اب دونوں فاضل وزرائے اعلیٰ سی پیک کی نہ صرف حمایت کررہے ہیں بلکہ وکالت بھی کریں گے جبکہ ابھی تک اس دعوے کی کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شمولیت ضروری ہوتی ہے اس طرح کونسل کے اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دینا حکومت کا فرض تھا اور یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت نے اپنا یہ فرض پوراکیا ، تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی قیادت نے اس دعوت کو قبول کیا اوردونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے اس میں شرکت کے لیے وقت نکالا، اس پر یہ دونوں یقینی طورپر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جو معاملات ایک ساتھ بیٹھ کر طے ہو سکتے ہیں‘ وہ دھرنوں‘ جلسوں‘ مظاہروں سے اور سڑکوں پر آکر نہیں ہوسکتے۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بجٹ کے حوالے سے جو بھی اعلانات کیے گئے وہ بادی النظر میں خوش آئند ہیں۔ ایسے
اجلاسوں میں عموماً حالات کا مثبت رخ اور روشن پہلو ہی دکھایا جاتا ہے تاہم عالمی اداروں کی طرف سے ملکی معیشت کی مضبوطی کا اعتراف بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس میں آبی ذخائر کے حوالے سے کوئی تجویز نظر نہیں آئی۔ آبی ذخائر میں کالاباغ ڈیم اہم ترین ہے۔ وزیراعظم نے تمام صوبوں کی قیادت کو ایک اجلاس میں شرکت پر آمادہ کرلیا ، کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر ان کو قائل کرنا چنداں مشکل نہیں ہے، اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے دوران جو اعدادوشمار سامنے آئے‘ ایسے اعدادوشمار کو عموماً ’’گورکھ دھندا‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت پر اعدادوشمار میں ٹمپرنگ کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی باتیں ہوتی ہیں۔ آئندہ ہفتے پیش ہونیوالے بجٹ میں قوم حکومت سے حقیقی اعداد وشمار کی توقع رکھتی ہے۔
اگلے سال کے بجٹ کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا انتخابی بجٹ کہا جا سکتا ہے۔ حکومت نے بڑے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں‘ سی پیک اہم ترین ہے جس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ اگر 2018ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) جیت کر تسلسل جاری نہیں رکھتی تو ایسے منصوبوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ آمریت کے سائے میں چلنے والی (ق) لیگ کی حکومت کے دوران بھی کوئی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہی تھیں تاہم اس کے بعد خالصتاً جمہوریت کے دور میں کئی منصوبے تلپٹ ہوگئے۔ بجلی کا نہ ختم ہونیوالا بحران اس کے بعد کی حکومت کے لیے بھی سوہان روح ہے۔ اگرعوام مسلم لیگ (ن) کی اس ناقص کارکردگی کی وجہ سے اسے مسترد کرتے ہیں اور اگلے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کی جگہ اگر کوئی اور پارٹی برسراقتدار آتی ہے تو موجودہ حکومت کے شروع کیے ہوئے بہت سے منصوبوں کی تکمیل کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی تاہم یہ ہو سکتا ہے کہ آنے والی نئی حکومت عوامی ریلیف کے بعد زیرتکمیل منصوبوں میں مزید تیزی لے آئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے شروع کردہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے 2018ء کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ انہیں اپنی کامیابی کے طورپر عوام کے سامنے پیش کرکے الیکشن میں کامیابی حاصل کرسکے ،اس اعتبار سے اگلے مالی سال اور اس کے لیے خصوصی بجٹ اہمیت کے حامل ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے بارے میں مزدور دوست ہونے کا تاثر عنقا ہے۔ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے میں پیپلزپارٹی کے مقابلے میں اسے ’’جیب گھٹ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ گورننس کو عدلیہ باربار تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔ ملازمتیں ضرور دی گئی ہوں گی مگر بیروزگاری کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ مہنگائی میں کمی کے حوالے سے جاری ہونیوالے اعداد و شمار قابل اعتبار نہیں۔
ہر سال بجٹ کے بعد منی بجٹ کئی بار پیش کیے گئے۔ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار سابق حکومت کو قرار دیا جاتا ہے۔ 4 سال میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جانا چاہیے تھا۔ موجودہ حکومت ہر الزام سابق حکومت پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ دن رات ایک کرکے نہ صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بلکہ بجلی کے نرخوں میں کمی بھی ضروری ہے۔ منی بجٹ کی روایت کو ختم کرنا ہوگا۔ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کا بہترین موقع پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی مارکیٹ کے مطابق کمی تھی مگر ایک حد تک قیمتیں کم کرنے سے حکمران طبقے کی جان جاتی نظر آئی۔ اب حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو اپنی مقبولیت کے لیے استعمال نہیںکرسکتی بلکہ پوری دنیا میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے باوجود اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کے لیے ایک اور منفی پہلو ہوگا جس کی بنیاد پر وہ مختلف حلقوں سے لاکھوں ووٹوں سے محروم ہوسکتی ہے۔
ملک کا سب سے بڑا اور گمبھیر مسئلہ دہشت گردی اور اس کے بعد بدترین کرپشن ہے۔ دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے لیکن اس کا سہرا حکومت کے سر نہیں بلکہ پاک فوج کے سرجاتاہے جس نے اپنی ٹھوس پالیسیوںکے سر ذریعے سر ہتھیلی پر رکھ ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے عمومی کشش رکھتا ہے مگر دہشت گردی آڑے آرہی تھی اور جیسے جیسے دہشت گردی کے واقعات میں کمی آرہی ہے غیر ملکی سرمایہ بھی پاکستان کی طرف رخ کررہے ہیں اور اب دہشت گردی میں کمی کے باعث سرمایہ کاری کے پاکستان میں بہترین مواقع پیداہوچکے ہیں‘ جنہیں مکمل طور پر بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
موجودہ حکومت خاص طورپر شریف برادران اپنے آپ کو مسٹر کلین کے طورپر پیش کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں وہ کسی بھی شعبے میں اپنے اس دعوے کے مطابق کام کرتے نظر نہیں آتے جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ نیب جو پاکستان میں احتساب کا سب سے بڑا ادارہ ہے اس کی کارکردگی پر بھی سپریم کورٹ برہم دکھائی دیتی ہے۔ اس ادارے کے پاس میگا کرپشن کے ڈیڑھ سوکیسز ’’زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد‘‘ کی طرح پڑے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے عوام کو ان کے انتخابی نعروں کے تناظر میں کڑے احتساب کی امید تھی مگر ایسا چار سال میں تو ممکن نہیں ہوسکا البتہ ایک سال بھی اس کارخیر کے لیے کافی ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی ایک سال میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اگر وہ ناکام رہے تو عوام کسی اور پارٹی سے امیدیں وابستہ کرلیں گے۔ اگر ایک سال جانفشانی اور شفافیت سے کام کیا تو ویژن 2025ء کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر