وجود

... loading ...

وجود

بلی تھیلے سے باہر آرہی ہے سجن جندال پاکستان اسٹیل خریدنا چاہتے ہیں

هفته 20 مئی 2017 بلی تھیلے سے باہر آرہی ہے سجن جندال پاکستان اسٹیل خریدنا چاہتے ہیں

سجن جندال بھارت کے علاوہ برطانیہ میں بھی اسٹیل ٹائیکون کے نا م سے جانے جاتے ہیں، نواز شریف سے گزشتہ ماہ مری میں خفیہ ملاقات ہوئی تھی‘ فواہوں کوبھارت کے معروف صحافی کے اس دعوے سے مزید تقویت ملی کہ ہم وطن اسٹیل ٹائیکون نے پاکستان کا دورہ نواز شریف کی دعوت پر کیا تھا

بھارت کے اسٹیل ٹائیکون سجن جندال اور وزیر اعظم نواز شریف کی اچانک اور پراسرار ملاقات کو ایک ماہ ہونے کے قریب ہے لیکن یہ ملاقات مسلسل مزید پراسرار ہوتی چلی جارہی ہے اور اب عام شہری بھی یہ کہنے لگے ہیں کہ سجن جندال وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ کچھ کاروباری سودے طے کرنے اچانک پاکستان آئے تھے ،جبکہ بعض لوگوں کادعویٰ ہے کہ سجن جندال جو بھارت کے علاوہ برطانیہ میں بھی اسٹیل ٹائیکون کے نا م سے جانے جاتے ہیں پاکستان اسٹیل خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹیل کی نجی شعبے کوفروخت کے اعلان کے فوری بعد انہوں نے پاکستان اسٹیل حاصل کرنے کے لیے خفیہ ڈیل کی غرض پاکستان آنا ضروری تصور کیا۔پاکستان اسٹیل کی خریداری میں سجن جندال کی دلچسپی پر اصرار کرنے والوں کا یہ بھی اصرار ہے کہ بلی بتدریج تھیلے سے باہر آرہی ہے اور بہت جلد سجن جندال کے دورہ پاکستان اور نواز شریف کے ساتھ ان کی خفیہ ملاقات پر سے بھی پردہ اٹھ جائے گا۔ بس ذرا انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل کی ضرورت ہے۔
سجن جندا ل کے دورہ پاکستان اور وزیراعظم نواز شریف سے ان کی ملاقات کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے گردش کرنے والی ان افواہوں اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے کی جانے والی الزامات تراشیوں کوبھارت کے معروف صحافی اور مصنف پریم شنکر جھا کے اس دعوے سے مزید تقویت ملی جس میںانہوں نے کہا ہے کہ ان کے ہم وطن اسٹیل ٹائیکون سجن جندال نے پاکستان کا دورہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے کہنے پر نہیں بلکہ خود وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر کیا تھا اور انہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نہیں بھیجا تھا۔
وزیراعظم نواز شریف اور سجن جندال کے درمیان گزشتہ ماہ مری میں ملاقات ہوئی تھی جس کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا تاہم اس ملاقات کے حوالے سے ملک میں کئی سیاست دانوں کی جانب سے چہ مہ گوئیاں شروع ہوئی تھیں اور تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ بھارت اور پاکستانی وزرااعظم کی مستقبل میں کسی ملاقات کی کوشش ہو سکتی ہے۔نریندر مودی کے گہرے دوست تصور کیے جانے والے سجن جندال کے شریف خاندان کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات ہیں۔ان کے دورے کو پاکستان اوربھارت کے تعلقات کے ماہر بعض تجزیہ کاروں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے خفیہ سفارتی رابطے کا حصہ کہا تھا لیکن اس دورے کے دوران اور اس کے بعد پاکستان کے خلاف بھارتی رہنمائوں کے بیانات سے ان تجزیہ کاروں کی رائے کی نفی ہوگئی تھی۔ سجن جندال کے دورے اور وزیراعظم کے ساتھ ملاقات پر قیاس آرائیوں کا ایک بڑا سبب یہ بیان کیاجاتاہے کہ اس دورے کے حوالے سے دونوں جانب سے حکومتوں نے کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت کے ممتاز صحافی پریم شنکر جھا نے گزشتہ روز کہا کہ بھارتی ٹائیکون کو درحقیقت پاکستانی وزیراعظم نے دعوت دی تھی۔پریم شنکر نے ایک نجی ٹیلی ویژن کے شو میں کہا کہ ’جندال نے نواز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا اور انہیں وزیراعظم مودی کی جانب سے نہیں بھیجا گیا تھا‘۔انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کی پالیسی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ دہائیوں پرانے مسئلے کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مودی حکومت تیزی سے تمام مواقع کھو رہی ہے’ کشمیر کے حالات سنگین تر ہیں اور مجھے نظر نہیں آتا کہ مذاکرات کا کوئی موقع رہ گیا ہے‘۔پریم شنکر جھا کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں بھارتی حکومت مذاکرات کی جانب قدم اٹھانا ہی نہیں چاہتی ہے‘۔
ایک طرف سجن جندال کے دورے کے حوالے سے قیاس آرائیاں اب الزام تراشیوںکا روپ دھار رہی ہیں جبکہ دوسری طرف بھارت کے اسٹیل ٹائیکون سجن جندال کے متنازع دورے کے حوالے سے دفتر خارجہ نے چپ سادھ رکھی ہے، دفتر خارجہ کی اس پراسرار خاموشی کی وجہ سے پاکستان کے سیاسی حلقوں اور ذرائع ابلاغ میں جمعرات (27 اپریل) سے سجن جندال کی ملاقات کی خبروں پر تواتر کے ساتھ تبصروں اور تنقید کاسلسلہ جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق سجن جندال کے ساتھ ان کا وفد اسلام آباد کے بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پہنچا تو وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز اور مریم نواز کے داماد راحیل منیر نے ان کا استقبال کیا۔بعد ازاں وزیراعظم مری میں گورنمنٹ ہاؤس پہنچے اور سجن جندال سے ملاقات کی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انظامات کیے گئے تھے۔ تاہم ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے بتایا کہ ’سجن جندال وزیراعظم کے پرانے دوست ہیں اور ان کی وزیراعظم سے ملاقات خفیہ نہیں، اس لیے اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے سجن جندال کے دورہ پاکستان اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو خفیہ رکھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے اعتراضات کاسلسلہ تاحال جاری ہے ۔اس ملاقات کے حوالے سے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رہنمائوں کی برہمی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھارتی تاجر کی وزیراعظم سے ملاقات کے خلاف سندھ اور پنجاب اسمبلیوں میں قراردادیں جمع کروا دیں۔پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وفد نے نواز شریف کو مری میں مودی کا پیغام پہنچایا، پاکستانی عوام کو اس ملاقات کے اغراض و مقاصد سے آگاہ نہیں کیا گیا جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔سندھ اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کے رکن خرم شیر زمان نے مذمتی قرارداد جمع کرائی، جس میں کہا گیا کہ دشمن ملک کے تاجر سے وزیراعظم کی ملاقات باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔
واضح رہے کہ سجن جندال اسٹیل، توانائی اور سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں کاروبار کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی کمیٹی میں اسے زیربحث لایا گیا۔قومی اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کے اجلاس میں سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کی سربراہی میں دفتر خارجہ کی ٹیم شرکا کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکی اور کمیٹی کے چیئرمین اویس لغاری نے بحث سمیٹ لی۔پاکستان تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے سوال کیا کہ جندال نے مری کا دورہ کیسے کیا؟ جب کہ ان کا ویزا صرف اسلام آباد اور لاہور تک محدود تھا۔شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ’جندال ایک نجی دورے پر آئے تھے مگر دفتر خارجہ کے عہدیداروں نے ان کا استقبال کیوں کیا؟‘اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کے مشترکہ دوست سجن جندال کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مری لے جایا گیا تھا جہاں وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز موجود تھیں، کہاجاتا ہے کہ سجن جندال نے 2014 ء میں کٹھمنڈو میں سارک کانفرنس کے دوران نواز شریف اور مودی کے درمیان ایک خفیہ میٹنگ کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔2015ء میں نواز شریف کی سالگرہ کے موقع پر مودی نے لاہور کا اچانک دورہ کیا تھا اور نواز شریف کی نواسی کی شادی میں بھی شرکت کی تھی۔کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما نفیسہ شاہ نے پوچھا کہ ’حکومت جندال کے دورے کے حوالے سے خاموش کیوں ہے؟‘خیال رہے کہ سجن جندال کے دورے کے حوالے سے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، گوکہ وزیراعظم کی کاروباری وفود کے ساتھ ملاقاتوں کے حوالے سے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جاتی ہیں۔مریم نواز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس دورے کی تصدیق کی تھی اور میڈیا کے چند حلقوں کی جانب سے اس کو ’خفیہ‘ قرار دینے کو مسترد کردیا تھا۔جندال کے دورہ پاکستان کے ایک روز بعد مریم نواز نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سجن جندال، وزیراعظم کے پرانے دوست ہیں، ملاقات کے حوالے سے ’خفیہ‘ کچھ بھی نہیں تھا اور اس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش نہیں کرنا چاہیے‘۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر