وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ کا سعودی عرب و مشرق وسطیٰ کا دورہ،اسلحہ بیچنے کا نیا حربہ

هفته 20 مئی 2017 ٹرمپ کا سعودی عرب و مشرق وسطیٰ کا دورہ،اسلحہ بیچنے کا نیا حربہ

وہ نہیں چاہتے کہ عرب ممالک امریکی رویے سے مایوس ہوکر اپنی اسلحہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی اور ملک کی طرف دیکھنے لگیں‘ ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہو گا ، اسرائیل کے دورے کے دوران مقدس مقامات پر بھی جائیں گے،ویٹی کن کا بھی دورہ کریں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے نو روزہ بیرونی دورے پر روانہ ہونے والے ہیں، جس دوران وہ ایک خدا پر یقین رکھنے والے دنیا کے تین مذاہب کے مراکز کا سفر کریں گے، جو مشرق وسطیٰ کے بارے میں ان کے پیش رو کی سوچ کے انداز سے 180 ڈگری مختلف معاملہ ہے۔ تاہم مبصرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے غیر ملکی دورے کا آغاز سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک سے کرنے کا فیصلہ بہت کچھ سوچ سمجھ کر کیاہے ۔امریکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے حلقوں کاکہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک زیرک کاروباری انسان ہیں اور انہوں نے اپنے اس دورے کا پروگرام خالصتاً کاروباری بنیادوں پر مرتب کیاہے۔ ان حلقوں کا کہناہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کی پیداوار بڑھا کر اپنی معیشت کو ترقی دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے اسی پروگرام کے تحت انہوںنے امریکی اسلحہ کے لیے بڑے آرڈر سمیٹنے اور امریکا کی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے سب سے پہلے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کادورہ کرنے کاپروگرام بنایا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک امریکی رویے سے مایوس ہوکر اپنی اسلحہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کسی اور ملک کی طرف دیکھنے لگیں۔
وائٹ ہاؤس نے گزشتہ روز بتایا ہے کہ مئی کے آخر میں شروع ہونے والے اس دورے میں صدر ٹرمپ سب سے پہلے سعودی عرب جائیں گے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہو گا جہاں وہ بنیاد پرستی کے خلاف مربوط مہم چلانے کے معاملے پر بات کریں گے۔اپنے بیرونی دورے کے دوران وہ مشرقی وسطیٰ امن عمل کو شروع کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے دورے کے دوران مقدس مقامات پر بھی جائیں گے۔جب کہ ویٹی کن کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ پوپ فرانسس سے بھی ملاقات کریں گے۔
ڈونلڈٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں منعقد ہ قومی دعائیہ تقریب میں کہا تھاکہ ان کے بطور صدر غیر ملکی دوروں کا آغاز سعودی عرب سے ہو گا جہاں مسلم دنیا کے رہنماؤں کا اجتماع ہوگا۔ ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر وضاحت بھی کی تھی کہ سعودی عرب کا انتخاب انہوں نے اس لیے کیا ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس مقامات واقع ہیں اور یہاں سے ہم انتہا پسندی، دہشت گردی اور تشدد سے نمٹنے کے لیے اپنے مسلمان (ممالک) اتحادیوں سے تعاون اور مدد کی نئی بنیاد رکھیں گے اور نوجوان مسلمانوں کے پرامید مستقبل کے لیے مل کر کام کریں گے۔‘‘امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے میں، صدر کو خطے کی پیچیدہ سیاسی صورت حال اور سیاست سے براہِ راست واسطہ پڑے گا۔
بتایا جاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے علاوہ صدر ٹرمپ 25 مئی کو برسلز جائیں گے جہاں وہ نیٹو کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جب کہ 26 مئی کو سسلی میں ’گروپ آف سیون‘ کے سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ملکی دوروں کی ان تفصیلات سے ظاہرہوتا ہے کہ وہ خطے میں امریکا کے چوٹی کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو تقویت دینے کے خواہاں ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ کے پیش رو اوباما کے اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے تھے۔اِن دونوں ملکوں کے سربراہان خیال کرتے تھے کہ اوباما کو روایتی اتحادوں سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ طے کرنے کے لیے مذاکرات میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔مشرق وسطیٰ میں امن کا حصول اور داعش سے لڑائی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی توجہ کا مرکز لگتا ہے۔گزشتہ ہفتے ’رائٹرز‘ کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے شکایت کی تھی کہ سعودی عرب کا امریکا کے ساتھ رویہ مناسب نہیں ہے، جب کہ امریکا سعودی عرب کے دفاع پر بے تحاشہ رقوم ضائع کر رہا ہے۔
اس سے قبل سعودی عرب کے طاقتور نائب ولی عہد محمد بن سلمان مارچ میں واشنگٹن میںصدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرچکے ہیں، ایک اعلیٰ سعودی مشیر نے ان کے اس دورے کاخیر مقدم کرتے ہوئے اسے امریکا سعودی تعلقات کے لیے ’’تاریخی نوعیت کا ایک اہم موڑ‘‘ قرار دیا تھا۔
ڈونلڈٹرمپ فروری میں وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو سے بھی ملاقات کرچکے ہیں اوراب صدرٹرمپ نے اپنے داماد جیرد کوشنر کو اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن سمجھوتہ طے کرنے کی کوششوں کی نگرانی کا کام سونپا ہے ۔
’واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی‘ کے انتظامی سربراہ، رابرٹ سیٹلوف نے کہا ہے کہ ’’صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی کو جانچنے کا ایک ہی آزمودہ کلیہ ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اوباما مخالف ہیں‘‘۔اُنہوں نے کہا کہ ’’جہاں تک مشرق وسطیٰ کا تعلق ہے، وہ یقینی طور پر اوباما کے دور کی خارجہ پالیسی کو تبدیل کر رہے ہیں، جو اب ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد کی پالیسی ہوگی۔‘‘وضاحت کرتے ہوئے، سیٹلوف نے کہا کہ ’’اوباما نے بامقصد کوشش کی کہ عوام کے ساتھ براہ راست گفتگو کی جائے۔ مشرق وسطیٰ کے اُن کے پہلے دورے میں اُنہوں نے قومی اسمبلیوں اور پارلیمانوں سے خطاب نہیں کیا، بلکہ یونیورسٹیوں میں تقاریر کیں، جہاں وہ اِن اداروں کے سربراہان سے گفتگو کر سکے۔ وہ چاہتے تھے کہ’’ عرب دنیا میں ایک نیا توازن پیدا ہو، جس کے لیے وہ سربراہان کو چھوڑ کر عوام سے مخاطب ہونا چاہتے تھے‘‘۔سیٹلوف نے کہا کہ ’’ٹرمپ اِن تمام باتوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
اپنے دورے کے آغاز میں جب ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب پہنچیں گے، جہاں اسلام کے مقدس ترین مقامات ہیں، تو سعودی
عرب کے بادشاہ سلمان اُن کا استقبال کریں گے، جو خوش آمدید کہنے کے لیے 20 ملکی سربراہان کی ایک کمیٹی کو اکٹھا کر رہے ہیں، جو دنیا کی تقریباً1.5 ارب مسلمانوں کے نمائندے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر سعودی عرب کے دورے کو مسلمانوں کے ساتھ صدر کے تاثر میں بہتری لانے کا ایک موقع خیال کرتے ہیں، جب کہ انتخابی مہم کے دوران جس قسم کا بیانیہ سامنے آیا، اُس کے نتیجے میں اسلام کے خلاف باتیں ہوئیں، جب کہ اُن کی صدارت کا آغاز مسلمان ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہاجرین پر عبوری بندش کے اعلان اور چند مسلمان اکثریتی ملکوں کے شہریوں پر ویزا کی پابندی عائد کرنے سے ہوا۔
امریکا سعودی فوج کی ہتھیاروں کی ضرورت پوری کرنے کا ایک سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے اور حالیہ برسوں میں وہ اسے اربوں ڈالر مالیت کے ایف 15 لڑاکا جیٹ طیاروں سے لے کر کنٹرول اینڈ کمانڈ کے نظام تک فراہم کر چکا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مہینے سعودی عرب کے دورے سے قبل واشنگٹن میں حکام ہتھیاروں کی فروخت کے اربوں ڈالر کے معاہدوں پر کام کررہے ہیں جن میں سے کچھ معاہدے نئے ہوں گے اور کچھ پہلے سے ہی پائپ لائن میں موجود ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی مصنوعات کی پیداوار بڑھا کر اپنی معیشت کو ترقی دینا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
سابق صدر بارک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری تنازع پر معاہدے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو تناؤ پیدا ہوا تھا، واشنگٹن اور ریاض اسے دور کرنا اور رابطوں کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر چھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کے خلاف تھا۔نئے متوقع معاہدوں میں دفاعی فضائی میزائل نظام ٹی ایچ اے اے ڈی شامل ہے، جسے جنوبی کوریا میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔اس کے علاوہ سیٹلائٹ سے منسلک کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام سی ٹو بی ایم سی پر بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ذرائع نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ کثیر المقاصد بحری جنگی جہازوں اور ان پر نصب کیے جانے والے جدید آلات کا ایک معاہدہ بھی زیر غور ہے جس کی منظوری امریکی وزارت خارجہ 2015 ء میں پہلے ہی دے چکی ہے۔ اس کی مالیت کا تخمینہ ساڑھے گیارہ ارب ڈالر ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے کہ سعودی عرب وہ پہلا ملک ہوگا جسے امریکا کئی عشروں میں جدید آلات سے لیس جنگی جہاز فراہم کرے گا۔اس کے علاوہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے گولہ بارود پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔ اس معاہدے پر عمل درآمد صدر اوباما نے سعودی عرب کے یمن کے ساتھ تنازع کے باعث روک دیا تھا۔
امریکا ہتھیاروں اور دفاعی سازوں سامان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز کو تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔انسانی حقوق کی برادری کے حلقوں نے یک زبان ہو کراس دورے کو اہمیت نہیں دی ہے۔ ’ہیومن رائٹس واچ‘ سے تعلق رکھنے والے آندرے پریسو کے بقول ’’یقینی طور پر یہ ایک مستقل انداز چلا ہے، کیونکہ ابھی تک آمروں کو ہی وائٹ ہائوس میں خوش آمدید کہا گیا ہے‘‘۔اپنے پہلے دورے میں امریکا سے باہر قدم رکھنے سے پہلے ٹرمپ نے متعدد مطلق العنان مسلمان سربراہان کی میزبانی کی ہے، جن میں مصر کے بھاری بھرکم شخص، عبدالفتح السیسی ودیگر شامل ہیں۔
’اٹلانٹک کونسل‘ کے رچرڈ لبرون نے، جو کویت میں امریکی سفیر رہ چکے ہیں، کہا ہے کہ دورے سے ’’کم ہی توقعات وابستہ ہیں‘‘۔اُنہوں نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ ’’مسلمانوں کے لیے سفری پابندی کا اقدام حیران کُن نہیں تھا۔ چونکہ اُنہوں نے ٹرمپ سے اپنے طریقے کی توقعات باندھ لی تھیں‘‘۔لیکن یہ تاثر کہ ان کا سنی مسلمان بادشاہ، امیر اور صدور تپاک کے ساتھ خیرمقدم کریں گے، امریکی سربراہ کے لیے بہت ہی خوشی کا معاملہ ہوگا، جنہیں داخلی طور پر کئی قسم کے مسائل درپیش ہیں۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر