وجود

... loading ...

وجود

تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر شہریوں کے حقوق کی جدوجہد کرنا ہوگی

جمعه 19 مئی 2017 تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر شہریوں کے حقوق کی جدوجہد کرنا ہوگی

متحدہ لندن قائد کے ریڈ وارنٹ کے اجراء کا راگ الاپا جا رہا ہے، ریڈ وارنٹ خواہش اور فرمائش پر جاری نہیں ہوتا ،حکومت اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی ‘ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے قائم ہونے والے شہری امن کو بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائے بغیردوام نہیں بخشا جاسکتا،کراچی کے شہری مسائل میں گھرے ہوئے ہیں‘ ارباب اختیار کو سوچنا چاہیے کہ اگر سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا خیال نہ رکھا گیا تو انڈے کا سائز چھوٹا بھی ہوسکتا ہے، اوراگر مرغی نے انڈہ دینا ہی بند کر دیا تو ملک چلانا مشکل ہو جائے گا‘ ڈاکٹر فاروق ستار کیا منّے تھے کہ ان کو اپنے قائد کی ملک دشمن سرگرمیوں کا علم نہیں تھا یا کمال گروپ کے لوگ دودھ پیتے بچے تھے ؟مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد کا وجود کو انٹرویو

یوں تو پاکستان کی سیاست میں مہاجر فیکٹر قیام پاکستان کے بعد سے آج تک کسی نہ کسی انداز میں اثر انداز رہا ہے لیکن 1980ء کی دہائی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قیام کے بعد سے ملکی سیاست میں مہاجر فیکٹر کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔پھر مہاجر قومی موومنٹ بنی جو بعد ازاں متحدہ قومی موومنٹ میں ڈھل گئی اور اب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور متحدہ قومی موومنٹ لندن میں تقسیم ہوچکی ہے۔مہاجر قومی موومنٹ المعروف ایم کیو ایم کے قائد تحریک ایک عرصے تک مہاجروں کے نمائندے کے طور پر جانے جاتے رہے لیکن اب وہ متحدہ لندن کی قیادت تک محدود ہوچکے ہیں۔
قائدتحریک سے سب سے پہلے بغاوت کرنے والے طارق نظامی تھے‘ جنہوں نے 1990ء کی دہائی میں بانی ایم کیوایم سے اپنے آپ کو علیحدہ کیا، تاہم کھل کر بانی ایم کیوایم کے سامنے آنے والے باغی مہاجر قومی موومنٹ حقیقی کے چیئرمین آفاق احمد ہیں جنہوں نے 1992ء میں بانی ایم کیوایم سے علیحدگی اختیار کرکے مہاجر قومی موومنٹ میں رہتے ہوئے صرف ’’حقیقی‘‘ لفظ کے اضافے کے ساتھ باقاعدہ اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا‘ لیکن اس کے بعد بانی ایم کیوایم نے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کرکے قومی بنیاد پرسیاست کرنے کا اعلان کردیا اور یوں ملک کے سیاسی منظر نامے میں مہاجر قوم کے حوالے سے آواز بلند کرنے والی لسانی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ ہی تنہا میدان میں رہ گئی۔ آفاق احمد کی جماعت مہاجر قومی موومنٹ کا مرکز اور محور لانڈھی ‘ کورنگی‘ ملیر‘ شاہ فیصل کالونی تھے اسکے علاوہ کراچی کے بعض علاقوں میں بھی اس کا وجود رہا لیکن اس دوران مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ قومی موومنٹ کے مابین طویل عرصے تک جنگ و جدل رہی ۔کراچی کے بعض علاقے نو گو ایریاز کے حوالے سے سامنے آئے اور یوں طویل عرصے تک مہاجر کے ہاتھوں مہاجر کے خون سے کراچی رنگین رہا‘ جس کے نتیجے میں سینکڑوں مہاجر نوجوان موت کی نیند سلا دیئے گئے تو ہزاروں گھر اجڑ گئے اور زندہ بچ جانے والے زندہ درگور ہو کررہ گئے۔اب کراچی آپریشن کے بعد کئی دہائیوں کے بعد کراچی خاک اور خون سے باہر نکل کر آیا اور امن کے اس سفر کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے قائد بانی ایم کیوایم کے ایک خطاب نے مہاجر سیاست کا پورا منظر نامہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا‘ کراچی کی سیاست میں مثبت تبدیلی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، اب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور لندن کے علاوہ مہاجر قومی موومنٹ کا کردار مہاجر سیاست کرنے والوں کیلئے ایک آپشن کے طور پر شہری سطح پر سامنے موجود ہے۔ کراچی کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور عالمی تبدیلیوں کے پس منظر میں گزشتہ روز مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد سے’’وجود‘‘ کا پینل انٹرویو لیا گیا ہے‘ جو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔

وجود پینل:۔ دنیا تبدیل ہونے جا رہی ہے، پاکستان میں چینی سرمایہ کاری اسی تبدیلی کا حصہ ہے، سی پیک منصوبے کو آپ کیسا دیکھ رہے ہیں؟

آفاق احمد: ۔سی پیک کے حوالے سے میں صرف اتنا کہوں گا کہ سی پیک منصوبے کی کامیابی سے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہونے جا رہا ہے اور اس کی کامیابی یہاں کے کلچر کو بھی تبدیل کر دے گی اور متوسط طبقہ خطرات سے دو چار ہو جائے گا۔
وجود پینل:۔ کل تک آپ کا متحدہ قومی موومنٹ سے جھگڑا تھا۔ آج آپ پرامن انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور مہاجر قاتل، مہاجر مقتول کا سلسلہ رک گیا ہے۔ کیا یہ صورتحال مستقبل میں بالکل ختم ہو جائے گی؟
آفاق احمد: ۔ میں روز اول سے اس بات کا قائل ہو کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر قتل و غارت گری نہیں ہونی چاہیے، دنیا کی جمہوریت کو دیکھ لیں۔ مہاجر قاتل، مہاجر مقتول سے بالآخر مہاجر قوم کا جانی ، سیاسی، معاشی اور نا قابل تلافی معاشرتی نقصان ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم بہت پیچھے جا رہے ہیں ہمیں اپنی فکر اور طرز عمل کو تہذیب اور شائستگی سے تبدیل کرنا ہوگا۔ جن عناصر نے اس کلچر کو فروغ دیا وہ بھی اب پشیمان ہیں اور اپنے طرز عمل کو تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ کراچی میں حالیہ امن رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی قربانیوں اور مثبت اقدامات کا ثمر ہے۔ بعض طالع آزما لوگوں نے امن کے اس سفر کو روکنے کے لیے ناکام کوششیں ضرور کیں لیکن اس آپریشن کی عوامی تائید نے ہر منفی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ امن عارضی نہیں دائمی ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے ٹھوس سیاسی، معاشی ، معاشرتی منصوبہ بندی ہونی چاہیے اور کسی کو بھی ملک کے امن و امان اور قوم کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق بلدیاتی اداروں کے ذریعے دینے چاہییں جیسا کہ دنیا میں جمہوری ریاستیں بلدیاتی اداروں کے ذریعے اپنے عوام کو مکمل بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی اور سینٹرز کا کام دنیا بھر میں ترقیاتی منصوبے بنانا اور ان پر عمل کرانا نہیں بلکہ عوام کو بہتر قوانین کے ذریعہ انہیں آسان زندگی گزارنے کا موقع دینا ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں ارکان پارلیمنٹ کو ان کے حلقہ انتخابات کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز دیے جاتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے قائم ہونے والے شہری امن کو بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنائے بغیردوام نہیں بخشا جاسکتا ہے اور شہریوں کو حقوق بھی بلدیاتی اداروں کو اختیارات دے کر ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔
سیاسی اختلاف رائے کے باوجود میں دو ٹوک انداز میں کہتا ہوں کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر، ڈپٹی میر اور ضلعی بلدیات کے تمام منتخب نمائندوں کو ان کے اختیارات دیے جانے چاہییں کیونکہ یہ سب شخصیات اب ادارہ ہیں ،بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں گے تو صوبہ اور ملک بھی مضبوط ہوگا۔ اس وقت کراچی کے عوام مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہیں پانی، بجلی، گیس ، صفائی ستھرائی، سڑکیں، فراہمی آب و نکاسی آب، طبی سہولیات، تعلیمی ضروریات بے ہنگم ٹرانسپورٹ کے نظام کو جنگی بنیادوں پر درست کرنے کی ضرورت ہے اور پھر کہوں گا یہ کام وزیر بلدیات کا نہیں کراچی کے منتخب میئر کی ذمہ داری ہے۔ لیکن وہ اختیارات اور وسائل کے بغیر یہ ذمہ داریاں کیسے ادا کرے گا۔
وجود پینل:۔ ایم کیو ایم لندن سے اظہار لا تعلقی کے بعد کیا ایم کیو ایم پاکستان کو سیاسی آزادی ملنی چاہیے اور کیا اب یہ جماعت شہر اور اہل کراچی کے لیے ماضی کی اپنی غلطیوں کی اصلاح کرسکے گی؟
آفاق احمد: ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کیا منّے تھے کہ ان کو اپنے قائد کی ملک دشمن سرگرمیوں کا علم نہیں تھا بلکہ میں یہاں یہ بھی وضاحت کرتا چلوں کہ کمال گروپ کے لوگ دودھ پیتے بچے تھے کہ اچانک ان کا ضمیر جاگ گیا ہے، اور وہ انہیں ملک دشمن قرار دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ملک دشمنی میں بہت کچھ ہوتا رہا تو اس دوران یہ سب خاموش کیوں رہے اور ریکارڈ پر موجود ہے کہ الیکٹرانک میڈیا میں گھنٹوں بیٹھ کر فاروق ستار اور مصطفی کمال اپنے قائد کی وکالت کرتے رہے بلکہ مصطفی کمال تو دھمکیاں تک دیتے رہے۔بہرحال فاروق ستار نے بحالت مجبوری ہی صحیح ،غلط کام کو غلط کہا ہے تو ہم نے اس کا خیر مقدم کیا ہے کہ چلو انہوں نے اپنے قائد کی ملک دشمن سرگرمیوں پر اظہار لاتعلقی کرکے مناسب قدم اٹھایا ہے۔ میں نے تو 1991ء میں حکومت سے کہا تھا قائد متحدہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں، لیکن میری باتوں کو سنا نہیں گیا ۔اگر اس وقت حکومت نے توجہ دی ہوتی تو شاید صورتحال اتنی نہیں بگڑتی جب کہ ریاست نے اب تک پابندی عائد نہیں کی ہے اور ابھی تک متحدہ لندن قائد کے ریڈ وارنٹ کے اجراء کا راگ الاپا جا رہا ہے۔ جناب ریڈ وارنٹ خواہش اور فرمائش پر جاری نہیں ہوتا ہے بلکہ ریڈ وارنٹ کے اجرا کے لیے پہلے جرائم کو ثابت کر نا ہوتا ہے۔ اس کے شواہد پیش کرنا ہوتے ہیں۔ حکومت اس حوالے سے نہ تو سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور نہ ہی اس دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے جو ملک دشمن عناصر کے خلاف اس کی آئینی ذمہ داری ہے، عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایم کیو ایم لندن کے پاکستان دشمنی کے عزائم کھل کر سامنے آنے کے بعد اس کو سیاسی آزادی دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور نہ ہی حب الوطنی کا تقاضہ ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسی غلطی کی گئی تو نہ صرف یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہوگی بلکہ ملک دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور لوگ کھل کر پاکستان کے خلاف سازشیں کریں گے۔ البتہ ایم کیو ایم پاکستان نے جب اپنے ملک دشمن قائد سے اظہار لاتعلقی کر لیا ہے تو انہیں موقع ملنا چاہیے تاکہ ملک دشمنوں سے اظہار لاتعلقی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور ملک میں مثبت تعمیری سیاست کو فروغ حاصل ہو۔
وجود پینل:۔ سندھ میں شہری اور دیہی علاقوں کا معاملہ کیا ہے، وسائل کی کمی اور سیاسی سطح پر محرومیوں کی حقیقت کیا ہے؟
آفاق احمد: ۔ نئی مردم شماری کے بعد حکومت کی یہ اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ آبادی کے تناسب سے انتخابی حلقوں کی از سر نو حلقہ بندی کرے۔ انتظامی اضلاع کی بنیاد پر ماضی میں کی گئی حلقہ بندیاں نا انصافی پر مبنی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران شہری آبادی میں کئی گنا اضافہ اور دیہی علاقوں کی آبادی کم ہوئی ہے۔ لہٰذا پرانی حلقہ بندی کے مطابق پارلیمنٹ میں شہری آبادی کی نمائندگی کم ہے۔ یہ عجیب صورتحال نہیں ہے کہ شہری علاقے کارکن قومی اسمبلی کا حلقہ ڈھائی تین لاکھ ووٹرز پر مشتمل ہو اور دیہی علاقے کا رکن قومی اسمبلی کا حلقہ لاکھ سوا لاکھ ووٹرز پر مشتمل ہو۔یہ سراسر نا انصافی اور احساس محرومی کی بنیاد ہے۔ لسانی معاہدے کے وقت 40% شہری سندھ اور 60%دیہی سندھ کا تناسب طے ہوا تھا۔ شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے یہاں نسلی اعتبار سے آبادی میں اضافے کے علاوہ اندرون ملک سے کراچی میں روزگار اور تعلیم کے حصول کے لیے آنے والوں کی وجہ سے آبادی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے ،اس تناسب سے تو سندھ کی شہری آبادی 60% ہے۔ لہٰذا اس فارمولے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو اختیارات تو دیے گئے لیکن سندھ سے دس سال کوٹے کے قانون کو واپس نہ لے کر آئینی وعدے پر عمل درآمد سے گریز کیوں کیا گیا؟ اب تنہا کوئی جماعت شہر کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے، میں یہاں بسنے والی تمام اکائیوں کو تسلیم کرتا ہوں۔ سندھ کے کوٹے میں تیسری بار توسیع دینے پر متحدہ قومی موومنٹ کو حکومت سے احتجاجاً مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن کراچی کی نمائندگی کرنے والوں نے ایسا نہیں کیا، ان کی اس نا اہلی کی سزا کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں۔ حالیہ مردم شماری کے بعد کراچی کے وسائل میں اضافے کی توقع ہے۔ ویسے ارباب اختیار کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ اگر سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کا خیال نہ رکھا گیا تو انڈے کا سائز بھی چھوٹا ہوسکتا ہے۔ اور مرغی نے انڈہ دینا ہی بند کر دیا تو ملک چلانا مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ شہر کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر شہر کی ترقی اور شہریوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی ۔
وجود پینل:۔ کراچی میں ہونے والے کئی بڑے جرائم پر اب تک کوئی خاص اقدامات نظر نہیں آرہے، خصوصاً سانحہ بلدیہ ٹائون پر اب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوئے ،اس کی جے آئی ٹی کو بھی متنازع بنایا جا رہا ہے اس معاملے کو آپ کیسا دیکھتے ہیں؟
آفاق احمد: ۔ کراچی سمیت ملک بھر کے سنگین جرائم کے ملزمان اگر سزا سے بچ نکلتے ہیں تو یہ قانون کی کمزوری ہے۔ میں نے فریضہ حج کی ادائیگی پر روانگی کے وقت سانحۂ بلدیہ ٹائون کے جن ملزمان کی نشان دہی کی تھی، اب وہ گرفتار ہوچکے ہیں۔ جے آئی ٹی میں سے کسی کا نام نکال کر بے گناہ ظاہر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ گرفتار ملزمان جب مقدمے کی سماعت کے دوران سزا کے قریب ہوں گے تو وہ بھی شامل تفتیش ہوں گے جن کے نام نکال دیئے گئے ہیں اور وہ بچ نہیں پائیں گے۔ اتنے بڑے سانحہ پر جلد سزا سے ہی جرائم کی روک تھام ممکن ہے۔
وجود پینل:۔ آپ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ازسر نو منظم کر رہے ہیں اس کے کیا مقاصد ہیں؟
آفاق احمد: ۔ جی ہاں مہاجر قومی موومنٹ کی تنظیم سازی کا عمل جاری ہے۔ خواتین تنظیم کاآج 19 مئی کو ہونے والا جلسہ عام ہماری سیاسی سرگرمیوں کا نکتہ آغاز ہے۔ ہم عوام کو درست سمت میں متحرک کرنے جا رہے ہیں، انہیں کراچی کی سیاست میں بامقصد سمت کی جانب لے کر جانا چاہیے تاکہ عوام کی طاقت سے کراچی کے حقوق حاصل کرسکیں اور عوام کو شخصیت کے سحر سے نکال کر مقصد کی جانب لا کر عوامی حقوق کی جنگ لڑنے والے نمائندے کو منتخب کرایا جاسکے۔ جو عوام کو مشکل میں ڈالے بغیر ایوان میں ان کا مقدمہ لڑکر انہیں ایک باعزت شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا آئینی اور قانونی موقع فراہم کرسکیں۔ 19 مئی کو ملیر آر سی ڈی گرائونڈ میں خواتین کا جلسہ عام مہاجروں کی منزل کے سفر کا نکتہ آغاز ہوگا۔ ان شاء اللہ جولائی تک تنظیمی عمل مکمل کرنے کے بعد نشتر پارک کراچی میں جلسہ عام کریں گے۔ ہمیں امید ہے ہمارے جلسوں اور تنظیمی سرگرمیوں سے مہاجروں میں پائی جانے والی بے یقینی اور نا امیدی کا خاتمہ اور کراچی کی سیاسی فضاء میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
وجود پینل:۔ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا کیا پروگرام ہے، کیا آپ انتخاب میں خود حصہ لیں گے؟
آفاق احمد: ۔ آئندہ انتخابات سے قبل مہاجر قومی موومنٹ اور ذیلی تنظیموں کا تنظیمی ڈھانچہ مکمل کرکے اپنی شناخت اور وجود کے ساتھ براہ راست بھی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ اور شہر کی دیگرجماعتوں سے جو کراچی کی اسٹیک ہولڈرز ہیں ان جماعتوں سے سیٹوں پر ایڈجسٹمنٹ بھی کریں گے۔ ہر محب وطن اور کراچی میں حقیقی امن لانے والی جماعتوں سے ہمارا انتخابی اتحاد ممکن ہے۔ اگر پیپلز پارٹی نے ہمارے نکتہ نظر سے اتفاق کیا اور ہمارے وجود کو تسلیم کیا تو ان سے بھی انتخابی اتحاد ممکن ہے۔ کیونکہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ اپنے عوام اور ملک کے وسیع ترمفاد میں سیاسی اتحاد جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ جہاں تک میرے انتخاب میں حصہ لینے کا تعلق ہے، یہ موقع جب آئے گا تو اس کا فیصلہ میری جماعت کرے گی۔
انٹرویو پینل:سراج امجدی/عمران علی شاہ
عکاسی :آصف راٹھور


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر