وجود

... loading ...

وجود

صوبائی بجٹ :500ارب روپے لوٹنے کی حکمت عملی تیار

بدھ 17 مئی 2017 صوبائی بجٹ :500ارب روپے لوٹنے کی حکمت عملی تیار

50 ہزار نئی ملازمتیں دینے کا جھانسہ دیا جائے گا،وفاق سے زیادہ سے زیادہ رقم وصول کرنے کی کوشش کی جائے گی،ذرائع، یہ پیسہ عام انتخابات میں ضلعی ریٹرننگ افسران کو خریدنے یا پھر بعداز الیکشن نتائج میں تبدیلی کے لیے خرچ کی جائے گی

حکومت سندھ نے چار سال میں جس طرح صوبے کی تباہی کی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے، کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں ہے جس کو حکومت سندھ مثالی شہر قرار دے سکے۔ حد تو یہ ہے کہ جس ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کے نام پر ووٹ لیے جاتے ہیں ان کے شہر لاڑکانہ کی حالت زار پر جتنا رویا جائے وہ کم ہے۔ لاڑکانہ کے نام پر جس طرح آصف زرداری اور فریال تالپر نے لوٹ مار کی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ 90 ارب روپے لاڑکانہ کے نام پر خرچ ہوئے لیکن وہاں تو کوئی ایک روڈ بھی ایسا نہیں ہے جو اچھی حالت میں ہو۔ خیر پور شہر اور نواب شاہ شہر میں اچھی ترقی ہوئی کیونکہ خیر پور میں قائم علی شاہ کا اور نواب شاہ میں آصف زرداری کا گھر ہے، اس لیے وہاں اچھے روڈ بنائے گئے ہیں ۔پورے ضلع کے اندر نواب شاہ کی سڑکیں اور ترقی ویسی ہے جیسی صوبے کے دوسرے شہروں میں ہے، یہی حال ضلع خیر پور کا ہے۔ باقی تمام صوبہ اللہ کے آسرے پر ہے ۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کھل کر کہا تھا کہ فریال تالپر کا کردار پھولن دیوی جیسا ہے لیکن ہمارا ان سے تھوڑا سااختلاف ہے کیونکہ پھولن دیوی سے تو اونچی ذات کے ہندوئوں نے ناانصافی کی تھی اور پھر اسی نا انصافی پر پھولن دیوی نے بندوق اٹھائی اور ظالموں سے لڑائی لڑی اور پھر منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں پہنچیں لیکن فریال تالپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں ،وہ 2008 ء کے بعد جس طرح کرپشن کی دیوی بن کر ابھری ہیں تووہ لوٹ مار میں مارکوس کو بھی مات دے گئی ہیں۔ ان کی کرپشن کی داستانیں اس طرح بھری پڑی ہیں کہ یہ نا قابل بیان نہیں، اس پر درجنوں کتابیں لکھی جائیں تو وہ بھی کم ہوں گی۔ فریال تالپر نے لاڑکانہ میں ایسی اندھیرنگری قائم کر رکھی ہے کہ زبان گنگ رہ جائے ، لاڑکانہ میں سہیل انور سیال کے ذریعہ ٹھیکیدار اور کھرل نے جس طرح ٹھیکوں میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے، اس سے تواب عام لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس سے تو آمریت بہتر تھی۔ آصف زرداری ،فریال تالپر، سہیل انور سیال ، ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل میمن ، حاجی علی حسن زرداری سمیت اس ٹولے نے جس طریقے سے سندھ کو لوٹ کر تباہ و برباد کیا ہے اس سے سندھ دھرتی 50 سال پیچھے چلی گئی ہے ،مگر یہ ٹولہ اب کھرب پتی بن گیا ہے اور ان کی آنے والی سات نسلیں بیٹھ کر عیاشی کر سکتی ہیں۔ اتنی کرپشن کرنے کے باوجود اس ٹولے کا پیٹ نہیں بھرا اور وہ ہر وقت مالی بے قاعدگی کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جب کہ نیا بجٹ آنے والا ہے اور اس ٹولے نے ایک مرتبہ پھر آنکھیں پھاڑ کر بجٹ ہڑپ کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔موجودہ حکومت کے آخری سال کے بجٹ کے لیے جو حکمت عملی بنائی گئی ہے وہ خوفناک ہے،نئے تیارکردہ جال کے تحت 50 ہزار نئی ملازمتیں دینے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ وفاقی حکومت سے جھگڑے کے باعث زیادہ سے زیادہ پیسہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ وہ پیسہ لوٹ مار کرنے والے ٹولے کے پاس چلا جائے اور وہ عام الیکشن میں ضلعی ریٹرننگ افسران کو خریدا جا سکے یا پھر الیکشن کے نتائج میں تبدیلی کے لیے یہ رقم خرچ کی جاسکے۔ اس ٹولے نے مختلف محکموں سے کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے محکموں کے ترقیاتی کام زیادہ سے زیادہ بتائیں تاکہ عوام کو عام الیکشن سے قبل لالی پاپ دکھا کر زیادہ ووٹ لیے جاسکیں ،عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بہت آسان ہے ۔پی پی پی کی حکومت یہ کہہ دے گی کہ دیکھیں ہم نے کتنے ترقیاتی کام کرائے ہیں، اور کتنی نوکریاں دی ہیں، اس کے باوجود ہمیں ووٹ نہ ملیں تو کتنی نا انصافی ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی اس حکمت عملی کو صرف آئی جی سندھ پولیس نے ناکام بنایا ہے کیونکہ رواں مالی سال کے 7 ارب روپے خرچ نہ ہونے کے باعث واپس کر دیے ہیں اور پھر پہلے مرحلے میں 12 ہزار بھرتیاں میرٹ پر کی گئیں اور اب 13 ہزار بھرتیاں بھی میرٹ پر کی جائیں گی۔ اور یہ انور مجید جیسے ٹولے کے منہ پر طمانچہ ہے کہ اس نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ کسی طرح پولیس اہلکاروں کی بھرتی میں پیسہ بنایا جائے اور تقریباً 13 ارب روپے کا ٹارگٹ رکھا گیا تھالیکن آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے ان کا یہ خواب چکنا چور کر دیا اور سب بھرتیاں میرٹ پر کر دکھائیں اور کسی سے پیسے لیے ،نہ دیے۔ اب بھی آئی جی سندھ پولیس نے جو منصوبے بنائے ہیں اس میں ایک تو بے قاعدگی کے امکانات ختم کر دیے ہیں، دوسرا یہ کہ جو کام کرائے جائیں گے وہ خالصتاً میرٹ پر مشتمل ہوں گے اور پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اس کا کریڈٹ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔
تمام صوبائی محکموں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے اور ان کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ آخر ان کے منصوبوں کا مقصد کیا ہے ۔ کیونکہ جو افسران حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کو گھر بھیج دیا جاتا ہے ۔ اب ایسے افسران لائے جا رہے ہیں جو حکومت کی ہاں میں ہاں ملا سکیں۔ بہرحال نیا بجٹ خسارے کا ہوگا اور 500 ارب روپے کرپٹ ٹولے کے جیبوں میں ڈالنے کی پہلے سے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے اور اس کام کے عوض مراد علی شاہ کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنانے کا آسرا دیا گیا ہے۔


متعلقہ خبریں


آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ وجود - پیر 13 اپریل 2026

ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایران کو ٹول دینے والے جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، ٹرمپ

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم وجود - پیر 13 اپریل 2026

اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری پر بھارت میں صف ماتم

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان وجود - پیر 13 اپریل 2026

مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...

ترک صدر کی اسرائیل پر حملے کی دھمکی ،نیتن یاہو آج کا ہٹلر ہے،طیب اردگان

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...

اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ وجود - اتوار 12 اپریل 2026

سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...

امارات کو رقم کی واپسی، سعودی عرب، قطر کی پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...

عمران خان جمہوری تاریخ کی بدترین سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ ہے، سہیل آفریدی

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی وجود - اتوار 12 اپریل 2026

اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...

اسرائیل کی ایران جنگ کے دوران غزہ پر بمباری ،107فلسطینی شہید، 342 زخمی

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

مضامین
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی وجود پیر 13 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی تعیناتی

ریت کا محل وجود پیر 13 اپریل 2026
ریت کا محل

ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر وجود پیر 13 اپریل 2026
ریاست ِاسرائیل کا تاریخی و قرآنی تناظر

چین اور ایران وجود پیر 13 اپریل 2026
چین اور ایران

انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے! وجود پیر 13 اپریل 2026
انسان اپنی سوچ سے نہیں کمزوری کی وجہ سے عظیم ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر