وجود

... loading ...

وجود

چین میں سب سے بڑا سفارتی اجلاس”دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو“

پیر 15 مئی 2017 چین میں سب سے بڑا سفارتی اجلاس”دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو“

چین انفرااسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے، چین کا منصوبہ ہے کہ ہر سال 150 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا‘ چین کے اس منصوبے پر ملا جلا ردعمل ہے، وسط اور جنوب مشرقی ایشیا کی ریاستیں جیسے کہ قزاقستان اور تاجکستان ہیں تو وہ بہت خوش ہیں‘ بھارت نے شک کا اظہار کیا ہے کہ تجارتی منصوبے بہانہ ہیں اور چین کا اصل منصوبہ بحرِ ہند پر اسٹریٹیجک کنٹرول حاصل کرنا ہے

روس کے صدر ولادیمر پوٹن اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف دنیا کے کم وبیش 29 سربراہان مملکت اور 130 ممالک کے 1500 مندوبین کا سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلا س چین کے شہر بیجنگ میں شروع ہوچکاہے ،چین نے بیجنگ میں ہونے والے اس اجلاس کو ’دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘ کانام دیا ہے اور اس کو بجاطورپر اس سال کا سب سے بڑا سفارتی اجلاس قرار دیا جا رہا ہے، اجلاس کا آغاز چین کے صدر شی جن پنگ نے کیا ہے۔
’دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘ کیا ہے؟
اس پراجیکٹ کو کچھ اس طرح سمجھاتے ہیں: ’یہ پراجیکٹ چین کی جانب سے عالمی سطح پر معاشی مشکلات کے خاتمے کی کوشش ہے۔ یہ وہ گیت ہے جو کسی ایک آواز میں نہیں ہے بلکہ کورس میں ہے‘۔ اس پراجیکٹ کے ذریعے چین تجارت میں اضافہ اور اپنی معیشت کو ایشیا سے باہر کے خطے لے جانا چاہتا ہے۔
ایسا کرنے کے لیے چین بڑے پیمانے پر انفرااسٹرکچر کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک کو ملانے کا عزم رکھتا ہے۔ چند اندازوں کے مطابق چین کا منصوبہ ہے کہ وہ ہر سال 150 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ رواں سال کے آغاز پر ریٹنگ ایجنسی ’فچ‘ کا کہنا تھا کہ 900 بلین ڈالر کے پروجیکٹ کی یا تو منصوبہ بندی کر لی گئی ہے یا ان پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔
ان منصوبوں میں پاکستان میں پائپ لائنز اور بندرگاہ، بنگلہ دیش میں پُل اور روس میں ریلوے کے پروجیکٹ ہیں۔ ان کا مقصد ’جدید سلک روڈ‘ کا قیام ہے جس کے ذریعے تجارت کی جا سکے اور ایک نئے گلوبلائزیشن دور کا آغاز کیا جائے۔
بیلٹ اینڈ روڈ سے مطلب؟
اس اجلاس کے آغاز سے قبل ہی دنیا بھر کے سربراہان چین پہنچ چکے ہیں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف گزشتہ روز چاروں وزرائے اعلیٰ کے ہمراہ بیجنگ پہنچے تھے۔’دا بیلٹ اینڈ روڈ اینیشی ایٹو‘کے دو اہم حصے ہیں۔ ایک ہے جس کو ’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘ کہا جاتا ہے اور دوسرا ہے ’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ۔’21 ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ‘ وہ سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے چین اپنے جنوبی ساحل کو وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ذریعے مشرقی افریقہ اور بحیرہ روم سے ملائے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے ستمبر 2013ءمیں قزاقستان کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ’سلک روڈ اکنامک بیلٹ‘ کا باضابطہ اعلان کیاتھا۔ تاہم بعد میں اس منصوبے میں وسعت لائی گئی اور نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔چین نے اس پروجیکٹ کے حوالے سے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں اہم ترین 62 بلین ڈالر کا چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں موٹر ویز کا جال بچھانا ہوگا، پاور پلانٹس لگیں گے، فیکٹریاں لگیں گی اور ریلوے کا جال بچھے گا۔پاکستان کے علاوہ چین نے سری لنکا میںبھی 1.1 بلین ڈالر کا منصوبہ شروع کیا ہے، انڈونیشیا میں تیز رفتار ریل لنک اور کمبوڈیا میں صنعتی پارک۔
چین کے اس منصوبے پر ملا جلا ردعمل ہے۔ وسط اور جنوب مشرقی ایشیا کی ریاستیں جیسے کہ قزاقستان اور تاجکستان ہیں تو وہ بہت خوش ہیں۔دوسری جانب بھارت نے شک کا اظہار کیا ہے کہ تجارتی منصوبے بہانہ ہیں اور چین کا اصل منصوبہ بحرِ ہند پر سٹریٹیجک کنٹرول حاصل کرنا ہے۔یہ ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہے جس کے ذریعے دنیا کی 65 فیصد آبادی، دنیا کی تین چوتھائی توانائی کے ذخائر اور دنیا کا 40 فیصد جی ڈی پی تک پہنچے گا۔
ایک اندازے کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری پر 46 بلین ڈالر لاگت آئے گی۔ اس منصوبے کے تحت کاشغر کو دو ہزار میل دور گوادر سے جوڑا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکا نے 2002 ءسے اب تک پاکستان میں 33 بلین ڈالر خرچے ہیں جن میں سے دو تہائی سیکورٹی کی مد میں تھے۔اس پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلات مبہم ہیں۔ جیسے اس پراجیکٹ کا ایک نقشہ تیار کیا گیا لیکن اس کو بھی جلد ہی منظر عام سے ہٹا دیا گیا۔
پاکستان میں تعینات چینی سفارت کار عموماً ’خاموش‘ سفارتکاری پر عمل پیرا رہے ہیں لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ یہی چینی سفارت کار سوشل میڈیا پر اس کے دفاع کے لیے کافی متحرک ہوئے ہیں۔اسلام آباد میں تعینات چین کے سفارت کار محمد لجیان ڑاو نے ٹوئٹر پر اپنے تعارف میں لکھا ہے کہ ’اگر آپ کو چین یا سی پیک سے متعلق معلومات چاہئےں تو مجھے فالو کریں۔’ مئی 2010 ءسے شروع کیے گئے اس چینی اہلکار کے اکاو¿نٹ کی ٹائم لائن اگر دیکھیں تو اس پر بھرپور انداز میں راہداری منصوبے سے متعلق ٹویٹس اور شائع ہونے والی خبروں کی تردید یا وضاحت کی گئی ہے۔
تازہ ترین بحث خیبر پختونخوا کے ضلع دیر پایان میں ایک پن بجلی کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی مزدوروں کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ اس کیمپ کے قیدی ہیں۔ محمد لجیان ڑاو نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور اسے دن کا بڑا مذاق قرار دیا۔ پاکستان سائبر فورس نامی اکاو¿نٹ نے محمد لجیان کے حق میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’انہیں ماضی میں چینی انجینئروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور ایک بات انہیں معلوم ہے کہ چینی ایماندار دوست ہیں‘۔
نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ چینی سفیر اور سیمینارز اور اسلام آباد میں قائم مختلف تھنک ٹینک کے ذریعے بھی آج کل راہداری کے بارے میں ہونے والے ’منفی پروپیگنڈا‘ کو زائل کرنے کی کوشش میں مصرف دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے ہی ایک سمینار میں بات کرتے ہوئے چین کے قائم مقام سفیر نے کہا کہ سی پیک پر کام ٹھیک ہو رہا ہے۔ ’لیکن بعض لوگ اسے بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔پاکستان میں چین کے سفیر نے اپنے اہلکاروں کے ساتھ سی پیک کی پہلی کھیپ کی روانگی پر تصویر کھنچوائی، محمد لجیان ایک اور جگہ پر سی پیک میں پنجاب کو سب منصوبے دینے کے الزام کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’میرے نزدیک بلوچستان کو اس سے زیادہ فائدہ ہوگا تو کیا اس کا نام چین بلوچستان اقتصادی راہداری نہ رکھ لیا جائے‘۔ بلوچستان کے بارے میں ہی ان کا کہنا تھا کہ’ صوبے کی اشرافیہ عام لوگوں کو بےوقوف بنانا چاہتی ہے‘۔
چینی سفیر کی اہلیہ ڈیانہ باو¿ بھی اپنے اکاؤنٹ سے لجیان کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرتی رہتی ہیں۔ 46 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے والے چین کے لیے سوشل میڈیا پر سی پیک کے حق متحرک ہونا شاید بڑی ضرورت تھی۔
تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر