... loading ...

تین سہ ماہی کے دوران سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی ،سرمایہ کاری کا رجحان جو گزشتہ برسوں میں تیزی کی جانب مائل تھا اچانک نیچے آگیا‘ سرمایہ کاری میں کمی کاایک بڑا سبب روز بروز بڑھتی ہوئی گرانی اور آمدنی پر طاری جمود اور پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ ہے،ماہرین اقتصادیات
اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں ریکارڈ 11 فیصد کمی ہوئی ہے ،ر پورٹ کے مطابق جون2016 ء سے مارچ 2017ء کے دوران قومی بچت اسکیموں میں مجموعی طورپر ایک کھرب 69 ارب 20 کروڑ روپے جمع کرائے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران ان اسکیموں میں جمع کرائی گئی رقم کی مجموعی مالیت ایک کھرب 90 ارب 40 کروڑ روپے تھی۔حکومت نے قومی بچت اسکیموں سے 9 ارب 77 کروڑ 30 لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی اور مجموعی طورپر سرمایہ کاری کا رجحان جو کہ گزشتہ برسوں کے دوران تیزی کی جانب مائل تھا اچانک نیچے آگیاہے۔رپورٹ کے مطابق قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی کاایک بڑا سبب بچتوں پر منافع کی شرح کم ہونابھی ہے جبکہ ماہرین اقتصادیات کا کہناہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری میں کمی کاایک بڑا سبب روز بروز بڑھتی ہوئی گرانی اور آمدنی پر طاری جمود اور پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ ہے ، جس کی وجہ سے اب لوگ اپنی رقم سالہاسال کے لیے معمولی منافع کے لیے منجمد کردینے کے بجائے یہ پراپرٹی کی خریدوفروخت میں لگانے پر ترجیح دیتے ہیں۔اس کے علاوہ میوچل فنڈز اور ایکویٹیز میں سرمایہ کاری بھی قومی بچت اسکیموں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے جہاں سے لوگ کسی محنت کے بغیر معقول منافع حاصل کرلیتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کاکہناہے کہ اگرچہ چند ماہ قبل قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں معمولی سا اضافہ کیاگیاتھا لیکن یہ اضافہ مارکیٹ میں بچتوں کے حوالے سے موجود دیگر متعدد پراڈکٹس کے مقابلے ہی میں نہیں بلکہ چند سال قبل ان اسکیموں پر دیے جانے والے منافع سے بھی بہت کم ہے۔
قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں اس کمی کے باوجود قومی بچت کے افسران کا دعویٰ یہی ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں آنے والی اس کمی کے باوجود ان اسکیموں میں جمع کرائی جانے والی رقم کی شرح حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے مقررہ اہداف کے مطابق ہیں اور قومی بچت کے اکائونٹس ،سرٹیفیکٹس اور بانڈز میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا ہدف پورا کیاجاچکاہے۔قومی بچت کے افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ خیال کرنا کہ بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی ہوئی درست نہیں ہے ، ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح بجٹ میں مقررہ اہداف کے عین مطابق ہیں۔ان افسران کاکہناہے کہ 2016-17 ء کے بجٹ میں قومی بچت اسکیموں کے تحت سرمایہ کاری کے لیے 228 ارب روپے کاہدف مقرر کیاگیاتھا اور گزشتہ9 ماہ کے دوران جمع کرائی گئی رقوم کی مالیت اس ہدف کے عین مطابق ہیں۔
افسران کاکہناہے کہ ہماری چھوٹی بچتوں کی اسکیم اور فکسڈ ڈپازٹ پر منافع کی شرح بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے منافع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اس لیے چھوٹی بچت کی اسکیموں میں سرمایہ کاری اب بھی بہت سے سرمایہ کاروںخاص طورپر پنشنرز ، بیوائوںاور اپنی رقوم کو لٹنے سے محفوظ رکھنے کے خواہاں لوگوں کے لیے دیگر ذرائع کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہے۔افسران کاکہناہے کہ بچت اسکیموں کی پراڈکٹ چھوٹی بچت کرنے والوں کے لیے بینکوں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو باقاعدہ آمدنی حاصل ہوتی رہتی ہے، جبکہ دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کی صورت میں سرمایہ ڈوب جانے کا خطرہ بھی موجود ہوتاہے۔ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو ایک مقررہ شرح سے گارنٹی شدہ منافع ملتارہتاہے جبکہ میوچل فنڈز اور اکیویٹیز وغیرہ جیسی اسکیموں میں ایسا نہیص ہوتا۔ان کاکہناہے کہ اس وقت بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو بینکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ منافع حاصل ہورہاہے۔ان افسران کاکہناہے کہ حکومت ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو بینکوں کے مقابلے میں سالانہ مجموعی طورپر کم وبیش 30 ارب روپے زیادہ ادا کررہی ہے۔ان کاکہناہے کہ قومی بچت اسکیموں میں رقم رکھنے والوں کو سالانہ 6.03 فیصد سے 9.36 فیصد تک کی شرح سے منافع ادا کیاجاتاہے جبکہ بینکوں سے ان کو 5.60 فیصد سے6.40 فیصد تک منافع دیاجاتاہے۔
تاہم مارکیٹ ذرائع کاخیال ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں معمولی سے اضافے کی صورت میں بھی ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتاہے اور اس طرح حکومت کو اپنے امور مملکت چلانے کیلئے بینکوں سے بھاری شرح سود اور مارک اپ پر زیادہ رقم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔جبکہ ایک دوسرے حلقے کاخیال ہے کہ بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافے سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھے گا اور اس طرح حکومت مزید زیر بار ہوگی۔ جبکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کی کوشش کرے جہاں اسے کم از کم شرح پر سود ادا کرنا پڑے خواہ یہ رقم قوی بچت اسکیموں کے ذریعے حاصل ہو بینکوں کے ذریعے حاصل ہو یا نئے بانڈز کے اجرا کے ذریعہ ہو تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوسکے۔
دوسری جانب ایک اور حلقے کاکہنا ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے ساتھ اس قومی بچت اداروں میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو پریشان کئے جانے کا رویہ ہے جس کی وجہ سے خود اپنی رقم پر منافع حاصل کرنے کے لیے لوگوں کوگھنٹوں قطار لگانا پڑتی ہے اور ان اداروں میں تعینات کوئی اہلکار ان سے سیدھے منہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیاجاتاہے جیسا کہ وہ اپنی رقم پر منافع لینے نہیں بلکہ خیرات لینے آئے ہوں، اس حلقے کاکہناہے کہ قومی بچت اداروں کی کارکردگی بینک کی طرح آسان اور سہل بنادی جائے تو بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح دیکھتے ہی دیکھتے دگنی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ اس طرح لوگ بینکوں میں رقم رکھنے کے بجائے قومی بچت اسکیموں میں رقوم جمع کرانے کو ہی ترجیح دینے لگیں گے۔
ابن عماد بن عزیز
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...