وجود

... loading ...

وجود

قومی بچت اسکیمیں سرمایہ کاری میں 11 فیصدکی ریکارڈ کمی

هفته 13 مئی 2017 قومی بچت اسکیمیں سرمایہ کاری میں 11 فیصدکی ریکارڈ کمی

تین سہ ماہی کے دوران سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی ،سرمایہ کاری کا رجحان جو گزشتہ برسوں میں تیزی کی جانب مائل تھا اچانک نیچے آگیا‘ سرمایہ کاری میں کمی کاایک بڑا سبب روز بروز بڑھتی ہوئی گرانی اور آمدنی پر طاری جمود اور پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ ہے،ماہرین اقتصادیات

اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں ریکارڈ 11 فیصد کمی ہوئی ہے ،ر پورٹ کے مطابق جون2016 ء سے مارچ 2017ء کے دوران قومی بچت اسکیموں میں مجموعی طورپر ایک کھرب 69 ارب 20 کروڑ روپے جمع کرائے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران ان اسکیموں میں جمع کرائی گئی رقم کی مجموعی مالیت ایک کھرب 90 ارب 40 کروڑ روپے تھی۔حکومت نے قومی بچت اسکیموں سے 9 ارب 77 کروڑ 30 لاکھ روپے کا قرض حاصل کیا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم رہی اور مجموعی طورپر سرمایہ کاری کا رجحان جو کہ گزشتہ برسوں کے دوران تیزی کی جانب مائل تھا اچانک نیچے آگیاہے۔رپورٹ کے مطابق قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی کاایک بڑا سبب بچتوں پر منافع کی شرح کم ہونابھی ہے جبکہ ماہرین اقتصادیات کا کہناہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری میں کمی کاایک بڑا سبب روز بروز بڑھتی ہوئی گرانی اور آمدنی پر طاری جمود اور پراپرٹی کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ ہے ، جس کی وجہ سے اب لوگ اپنی رقم سالہاسال کے لیے معمولی منافع کے لیے منجمد کردینے کے بجائے یہ پراپرٹی کی خریدوفروخت میں لگانے پر ترجیح دیتے ہیں۔اس کے علاوہ میوچل فنڈز اور ایکویٹیز میں سرمایہ کاری بھی قومی بچت اسکیموں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے جہاں سے لوگ کسی محنت کے بغیر معقول منافع حاصل کرلیتے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کاکہناہے کہ اگرچہ چند ماہ قبل قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں معمولی سا اضافہ کیاگیاتھا لیکن یہ اضافہ مارکیٹ میں بچتوں کے حوالے سے موجود دیگر متعدد پراڈکٹس کے مقابلے ہی میں نہیں بلکہ چند سال قبل ان اسکیموں پر دیے جانے والے منافع سے بھی بہت کم ہے۔
قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں اس کمی کے باوجود قومی بچت کے افسران کا دعویٰ یہی ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں آنے والی اس کمی کے باوجود ان اسکیموں میں جمع کرائی جانے والی رقم کی شرح حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے مقررہ اہداف کے مطابق ہیں اور قومی بچت کے اکائونٹس ،سرٹیفیکٹس اور بانڈز میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا ہدف پورا کیاجاچکاہے۔قومی بچت کے افسران کا دعویٰ ہے کہ یہ خیال کرنا کہ بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں کمی ہوئی درست نہیں ہے ، ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح بجٹ میں مقررہ اہداف کے عین مطابق ہیں۔ان افسران کاکہناہے کہ 2016-17 ء کے بجٹ میں قومی بچت اسکیموں کے تحت سرمایہ کاری کے لیے 228 ارب روپے کاہدف مقرر کیاگیاتھا اور گزشتہ9 ماہ کے دوران جمع کرائی گئی رقوم کی مالیت اس ہدف کے عین مطابق ہیں۔
افسران کاکہناہے کہ ہماری چھوٹی بچتوں کی اسکیم اور فکسڈ ڈپازٹ پر منافع کی شرح بینکوں کی جانب سے دیے جانے والے منافع کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اس لیے چھوٹی بچت کی اسکیموں میں سرمایہ کاری اب بھی بہت سے سرمایہ کاروںخاص طورپر پنشنرز ، بیوائوںاور اپنی رقوم کو لٹنے سے محفوظ رکھنے کے خواہاں لوگوں کے لیے دیگر ذرائع کے مقابلے میں زیادہ پرکشش ہے۔افسران کاکہناہے کہ بچت اسکیموں کی پراڈکٹ چھوٹی بچت کرنے والوں کے لیے بینکوں کے مقابلے میں زیادہ منافع بخش ہے کیونکہ ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو باقاعدہ آمدنی حاصل ہوتی رہتی ہے، جبکہ دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کی صورت میں سرمایہ ڈوب جانے کا خطرہ بھی موجود ہوتاہے۔ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو ایک مقررہ شرح سے گارنٹی شدہ منافع ملتارہتاہے جبکہ میوچل فنڈز اور اکیویٹیز وغیرہ جیسی اسکیموں میں ایسا نہیص ہوتا۔ان کاکہناہے کہ اس وقت بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو بینکوں کے مقابلے میں بہت زیادہ منافع حاصل ہورہاہے۔ان افسران کاکہناہے کہ حکومت ان اسکیموں کے تحت بچت کرنے والوں کو بینکوں کے مقابلے میں سالانہ مجموعی طورپر کم وبیش 30 ارب روپے زیادہ ادا کررہی ہے۔ان کاکہناہے کہ قومی بچت اسکیموں میں رقم رکھنے والوں کو سالانہ 6.03 فیصد سے 9.36 فیصد تک کی شرح سے منافع ادا کیاجاتاہے جبکہ بینکوں سے ان کو 5.60 فیصد سے6.40 فیصد تک منافع دیاجاتاہے۔
تاہم مارکیٹ ذرائع کاخیال ہے کہ حکومت کی جانب سے اپنی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں معمولی سے اضافے کی صورت میں بھی ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتاہے اور اس طرح حکومت کو اپنے امور مملکت چلانے کیلئے بینکوں سے بھاری شرح سود اور مارک اپ پر زیادہ رقم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔جبکہ ایک دوسرے حلقے کاخیال ہے کہ بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافے سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھے گا اور اس طرح حکومت مزید زیر بار ہوگی۔ جبکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ان ذرائع سے رقوم حاصل کرنے کی کوشش کرے جہاں اسے کم از کم شرح پر سود ادا کرنا پڑے خواہ یہ رقم قوی بچت اسکیموں کے ذریعے حاصل ہو بینکوں کے ذریعے حاصل ہو یا نئے بانڈز کے اجرا کے ذریعہ ہو تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوسکے۔
دوسری جانب ایک اور حلقے کاکہنا ہے کہ قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے ساتھ اس قومی بچت اداروں میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی جانب سے سرمایہ کاروں کو پریشان کئے جانے کا رویہ ہے جس کی وجہ سے خود اپنی رقم پر منافع حاصل کرنے کے لیے لوگوں کوگھنٹوں قطار لگانا پڑتی ہے اور ان اداروں میں تعینات کوئی اہلکار ان سے سیدھے منہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیاجاتاہے جیسا کہ وہ اپنی رقم پر منافع لینے نہیں بلکہ خیرات لینے آئے ہوں، اس حلقے کاکہناہے کہ قومی بچت اداروں کی کارکردگی بینک کی طرح آسان اور سہل بنادی جائے تو بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کی شرح دیکھتے ہی دیکھتے دگنی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔کیونکہ اس طرح لوگ بینکوں میں رقم رکھنے کے بجائے قومی بچت اسکیموں میں رقوم جمع کرانے کو ہی ترجیح دینے لگیں گے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر