وجود

... loading ...

وجود

میگاسٹی کے قبرستان صفائی ستھرائی سے محروم ،حکام کی بے حسی سے عوام پریشان

جمعرات 11 مئی 2017 میگاسٹی کے قبرستان صفائی ستھرائی سے محروم ،حکام کی بے حسی سے عوام پریشان

ڈھائی کروڑ کی آبادی میں صرف 193 قبرستان ہیں جن میں سے صرف 52 قبرستان بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام ہیں، اکثر قبرستانوں میں تدفین کی گنجائش باقی نہیں رہی‘ ان میں صفائی ستھرائی اور روشنی کے انتظامات کی ذمہ داری ضلعی بلدیات کو تفویض کی گئی ہیں تاہم شب برأت کے موقع پر بھی کئی قبرستان جنگل کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں

ماہ شعبان عبادت اور رحمتوں کے نزول کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے، اس ماہ خصوصاً 15 ویں شب کو شب برأت کہتے ہیں، اس روز خصوصاً بعد نماز مغرب مساجدو خانقاہوں کے علاوہ نجی محفلوں میں اﷲ اور اس کے رسولﷺ کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شب برأت کے موقع پر قبرستان جانے کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور ذکر واذکار، تلاوت کلام پاک اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔
کراچی شہر آبادی کے لحاظ سے ایک اندازے کے مطابق ڈھائی کروڑ کی آبادی والا شہر ہے ،بین الاقوامی سطح کے اس شہر میں جہاں آبادی کے رہنے کے لئے کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور بغیر منصوبہ بندی کے تمام ترقیاتی کام انجام دیئے جاتے ہیں وہیں اتنی بڑی آبادی میںفوت ہوجانے والے افراد کے لئے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔ ڈھائی کروڑ کی آبادی میں صرف 193 قبرستان ہیں جن میں سے صرف 52 قبرستان سرکای سطح پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس رجسٹرڈ اور ماتحت ہیں، دیگر قبرستان نجی انجمنوں اور برادریوں کے زیر انتظام ہیں۔ ان 52 قبرستانوں میں سب سے بڑا قبرہ ستان میوہ شاہ قبرستان کہلاتا ہے، دوسرے نمبر پر نیو کراچی کا محمد شاہ قبرستان پھر نیو کراچی قبرستان قابل ذکر ہیں۔ کے ایم سی کے ماتحت اکثر قبرستانوں میں تدفین کی گنجائش باقی نہیں رہی ہے اور کے ایم سی کا محکمہ قبرستان متعدد مرتبہ قبرستانوں میں تدفین پر پابندی لگاچکا ہے۔ اس کے باوجود بھی گورکنوں کی بدمعاشی کے باعث تدفین کا عمل بھاری معاوضے کے تحت جاری ہے، ان قبرستانوں میں صفائی ستھرائی اور روشنی کے انتظامات کی ذمہ داری ضلعی بلدیات کو تفویض کی گئی ہیں تاہم عام دن تو دور کی بات ہے، شب برأت کے موقع پر بھی کئی قبرستان جنگل کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں، قبرستانوں میں سڑک اور چار دیواری کی تعمیر ومرمت کی ذمہ دار بلدیہ عظمیٰ کراچی ہے مگر اس حوالے سے گزشتہ 15 سال سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا جارہا۔ بعض قبرستان جن میں نیو کراچی کا محمد شاہ قبرستان اور پاپوش نگر قبرستان سرفہرست ہے ،ان میں سیوریج کا گندہ بدبودار پانی گزشتہ کئی ماہ سے بہہ رہا ہے مگر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی، اس صورتحال کے باعث قبرستان کے مختلف مقامات پر قبریں گٹر کے پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر حاضری دینے کے لئے بھی نہیں جاسکتے،بیشتر قبرستانوں میں جرائم پیشہ عناصر خصوصاً منشیات فروشوں کے اڈے بھی قائم ہیں عام دنوں میں شریف آدمی کا جانا بڑا ہی مشکل ہوتا ہے تاہم شب برأت میں یہ جرائم پیشہ افراد قبرستانوں سے فرار ہوجاتے ہیں جنگلی جھاڑیوں کے باعث قبرستانوں کی گزر گاہیں بند ہوچکی ہیں چند روز قبل بعض قبرستانوں میں ضلعی بلدیات نے جنگلی جھاڑیاں کٹوائی ہیں اور صفائی کے انتظامات بھی کئے ہیں جس کے باعث بڑے قبرستانوں میں کچھ بہتری نظر آرہی ہے کراچی کے دیگر مقامات کی طرح قبرستانوں میں بھی لینڈ مافیا سرگرم نظر آتی ہے اور یہاں پر بھی چائنہ کٹنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ بااثر قبضہ مافیا نے تاریخی میوہ شاہ قبرستان سمیت کئی قبرستانوں میں قبریں مسمار کرکے یا خالی جگہوں پر پلاٹوں کی کٹنگ کرکے فروخت کئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے کئی قبرستانوں میں دکانیں اور بازار بھی تعمیر کرکے فروخت کردیئے گئے ہیں ذرائع ابلاغ اور م حکمہ قبرستان کی جانب سے بار بار نشاندہی کے بعد سابق کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی کی کوششوں سے سرجانی ٹائون سیکٹر 17/A میں ماڈل قبرستان کے لئے قطعہ اراضی مختص کیا گیا اور خط کتابت میں اس جگہ کی نشاندہی کی گئی تاہم یہ جگہ اب تک باقاعدہ طورپر محکمہ قبرستان کے حوالے سندھ حکومت نے نہیں کی نہ کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور اس ماڈل قبرستان کے لئے مختص جگہ کی 30 فیصد اراضی پر لینڈ مافیا نے قبضہ جمالیا ہے شہر میں منصوبہ بندی کے بغیر ہی صوبائی حکومت بلڈرز کو قطعہ اراضی الاٹ کرتی رہی ہے کبھی قبرستان کے لئے شہری علاقوں یا قرب وجوار میں کوئی قطعہ اراضی مختص نہیں کی گئی قبرستانوں کی کمی کے باعث تدفین کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں قبرستان دور ہونے کے باعث میت بس سروس کے چارجز بڑھ جاتے ہیں تدفین کے بعد اگر اپنے پیاروں کی قبر پر حاضری دینے کا دل چاہے تو دور افتاد کے باعث یا تو ہمت نہیں ہوتی یا پھر وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں بھی ہوں تو غریب سفری اخراجات سے دل برداشتہ ہوکر اپنے نصیب کو کوسنے لگتا ہے۔۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کو قبرستانوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی قبرستانوں میں چار دیواری سڑکوں کی تعمیر راہداریوں میں سی سی فلورنگ وغیرہ کا اہتمام کرنا ہوگا تاکہ شہریوں کو اور قبرستانوں میں مدفون لوگوں کو چار دیواری نہ ہونے کے باعث شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لوگ جس عقیدت اور احترام سے اپنے پیاروں کی تدفین کرتے ہیں دوسرے روز دیکھتے ہیں کی آوارہ کتے ان کے پیاروں کی لاشوں کو بھنبھوڑ رہے ہوتے ہیں تدفین شدہ لاشوں کی بے حرمتی پر حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں گو کہ قبروں میں بلاکوں کی چنائی کی جاتی ہے مگر وہ اتنی تازہ ہوتی ہے کہ آوارہ کتے اپنی جگہ بنالیتے ہیں چار دیواری ہونے سے قبرستان کی اراضی کو بھی تحفظ حاصل ہوگا اور آوارہ کتے بھی ادھر کا رخ کرنے سے گریز کریں گے جبکہ مخصوص ایک یا دو دروازوں کے داخلے سے جرائم پیشہ افراد کا راستہ بھی رک جائے گا اسی طرح ضلعی بلدیات کو بھی اپنی حدود میں موجود قبرستانوں کی کم از کم ماہانہ صفائی اور اسٹریٹ لائٹس کا انتظام اور اس کی مکمل دیکھ بھال کا اہتمام کرنا ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
کراچی کے 193 قبرستانوں میں یومیہ 350 تا 400 افراد کی تدفین عام طورپر اوسطاً ہوتی ہے تدفین کی فیس میں سے کے ایم سی صرف 300 روپے فی تدفین وصول کرتی ہے جس کا چالان جاری ہوتا ہے اور بینک میں جمع کرایا جاتا ہے اوسطاً 400 افراد یومیہ میں ڈھائی تا تین سو یومیہ چالان کے ذریعے رجسٹرڈ تدفین ہوتی ہیں تاہم غیر رجسٹرڈ تدفین بھی تاحال جاری ہیں جن کی تعداد 50 تا 100 افراد یومیہ ہے غیر رجسٹرڈ تدفین کے باعث لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے تاہم یہ سلسلہ جاری ہے نادرا نے بھی کے ایم سی کے چالان کے بغیر اموات سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر پابندی لگادی ہے۔
کراچی کے قبرستان میں بلدیہ عظمیٰ کراچی نے تدفین کی کل فیس 5 ہزار 850 روپے مقرر کی گئی ہے جو قبرستان کے گورکن کو ادا کرنا ہوتے ہیں مگر گورکنوں کی بدمعاشی اور بدترین کرپشن کے باعث گورکن کم سے کم 15 ہزار روپے طلب کرتے ہیں غرییب افراد کے لئے 15 ہزار کیا 5 ہزار روپے ادا کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
میوہ شاہ وہ تاریخی قبرستان ہے جس میں نبی آخر الزماں پر اپنی جان نچھاور کرنے والے غازی عبدالقیوم شہید کا مزار بھی موجود ہے جبکہ حضرت میوہ شاہ بابا کا مزار بھی ہے کہ جس کے نام سے منسوب یہ قبرستان ہے جبکہ سوسائٹی قبرستان طارق روڈ پر واقع تاریخی قبرستان ہے جس میں معروف شاعر فیض احمد فیض کے علاوہ تحریک پاکستان کے عظیم سپاہی اور قائداعظم کے ساتھی سردار علی صابری کا نام سرفہرست ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل یہاں انگریز فوج کے مسلمان سپہ سالاروں کی قبریں بھی موجود ہیں۔
کراچی کا مہنگا ترین قبرستان سوسائٹی قبرستان ہے یہ انوکھا قبرستان ہے جہاں تدفین کی گنجائش 20 سال پہلے ختم ہوگئی تھی مگر بااثر گورکن یہاں شریعت کے برخلاف 3 منزلہ فلیٹ نما قبریں تیار کررہے ہیں۔ طارق روڈ پر واقع اس قبرستان میں فی تدفین کم سے کم 25 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں جو تیسری منزل پر مدفون ہوتے ہیں اس کے نیچے دوسری منزل پر 50 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں اور زمین میں گرائونڈ فلور کے ایک لاکھ یا اس سے بھی زائد وصول کیے جاتے ہیں یہاں کے گورکنوں کی متعدد شکایات کی گئی ہیں مگر ان بااثر گورکنوں کو ہٹانا انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ یہاں مدفون بااثر لوگوں خصوصاً میڈیا ہائوسز کے مالکان کے قریبی رشتہ دار ہیں اور جب بھی ان گورکنوں کو ہٹانے کی بات ہوتی ہے، میڈیا ہائوسز سے مزاحمت شروع ہوجاتی ہے۔
عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر