وجود

... loading ...

وجود

شہری ماہانہ 2 ارب84 کروڑ کا مضر صحت گوشت کھانے پر مجبور

بدھ 10 مئی 2017 شہری ماہانہ 2 ارب84 کروڑ کا مضر صحت گوشت کھانے پر مجبور

غیر قانونی ذبح خانوں میں 800 بڑے اور 8000 چھوٹے جانور روزانہ کاٹے جاتے ہیں ، گائے کے نام پر بھینس کا گوشت فروخت ہوتا ہے‘ درجنوں علاقوں میں غیر قانونی ذبح خانے محکمہ ویٹنری کے افسران کی سرپرستی میں چل رہے ہیںجہاں مردار جانور بھی کاٹے جاتے ہیں

غیر قانونی ذبح خانوں میں کٹنے والے بیمار اور مردہ جانوروں کے مضر صحت گوشت سے بے نیاز شہر قائد کے باسی 18600گائے اور بکرے روزانہ کھا جاتے ہیں۔ سرکاری اور غیر قانونی ذبح خانوں سے شہر بھر میں گوشت کی دکانوں پر ماہانہ 15سو 48 ٹن گوشت فراہم کیا جاتا ہے۔اعدادو شمار کے مطابق کراچی کے شہری ماہانہ 7 ارب56 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کر کے ایک کروڑ پچاس لاکھ اڑتالیس ہزار کلو گرام گوشت خریدتے ہیں ۔ یعنی یومیہ 34 کروڑ 38 لاکھ روپے کے 68 لاکھ4000 کلو گرام چھوٹے بڑے گوشت کی خریداری پر خرچ کرتے ہیں۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ ویٹنری شہرمیں جاری غیر قانونی ذبیحہ کو روکنے میں ناکام ہے جسکے باعث غیر قانونی ذبح خانے شہر بھر میں جا بجا قائم ہیں ۔ ان میں بھینس کالونی،لا نڈ ھی ، ملیر، کورنگی بلال کالونی، کورنگی کلو چوک، لیاقت آباد، گلشن اقبال، سرجانی،بلدیہ ٹائون ، نیو کراچی، نارتھ کراچی، ناظم آباد، پاک کالونی، لیاری، صدر، برنس روڈ، کیماڑی، سمیت درجنوں علاقوں میں غیر قانونی ذبح خانے محکمہ ویٹنری کے افسران کی سرپرستی میں چل رہے ہیں ۔ جہاں بیمار ،نیم مردار اور بعض اوقات مردار جانور بھی کاٹ دیے جاتے ہیں اور پریشر والا گوشت بھی یہیں تیار کیا جاتا ہے۔ ایسے حرام (مردار)جانوروں کا گوشت شہریوں کی صحت کے ساتھ ساتھ ایمان کوبھی نقصان پہنچارہا ہے۔ متعلقہ محکمہ کے افسران نے ان غیر قانونی ذبح خانوں کو ہزاروں روپے ہفتہ وار وصولی کے عوض کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ان غیر قانونی ذبح خانوں میں جانور کے گلے پر چھری پھیرتے ہی ایک پائپ لگا کر پانی اس رگ میں داخل کیا جاتا ہے جو سیدھی دل کی طرف اور جانور کے پورے جسم میں پانی پہنچا دیتی ہے۔اس عمل سے جانور کے مثانے میں موجود پیشاب بھی گوشت میں داخل ہو جاتا ہے اس سے انسانی صحت اور ایمان دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔مگر لالچ میں اندھے لوگ شہریوں کی صحت اور ایمان سے بے پروا غیر قانونی ذبیحہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیوں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔بعض علاقوں میں اس گھناؤنے کاروبارکو با اثر سیاسی افراد کی سرپرستی بھی حاصل ہے ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ویٹنری سے حاصل کردہ عدادو شمار کے مطابق 2800 بڑے جانور جن میں گائے بھینسیں اور 7000 چھوٹے جانور جن میں بکرے و بکریاں شامل ہیں کے۔ایم۔سی کے سرکاری ذبح خانوں میں ذبح کیے جاتے ہیں۔ جبکہ بعض ذرائع کے مطابق شہر بھر کے غیر قانونی ذبح خانوں میں 800 بڑے اور 8000 چھوٹے جانور روزانہ کاٹے جاتے ہیں۔ شہری یومیہ20لاکھ 8000 کلو غیر قانونی ذبح شدہ گوشت کھا جاتے ہیں اور انجانے میں اپنی صحت و ایمان دائو پر لگا دیتے ہیں۔اسی طرح 45 لاکھ 76 ہزار کلو گرام مضر صحت گوشت خریدنے کے لیے شہری ماہانہ 2 ارب83 کروڑ 80 لاکھ روپے بھی خرچ کر ڈالتے ہیں۔ دھوکہ دہی کے تحت شہر بھر میں گائے کے نام پر بھینس کا گوشت بھی فروخت ہوتا ہے۔ جبکہ غیر قانونی ذبح خانوں میں بھینس کے نو مولود 2 روز سے 8 روز کے کٹّے کاٹ کر انہیں بکرے کا گوشت ظاہر کر کے فروخت کیا جاتا ہے۔ عموماً بکرے کے نام پر کٹّے کا گوشت چھوٹے بڑے ہوٹلوں کو فروخت کیا جاتا ہے اور ہوٹلوں میں معصوم شہری بکرے کا گوشت سمجھ کر بڑے مزے سے کھا جاتے ہیں۔ اس نسل کشی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔ بلکہ پولیس اور ویٹنری افسران نومولود کٹّوں کی نسل کشی کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔بعض ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھینسوں کے مردار کٹّوںکو بھی کاٹ کر فروخت کردیا جاتا ہے۔
سرکاری ذبح خانوں میں ذبح ہونے والے جانوروں کا معائنہ سرکاری ویٹنری ڈاکٹرز کرتے ہیں اور صحت مند ہونے پر ہی جانور کو کاٹنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ اگر غلطی سے بھی کوئی بیمار جانور ذبح کردیا جائے گا تو ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر ذمہ دار ہوگا ۔ جبکہ ایسے گوشت سے نقصان پہنچنے کی صورت میں صارف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کے۔ایم۔سی پر ہرجانے کا د عویٰ کر سکتا ہے۔ معصوم صارفین کو معلوم ہی نہیں کہ وہ مردار جانور کا گوشت کھا رہے ہیں یا بیمار جانور کا ۔ بکرے کا گوشت ہے یا کٹّے کا ۔ عام گوشت ہے یا پریشر والا؟ پریشر والے گوشت میں پانی ڈالنے کا مقصدفروخت کے وقت اس کا وزن بڑھانا ہے لیکن ایک کلو گوشت پکنے کے بعد تین پائو رہ جاتا ہے۔ صارفین کو ایک کلو گوشت پر 112 روپے تک کا نقصان پہنچتا ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ویٹنری میں ہر 3 سے 6 ماہ میں سینئر ڈائریکٹر تبدیل ہوتے رہتے ہیں اگر تبدیل نہیں ہوتے تو غیر قانونی ذبح خانوں کی سرپرستی کرنے والا نظام کہ جس کی سرپرستی محکمے کے ویٹنری ڈاکٹرز اور افسران کرتے ہیںچلتارہتاہے ۔ کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی نے متعدد با رنوٹس لیا اور سینئر ڈائریکٹر ویٹنری کو طلب کر کے کارروائی کی ہدایات دیں تاہم اس پر کرپٹ افسران مختلف بہانے بنا کرعمل درآمدہونے نہیں دیتے۔ افسران کا کہنا ہے کہ علاقہ پولیس اور اسسٹنٹ کمشنرز تعاون نہیں کرتے۔ جب بھی کارروائی کے لیے درخواست دی ہے علاقہ اے۔سی اور پولیس ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ افسران نے الزام لگایا کہ علاقہ اے سی اور پولیس غیر قانونی ذبح خانوں سے مبینہ حصہ وصول کرتے ہیں ۔ اسی لیے کارروائی میں تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ میڈیا پر بار بار نشاندہی کیے جانے کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اعلیٰ افسران، حکومت سندھ اس صورت حال کا نوٹس نہیں لیتے۔ غیر قانونی ذبیحہ سے بلدیہ عظمیٰ کروڑوں روپے آمدنی سے بھی محروم ہو رہا ہے۔ جبکہ پہلے ہی کے۔ایم۔سی مالی بحران کا شکار ہے ۔ ویٹنری ذرائع کے مطابق اوسطاً800 بڑے جانور سرکاری ذبح خانوں میں یومیہ کاٹے جاتے ہیں ۔ جن سے 392000 کلو گرام گوشت حاصل ہوتا ہے۔ جو ہفتہ وار دو روزہ گوشت کے ناغے کے باعث ماہانہ کم و بیش 22 روز فروخت ہوتا ہے اور ماہانہ 8624000 کلو گرام لگ بھگ فروخت ہوتا ہے۔جس کی مالیت یومیہ 16 کروڑ 66 لاکھ روپے اور ماہانہ کم و بیش 3 ارب 66 کروڑ 52 لاکھ ہے۔ اسی طرح چھوٹا گوشت یعنی بکرے 7000 یومیہ کاٹے جاتے ہیں جن سے تقریباً 84000 کلو گرام گوشت حاصل ہوتا ہے جس کی مالیت 5 کروڑ روپے بنتی ہے ۔ اور ماہانہ 1848000 کلو گرام گوشت بکرے کا حاصل ہوتا ہے جس کی مالیت ماہانہ کم و بیش ایک ارب 20 کروڑ 46 لاکھ روپے ہے۔ اگر شہریوں کو فروخت کیے جانے والے قانونی اور غیر قانونی گوشت کا جائزہ لیا جائے تو چھوٹا گوشت 3 ہزار 9 سو 60 ٹن ماہانہ فروخت کیا جاتا ہے جس کی مالیت کم و بیش 2 ارب 57کروڑ 40 لاکھ روپے ہے ۔ یعنی 11کروڑ70 لاکھ روپے یومیہ۔ جبکہ بڑا گوشت یعنی گائے کا گوشت 504 ٹن یومیہ فروخت ہوتا ہے ۔ مالیت 22 کروڑ 68 لاکھ روپے بنتی ہے۔ جس کا ماہانہ تخمینہ 11 ہزار 88 ٹن ہے ۔ اور ماہانہ رقم 4 ارب98کروڑ96 لاکھ روپے ہے ۔ صارفین کو قصابوں سے یہ بھی شکایت ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا ذرا بھی خیال نہیں رکھتے ۔ ذبح خانوں سے دکانوں تک گاڑیوں میں گوشت اکثر کھلا لایا جاتا ہے ۔ دکانوں پر مکھیاں بڑی تعداد میں گوشت پر بھنبھناتی نظرآ رہی ہوتی ہیں ۔ قصاب قیمہ کرتے وقت مکھیاں بھی کوٹ دیتے ہیں۔ اور مشین سے نکالے گئے قیمے میں چھیچھڑے بھی کوٹ دیے جاتے ہیں ۔ بلا جواز چربی گوشت کے ساتھ وزن کی جاتی ہے ۔ ضرورت سے زائد ہڈیاں وزن کے دوران گوشت میں ملادی جاتی ہیں ۔ کوئی صارف شکایت کرے تو اسے انتہائی بدسلوکی کے ساتھ جواب ملتا ہے، بعض اوقات گالم گلوچ بھی کی جاتی ہے۔ بعض دکانوں پر باسی اور بدبو دار گوشت جس کا رنگ بھی ہرا اور نیلا سا ہونے لگتا ہے، وہ کچھ کم قیمت پر رعائتی سیل کا بینر لگا کر فروخت کیا جاتا ہے ۔ مگر صارفین کے حقوق کی پاسداری کرنے والاکوئی نہیں ہوتا ۔ یہی قصاب ہوٹلوں پر باسی نلّیاںاور بھیجہ بھی فروخت کر دیتے ہیں جس میں سے بعض اوقات تعفن بھی اٹھ رہا ہوتا ہے۔ شہر بھر میں پھیلی اس معاشرتی نا انصافی اور بے رحمانہ کرپشن کو روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ نہ ہی کوئی ملکی اداراہ اس بہیمانہ ظلم کا نوٹس لینے کو تیار ہے ۔ حد تویہ ہے کہ 2 کروڑ سے زائد عوام اپنے اوپر ہونے والے کسی بھی ظلم پر آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔
ّ؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍؍

پریشر والا گوشت ۔۔۔۔۔!!

پریشر والے گوشت کی واضح پہچان یہ ہے کہ یہ گوشت سوکھتا نہیں ہے اور اکثر اس میں سے پانی ٹپک رہا ہوتا ہے۔ یہ گوشت دیکھنے میں صاف ستھرا اور ہر وقت تازہ نظر آتا ہے جبکہ بغیر پریشر والے گوشت کو دیکھا جائے تو اس کا رنگ سیاہی مائل سرخ ہوتا ہے ۔ خریداروں کو چاہیے کہ گوشت خریدتے وقت اس بات کا اطمینان ضرور کر لیں کہ یہ پریشر والا گوشت تو نہیں ۔ اگر شک ہو تو اپنے علاقے کے ڈپٹی یا اسسٹنٹ کمشنر کو تحریری شکایات ضرور درج کرادیں اور میڈیا کو اس کی کاپی تفصیلات کے ساتھ ارسال کردیں۔

صارف حقوق؟؟

حکومت صارفین کے حقوق کے تحفظ میں مکمل ناکام نظر آتی ہے کیوں کہ دکاندار گوشت کے ساتھ زبردستی بھاری ہڈی، چھیچھڑا، اور چکنائی تول دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے حکومت نے کوئی پالیسی واضح نہیں کی ہے ۔ صارفین کا یہ حق ہے کہ انہیں مناسب مقدار یا وزن کی ہڈی اور بغیر ہڈی کا گوشت طلب کرنے پر صرف گوشت دیا جائے نہ کہ اس میں چھیچھڑے اور چکنائی بھی تول دی جائے جو سراسر نا انصافی ہے۔

گوشت و دودھ کی پیداوارمیں اضافے کی ضرورت
محکمہ لائیو اسٹاک منصوبہ بندی میں ناکام

حکومت کے محکمہ لائیواسٹاک نے گوشت اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی اگر اس حوالے سے بیرون ملک خصوصاً یورپی ممالک سے جلد تیار ہونے والے جانوروں کی نسل پاکستان خصوصاًکراچی میں افزائش کی جائے تاکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے کے نتیجے میں گوشت اور دودھ کی قیمتیں کم ہو سکیں۔
عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر