وجود

... loading ...

وجود

مالی سال کا ایک سہہ ماہی باقی حکومت5 ارب27 کروڑ ڈالر کے قرض حاصل کرچکی

جمعه 05 مئی 2017 مالی سال کا ایک سہہ ماہی باقی حکومت5 ارب27 کروڑ ڈالر کے قرض حاصل کرچکی

مقامی کمرشل بینکوں سے مجموعی طورپرحاصل کیے گئے ایک ارب31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرضے اسکے علاوہ ہیں‘ بجٹ کاخسارہ پورا کرنے کے لیے مارچ کے مہینے کے دوران نور بینک سے ساڑھے 11 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیا

ملک پر قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے خلاف عوامی سطح پر ہونے والی چیخ وپکار اورماہرین اقتصادیات کی جانب سے تشویش کے اظہار کے باوجود حکومت مسلسل غیرملکی قرضوں کے حصو ل کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جس کااندازہ جولائی سے مارچ تک کے اعدادوشمار سے لگایاجاسکتاہے ۔ ان اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے رواںمالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مختلف کثیرالجہتی اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت مجموعی طورپر 5 ارب 27 کروڑ ڈالر کی امداد حاصل کی، یہ رقم رواں سال کے بجٹ تخمینے میں غیر ملکی امداد کے حوالے سے لگائے گئے اندازوں کے 65 فیصد کے مساوی تھی،جس کی وجہ سے حکومت کو کمرشل بینکوں سے مجموعی طورپر ایک ارب31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرض حاصل کرنا پڑے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے بجٹ کاخسارہ پورا کرنے کے لیے مارچ کے مہینے کے دوران نور بینک سے ساڑھے 11 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاجبکہ گزشتہ سال ستمبر میں بھی اسی بینک سے 200 ملین یعنی 20 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاگیا تھا ۔جنوری میں حکومت نے چین کے کمرشل بینک آف چائنا سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاتھا،جبکہ وزارت خزانہ نے ادائیگیوں کے توازن کو قائم رکھنے اور بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے چین کے 2 دیگر بینکوںسے60 کروڑ ڈالر قرض لینے کا بھی انتظام کیاہے ۔اس کے علاوہ حکومت نے چائنا ڈیولپمنٹ بینک سے بھی نان پراجیکٹ ایڈ کے طورپر گزشتہ سال ستمبر میں 70 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاتھا۔جبکہ اسی مدت کے دوران حکومت نے ایک ارب ڈالر مالیت کے سکوک بانڈز بھی جاری کیے جس پر 6.5 فیصد کی شرح سے سود ادا کیاجائے گا۔
حکومت نے ایشین انفرااسٹرکچرانویسٹمنٹ بینک سے بھی 19 ملین ڈالر کاقرض حاصل کیا ہے جس کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حکومت نے فروری کے مہینے کے دوران ایکو ٹریڈ بینک سے بھی 5 ملین ڈالر کا قرض حاصل کیاتھا۔قرض کی اس رقم کابھی بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں دعویٰ کیاگیاہے کہ رواں مالی سال کے دوران ابھی تک صرف 5 ارب 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کے قرض حاصل کیے ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران حکومت نے5 ارب 40 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے قرض لیے تھے اس طرح رواں سال حکومت نے گزشتہ سال کی نسبت 13 کروڑ10 لاکھ ڈالر کے کم قرض حاصل کیے ۔
اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے مارچ کے مہینے کے دوران مجموعی طورپر 19 کروڑ 21 لاکھ 30 ہزار ڈالر مالیت کے قرض حاصل کیے، جس میں17 کروڑ 96 لاکھ 60 ہزار ڈالر مالیت کے قرض اور ایک کروڑ 24 لاکھ 60 ہزار ڈالر مالیت کی گرانٹس شامل تھیں۔جبکہ تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت نے4 ارب 92 کروڑ60 لاکھ ڈالر مالیت کے قرض حاصل کیے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران حکومت کو مختلف ذرائع سے 34 کروڑ 55لاکھ80 ہزار ڈالر مالیت کی گرانٹس موصول ہوئیں۔
اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے چین سے ایک ارب 3 کروڑ30لاکھ ڈالر وصول کیے جبکہ بجٹ میں صرف 57 کروڑ23 لاکھ ڈالر کا ذکر کیاگیاتھا۔حکومت نے گزشتہ سال اسی مدت کے دوران چین سے 61 کروڑ56 لاکھ60 ہزار ڈالر حاصل کیے تھے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران 85 کروڑ 14 لاکھ 80 ہزارڈالر فراہم کیے جس میں سے3 کروڑ 4 لاکھ 70 ہزارڈالر مارچ کے دوران فراہم کیے گئے۔
بین الاقوامی ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن نے پاکستان کو 15 کروڑ 61 لاکھ 90 ہزار ڈالر فراہم کیے جس میں مارچ کے دوران 96 لاکھ 90ہزار ڈالر فراہم کیے گئے۔بین الاقوامی ترقیاتی بینک نے مختصر میعاد کے قرضوں کی مد میں پاکستان کو 32 لاکھ70 ہزار ڈالر فراہم کیے، امریکا نے اس مدت کے دوران پاکستان کو 6 کروڑ 91 لاکھ 60 ہزار ڈالر فراہم کیے جس میں سے 68 لاکھ 80 ہزار ڈالر مارچ کے دوران فراہم کیے گئے۔
تعمیر نو اور ترقیات سے متعلق بین الاقوامی بینک نے پاکستان کو اس مدت کے دوران 17 کروڑ74 لاکھ 70 ہزار ڈالر فراہم کیے جس میں سے 2 کروڑ 31 لاکھ 40 ہزار ڈالر مارچ کے دوران فراہم کیے گئے۔اقوام متحدہ کے ادارے یواین ایچ سی آر کی جانب سے بھی اس مدت کے دوران پاکستان کو ساڑھے 6لاکھ ڈالر بین الاقوامی ترقیاتی بینک کی جانب سے 6کروڑ 34 لاکھ 70 ہزار ڈالر ،جاپان کی جانب سے 4 کروڑ28لاکھ ڈالر اوربرطانیہ کی جانب سے 13 کروڑ99 لاکھ 70 ہزار ڈالرفراہم کیے گئے۔
مذکورہ بالا رقوم کے علاوہ ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ کی جانب سے پاکستان کو مارچ میں 11لاکھ ڈالر گرانٹ کی شکل میں دیے گئے اس طرح اس فنڈ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی رقم کی مجموعی مالیت ایک کروڑ 70 لاکھ 40ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو ابھی تک فرانس، کوریا، ناروے ،اومان، سعودی عرب ،یواین ڈی پی اور اوپیک کی جانب سے کوئی امداد یا قرض نہیں دیا گیاہے۔
پاکستان کو مختلف ذرائع اور مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضوں اور گرانٹس کی تفصیلات پر نظر ڈالی جائے تو یہ اس اعتبار سے دل خوشکن ہے کہ پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران گزشتہ سال کی نسبت کم مالیت کے قرض حاصل کیے ہیں لیکن اس حوالے سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو قرض یا امداد دینے والے اداروں نے وزارت خزانہ کے اندازوں یا وزارت خزانہ کے ارباب اختیار سے کیے ہوئے وعدوں کے مطابق قرض فراہم نہیں کیے اور بیشتر اداروں نے اندازوں سے بہت کم مالیت کے قرض فراہم کیے۔ اس سے ملک کی معیشت اور خاص طورپر قرض واپس کرنے کی صلاحیتوں پر ان ملکوں یا اداروں کے عدم اعتماد کا پہلو بھی سامنے آتاہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ہماری وزارت خزانہ کے ارباب اختیار کے لیے ایک المیے سے کم نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزار ت خزانہ ملک پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کفایت شعاری کی راہ اختیار کرے اور غیر ضروری، غیر ترقیاتی اخراجات، جن میں ایوان وزیر اعظم ، ایوان صدر اور مختلف وزارتوں کے اخراجات میں سختی سے کمی کی جائے ایوان وزیر اعظم ، ایوان صدر اور مختلف وزارتوں میں تعینات افسران کی فوج کاخاتمہ کیاجائے اور ان کو کسی دوسرے محکمہ میں، جہاں عملے کی شدید کمی ہو کھپایاجائے، ورنہ فاضل قرار دے کر فارغ کیاجائے ، مہمانداری کے نام پر افسران اور عملے کو نوازنے کاسلسلہ ختم کیاجائے ۔ سوائے خاص غیر ملکی مہمانوں کے کسی کے لیے بھی پرتکلف ضیافتوں کے انتظامات کافوری طورپر خاتمہ کیاجائے، وزیراعظم اور وزرا کے غیر ملکی دوروں میں ان کے ساتھ وزرا اور ان کی بیگمات اور عملے کے ارکان اورقصیدہ خوان صحافیوں کی فوج لے جانے کاسلسلہ فوری طورپر ختم کیاجائے، غیرملکی دوروں کی میڈیا کوریج کی ذمہ داری متعلقہ ملک کے سفارتخانوں کے سپرد کی جائے اور ان کو بھی اس حوالے سے محدود اخراجات کے اندر رہتے ہوئے یہ کام انجام دینے کاپابند بنایاجائے ۔ اس طرح بچنے والے اربوں روپے عوام کی بہبود کے منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جائیں ، جب تک حکمران طبقہ اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی نہیں کرے گا، ملک قرضوں کے تلے دبتا رہے گااوراس کے باوجود عوام بنیادی سہولتوں کو ترستے رہیں گے ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر