... loading ...

سرکلر قرض کی ادائیگی کے لیے وزارت خزانہ پر پھر سے دبائو ، اس شعبے کے سرکلر قرضوں کی رقم 385 ارب روپے تک پہنچ چکی ‘رواں مالی سال کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کو سبسڈی کی فراہمی کے لیے مختص 118 ارب روپے کی رقم کم پڑنے کا خدشہ‘73.5 ارب روپے پیپکو جبکہ 10.8 ارب روپے کے الیکٹرک کو ادا کیے گئے ، حکومت سرکلر قرضوں کے مسئلے پر قابوپانے میں ناکام
وزارت خزانہ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بجلی کمپنیاں سبسڈی کے نام پر قومی خزانے سے 84 ارب روپے ڈکار چکی ہیں اور اب ایک دفعہ پھر انہوں نے سرکلر قرض کی ادائیگی کے لیے وزارت خزانہ پر دبائو بڑھا دیاہے۔ اس طرح خیال کیاجاتاہے کہ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کو سبسڈی کی فراہمی کے لیے مختص کی گئی 118 ارب روپے کی رقم کم پڑجائے گی اور ادائیگی مختص کردہ رقم سے بڑھ جائے گی۔
ایڈیشنل سیکریٹری بجٹ سید غضنفر عباس نے گزشتہ دنوں سینیٹ کی کمیٹی کو بتایاتھا کہ وزارت خزانہ نے رواں سال فروری میںپاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) اور کے الیکٹرک کو سبسڈی کی مدمیں 84.3 ارب روپے ادا کیے ہیں۔یہ رقم سبسڈی کی مد میں مختص کردہ رقم کے کم وبیش 71 فیصد کے مساوی تھی۔ذرائع کے مطابق حکومت گزشتہ تین برسوں کی طرح رواں سال بھی بجلی کمپنیوں کو سبسڈی کی ادائیگی بجٹ میں مختص کی گئی اورپارلیمنٹ سے منظور کی گئی رقم کی حد میں رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی اور سبسڈی کی یہ رقم مختص شدہ118 ارب روپے سے تجاوز کرجائے گی۔
اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ بجلی کے شعبے کو دی جانے والی سبسڈی کی شرح کم کی جائے اور اسے ایک حد کے اندر رکھا جائے، آئی ایم ایف کی اسی ہدایت کی بنیاد پر حکومت نے بجلی کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی کی رقم ایک خاص حد تک رکھنے کافیصلہ کیاتھا لیکن زمینی حقائق سے ظاہرہوتاہے کہ حکومت اس حد پر قائم رہنے میں کامیاب نہیں ہوگی ۔
وزارت خزانہ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بجلی کمپنیوں کو سبسڈی کی مدمیںجو 84.3 ارب روپے ادا کئے ہیں،ان میں سے73.5 ارب روپے پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کو ادا کیے گئے ہیں جو کہ پیپکوکو ادائیگی کی سالانہ حد کے81 فیصد کے مساوی ہے جبکہ کے الیکٹرک کو10.8 ارب روپے ادا کیے گئے ہیںجو کہ اس کے لیے مختص سالانہ حد کے40 فیصد کے مساوی ہے ۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے 3 سالہ مدت کے لیے لیے گئے 6.6 ارب ڈالر کے قرض کی بنیادی شرط انرجی یعنی توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا نفاذ اور اس شعبے کے لیے سبسڈی میں کمی کرنا تھا ۔واضح رہے کہ 2012-13 ء کے دوران بجلی کے شعبے کو دی جانے والی سبسڈی کی رقم مجموعی ملکی پیداوار کے 2 فیصد کے مساوی یعنی کم وبیش 368 ارب روپے تک پہنچ گئی تھی، بعد ازاں حکومت اس میں کمی کرنے کے بعد گزشتہ مالی سال کے اختتام تک مجموعی ملکی پیداوارکے 0.6 فیصد تک لے آئی تھی۔لیکن اس کے باوجود حکومت سرکلر قرضوں کے مسئلے پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اس حوالے سے وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی بہتر لائحہ عمل تیار نہیں کیاجاسکاجس کی وجہ سے گزشتہ 4سال کے دوران سرکلر قرضوں کی مالیت بڑھتی ہی چلی جارہی ہے اوراب اس شعبے کے حوالے سے سرکلر قرضوں کی رقم 385 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔آئی پی پیز نے سرکلر قرضوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے اس بارے میں حکومت کی کمزوریاں اجاگر کرنے اور انہیں عوام کے سامنے لانے کے لیے باقاعدہ ایک مہم شروع کررکھی ہے۔آئی پی پیز کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم کے نتیجے میں گزشتہ ہفتہ وزیر اعظم نے توانائی سے متعلق معاملات پر کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت بجلی وپانی اور وزارت خزانہ کوسرکلر قرضوں کے تصفیہ کے لیے کوئی طریقہ طے کرنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کاکوئی راستہ نکالنے کی ہدایت کی تھی۔وزیراعظم کی اس ہدایت کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت 340 ارب روپے مالیت کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے طویل المیعاد بانڈز جاری کرنے پر غور کررہی ہے۔تاہم وزارت خزانہ کی جانب سے اس طرح کی خبروں کی ابھی تک تردید یاتصدیق نہیں کی گئی ہے جبکہ اس موضوع پر وزارت خزانہ کی خاموشی سے ان خبروں کو تقویت مل رہی ہے کہ حکومت ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید قرض لینے کاکوئی راستہ تلاش کررہی ہے اور اس کا آسان راستہ طویل المیعاد بانڈز کا اجرا ہی ہوسکتاہے۔
2013ء میں نواز شریف عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے اوراس حوالے سے فوری ریلیف فراہم کرنے کے وعدے پر حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کی حکومت کو 4 سال گزرجانے کے باوجود ان کی حکومت اب تک عوام کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانا تو کجا اس میں کمی کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔اس کے باوجود پانی وبجلی کی وزارت کا دعویٰ ہے کہ وہ بجلی کی طلب ورسد میں توازن پیدا کرنے کی کوششوں اور اس حوالے سے انتظامات بہتر بناکر لوڈ شیڈنگ میں کسی حد تک کمی کرنے اور بجلی کمپنیوں کو دی جانے والی سبسڈی کی شرح میں کمی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
وزارت خزانہ نے یہ بھی دعویٰ کیاہے کہ بجلی پیدا اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو اپنے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے رقم کی فراہمی کی شرح بہت کم ہے،وزارت خزانہ کے مطابق بجلی تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے ترقیاتی قرض کی شرح بہت کم ہے اور اس مد کے لیے رکھے گئے 60 ارب روپے کے فنڈز میں سے ان کمپنیوں کو اس مد میں اب تک یعنی رواں مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران صرف 25.6 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔واپڈا کے لیے اس حوالے سے 14 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن واپڈا کو اس مد میں گزشتہ8 ماہ کے دوران کوئی رقم جاری نہیں کی گئی۔
وزارت خزانہ کے ان دعووں میں کتنی صداقت ہے، اس کااندازہ تو اس حوالے سے تمام دستاویزات کی چھان بین کے بعد ہی لگایاجاسکتاہے، لیکن حقیقت جو نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت بجلی کمپنیوں کو دی جانے والی بھاری سبسڈی اور سرکلر قرضوں کی مد میں بھاری رقوم کی ادائیگی کے باوجود اس ملک کے دیہی اور شہری عوام آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہونے کے باوجود بھاری بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود پانی وبجلی کے وفاقی وزیر اور ان کے حواری بڑی ڈھٹائی کے ساتھ غریب عوام کو بجلی چور قرار دے کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ تو شکوہ کرتے ہیں کہ بعض علاقوں کے لوگ بجلی چوری کررہے ہیں لیکن یہ بتانے کو تیار نہیں کہ بجلی چوری کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہونے کے باوجود ان بجلی چوروں کے خلاف کارروائی سے گریز کیوں کیاجارہاہے ،اور چند بجلی چوروں کی وجہ سے پوری قوم یا کسی علاقے کے تمام لوگوں کو چور کیوں کہاجارہاہے۔بجلی کے وفاقی وزیر بل ادا نہ کرنے والے علاقوں سے پی ایم ٹیمز اتارلینے کی دھمکیاں تو دیتے ہیں لیکن چند بجلی چوروں کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کو تیار نہیں ہیں، اس سے حکومت کی دوعملی ظاہر ہوتی ہے اوریہ ظاہرہوتاہے کہ بجلی چوری کے حوالے سے ان کے دعوے حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...