وجود

... loading ...

وجود

تحریک انصاف کی طرف سے سندھ میں مزید جلسے کرنے کی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ

پیر 24 اپریل 2017 تحریک انصاف کی طرف سے سندھ میں مزید جلسے کرنے کی حکمت عملی ، پیپلز پارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ

 

عمران خان نے سندھ کے ویتنام دادو میں کامیاب جلسہ کرکے پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجادی

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دادو میں ایک کامیاب جلسہ کرکے ہی سب کو نہیں چونکایا بلکہ اُنہوں نے مسلم لیگ نون کے خلاف پیپلزپارٹی کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ نہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مستقبل میں سندھ کی انتخابی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے حوالے سے یہ غلط یا صحیح رائے موجود تھی کہ وہ ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے انتخابی میدانوں یعنی مسلم لیگ نون سندھ میں اور پیپلزپارٹی پنجاب میں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پیپلزپارٹی کا پنجاب میں تقریباً صفایا ہوگیا جبکہ مسلم لیگ سندھ میں اُن برادریوں یا جماعتوں کی حمایت سے بتدریج محروم ہوتی چلی گئی جو گزشتہ انتخابات کے بعد بھی اگلے دو تین برسوں تک ’’پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ‘‘ کے بمصداق اُس سے جڑی رہی تھی۔ مگرمسلم لیگ نون کی طرف سے سندھ میں پیپلزپارٹی کے لیے کوئی بڑا چیلنج کھڑا نہ کرنے کے باعث آہستہ آہستہ وہ تمام سیاسی شخصیات اُن سے دور ہوتی چلی گئیں جو بڑی حد تک پیپلزپارٹی کے مقابلے میں انتخابی معرکوں میں کامیابی بٹورنے کی صلاحیت رکھتی تھیں ۔ اس کا اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سندھ کی انتخابی قوت رکھنے والی سیاسی شخصیات نے تحریک انصاف کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ان شخصیات نے تحریک انصاف کا رخ بھی عین اُس وقت کرنا شروع کیا ہے جب سیاسی حالات مختلف کروٹیں لے کر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان سیاسی خلیج کو بڑھاچکے ہیں۔ ہر وقت مسکراہٹ سجائے رکھنے والے آصف علی زرداری کی بھنویں اب تنی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ اور ہمہ وقت مفاہمت کے لیے تیار دکھائی دینے والے زرداری اب مسلم لیگ سے کبھی مفاہمت نہ کرنے کے شعلہ انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مولا بخش چانڈیو مسلم لیگ نون کے خلاف پنجابی فلموں کے مولا جٹ بن چکے ہیں اور اُدھر مسلم لیگ نون سے عابد شیر علی، طلال چودھری اور دانیال عزیز شاید کم پڑرہے تھے کہ راولپنڈی میں قدرے گم ہوجانے والے حنیف عباسی کو برآمد کرکے اُنہیں پیپلزپارٹی کے خلاف چڑھائی کے لیے آزمایا جانے لگا ہے۔ بظاہر یہ وہ موقع دکھائی دے رہا تھاجب تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی مل کر اپنے ’’مشترکہ دشمن‘‘ کے خلاف ایک سیاسی صف آرائی کرسکتی تھی۔پیپلزپارٹی کی جانب سے گزشتہ دو روز سے تحریک انصاف کو اس کے مسلسل اشارے بھی دیے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ خود آصف علی زرداری نے بھی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف اپنے ماتھے کی شکنیں کچھ کم اور مسکراہٹ بکھیرتے لب کچھ زیادہ پھیلائے تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری اعتزاز احسن نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور عمران خان کے حزب اختلا ف کی سیاست کے سب سے تیزگفتار رفیق شیخ رشید کے ذریعے عمران خان کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ آصف علی زرداری کو ایک فون کرلیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس پیغام کو نظر انداز کردیا ۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف وقتی حمایت کی تلاش سے کہیں زیادہ سندھ کی انتخابی سیاست کے مدوجزر پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ پیپلزپارٹی عمران خان کو نوازشریف کے خلاف اپنی حمایت دے کر جہاں ایک طرف سندھ کی سیاست میں پیپلزپارٹی مخالف فضاء کو عمران خان کے حق میں مڑنے سے روک لگانے میں کامیاب ہوتی، وہیں تحریک انصاف کے پاس پیپلزپارٹی کے ساتھ رہ کر نوازشریف کے خلاف پاناما کے مسئلے پر لڑنے کا جواز بھی بہت کم ہوتا چلا جاتا اور وہ ایک بار پھر اُسی طرح کے تنقیدکے ماحول کا شکارہو جاتی جو ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کے نعرے کے بعد مختلف بدعنوان رہنماؤں کی تحریک انصاف میں شمولیت کے باعث گزشتہ برسوں میں اُسے درپیش رہا۔
عمران خان نے یہ پہلا موقع ہے کہ اپنی سیاسی بصیرت کا کچھ زیادہ ہی ثبوت دیا ۔ اور دادو میں ایک ایسا سیاسی جلسہ کردکھایا ہے جس نے پیپلزپارٹی کی صفوں کے اندر کچھ نہ کچھ ہلچل ضرور پیدا کی ہے۔ لاڑکانہ ، موہنجوڈارو سے چل کر عمران خان نے دادو کے جس مقام پر جلسہ کیا ہے وہ تقریبا چالیس کلومیٹر کا فاصلہ بنتا ہے۔ اس درمیان میں آنے والے دیہاتوں ، گاؤں اور ہر چھوٹے بڑے قصبوں میں عمران خان کے لیے کہیں نہ کہیں استقبال ہوتا رہا۔ دادو میں تمام اراکین قومی وصوبائی اسمبلی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اس جلسے کے میزبان لیاقت جتوئی تقریباً اٹھارہ سال سے اقتدار سے دور ہیں۔ اندرون سندھ کے سیاسی حقائق کوسمجھنے والوں کے لیے یہ کوئی معمولی باتیں نہیں۔ یہ بات اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ سندھ کے دو مقامات ایسے ہیں جنہیں ہمیشہ پیپلزپارٹی کے حق میں ویتنام کہا جاتا رہا ہے اور جو پیپلزپارٹی کے خلاف کسی بھی فضاء میں ایک کامیاب مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ جن میں مورو کے علاوہ دادو کا وہ مقام بھی شامل ہے جس کے آس پاس عمران خان نے ایک کامیاب جلسہ کردکھا یا ہے۔ دادو کا یہ وہی مقام ہے جہاں جنرل ضیاء الحق کے ہیلی کاپٹر کو اُترنے نہیں دیا گیا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے ہیلی کاپٹر کو اُترتے ہوئے یہاں ایک زبردست مزاحمت ہوئی تھی۔ جواب میں ہیلی کاپٹر سے ہونے والی فائرنگ نے انسانی جانوں کو نگل لیا تھا۔ مگر ہیلی کاپٹر کو اُترنے نہیں دیا گیا تھا۔ اب وہاں عمران خان نے ایک جلسہ کرکے یہ اعلان کیا کہ ’’نوازشریف پھنس گیا ،اب آصف زرداری کے پیچھے پڑوں گا۔ ‘‘یہاں پر اب عمران خان کی بات سننے والے ہی نہیں تھے بلکہ اُن کی مختلف برادریوں اور قبیلوں کی جانب سے حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اب یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی دونوں کے خلاف یک آواز رہیں گے۔ اور یہی پہلو اُنہیں سندھ میں پیپلزپارٹی مخالف حلقے کی حمایت دلا سکے گا۔ دادو سے اس کا آغاز تو کردیا گیا ہے مگر ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق تحریک انصاف بہت جلد سندھ میں مزید تین بڑے جلسوں کا فیصلہ کرچکی ہے۔ عمران خان کی جانب سے پیپلزپارٹی سے دور رہنے کا فیصلہ اوریہ تمام جلسے دراصل سندھ میں پی پی مخالف سیاسی فضاء کو انتخابی حمایت میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر چہ پیپلزپارٹی اس حوالے سے بظاہر کوئی پریشانی ظاہر نہیں کررہی مگر اُس کی اندرونی صفوں میں واضح طور پر اس حوالے سے ایک ہلچل دکھائی دیتی ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر