وجود

... loading ...

وجود

’یہ بھی خوش وہ بھی خوش‘ کیا میاں صاحب کے لیے آنے والا وقت اچھا ہے؟

جمعه 21 اپریل 2017 ’یہ بھی خوش وہ بھی خوش‘ کیا میاں صاحب کے لیے آنے والا وقت اچھا ہے؟

تحریک انصاف نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیے جانے کی توقع کر رہی تھی، ایسا نہیں ہوا، مسلم لیگ ن کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات مسترد کر دیے جائیں گے، وہ بھی نہ ہوا،فیصلہ بیک وقت فریقوں کی جیت بھی ہے اور ناکامی بھیپاناما کیس کے فیصلے پر ہر کوئی اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ دراصل تحقیقاتی عمل کے تسلسل کا عدالتی حکم ہے۔وزیر اعظم نواز شریف کے ناقدین یہ کہہ رہے تھے کہ آج کے اس فیصلے میں یا تو سپریم کورٹ نواز شریف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دے گی اور یوں قانون کی جیت ہو گی یا پھر نواز شریف جیت جائیں گے۔
لیکن سپریم کورٹ نے اپنا جو فیصلہ سنایا ہے، وہ متفقہ نہیں تھا۔ پانچ رکنی بینچ میں سے دو جج اس حق میں تھے کہ نواز شریف کو سربراہ حکومت کے عہدے سے علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ تین ججوں کی رائے یہ تھی کہ پاناما کیس اور آف شور کمپنیوں کی مزید تفصیلی چھان بین کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یا جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ میڈیا میں اس فیصلے کے فوری بعد نظر آنے والے رد عمل اور تجزیوں میں ماہرین اور تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ آج کا عدالتی فیصلہ بیک وقت کئی فریقوں کی جیت بھی ہے اور ناکامی بھی۔پاکستان تحریک انصاف نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیے جانے کی توقع کر رہی تھی، ایسا نہیں ہوا۔ مسلم لیگ نون کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم کے خلاف الزامات مسترد کر دیے جائیں گے، وہ بھی نہ ہوا۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر ن لیگ کے حامیوں میں توخوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے خیال میں اس فیصلے نے میاں نوازشریف کے لیے بہت ساری مشکلات کھڑی کردی ہیں۔
دوسری طرف قومی احتساب بیورو کا خیال تھا کہ اس نے کرپشن کی روک تھام اور اس کیس کے سلسلے میں اپنی طرف سے پوری کاوشیں کی ہیں، لیکن عدالتی فیصلے کے مطابق نیب نامی اس ادارے کا کردار بھی نامکمل تھا۔
عدالت نے ایک وسیع مشترکہ تفتیشی ٹیم کے قیام کا حکم دیا ہے جو یہ پتہ چلائے گی کہ اس کیس میں نواز شریف کے اہل خانہ کی ملکیتی رقوم خلیجی عرب ریاست قطر کیسے پہنچی تھیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس مشترکہ تفتیشی ٹیم کے سامنے اپنے بیان دینے کے لیے وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کو بھی پیش ہونا پڑے گا۔
چند قانونی ماہرین کے مطابق پاناما کیس میں عدالتی فیصلہ دراصل یہی ہے کہ یہ کیس اور اس کی چھان بین ابھی جاری رہے گی۔
اس بارے میںجرمن خبر رساں ادارے نے جب پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما احسن اقبال سے ان کا ردعمل دریافت کیا، تو انہوں نے کہا، “آج حق کی فتح ہوئی ہے اور جھوٹ کی شکست، پی ٹی آئی نے سراسر جھوٹ اور بدنیتی کی بنیاد پر یہ کیس بنایا تھا۔ اسی لیے فیصلہ ہمارے حق میں آیا، قوم خوش ہے کہ جھوٹے لوگ کیفر کردار تک پہنچے۔‘‘
وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 2018 تک کے لیے وزیر اعظم ہیں اور اس کے بعد اگلے پانچ سال کے لیے بھی وہی چاروں صوبوں میں حکومت بنائیں گے اور ان کی طرف سے پاکستان کو آگے لے جانے کا سفر جاری رہے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ایک رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن مجاہد علی نے آج کے عدالتی فیصلے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہم تو اس فیصلے کو خوش آئند سمجھتے ہیں کہ دو جج حضرات نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا اور باقی تین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کمیٹی بنانے کی صورت میں کیا، دراصل یہی ہماری جیت ہے۔ تاہم توقعات کی جہاں تک بات ہے تو ہم نے سوچا تھا کہ نواز شریف کی بادشاہت کا دور آج ختم ہو جائے گا لیکن، چلیں، تھوڑا اور انتظار کر لیتے ہیں۔ ہمیں پوری امید ہے کہ فائنل فیصلہ ہمارے ہی حق میں آئے گا۔‘‘


ادھر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد بنی گالہ میں پریس کانفرنس میں نواز شریف سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد وہ اپنے عہدے پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ وہ صادق اور امین نہیں ہیں، اس لیے نئی بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی وزیر اعظم کے استعفے کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔
صحافی تجزیہ نگار اقبال خٹک نے جرمن ریڈیو کو بتایاکہ’’میڈیا نے اس فیصلے کو پہلے ہی سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ وزیر اعظم کے بارے میں یہ مقدمہ تھا، تو نیوز ویلیو تو اس کی بنتی تھی، لیکن روزانہ کی بنیاد پر اس پر بیان بازی اور جو ٹاک شوز نشر کیے گئے، ان میں قانونی کی بجائے سیاسی پہلوؤں پر ہر طرح کی بات کی گئی، حالانکہ یہ ایک عدالتی معاملہ تھا نہ کہ سیاسی۔ تو میڈیا عوامی اور سیاسی پارٹیوں کی امیدوں کو اس حد تک آگے لے گیا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا کہ بس اب معاملہ آر یا پار ہونے کو ہے۔‘‘اقبال خٹک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ تو زیادہ تر ایک اپیل فورم ہے، وہ مقدمہ چلانے کا فورم ہے ہی نہیں،’’یہی وجہ ہے کہ جب یہ فیصلہ آیا، تو ظاہر ہے کہ ایک پارٹی کو یہ لگا کہ اس کا سب کچھ کھو گیا ہے اور دوسری کو لگا کہ اس نے کوئی بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہ سب عوام میں ہیجان پھیلانے، ریاست کے بارے میں منفی رائے کے تسلسل اور عدلیہ کو بلاوجہ متنازع بنا دینے کا موجب بنا ہے۔‘‘


معروف تجزیہ نگار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان نے بتایاکہ ’’نواز شریف نے مزید ساٹھ دن کے لیے سیاسی رسوائی خرید لی ہے۔ یہ ن لیگ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے کہ کمیشن کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے علاوہ ایک اورمحترم جج نے میاں صاحب کی نا اہلی کے لیے لکھا ہے۔ نون لیگ والے اس بات پر خوش ہیں کہ بقیہ تین ججوں نے ایسا نہیں کیا۔ تو میرے خیال میں وہ ججز صرف حجت پوری کرنا چاہتے ہیں اور ان کو موقع نہیں دینا چاہتے کہ یہ سیاسی شہید بن جائیں۔ اب ان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور یاد رہے کہ جے آئی ٹی ملزمان کے لیے بنتی ہے۔‘‘


انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی میں ملٹری انٹیلیجنس کی طرف سے ایک بریگیڈیئر لیول کا افسر جب کہ آئی ایس آئی کی طرف سے ایک میجر جنرل لیول کا افسر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں منی لانڈرنگ کے مسئلے کے حوالے سے بھی ماہر شامل کیے جاتے ہیں،’’اب میاں صاحب کو بہت سارے سوالوں کے جوابات دینے پڑیں گے۔ اگر منی ٹریل ان کے پاس ہوتا تو کیا یہ پہلے پیش نہیں کر دیتے۔ ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں۔ تو عدالت نے ان کا منہ بند کرنے کے لیے یہ جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ رونا دھونا نہ کریں۔ میرے خیال میں اب یہ بات واضح ہے کہ ان ساٹھ دنوں میں میڈیا کا دباؤ بھی میاں صاحب پر پڑے گا اور سیاسی دباؤ بھی ان پر برقرار رہے گا۔ لہذا آنے والے دنوں میں انکی مشکلات میں اس فیصلے کی وجہ سے مزید مسائل ہوں گے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس ٹیم میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے لوگ اور دوسرے ماہرین ہوں گے۔ حکومت کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ ان افسران پر دباؤ ڈال سکے یا ان کو خرید سکے۔ یہ ٹیم ساری معلومات منگوا سکتی ہے اور ان کے بینک ریکارڈ بھی چیک کر سکتی ہے۔ میرے خیال میں میڈیا اور عوام اس ٹیم پر گہری نظر رکھیں گے۔‘‘
دوسری طرف تجزیہ نگار توصیف احمد خان نے کہا، ’’یہ جے آئی ٹی فوج کے دباؤ میں آسکتی ہے جس کا یقیناً نقصان میاں صاحب کو ہو سکتا ہے۔ اگر فوج نے ان کو سائڈ لائن کرنا چاہا تو اب اس فیصلے کے بعد ان کے لیے یہ آسان ہوجائے گا۔ تو میرے خیال میں تو یہ فیصلہ میاں صاحب کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘‘


تجزیہ نگار ڈخالد جاوید جان کے بقول، ’’اگر نواز شریف کو ہٹایا جاتا ہے تو اس سے ملک میں اسٹیبلشمنٹ مضبوط ہو گی جو یقیناًسیاسی عمل کے لیے بہتر نہیں ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب نے کب جمہوری کلچر کو فروغ دیا۔ نوے کی دہائی میں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر پی پی پی کے لیے حالات مشکل بنا دیے تھے۔ ان کی سوچ بہت آمرانہ ہے کیونکہ ان کا تعلق بھی جنرل ضیاء کے سیاسی قبیلے سے ہی ہے۔ اب انہیں بھگتنا پڑے گا۔یہ ممکن ہے کہ میاں صاحب اسمبلی توڑ دیں یا پھر کچھ عرصے کے لیے مستعفی ہوجائیں۔ بہت کم امکان ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں کیونکہ ان کے لیے یہ بہت ہی مشکل کام ہے کہ وہ چند افسران کے سامنے جوابات دیں، جس میں فوج کے لوگ بھی ہوں گے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’بھٹو کے کیس میں کم از کم تین ججوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا تھا۔ یہاں ججز ان کو بے گنا ہ قرار نہیں دے رہے بلکہ میاں صاحب کے لیے سارے دروازے بند کر رہے ہیں۔ اس ٹیم کی انکوائری کے بعد میاں صاحب کے لیے کچھ نہیں رہ جائے گا کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ ان کے پاس منی ٹریل اور لندن فلیٹ کی ملکیت کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ رہا سوال قطری خط کا تو وہ عدالت پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔ تو آنے والے دنوں میں نون لیگ کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔‘‘

ججز نے میاں صاحب کے لیے دروازے بند کردیے

بھٹو کے کیس میں کم از کم تین ججوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا تھا۔ یہاں ججز ان کو بے گنا ہ قرار نہیں دے رہے بلکہ میاں صاحب کے لیے سارے دروازے بند کر رہے ہیں۔ اس ٹیم کی انکوائری کے بعد میاں صاحب کے لیے کچھ نہیں رہ جائے گا کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ ان کے پاس منی ٹریل اور لندن فلیٹ کی ملکیت کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔

بقیہ تین ججز بھی نوازشریف کو ملزم ہی سمجھتے ہیں

نواز شریف نے مزید ساٹھ دن کے لیے سیاسی رسوائی خرید لی ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ کے علاوہ ایک اورمحترم جج نے بھی میاں صاحب کی نا اہلی کے لیے لکھا ہے، لیگی خوش ہیں کہ بقیہ تین ججوں نے ایسا نہیں کیا۔ تو وہ ججز صرف حجت پوری کرنا چاہتے ہیں، اب ان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑے گا اور یاد رہے کہ جے آئی ٹی ملزمان کے لیے بنتی ہے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر