وجود

... loading ...

وجود

ترکی میں صدارتی ریفرنڈم : اسلام پسندوں کی فتح یورپ ہضم کرسکے گا ؟؟

منگل 18 اپریل 2017 ترکی میں صدارتی ریفرنڈم : اسلام پسندوں کی فتح یورپ ہضم کرسکے گا ؟؟

ہم نے صلیبی ذہنیت کیخلاف پر عزم اور سخت جدوجہد کی،لیکن ان کامیابیوں پر ہمیں غرور نہیں کرنا چاہیے،مستقبل پر نظر ہے ،ترک صدر کا فتح کے بعد جشن سے خطاب ریفرنڈم کا مطلب ملک پر ایک شخص کی حکمرانی قائم کرنا ہے ،ناقدین ۔نیا سسٹم فرانس اور امریکا سے مماثل ہوگا، اپوزیشن کا احتجاج بے جا ہے،اردوان کا جواب

ترکی میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم میں عوام نے اسلام پسند حکمرانوں کو ووٹ دے کر فتح سے ہمکنا رکیا ہے جس کا وزیر اعظم نے اعلان کیا اور جب صدررجب طیب ایردوان 16 اپریل کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد استنبول سے انقرہ تشریف لائے توترک عوام نے ان کاپرجوش استقبال کیا۔اس موقع پرانقرہ کے ایسن بوعا ہوائی اڈے پر موجود بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے صلیبی ذہنیت کیخلاف پر عزم اور سخت جدوجہد کی ہے اور ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم نے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقے میں ریفرنڈم کے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔اب صورتحال مثبت شکل میں بدل گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ حالات مزید بہتر ہونگے ، لیکن ان کامیابیوں پر ہمیں غرور نہیں کرنا چاہیے اور 2019 کے انتخابات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے،مستقبل پر نظر ہے۔صدر ایردوان نے کہا کہ موجودہ صدارتی ریفرینڈم کوئی معمولی بات نہیں۔ اس ریفرنڈم نے ترک تاریخ کے 200 سال سے جاری ایک تنازع کو آج حل کردیا ہے۔ انہوں نے 16 اپریل کو ترک قوم اور اپنی فتح ونصرت کا دن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن جمہوریت کی فتح کا دن ہے۔ یہ کامیابی صدر انتظامیہ اور پارلیمان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کو توقع ہے کہ تمام دوست اور حلیف ممالک صدارتی ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرتے ہوئے انقرہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔یاد رہے کہ اتوار کو ترکی میں صدارتی نظام منظور یا نامنظور کیلیے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جس کے لیے ملک بھر میں 1,67,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جہاں ساڑھے پانچ کروڑ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ریفرنڈم پر ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی مدد سے صدر اختیارات بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاہم صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ نیا سسٹم فرانس اور امریکا سے مماثل ہوگااس پر اپوزیشن کا احتجاج بے جا ہے ۔اس طرح اب 1923سے جو ملک پارلیمانی نظام حکومت پر چل رہاتھا وہ صدارتی نظام پر منتقل ہو جائے گا۔اس ریفرنڈم میں صدر ایردوآن کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب جدید ترکی کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی اور صدر ایردوآن کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔
ترک صدر کو ریفرنڈم میں نئے صدارتی نظام کی منظوری لیے جا نے پر صدر ِ پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے بھی علیحدہ علیحدہ پیغامات کے ذریعے دلی مبارکباد پیش کی ہے۔پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ ریفرینڈم میں ‘ہاں’ کی جیت ترک عوام کے جذبات کی عکاسی ہے کہ اور ظاہر کرتی ہے کہ وہ مضبوط ترکی کی خواہش رکھتے ہیں۔ ریفرنڈم کے بعد سے صدر رجب طیب ایردوان کو غیر ملکی سربراہان کی جانب سے تہنیتی ٹیلی فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔اولین طور پر آذربائیجان، قطر اور فلسطینی رہنماؤں نے ٹیلی فون کرکے صدر ِ ترکی کو مبارکباد پیش کی۔علاوہ ازیں بحرین کے شاہ حامد بن عیسی الا خلیفہ، افریقی یونین کے صدر ملک گینے کے صدر الفا کوندے اور تیونسی اسلامی تحریک کے لیڈر راشد الغنوشی نے بھی تہنیتی پیغام دیے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اتوار کو منعقدہ آئینی ریفرنڈم میں اپنی فتح کے اعلان پر اپوزیشن نے کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے دوران بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور وہ اس کے نتائج کو چیلنج کرے گی۔اس ریفرنڈم کے لیے چلنے والی مہم کے بعد بظاہر یہی نظر آ رہا تھا کہ ترکی کے کْرد اکثریت کے حامل جنوب مشرقی علاقے اور خاص طور پر تین بڑے ترک شہر جن میں دارالحکومت انقرہ اور سب سے بڑا شہر استنبول بھی شامل ہے مخالفت میں ووٹ دیتے ہوئے مجوزہ آئینی ترامیم کو رَد کر دیں گے۔ایردوآن نے کہا کہ پچیس ملین ترکوں نے اْن کی اْس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کے تحت ترکی کے پارلیمانی نظام کی جگہ ایک ایسا صدارتی نظام رائج ہو جائے گا جس میں صدر وسیع تر اختیارات کا حامل ہو گا اور وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ ایردوآن کے مطابق 51.5 فیصد رائے دہندگان نے ’ہاں‘ میں ووٹ دیتے ہوئے اْنہیں اس ریفرنڈم میں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ایردوآن نے ترکی میں ماضی میں کئی بار ہونے والی فوجی بغاوتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’جمہوریہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم جمہوری سیاست کے ذریعے حکومتی نظام کو تبدیل کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ اس قدر اہم بات ہے۔‘‘ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں، جن میں سے زیادہ تر 2019ء کے اگلے انتخابات کے بعد نافذ العمل ہوں گی، وْزراء کی تقرری بھی صدر ہی کے دائرہ اختیار میں ہو گی، صدر ہی غیر معینہ تعداد میں نائب صدور مقرر کرسکے گا اور صدر پارلیمانی منظوری کے بغیر سینیئر بیوروکریٹس کی تقرری یا اْنہیں سبکدوش بھی کر سکے گا۔آئینی تبدیلی سے اب صدر کی سرکاری طور پر غیر جانبدار حیثیت بھی ختم ہوگئی ہے، اْنھیں یہ اجازت ہوگی کہ وہ سیاسی جماعت کی قیادت کریں۔ اپوزیشن کی مرکزی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس جماعت کے مطابق ایسے ووٹ بھی گنے گئے ہیں، جن پر انتخابی عملے کی جانب سے مہر نہیں لگائی گئی تھی۔ اس جماعت کے رہنما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس ریفرنڈم کا مطلب ملک پر ایک شخص کی حکمرانی قائم کرنا ہے اور اس سے ملک کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ترکی کے الیکٹورل بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج درست ہیں۔
ہائی الیکٹورل بورڈ کے سربراہ سعدی گوون کا یہ بیان ملک میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کی جانب سے ریفرینڈم میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سعدی گوون نے کہا کہ غیر مہر شدہ ووٹ ہائی الیکٹورل بورڈ کے سامنے پیش کیے گئے تھے اور وہ قانونی طور پر درست ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں بھی ووٹنگ کے حوالے سے شکایاتوں کو حل کرنے کے لیے اس سے ملتا جلتا طریقہ اپنایا گیا تھا۔استنبول کے کچھ علاقوں میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں جبکہ انقرہ میں بھی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے ہیڈ کوارٹرز کے قریب حکمران جماعت اے کے پی کے حامیوں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تصادم ہوا ۔اُدھر یورپی یونین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے تین سرکردہ ترین نمائندوں یعنی یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلوڈ یْنکر، یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدیریکا موگرینی اور یونین میں توسیع سے متعلقہ امور کے کمشنر یوہانیس ہان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کے حوالے سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔کچھ یورپی رہنما ابھی سے اس بات پر زور دینے لگے ہیں کہ اس ریفرنڈم کے بعد ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے انقرہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کر دیے جانے چاہییں۔


متعلقہ خبریں


طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...

طالبان حکام دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم وجود - اتوار 30 نومبر 2025

  یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان وجود - اتوار 30 نومبر 2025

سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...

سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں،مراد علی شاہ

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...

پاکستان میں فلائٹ آپریشن متاثر ہونے کا خدشہ

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ وجود - اتوار 30 نومبر 2025

37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...

عمران خان سے ملاقات کی درخواستوں پر سماعت مکمل،فیصلہ محفوظ

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مضامین
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے! وجود اتوار 30 نومبر 2025
کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ کیا بتاتا ہے!

مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ وجود اتوار 30 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر سے مسلم تشخص کا خاتمہ

بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن وجود اتوار 30 نومبر 2025
بھارت و افغان گٹھ جوڑاورامن

تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر