... loading ...

ہم نے صلیبی ذہنیت کیخلاف پر عزم اور سخت جدوجہد کی،لیکن ان کامیابیوں پر ہمیں غرور نہیں کرنا چاہیے،مستقبل پر نظر ہے ،ترک صدر کا فتح کے بعد جشن سے خطاب ریفرنڈم کا مطلب ملک پر ایک شخص کی حکمرانی قائم کرنا ہے ،ناقدین ۔نیا سسٹم فرانس اور امریکا سے مماثل ہوگا، اپوزیشن کا احتجاج بے جا ہے،اردوان کا جواب
ترکی میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم میں عوام نے اسلام پسند حکمرانوں کو ووٹ دے کر فتح سے ہمکنا رکیا ہے جس کا وزیر اعظم نے اعلان کیا اور جب صدررجب طیب ایردوان 16 اپریل کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد استنبول سے انقرہ تشریف لائے توترک عوام نے ان کاپرجوش استقبال کیا۔اس موقع پرانقرہ کے ایسن بوعا ہوائی اڈے پر موجود بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم نے صلیبی ذہنیت کیخلاف پر عزم اور سخت جدوجہد کی ہے اور ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہم نے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقے میں ریفرنڈم کے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔اب صورتحال مثبت شکل میں بدل گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ حالات مزید بہتر ہونگے ، لیکن ان کامیابیوں پر ہمیں غرور نہیں کرنا چاہیے اور 2019 کے انتخابات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے،مستقبل پر نظر ہے۔صدر ایردوان نے کہا کہ موجودہ صدارتی ریفرینڈم کوئی معمولی بات نہیں۔ اس ریفرنڈم نے ترک تاریخ کے 200 سال سے جاری ایک تنازع کو آج حل کردیا ہے۔ انہوں نے 16 اپریل کو ترک قوم اور اپنی فتح ونصرت کا دن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کا دن جمہوریت کی فتح کا دن ہے۔ یہ کامیابی صدر انتظامیہ اور پارلیمان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی کو توقع ہے کہ تمام دوست اور حلیف ممالک صدارتی ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرتے ہوئے انقرہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔یاد رہے کہ اتوار کو ترکی میں صدارتی نظام منظور یا نامنظور کیلیے ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جس کے لیے ملک بھر میں 1,67,000 پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے تھے جہاں ساڑھے پانچ کروڑ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ریفرنڈم پر ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے قانون کی مدد سے صدر اختیارات بڑھانا چاہتے ہیں۔ تاہم صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ نیا سسٹم فرانس اور امریکا سے مماثل ہوگااس پر اپوزیشن کا احتجاج بے جا ہے ۔اس طرح اب 1923سے جو ملک پارلیمانی نظام حکومت پر چل رہاتھا وہ صدارتی نظام پر منتقل ہو جائے گا۔اس ریفرنڈم میں صدر ایردوآن کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب جدید ترکی کے سیاسی ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں گی اور صدر ایردوآن کو وسیع تر اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔
ترک صدر کو ریفرنڈم میں نئے صدارتی نظام کی منظوری لیے جا نے پر صدر ِ پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے بھی علیحدہ علیحدہ پیغامات کے ذریعے دلی مبارکباد پیش کی ہے۔پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ ریفرینڈم میں ‘ہاں’ کی جیت ترک عوام کے جذبات کی عکاسی ہے کہ اور ظاہر کرتی ہے کہ وہ مضبوط ترکی کی خواہش رکھتے ہیں۔ ریفرنڈم کے بعد سے صدر رجب طیب ایردوان کو غیر ملکی سربراہان کی جانب سے تہنیتی ٹیلی فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔اولین طور پر آذربائیجان، قطر اور فلسطینی رہنماؤں نے ٹیلی فون کرکے صدر ِ ترکی کو مبارکباد پیش کی۔علاوہ ازیں بحرین کے شاہ حامد بن عیسی الا خلیفہ، افریقی یونین کے صدر ملک گینے کے صدر الفا کوندے اور تیونسی اسلامی تحریک کے لیڈر راشد الغنوشی نے بھی تہنیتی پیغام دیے ہیں۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی جانب سے اتوار کو منعقدہ آئینی ریفرنڈم میں اپنی فتح کے اعلان پر اپوزیشن نے کہا ہے کہ اس ریفرنڈم کے دوران بے قاعدگیاں ہوئی ہیں اور وہ اس کے نتائج کو چیلنج کرے گی۔اس ریفرنڈم کے لیے چلنے والی مہم کے بعد بظاہر یہی نظر آ رہا تھا کہ ترکی کے کْرد اکثریت کے حامل جنوب مشرقی علاقے اور خاص طور پر تین بڑے ترک شہر جن میں دارالحکومت انقرہ اور سب سے بڑا شہر استنبول بھی شامل ہے مخالفت میں ووٹ دیتے ہوئے مجوزہ آئینی ترامیم کو رَد کر دیں گے۔ایردوآن نے کہا کہ پچیس ملین ترکوں نے اْن کی اْس تجویز کی حمایت کی ہے، جس کے تحت ترکی کے پارلیمانی نظام کی جگہ ایک ایسا صدارتی نظام رائج ہو جائے گا جس میں صدر وسیع تر اختیارات کا حامل ہو گا اور وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ ایردوآن کے مطابق 51.5 فیصد رائے دہندگان نے ’ہاں‘ میں ووٹ دیتے ہوئے اْنہیں اس ریفرنڈم میں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ایردوآن نے ترکی میں ماضی میں کئی بار ہونے والی فوجی بغاوتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:’’جمہوریہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہم جمہوری سیاست کے ذریعے حکومتی نظام کو تبدیل کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ اس قدر اہم بات ہے۔‘‘ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں، جن میں سے زیادہ تر 2019ء کے اگلے انتخابات کے بعد نافذ العمل ہوں گی، وْزراء کی تقرری بھی صدر ہی کے دائرہ اختیار میں ہو گی، صدر ہی غیر معینہ تعداد میں نائب صدور مقرر کرسکے گا اور صدر پارلیمانی منظوری کے بغیر سینیئر بیوروکریٹس کی تقرری یا اْنہیں سبکدوش بھی کر سکے گا۔آئینی تبدیلی سے اب صدر کی سرکاری طور پر غیر جانبدار حیثیت بھی ختم ہوگئی ہے، اْنھیں یہ اجازت ہوگی کہ وہ سیاسی جماعت کی قیادت کریں۔ اپوزیشن کی مرکزی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس جماعت کے مطابق ایسے ووٹ بھی گنے گئے ہیں، جن پر انتخابی عملے کی جانب سے مہر نہیں لگائی گئی تھی۔ اس جماعت کے رہنما یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس ریفرنڈم کا مطلب ملک پر ایک شخص کی حکمرانی قائم کرنا ہے اور اس سے ملک کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ترکی کے الیکٹورل بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے نتائج درست ہیں۔
ہائی الیکٹورل بورڈ کے سربراہ سعدی گوون کا یہ بیان ملک میں حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت رپبلکن پیپلز پارٹی کی جانب سے ریفرینڈم میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سعدی گوون نے کہا کہ غیر مہر شدہ ووٹ ہائی الیکٹورل بورڈ کے سامنے پیش کیے گئے تھے اور وہ قانونی طور پر درست ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے انتخابات میں بھی ووٹنگ کے حوالے سے شکایاتوں کو حل کرنے کے لیے اس سے ملتا جلتا طریقہ اپنایا گیا تھا۔استنبول کے کچھ علاقوں میں انتخابی نتائج کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں جبکہ انقرہ میں بھی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے ہیڈ کوارٹرز کے قریب حکمران جماعت اے کے پی کے حامیوں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تصادم ہوا ۔اُدھر یورپی یونین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین کے تین سرکردہ ترین نمائندوں یعنی یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلوڈ یْنکر، یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیدیریکا موگرینی اور یونین میں توسیع سے متعلقہ امور کے کمشنر یوہانیس ہان نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ اس ریفرنڈم کے حوالے سے بین الاقوامی مبصرین کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔کچھ یورپی رہنما ابھی سے اس بات پر زور دینے لگے ہیں کہ اس ریفرنڈم کے بعد ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے انقرہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کر دیے جانے چاہییں۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...
یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...
سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...
جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...
37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...