... loading ...

اسٹیٹ آف دی نیشن سروے کے مطابق 21فیصد ایسے بھارتی خاندان ہیں جس کے تمام ارکان سبزی خور ہیںجب کہ اسکے علاوہ باشندے مختلف قسم کے گوشت کھاتے ہیں ‘ احمد آباد کی ایک گوشت خور فیملی کوچالیس ایسے خطوط موصول ہوئے جن میں اس کی بیٹی کو اس کی’’ مجرمانہ غذائی عادات‘‘کی بناء پر بطور سزا کے ریپ کی دھمکی دی گئی
)صاحب تحریر کا تعلق بھارت سے ہے جو برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔انہوں نے ایک ہندستانی روزنامے میں ریاست کی جانب سے انتہاپسندی کے رویے پر قلم اٹھاتے ہوئے یہ مضمون باندھا ہے کہ جب بھارت میں ہندواکثریت ہے اور اسی بنیاد پر گوشت کھانے اور بیچنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو کیا سارے ہندو گوشت سے پرہیز کرتے ہیں ؟ لیکن خود ریاستی سروے کے مطابق ایسا نہیں ہے ۔تو پھر یہ پابندیاں کیا اقلیت کو زیر کرنے کے لیے لگائی جارہی ہیں۔مضمون پیش خدمت ہے )
جس ملک کی دو تہائی آبادی گوشت خور ہو‘ اس ملک کو سبزی خور یا شاکاہاری کہنا یا ایسا کہنے پر اصرار کرنا کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے‘ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم ان دنوں اسی قسم کی مضحکہ خیزیوں سے دوچار ہیں۔ ہندوستان دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں کسی اہم کھانے کی دعوت‘ شادی یا پارٹی کے بعد اس قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ یار پارٹی بہت اچھی تھی‘ نان ویج کا انتظام کیا گیا تھا یا اس قسم کا سوال بھی آپ اسی ملک میں سن سکتے ہیں کہ ’’آپ ویج ہیں یا نان ویج؟‘‘ یہاں لفظ ’’نان ویج‘‘ (non-veg) اسم اور صفت (Noun and adjective) دونوں حیثیتوں سے استعمال ہوتا ہے پہلی صورت میں اس کا استعمال (کسی جانور کے) گوشت‘ مچھلی اور مرغ وغیرہ کے گوشت کے لیے ہوتا ہے‘ یعنی ہر جاندار شے (جو اپنا مستقل وجود رکھتی ہے) خواہ وہ کچھ بھی ہو وہ ’’ویج‘‘ میں شمار نہیں ہوگی‘ جبکہ اتفاق سے انگلینڈ میں لفظ ’’ویج‘‘ کا استعمال ’’ویجیٹیرین‘‘ (سبزی خور) کے معنی میں نہیں بلکہ ’’ویجیٹیبلس‘‘ کے مختصر نام کے طورپر یعنی ترکاری اور سبزی کے معنی میں ہوتا ہے اور عام طور سے آلو اور دو قسم کی سبزی وترکاری کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے آخری برسوں میں میری انگلستانی گرل فرینڈ تب بہت ہنستی تھی جب وہ بھارتیوں کو اپنے آپ کو ویجیٹیبلس (سبزیاں) کہتے ہوئی سنتی تھی( آپ کو یہ بھی بتادوں کہ وہ خود ایک بینگن کی طرح دکھتی تھی) ۔
اگست 2006 کے Hindu-CNN-IBN State of the Nation Survey میں یوگیندریادو اور سنجے کمار نے ہندوستان میں کھانے پینے کے طور طریقوں اور یہاں کی غذائی اشیاء پر بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ سروے کے نتائج یہ بتلاتے ہیں کہ صرف 30 فیصد بھارتی سبزی خور ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق 21 فیصد تعداد ایسے خاندانوں کی ہے جن کے تمام ارکان سبزی خور ہیں ،جب کہ اسکے علاوہ باشندے مختلف قسم کے گوشت کھاتے ہیں ۔یہ تو موجودہ صورتحال ہے جبکہ تاریخ دانوں نے تو یہ لکھا ہے کہ قدیم ہندوستان کے لوگ جن کا آغاز برہمنوں سے ہوتا ہے مویشی (کا گوشت کھانے) کے ساتھ ساتھ (دیگر) مختلف قسموں کے گوشت بھی کھاتے تھے‘ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کو ایک سبزی خور ملک کہنا جبکہ دو تہائی سے زیادہ بھارتی گوشت کھاتے ہیں حماقت اور بیوقوفی ہے لیکن اس کے باوجود یہاں سبزی خوری کو ایک عام رائج دستور سمجھا جاتا ہے اس کو بڑھاوا دیا جاتا ہے اور مذہب وذات پات کو بنیاد بناکر اس کو دوسروں پر تھونپنے کی بھی کوشش کی جاتی ہے۔
قابل ملامت ومذمت جرم:انگریزی میں لفظ ’’Non‘‘ ایک سابقہ ہے جس کا استعمال کسی بھی چیز کی نفی یا عدم وجود کو بتلانے کے لیے ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر Non- combatant (غیر جنگجو) اور Nonsense (بکواس) اور ان جیسے دوسرے الفاظ۔۔ اس کا استعمال کسی منفی وصف یا کسی قاعدہ کلیہ یا مسلمہ دستور سے انحراف کو بتانے کے لیے بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ Non attractive (غیر پرکشش) میں ہوا ہے، اسی سے معلوم ہوا کہ کسی ہندو ملک میں ایک Non Hindu منحرف یا باغی سمجھا جائے گا ۔ہمارے ملک میں چونکہ سبزی خوری کو غلطی سے ایک کلیہ اور مسلمہ دستور (Norm) تصور کیا جاتا ہے، اس لیے جو لوگ گوشت کھاتے ہیں انہیں nonvegitarian کہا جاتا ہے گویا غیر محسوس طورپر اس لفظ میں ایک منفی مفہوم ٹھونس دیا گیا ہے وہ یہ کہ گوشت کھانے کو ایک قابل مذمت وملامت عمل کی حیثیت سے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس سے انکار نہیں کہ سبزی خوری بھی پوری دنیا میں عام اور رائج ہے اور اس کو ایک غیر نقصان دہ طرز عمل سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً پوری دنیا کے انسان جانوروں‘ پرندوں کا گوشت اور مچھلیاں کھاتے ہیں ،بحیثیت بنی نوع انسان ہم سب (ویدک اساطیر سے قطع نظر کرتے ہوئے) ہمہ خور (Omnivorous) ہیں یعنی گوشت اور سبزی دونوں چیزیں کھاتے ہیں۔
دنیا بھر میں واحد ہمارا ملک ہندوستان ہے جہاں non vegitarian جیسا لفظ سننے کو ملتا ہے ورنہ جو بھارتی بیرون ملک جاتے ہیں، انہیں اس وقت خالی گھورتی ہوئی نگاہوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ اس لفظ کو بولتے ہیں۔ کہیں بھی کوئی بھی ایسا معقول اور باشعور شخص نہیں ملتا جو یہ کہتا ہو کہ وہ گوشت نہیں کھاتا‘ احمد آباد کی ایک گوشت خور فیملی کو جو جین مت کی زیر ملکیت ایک ہائوسنگ سوسائٹی میں مقیم ہے حال ہی میں پے درپے چالیس ایسے خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں اس کی بیٹی کو اس کی’’ مجرمانہ غذائی عادات‘‘کی بناء پر بطور سزا کے ریپ کی دھمکی دی گئی ہے۔ کیا آپ برمنگھم میں مقیم کسی ایسے پجاری کا تصور کرسکتے ہیں جس کو اس کی غذائی عادات کی وجہ سے موت کی دھمکی مل رہی ہوکہ ’’ آپ کدو کھاتے ہو پنڈت جی ،مرنا ہے کیا؟‘‘
مکل دوبے
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...