وجود

... loading ...

وجود

سولجر بازار اسکول انہدام اسکینڈل  فضل اللہ پیچوہو نے تاریخی ورثے کو فروخت کیاتھا ،معاملہ گلے پڑگیا

جمعرات 13 اپریل 2017 سولجر بازار اسکول انہدام اسکینڈل  فضل اللہ پیچوہو نے تاریخی ورثے کو فروخت کیاتھا ،معاملہ گلے پڑگیا

فریال تالپور کے فرنٹ مین اورنئے وزیر قانون ضیا لنجار ،انکے کزن ایس ایس پی سانگھڑفرخ لنجار و دیگر اسکول کی زمین ہتھیانے میں شامل ہیں،ذرائع آئی جی کی جانب سے مقررتحقیقاتی افسران آفتاب پٹھان اور ثنا ء اللہ عباسی سندھ حکومت کیلیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں،معاملے کو دبانے کی کوششیں ناکام چار پانچ ارب روپے کی زمین کوڑیوں کے داموں خریدی گئی تھی، اب اگر یہ زمین کا ٹکڑا ان کو نہ ملا تو ان کے کروڑوں روپے بھی ڈوب جائیں گے

سابق سیکریٹری تعلیم ڈاکٹر فضل اللہ پیچو ہو نے اپنے دور میں کراچی کے 2 ہزار سے زائد سرکاری اسکول فروخت کر دیے تھے۔ ان کی کہانیاں اب کھلتی جا رہی ہیں۔انہوں نے بدمست ہاتھی کی طرح محکمہ تعلیم میں ایسے ایسے فیصلے کیے اور اس صوبے کو اتنا پیچھے دھکیلا کہ شاید 50 برس بھی گزر جائیں تو ان کے گند کو صاف نہیں کیا جاسکتا۔ فضل اللہ پیچو ہو نے سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے ہاتھوں نیشنلائزڈکیے گئے اسکولوں کو ڈی نیشنلائز کر دیا۔ حد یہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو نے 500 اسکول نیشنلائز کیے تھے ،فضل اللہ پیچوہو نے 2 ہزار اسکول ڈی نیشنلائز کر دیے اور کراچی میں اب صرف 85 اسکول سرکاری تحویل میں بچ گئے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ کام اس ہوشیاری اور مہارت کے ساتھ کیا کہ کسی کو کانوں کان پتہ بھی چلنے نہ دیا، کھربوں روپے اس کھیل میں بٹورے گئے اور سب کو اپنا حصہ دیا گیا، اب کوئی بھی سیاسی ،مذہبی و سماجی تنظیم اس میگا اسکینڈل پر بات کرنے کے لیے قطعی تیار نہیں ۔ پھر آصف علی زرداری کی منظوری سے انہیں محکمہ صحت میں سیکریٹری لگا دیا گیا۔
اب ایک حیرت انگیز کہانی سامنے آگئی ہے، سولجر بازار میں 9 اپریل اتوار کے روز کچھ بااثر افراد آئے، پولیس کو بھی ساتھ لائے اور 1928 کا بنا ہوا اسکول مسمار کر دیا۔ جب میڈیا کو علم ہوا تو ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا، پولیس اور حکومت سندھ نے نوٹس لیا۔ تحقیقات شروع ہوئیں تو دل دہلادینے والے انکشافات سامنے آگئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ فضل اللہ پیچوہو نے چارپانچ ارب روپے کی عمارت فریال تالپور کے فرنٹ مین ضیاء الحسن لنجار کو فروخت کر دی جس نے یہ عمارت ایس ایس پی سانگھڑ فرخ لنجار کو دی کہ وہ پولیس کی مدد سے اس عمارت کو فروخت کرے اور ایس ایس پی فرخ لنجار نے فریال تالپور اور ضیاء الحسن لنجار کا رعب دبدبہ استعمال کرکے اپنے بھائی عدنان لنجار کے ذریعے پولیس کی گاڑیاں لے جاکر تاریخی ورثہ قرار دی گئی اس عمارت کو مسمار کر دیا۔ حالانکہ رواں سال ہی 19 جنوری 2017 کو محکمہ ثقافت نے اس عمارت کو تاریخی ورثہ قرار دیا تھا۔ مگر ان بد مست ہاتھیوں کو کون روکے؟ 10 اپریل کو آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے ایس ایس پی سانگھڑ فرخ لنجار کا نام آنے پر ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس آفتاب پٹھان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ۔ آفتاب پٹھان اچھی شہرت کے حوالے سے مشہور ہیں، جب وہ ڈی آئی جی لاڑکانہ تھے تو انہوں نے ایس ایس پی لاڑکانہ کامران نواز کے خلاف تحقیقاتی رپورٹ دی کہ وہ ڈاکوئوں کے ساتھ ملا ہوا ہے اور ان کو اسلحہ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے پھر جب سپریم کورٹ نے آفتاب پٹھان کو پولیس میں بھرتیوں کی تحقیقات کے لیے کہا تو اس وقت کے آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی نے ان کو لالچ بھی دی اور دھمکی بھی ۔۔۔ اور پھر ان کی خدمات وفاق کے بھی حوالے کیں لیکن آفتاب پٹھان نے ان بھریتوں کو جعلی قرار دیا اور ان بھرتیوں میں بھاری رشوت لیے جانے کا بھی انکشاف کر دیاتھا۔
اب آفتاب پٹھان نے تاریخی ورثہ قرار دی گئی عمارت کو مسمار کیے جانے کی تحقیقات شروع کر دی ہے ۔ یوں فریال تالپور اور ضیاء الحسن کو کپکپی لگی کہ معاملہ خراب ہوسکتا ہے، فوری طور پر ضیاء الحسن لنجار کو 10 اپریل کو سندھ کابینہ میں شامل کرکے ان کو محکمہ قانون دے دیا گیا تاکہ وہ اپنے قریبی رشتہ دار ایس ایس پی فرخ لنجار کو تحفظ دے سکیں۔ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن عبدالعزیز عقیلی نے آئی جی سندھ پولیس کے ساتھ مل کر ہمت کی اور ایف آئی آر درج کرالی۔ جس پر سندھ پولیس نے فوری طور پر عدنان لنجار اور ان کے ساتھیوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔ اب ایک مرتبہ پھر فریال تالپور اور ضیاء الحسن لنجار کو خوف نے گھیر لیا ہے کہ آئی جی سندھ پولیس گرفتاریاں کرائیں گے تو اصل کہانی سامنے آجائے گی۔ اب حکومت سندھ کے ذریعے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی سندھ پولیس پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے
کہ وہ اس معاملے کو دبالیں اور بات آگے نہ جانے دیں۔ ایس ایس پی فرخ لنجار کو چھ ماہ قبل آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے سانگھڑ سے ہٹایا تو سب سے زیادہ ناراض فریال تالپور،انور مجید، ضیاء الحسن لنجار ہوئے اور جب آئی جی سندھ پولیس نے سمیع اللہ سومرو کو ایس ایس پی سانگھڑ لگادیا تو حکمرانوں کو برداشت نہ ہوا اور بلآخر فرخ لنجار کو ہی چار ماہ بعددوبارہ ایس ایس پی سانگھڑ مقرر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پیر اور منگل کے روز فریال تالپور، ضیاء الحسن لنجار، فضل اللہ پیچوہو نے سرتوڑ کوشش کی کہ یہ کیس آگے نہ بڑھنے دیا جائے لیکن ان کی یہ کوشش رائیگاں گئی کیونکہ آئی جی سندھ نے ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی ختم کرنے سے قطعی انکار کردیا۔ آفتاب پٹھان نے واضح کر دیا ہے کہ چاہے کوئی بھی روکے وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر رپورٹ دیں گے اور تمام کرداروں کو بے نقاب کریں گے۔ اوپر سے دبائو آنے کے بعد اتوار اور پیر کے روز وزیراعلیٰ سندھ پہلے سرگرم تھے مگر منگل کے روز وزیراعلیٰ بھی پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے معاملہ سے ہاتھ اٹھالیا ۔
اس وقت عوام اور میڈیا نمائندے مشتعل ہیں اور اسکول کے بچوں میں نیا جوش و جذبہ ہے، وہ زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اور یہ معاملات اب حکمرانوں کو چین سے سونے نہیں دے رہے کیونکہ چار پانچ ارب روپے کی زمین کوڑیوں کے داموں خریدی گئی تھی، اب اگر یہ زمین کا ٹکڑا ان کو نہ ملا تو ان کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے اور ان کے کروڑوں روپے بھی ڈوب جائیں گے گیند ایک مرتبہ پھر آئی جی سندھ کی کورٹ میں ہے۔بعد ازاں آئی جی نے تحقیقات کیلیے ایس پی آپریشن 1کو سونپ دی ہیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی سربراہ سی ٹی ڈی ثنا ء اللہ عباسی کمیٹی کو سپروائز کریں گے ۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر