وجود

... loading ...

وجود

متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ساتھ فضائی مشقیں ،دفاعی مبصرین حیران

بدھ 12 اپریل 2017 متحدہ عرب امارات کی اسرائیل کے ساتھ فضائی مشقیں ،دفاعی مبصرین حیران

یونان میں اسرائیل ،امریکا اور اٹلی کی مشترکہ فوجی مشقوں میںمتحدہ عرب امارات بھی شامل ہوگیا،اسرائیل یونان میں قربتیں بڑھ گئیں یو اے ای سفارتی طور پر اسرائیل کو قبول نہیں کرتا،دفاعی مبصرین نے اسرائیلی و متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کی مشترکہ مشقیںمعنی خیز قرار دے دیں

یونان کی فضائیہ کے اڈے پر گزشتہ روز اسرائیل، متحدہ عرب امارات ،امریکا اور اٹلی کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہوگئیں، یہ 4 ملکی فوجی مشقیں ایک ایسے وقت ہورہی ہیں جب امریکا نے حال ہی میں شام پر زبردست فضائی حملہ کرکے اور سیکڑوں میزائل برسا کر اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اور پوری امن پسند دنیا امریکا کے اس عمل کی مذمت کررہی ہے، جبکہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ایران کی مستقل موجودگی کے خوف میں مبتلا ہے۔ان فوجی مشقوں کی اہم اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان فوجی مشقوں میں متحدہ عرب امارات کو بھی شامل کیاگیاہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہیں یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ مشترکہ فوجی مشقوں میں کسی ایسے ملک کو شامل کیاگیاہو جس کے مشقوں میں شامل کسی ایک فریق کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہ ہوں یعنی بالفاظ دیگر بول چال ہی بند ہو۔
یونان میں شروع ہونے والی ان فوجی مشقوں کو’’ انیوہوس‘‘2017 کا نام دیاگیا اور اس کامقصد مشقوں میں شامل تمام ممالک کی فضائی قوت کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کے علاوہ اپنی اپنی فضائیہ کی خامیوں کو دور کرنا بتایاگیاہے۔
ان مشقوں کے حوالے سے یونان سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق ان میں اسرائیل کے درجنوں طیارے حصہ لے رہے ہیں، مشقوں کے لیے منتخب کیے جانے والے ایئر بیس پر اسرائیل، یونان، امریکا اورمتحدہ عرب امارات کے پرچم لہرارہے ہیں اور مشقوں کے لیے منتخب کردہ نعرہ ’’آگہی کے ساتھ کارروائی‘‘ جگہ جگہ جلی حروف میں درج کیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق مشقوں میں شریک اسرائیلی اور امریکی پائلٹ متحدہ عرب امارات کے پائلٹس کے ساتھ دوستانہ ماحول میں گھلے ملے نظر آتے ہیں اور یہ اندازہ ہی نہیں ہوتاکہ یہ دو ایسے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کے درمیان سفارتی تعلقات بھی قائم نہیں ہیں یعنی وہ ایک دوسرے کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے۔
توقع ہے کہ یہ مشقیں چند روز میں اختتام پذیر ہوجائیں گی، ان مشقوں کے حوالے سے جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں متحدہ عرب امارات کے ایف 16 طیارے امریکی فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ۔امریکی فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پنٹاگن نے ان مشقوں میں شرکت کرنے کے لیے12 ایف16C طیارے اور220 پائلٹ اور معاون عملے کے ارکان کو یونان بھیجا ہے۔
امریکی فوجی ذرائع کاکہناہے کہ ان مشترکہ فوجی مشقوں سے حصہ لینے والے ملکوں کے درمیان تعلقات مستحکم ہوں گے اور ان ملکوں کی فضائیہ کو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری کارروائی کے لیے چوکس اور تیار رہنے کی مشق ہوجائے گی۔دفاعی مبصرین نے ان مشقوں میں اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ متحدہ عرب امارات کی فضائیہ کی شرکت کو اپنی نوعیت کامنفرد واقعہ قرار دیاہے اور کہاہے کہ اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ فوجی مشقوں میں متحدہ عرب امارات کی شرکت معنی خیز ہے۔
کسی ایسے ملک کے ساتھ جس کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم نہیں فوجی مشقوں میں اسرائیل کی شرکت کا یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے ، کیونکہ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ہونے والی فوجی مشقوں میں بھی جسے ’’ریڈ فلیگ ٹریننگ ‘‘ یعنی سرخ پرچم تربیت کا نام دیاگیاتھا،اسپین، پاکستان اور امریکا کے ساتھ اسرائیلی فضائیہ نے حصہ لیاتھا ،گزشتہ سال ہونے والی ان مشقوں میں اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی شرکت کو اپنی نوعیت کامنفرد واقعہ قرار دیاگیاتھا اور ان مشقوں کو اسرائیل سے پاکستان اورمتحدہ عرب امارات کی دوری ختم کرنے کاایک ذریعہ قرار دیاگیاتھا اوریہ خیال ظاہرکیاگیاتھا کہ امریکا نے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کو اسرائیل کے قریب لانے کے لیے ان مشقوں میں ان دونوں ملکوں کی شرکت کااہتمام کیاتھا۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اگرچہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں اور متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لیکن گزشتہ کچھ عرصے کے دوران غیرملکی میڈیا میں آنے والی خبروں سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان اندرون خانہ خفیہ رابطے موجود ہیں۔جبکہ حالیہ برسوں کے دوران اسرائیل نے اپنی فوجی قوت خاص طورپر فضائیہ کو متحرک کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے اور ایک ہفتہ قبل بھی اسرائیلی فضائیہ نے ایف 16 طیاروں کے ساتھ قبرص میں ہونے والی فضائی مشقوں میں حصہ لیاتھا ان مشقوں کا مقصد بھی فضائیہ کومتحرک رکھنا اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری جوابی کارروائی کے لیے تیار کرنا بتایاگیاتھا۔
اطلاعات کے مطابق اب نومبر میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر فوجی مشقوں کاپروگرام بنایاگیاہے جس میں دیگر ممالک کے علاوہ بھارت ، امریکا ،پولینڈ اور اٹلی شریک ہوں گے۔اسرائیلی روزنامے ہیرٹز کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے ان مشقوں کاانتظام سرکاری طورپر کرنے کے بجائے اس کے انتظام کاٹھیکہ دینے اور اس مقصد کے لیے نجی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کافیصلہ کیاہے۔
اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ عامر ایشل نے چند ماہ قبل کہاتھا کہ اسرائیل اور غیر ممالک کے درمیان فوجی تعاون کے اعتبار سے یہ سال بہت اہم ہے کیونکہ اس سال مختلف ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد اب نومبر میں اسرائیل میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی فوجی مشقیں شروع ہوں گی جس میں 9 ممالک کی فوجیں شریک ہوں گی۔
اسرائیل نے فوجی تعاون کے حوالے سے یونان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کررکھے ہیں اور اسرائیل حالیہ فوجی مشقوں کے علاوہ اس سے قبل بھی گزشتہ دو برسوں کے دوران یونان کے ساتھ فوجی مشقوںمیںشرکت کرتارہاہے اورمشترکہ فوجی اور فضائی مشقوں کے لیے اپنے طیارے یونان بھیجتا رہا ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتہ ہی اسرائیل کے منصوبہ بندی ڈویژن میں غیر ملکی تعلقات سے متعلق شعبے کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ایرز میسیل نے یونان کے ساتھ فوجی تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
اس سے قبل اسرائیل کے ایک سینئر افسر نے اسرائیل اور یونان کے درمیان تعاون فوجی اعتبار سے انتہائی اہمیت کاقرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ یونان اور اسرائیل کے فوجی اور اقتصادی مفادات ایک ہیں۔کم وبیش 6 ماہ قبل اسرائیلی ہیلی کاپٹروںکے یانشف اوریاسرنامی اسکواڈرنز نے یونان میں مشترکہ مشقوں میں حصہ لیاتھا اور ان مشقوں کے دوران مائونٹ اولمپس پر اترنے کی مشقیں بھی کی تھیں۔ان مشقوںکامقصد مشکل مقامات پر ہیلی کاپٹر اورفوجیں اتارنے کی صلاحیت حاصل کرنا تھا۔ان مشقوں میں حصہ لینے والے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل جیلاڈ نے ہیرٹز سے باتیں کرتے ہوئے کہاتھا کہ ہمارے پاس صرف مائونٹ ہرمن ہے جبکہ یہاں اس جیسے بہت سے پہاڑ ہیں جہاں ہم ایک دن اترسکتے ہیں۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر