وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان کی ترقی :انتخابی نعرے یاکچھ حقیقت بھی۔۔۔!!

اتوار 09 اپریل 2017 بلوچستان کی ترقی :انتخابی نعرے یاکچھ حقیقت بھی۔۔۔!!

بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی ورنہ سڑکیں اور صنعتیں صوبے کو ترقی نہیں دے سکتیں،ناقدین بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی تخریبی سرگرمیوں کابنیادی سبب ،دوسرے صوبوں کے تعلیم یافتہ وسہولت یافتہ نوجوانوں کو دیکھ کر احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے سابق صدرآصف زرداری نے بلوچستان کے حالیہ دورے میں میں صنعتوں کے قیام،بے روزگاری کے خاتمے اور وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے قائم کرنے کے دعوے کیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے روح رواں اور شریک چیئرمین آصف زرداری نے گزشتہ روز بلوچستان کادورہ کیا اور وہاں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسب عادت بڑے بلند بانگ دعوے کئے ،انھوں نے اس پسماندہ صوبے کے زبوں حال لوگوں کی غربت دور کرنے کیلئے اس صوبے میں پانی کی کمی دور کرنے کے کئی ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جو شاید وہ اپنی زندگی میں مکمل نہیں کرسکتے۔ مثال کے طورپر انھوںنے بلوچستان کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے یا خیال کاذکر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وسط ایشیا سے پانی لانے کیلئے نہروں کی کھدائی اور تیاری کیلئے سرمایہ کہاں سے آئے گا ؟یہ کام کتنے سال یاعشروں میں مکمل ہوسکے گا؟ اس دوران بلوچستان میں آبپاشی اور خاص طورپر پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کیا انتظام کیاجائے گا؟ اس طرح آصف زرداری کے ان وعدوں کو ایسے انتخابی وعدوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔
آصف زرداری نے بلوچستان کے لوگوں کوانٹر نیٹ پر بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کامشورہ دے کر ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک اچھا کام کیاہے جسے سراہا جانا چاہئے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آصف زرداری کے اس مشورے پر ایک فیصد لوگوں نے بھی عمل کرلیا اوربھارت میں مسلمانوں کی حالت زار اور مودی دور حکومت میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک کا مشاہدہ کرلیا تو یہ ایک فیصد نوجوان اس صوبے کے بے راہ رو اور گمراہ نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کا اہم ذریعے بن سکتے ہیں۔جس سے بلوچستان میں نہ صرف تخریب کاری میں مصروف نوجوان راہ راست اختیار کرسکتے ہیں بلکہ ہمارے دشمن بھارت کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کیلئے بلوچ نوجوانوں کی خدمات کاحصول مشکل ہوجائے گا۔
آصف زرداری نے اپنے دورہ بلوچستان کے دوران بہت سی باتیں کیں ،بلوچستان میں صنعتیں قائم کرنے اور ان میں بلوچ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے بھی وعدے کئے لیکن انھوں نے بلوچ نوجوانوں کی غربت اور بیروزگاری یا موزوں روزگار نہ ملنے کے بنیادی مسئلے یعنی بلوچ عوام کی ناخواندگی اوران کے بے ہنرہونے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی،جبکہ بلوچ نوجوانوں کی بیروزگاری اور بد حالی کی بنیادی وجہ تعلیم سے ان کی محرومی اور ان کابے ہنر ہونا ہے، اور جب تک بلوچستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں عام نہیں کیاجائے گا اور بلوچ نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے کے مراکز قائم کرکے بلوچ نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کی ترغیب نہیں دی جائے گی، صرف صنعتوں کے قیام سے ان کی غربت اوربیروزگاری کاخاتمہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ناخواندہ اور بے ہنر نوجوانوں کو کمتر درجے کی ملازمتیں ہی مل سکیں گی اور کمتر درجے کی ملازمتیں کرنے والے یہ نوجوان جب دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کواعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے اور بھاری تنخواہیں وصول کرتے دیکھیں گے تو وہ اپنی تعلیمی کم مائیگی کو نظر انداز کرکے احسا س محرومی کا شکار ہوں گے اور ان کی اسی احساس محرومی کو دشمن اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا ،جیسا کہ اب بھی ہورہا ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ اگر بلوچ عوام کی حالت کوبہتر بنانا ہے اور بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں تبدیلی لانے کیلئے جن اقدامات کا ذکر کیاتھا ان میں بلوچستان میں اسکولوں کی بحالی اور تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کاوعدہ سرفہرست تھا ۔حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ان ترجیحات اور وعدوں کی بنیاد پر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ اب بلوچستان کے عوام کو حصول تعلیم کے آسان ذرائع میسر آجائیں گے اور ان کے بچے آوارہ گردی کرنے کے بجائے اسکولوں کی رونق بنیں گے ،لیکن موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے 4سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی بلوچ عوام کو تعلیم کی سہولتیں بہم پہنچانے کی جانب ایک انچ بھی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی زبوں حالی یا اس شعبے سے حکومت کی عدم توجہی کاعالم یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کا ہر آٹھواں بچہ اب بھی اسکولوں میں داخلے سے محروم ہے اور خواندگی کی شرح اب بھی 39 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے ، اس حوالے سے یہ خیال رہے کہ خواندگی کی اس شرح میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن میں اکثریت کے پاس سیکنڈری اسکول کی بھی کوئی ڈگری نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی خواندہ تصور کرلیاگیاہے جو اپنا نام لکھنا اور دوسروں کے نام پتے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر ان لوگوں کو اس فہرست سے نکال دیاجائے اور صرف سیکنڈری اسکول سے فارغ ہونے والوں کو خواندہ تصور کرلیاجائے تو غالبا ً یہ شرح نصف بھی نہ رہے۔
حکومت کی جانب سے 2014-15 کے حوالے سے جو تعلیمی اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں 5سے 16 سال عمر تک کے کم وبیش2کروڑ 40لاکھ بچے اسکولوں کی تعلیم سے محروم ہیں۔جبکہ اس میںبلوچستان میں اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی شرح70 فیصدہے۔سندھ کی 56 فیصد اور پنجاب کی 44 فیصد ہے ،تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے اعتبار سے خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے آگے ہے اور وہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح پڑھالکھا پاکستان کی مہم کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والے صوبے پنجاب سے بھی کم یعنی 36 فیصد ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی سہولتوں سے محروم بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے ابھی تک اس صوبے کی اس اہم ضرورت پر کوئی توجہ نہیں دی ہے اور تعلیمی شعبے کوترقی دینے اور لوگوں کواپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ترغیب دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ، یہی نہیں بلکہ بلوچستان کی حکومت اس صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں طلبہ وطالبات کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے بلوچستان جانے والے اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو تحفظ دینے میں بھی ناکام رہی ہے جس کا اندازہ آئے روز بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والوں کے قتل کے واقعات سے لگایاجاسکتاہے ۔
بلوچستان کے عوام میں موجود احساس محرومی دور کرنے کی کوشش کرنے کے دعویدار بلوچستان کے حکمرانوں کی تعلیم کے شعبے سے یہ بے اعتنائی ظاہر کرتی ہے کہ ان حکمرانوں کو ترقی اور خوشحالی میں تعلیم کے اہم بلکہ بنیادی کردار کا احسا س نہیں ہے،جس صوبے کے 5سے16 سال عمر کے 18 لاکھ بچوں نے اسکول کا منہ ہی نہ دیکھا ہو انھیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسکول کیاہوتاہے اور یہاں بچے کیوں آتے ہیں،اور جس صوبے کے60 فیصد سے زیادہ افراد اپنا نام لکھنا اور پڑھنا بھی نہ جانتے ہوں اس صوبے کو ترقی دینے کے دعوے کس طرح پورے ہوسکتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے لیکن اس ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کے صوبے میں صرف 13 ہزار اسکول موجود ہیں جن میںڈھائی ہزار لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مخصوص ہیں اوربقیہ لڑکوں کیلئے ہیں ،اس طرح یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کیلئے صرف 13ہزار سرکاری اسکول پوری آبادی کی تعلیمی ضروریات کس طرح پوری کرسکتے ہیں ، خاص طورپر اس لئے بھی کہ بلوچستان کی آبادی گنجان نہیں ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے گائوں فاصلے فاصلے پر واقع ہیں اور اسکولوں کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات بچوں کو حصول تعلیم کیلئے ایک گائوں سے دوسرے گائوں یاقریبی شہروں میں جانا پڑتاہے ۔ظاہر ہے کہ چھوٹے بچے روزانہ اتنا فاصلہ طے نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کے والدین اپنے بچوں کواسکول میں داخل کرانے ہی سے گریز کرتے ہیں اور وہ گلی محلوں میں آوارہ گردی کرتے کرتے جب جوان ہوجاتے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتاہے تو ان کے دلوں میں حکومت اورملک کے خلاف باغیانہ خیالات پیداہونا لازمی امر ہے اور ان کے ان باغیانہ خیالات کی آبیاری کرکے ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے تخریب کاری کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم اور کسی ہنر سے آراستہ کرنے کے وسائل مہیا کرنے سے گریز کرکے خود ہمارے حکمراں ملک دشمنوں اور غیرملکی ایجنٹوں کواپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے نوجوانوں کی پوری پوری کھیپ مہیاکرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ہمارے سیاستدان و اور ارباب حکومت بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی طرف فوری طورپر توجہ دیں اور تعلیم کے شعبے کو اولیت دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ان کے گھروں کے قریب تر تعلیم کی سہولت مہیا کرنے کے انتظامات کریں۔ارباب حکومت کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جب تک وہ تعلیم کے شعبے کومضبوط نہیں بنائیں گے اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کیلئے انھیں تعلیم اور ہنر سے آراستہ نہیں کریں محض سڑکوں کی تعمیر سے ترقی کے فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے اور جب تک بلوچستان کے نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر سے آراستہ ہوکر اپنی روزی باعزت طریقے سے کمانے کے قابل نہیں بنادئے جاتے ،تخریب کاری اور انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ اربا ب حکومت اس جانب توجہ دیں گے اورپورے ملک اور خاص طورپر ملک کے سب سے زیادہ دولت مند لیکن پسماندہ صوبے بلوچستان میں تعلیم عام کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر