وجود

... loading ...

وجود

مجوزہ بجٹ:بینکنگ سیکٹرنے مراعات مانگ لیں

هفته 08 اپریل 2017 مجوزہ بجٹ:بینکنگ سیکٹرنے مراعات مانگ لیں

nاگلے مالی سال کیلئے بینکنگ سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح 5فیصدکم کرنے کا مطالبہ، نقدرقم کے علاوہ دیگر بینکنگ لین دین پر ایڈوانس ٹیکس کے موجودہ طریقہ کار کی بھی مخالفتn بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو آئی ٹی او2001 کی دفعہ III(4) کے خاتمے اورپاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 ) میں ترمیم کی سفارشات کردیں

وزارت خزانہ کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ کی تیاریاں اطلاعات کے مطابق اب آخری مراحل میں ہیں اور اس ماہ کے آخر تک نئی ٹیکس تجاویز کو حتمی شکل دے کر وزیر اعظم نواز شریف کے سامنے پیش کردیاجائے گا جس کے بعد کابینہ کی کمیٹی حکومت کے پاس موجود ماہرین اقتصادیات کے ساتھ مل کر ان تجاویز پر غور کے بعد ان میں ترامیم و تبدیلیوں کی تجاویز دے گی جس کے بعد اسے حتمی شکل دے کر اگلے ماہ کے آخر تک عوام کے سامنے پیش کردیاجائے گا۔بجٹ کی تیاری کے اس مرحلے میں ملک کے بڑے ٹیکس دہندگان اپنے اپنے طورپر کچھ سہولتیں حاصل کرنے اورٹیکسوں کی بھاری شرح کی وجہ سے اپنے اپنے شعبوں کو پیش آنے والی مشکلات اور ان کی ترقی میں پیش آنے والی دشواریوں میں کمی کرنے کیلئے وزارت خزانہ کو اپنی اپنی تجاویز پیش کررہے ہیں۔ دوسرے شعبوں کی طرح ملک کے بینکاری کے شعبے نے بھی وزارت خزانہ کو اپنی تجاویز ارسال کی ہیں جن میں وزارت خزانہ سے درخواست کی گئی ہے کہ بینکنگ سیکٹر پر ٹیکس کی شرح بھی کارپوریٹ اداروں کی طرز پر مقرر کی جائے اوراگلے مالی سال کیلئے بینکنگ سیکٹر پر ٹیکسوں کی شرح 30 فیصد کردی جائے ۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجی جانے والی اپنی تجاویز میں لکھا ہے کہ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کے کاروبار پر ٹیکسوں کی شرح جو کہ 2014 میں34 سے35 فیصد تک تھی کم کرکے 30 فیصد کردی تھی لیکن بینکنگ سیکٹر کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا،اور بینکوں کو 35 فیصد کی یکساں شرح سے ٹیکسوں کی ادائیگی پر مجبور ہونا پڑ رہاہے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کو جو سفارشات روانہ کی ہیں ان میں کہاگیاہے کہ آئی ٹی او2001 کی دفعہ III(4) کو ختم کردیاجائے اور پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 ) میں اس طرح ترمیم کی جائے کہ اس دفعہ میں درج یہ الفاظ کہ بینکنگ چینل کے ذریعے رقم بیرون ملک سے پاکستان بھیجنے والے تمام افراد اس رقم پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے کو ختم کردیاجائے ۔
بینک ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )کی اس دفعہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض تاجر اور کاروباری افراد غیر اعلان شدہ یعنی ظاہر نہ کی جانے والی رقم غیر قانونی ذریعے سے باہر بھیج کر اسے بینکنگ چینل کے ذریعے ملک میں لاسکتے ہیں اس طرح انھیں اس رقم پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا اورصرف3-4 فیصد کی معمولی شرح پر ٹیکس ادا کرکے ان کاکالادھن سفید ہوجاتاہے ۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی تجویز میں دعویٰ کیاہے کہ اس تجویز پر عمل کی صورت میں پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )کو غلط استعمال کرتے ہوئے کالے دھن کو سفید کرنے کاسلسلہ روکاجاسکتاہے اوراس طرح قومی خزانے کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوسکتاہے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی ریونیو بورڈ کو بھیجی جانے والی سفارشات میں نقدرقوم کے علاوہ دیگر بینکنگ لین دین پر ایڈوانس ٹیکس کے موجودہ طریقہ کار کی بھی مخالفت کی گئی ہے ، اس حوالے سے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کاموقف یہ ہے کہ دفعہ 236P کے تحت کم وسیلہ اور غریب گروپ جن میں طلبہ ، بیوائیں،پنشنرز اور دیگر معمر افرادکو ان کی جمع شدہ رقم پر بہت کم منافع ملتاہے اوروہ قابل ٹیکس آمدنی کے زمرے میں نہیں آتے لیکن ان کی جمع شدہ رقم نکالنے پر ان سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیاجاتاہے اور وہ اس کٹوتی شدہ رقم کی واپسی کاکلیم بھی نہیں کرسکتے جو کہ انتہائی نامناسب ہے لہٰذا یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کا موقف یہ ہے کہ اس سے ملک میں بچتوں پر منفی اثر پڑتاہے اور قومی خزانے میں رقم جمع ہونے کے بجائے اس میں کمی ہوجاتی ہے، پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی تجویز میں کہاگیاہے کہ دفعہ 236P کو یاتوختم کردیاجائے یا پھر اس میں کم وسیلہ اور غریب گروپ کو استثنیٰ دیاجائے اوررقم کی لین دین /منتقلی کی حد بڑھا کر ایک لاکھ کردی جائے۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے وفاقی ریونیو بورڈ کے حکام کے ساتھ اپنی پہلے ہونے والی بات چیت یامذاکرات کاحوالہ دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس2001 کی دفعہ 165 اور165A جو کہ عمومی قوانین کا حصہ ہیں کو معیشت کے تحفظ کے خصوصی قوانین جن میں پاکستان اکنامک ریفارم ایکٹ (پیرا1992 )،اسٹیٹ بینک پاکستان ایکٹ، بینکنگ کمپنیز آرڈی ننس اور اسٹیٹ بینک کے ریگولیشنز شامل ہیںکے تحت ختم نہیں کیاجاسکتا۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی سفارشات میں یہ موقف اختیار کیاہے کہ بینکنگ اور اس حوالے سے دوسرے قوانین کابنیادی مقصد ملک کے بینکاری نظام پر لوگوں کا اعتماد برقرار رکھناہے اس لئے بینک کے کھاتیداروں کے ناموں اور ان کی تفصیلات کو بار بار افشا کئے جانے کا طریقہ کار ختم ہونا چاہئے۔پی بی اے کی سفارشات میں بینکوں کی جانب سے دفعہ 165B جو کہ 2016-17 کے فنانس بل کے ذریعہ متعارف کرائی گئی تھی اور بینکاری کے معاملات اورلین دین کوخفیہ رکھنے کے حوالے سے پیرا کے دیگر قوانین میں بھی مناسب ترمیم کرنے کابھی مطالبہ کیاگیاہے۔
اسلامی بینکاری کے حوالے سے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے اپنی سفارشات میںساتویں شیڈول میںایک نیا ذیلی اصول یا قانون رول(3 ) کا اضافہ کرنے کا مطالبہ کیاہے جس میں خاص طور پر مشارکہ، مضاربہ، مرابحا،(بشمول کموڈٹی مرابحا) مساوما، اجارہ، استثنیٰ اورسلام کے علاوہ شریعت پر مبنی لین دین کے دیگر تمام اصول شامل ہوں۔
سفارشات میں یہ بھی کہاگیاہے کہ مائیکرو فنانس بینکوں میں ڈپازٹ کی ترغیب دینے کیلئے بلامنافع کا م کرنے والے اداروں کو دی جانے والی چھوٹ کا اطلاق مائیکرو فنانس بینک کے منافع اور شیڈولڈ بینکوں سے لئے جانے والے قرضوں پر بھی کیاجاناچاہئے۔اس کے علاوہ تمام پراویڈنٹ فنڈز /گریجویٹی وغیرہ کی رقم بھی شیڈولڈ بینکوں کی طرح مائیکروفنانس بینکوں میںجمع کرانے کی اجازت دی جانی چاہئے اورمائیکروفنانس بینکوں کو بھی شیڈولڈ بینکوں کی طرح اسٹیٹ بینک کی جانب سے ریگولیٹ کیاجانا چاہئے تاکہ ان پر عوام کا اعتماد مستحکم ہوسکے۔

جمال احمد


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر